
ابھی ابھی پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا یہ بیان پڑھا ہے کہ بھارت پاکستان پرسرجیکل سٹرائیکس کرنےکی غلطی کبھی نہ کرےورنہ پاکستان بھر پورجواب دینے پرمجبور ہوجائے گا۔
اور میں سوچ میں ھوں کہ ھم کونسی گہری نیند میں سوئے ھوئے ھیں یا پھر آنکھوں پر پٹی باندھ کر دن کو بھی رات ھی سمجھ رھے ھیں ۔ کل ھی کی ایک خبر کے مطابق بھارت کی فضائیہ دنیا کے چوتھے نمبر پر اور آرمی دوسرے نمبر پر جانی جاتی ھے ۔
اور آج ھی کی خبر ھے کہ پاکستان میں 1965ء سے قائم راولپنڈی کے محکمہ شہری دفاع کے اسٹاف میں 43 سال گزرنے کے باوجود کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ، اس ادارے میں ڈسٹرکٹ آفیسر سول ڈیفنس 17 دسمبر کوریٹائر ہو چکے ہیں جبکہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ افسر ( سول ڈیفنس) کی سیٹ پہلے ہی خالی ہے لہذا اب ادارے میں کوئی ذمہ دار افسر نہیں ہے جبکہ ڈائریکٹر سول ڈیفنس نے کسی ذمہ دار افسر کو یہاں پر تعینات نہیں کیا ۔
مزید یہ بھی کہ مشکل وقت میں تیار رہنے کے لیے ملک بھر میں شہری دفاع کی حالت زار کچھ یوں ھے کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ میں صرف 2افراد ہیں جن کے پاس ضروری آلات نہیں ہیں صرف پلاس، کٹر یا قینچی سے وہ جان پر کھیل کر بم کو ناکارہ بناتے ہیں اسی طرح پبلک کو آگاہی اور مشکل وقت میں تیار رہنے کے لیے صرف 5 انسٹرکٹر ہیں ، سیلاب سے نمٹنے کیلئے صرف ایک کشتی ہے۔
شاید ھم میں سے کسی نے غور نہیں کیا کہ جس ملک میں لاقانونیت ،کرپشن، رشوت ،سفارش اور اقربا پروری سکہ رائج الوقت ھو وہاں پر اسرائیل ،بھارت اور امریکہ کی ھمارے خلاف تکون تو کیا اب صومالیہ ،سوڈان اور نیپال بھی ھمیں ڈرا دھمکا سکتے ھیں ۔
لیکن یہ بات ھماری سرکار کو کبھی نہیں سمجھ آیئگی کہ آخر کوئی ھمیں کیوں نہ حملے کی دھمکی دے ۔
لفاظی میں حقیقت میں شاہ محمود صاحب بہت فرق ہوتا ہے۔شاعر انقلاب جوش نے کہا تھا
ہر سال اپنے قلب کے یوم وفات پر
تہوار دوسرے کے مناتے رہیں گے ہم