جب بھی کبھی کوئی پاکستان کے نام کے ساتھ “پسماندہ “ لکھتا ھے تو میری روح تک میں دکھ اترنے لگتے ھیں ۔ مجھے لگتا ھے جیسے دنیا کے نقشے سے میری ارض پاک جدا ھو گئی ھو ۔۔ میرا وطن اس غریب بچہ کی طرح دیکھائی دینے لگتا ھے جس کے پاس کوئی کھلونا نہیں ھوتا اور جو ھوتا بھی ھے وہ ٹوٹا پھوٹا سا ۔ اور وہ بھی کوئی جب اس سے چھین لے تو وہ غریب بچہ اپنے آنسوؤں سے اپنی کہانی ھچکیاں لے کر سب کو سنانا چاھتا ھے لیکن کوئی اس کی سننا تو دور کی بات اسےتوجہ سے دیکھتا بھی نہیں ھے ۔
آج میرا ملک بھی روتا بسورتا سب سے الگ کھڑا اسی بچے کی طرح ھے جس کی کوئی سننا ھی نہیں چاھتا
یہی وہ
ملک ھے جس کے پاس کئی مایہ ناز سیاستدان تھے ، صحافی و شاعر تھے ،مفکر تھے ، عالم دین تھے ،سایئنسداں تھے ، کھلاڑی تھے اور ڈاکٹرز ، انجینرز تھے ۔۔ سب سے بڑی بات غیور قوم کے پاس غیور بہادر فوجی تھے ۔۔ یہ سب کچھ اس سے ایک سازش کے تحت چھین لیئے گئے ۔۔
سازش تو سازش ھے جس میں جب تک میر جعفر نہ ھو تو کبھی اپنے گھر میں آگ نہیں لگتی اور نہ ھی سب کے سامنے ان کی محبوب ھستیاں دہشت گردی کا شکار ھوسکتی ھیں ۔
ایک ایسے وقت میں جب دنیا بھر کے نقشہ پر کئی ملک “ پسماندہ“ کہلائے جا رھے ھیں ،جن میں اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، آپس کے تنازعات بڑھ رہے ہیں اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے زیر اثر قدرتی آفات سے تباہی بھی زیادہ ہورہی ہے ۔ایسے میں اقوام متحدہ اگر ترقی یافتہ ممالک سے یہ نہ کہے تو کیا کہے کہ وہ درپیش مالیاتی بحران کے باوجود “پسماندہ “ممالک کیلئے امداد میں کٹوتی نہ کریں ۔
یہ اپیل پڑھ کر مجھے یوں لگا جیسے کسی نے غریب بچے کے سر پہ ہاتھ نہیں رکھا بلکہ اس کے ھاتھ پر ایک روپیہ رکھ کر پہلے تواسے بھکاری سمجھا اور پھر بعد میں بھکاری بنا دیا ۔۔۔
کٍسے بتاؤں اور کیا بتاؤں کہ پاکستان کے معّصوم ھاتھوں میں ناقص پالیسیوں کا کشکول دینے والے یہ کون لوگ ھیں جو پاکستان کی عوام کو طبقاتی درجات میں بانٹ رھے ھیں ۔۔ان پر جنگ مسلط کر رھے ھیں ۔۔۔اپنے ھی لوگو کو مروا رھے ھیں ۔۔
نہیں جانتی کب تک میرے ملک کو پسماندہ رھنا ھے ۔۔ کب تک ھمیں صرف مرنے والوں کا ماتم کرنا ھے ۔۔کب تک سرکار کو اپنی ناقص پالیسیوں کی زمہ داریوں سے احتراز کرنا ھے ۔۔
اب تو پاکستان کا بچہ بچہ اپنے حکمرانوں سے پوچھ رھا ھے کہ ۔۔کیا “ پسماندہ “ ملکوں کی کوئی انا ، کوئی خوداری نہیں ھوتی ۔۔۔؟
اسمیں شک نہیں کہ بے نظیر کی ساری جدو جہد کم ازکم کہنے اور بیان کی حد تک انہی طبقات اور طاقتوں کے خلاف تھی جو استحصال کرتے رہے اور ابھی تک کر رہے ہیں ۔لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اب جب کہ ملک میں عوام کی ایک بڑی تعداد اور خود بے نظیر کی اپنی حکمران پیپلز پارٹی انکی پہلی برسی منا رہی ہے تو اس ایک سال میں خود پیپلز پارٹی نے اس جانب کیا اقدام کیئے ہیں۔
اگر بالکل سچ کہا جائے تو خود اس جماعت کی کارکردگی اس ضمن میں صفر سے زیادہ نہیں ہے جو ایک لمحہ فکر ہے پیپلز پارٹی کے لیئے بھی، حکمران طبقے کے لیئے بھی اور بے نظیر کو ''شہیدِ جمہوریت'' قرار دینے والوں کے لیئے بھی۔