ملک کو قائداعظم کا پاکستان بنانا ہے تو ضروری ہے کہ پاکستان میں قانون کے سامنے سب برابر ہوں ۔عدالتی انصاف کے ساتھ معاشی انصاف بھی ضروری ہے جب کہ پاکستان میں غریب ٹیکس دیتا ہے اور امیر عیاشی کرتا ہے۔ قوم کی بدقسمتی ہے کہ انتخابات بھی ملک میں تبدیلی نہیں لا سکے سابقہ مشرف دور میں عوام اور ملک کیلئے بے نظیر بھٹو نے جان کا نذرانہ دیا لیکن موجودہ حکومت آج بھی مشرف حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات پر من و عن عمل پیرا ہے۔
پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو 27 دسمبر کوہلاک کردیا گیا ۔راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ان کے انتخابی جلسے پر حملہ کیا گیا۔ حملے کے بعد انہیں شدید زخمی حالت میں جنرل ہسپتال لے جایا گیا تھا لیکن انہیں بچایا نہ جاسکا۔ اس کے فوری بعد بعدوزارت داخلہ نے بھی ان کی ہلاکت کی تصدیق کردی تھی لیکن یہ واضح نہ ہوسکا کہ وہ خودکش حملے میں زخمی ہوئیں یا انہیں گولی مارکر ہلاک کیا گیا۔
بعض اطلاعات کے مطابق حملے کے وقت پانچ گولیاں بھی چلی تھیں جن میں سے ایک ان کی گردن میں لگی تھی۔ اخباری خبروں کے مطابق اس حملے میں پی پی پی کی رہنما شیری رحمان اور ناہید خان بھی زخمی ہوئی تھیں۔ اس وقت ہسپتال کے باہر بڑی تعداد میں پیپلز پارٹی کے کارکن جمع تھے اور غم و غصے کا ماحول تھے۔ اس حملے میں کم سے کم پندرہ افراد ہلاک اور متعدد ہوئے تھے۔
بینظیر بھٹو کے شوہر آصف زرداری دوبئی سے پاکستان پہنچے ان کا کہنا تھا کہ بینظیر کی ہلاکت کی خبر پر اس وقت تک یقین نہیں کرسکتے جب تک وہ خود نہ دیکھ لیں۔ ایک غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق بینظیر بھٹو کے سینے اورگلے میں گولیاں لگیں تھیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان پر فائرنگ کی گئی اور ریلی میں دھماکہ بھی کیا گیا۔ لیکن اس وقت حالات واضح نہیںتھے۔
ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ بینظیر بھٹو صرف زخمی ہیں۔ اسی روزپاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر بابر اعوان کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو کی موت 'ٹارگٹ کلنگ' کا نتیجہ ہے۔ان کے بقول بینظیر بھٹو اپنی سکیورٹی کے بارے میں بہت فکرمند تھیں اورجلسے کے دوران بھی انہوں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ بابر اعوان نے کہا کہ وہ صبح بینظیر بھٹو کے ساتھ ہی جلسے میں گئے تھے۔ 'جلسہ گاہ میں ہم اکھٹے بیٹھے رہے۔ ہم ساتھ ہی ان کے گھر سے آئے تھے۔ وہ بتاتی رہیں کہ انہیں کیا خطرات در پیش ہیں۔ انہوں نے کچھ تفصیلات بھی مجھے دیں جو میں ابھی نہیں بتا سکتا۔ جب ہم جلسے میں بیٹھے ہوئے تھے تب بھی محترمہ نے مجھے کچھ چیزیں لکھ کر دیں۔ وہ اس بارے میں بہت فکرمند تھیں۔ '
اس وقت کے پاکستان کے صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے افسوس ظاہر کیا اور صورتحال پر اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کر لیا تھا۔ صدر مشرف نے ملک میں تین دن کے سوگ کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما نواز شریف نے بینظیر بھٹو پر حملے کی مذمت کی تھی اور کہا کہ وہ 'قوم کے غم' میں شامل ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ نے انتخابی سرگرمیاں معطل کرد یں تھیں اور سوگ منانے کا اعلان کیا تھا۔
پارٹی کے سربراہ الطاف حسین نے واقعہ کو سانحہ قرار دیتے ہوئے دکھ کا اظہار کیا تھا۔ الطاف حسین کا کہنا تھا سندھ کے تیسرے وزیراعظم کو راولپنڈی میں اس طرح سے قتل کیا گیا ہے، اس سے قبل لیاقت علی خان اور ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کیا گیا اور اب سندھ کی بیٹی کو قتل کر دیا گیا۔ جبکہ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے بھی واقعے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھاکہ ذوالفقار علی بھٹو، میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو کے بعد یہ بھٹو خاندان کے ایک بڑا سانحہ ہے۔
قاضی حسین احمد نے یہ بھی مطالبہ کیا تھاکہ پرویز مشرف فوری طور مستعفی ہوجائیں کیونکہ وہ اس کے ذمے دار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فوری طور پر سویلین حکومت قائم کی جائے جو عدلیہ اور آئین کو بحال کرے اور انتخابات کے لیے مناسب فضا تیار ہو۔ بینظیر بھٹو کے قتل کی اطلاع پہنچتے ہی کراچی میں تمام بازار اور دکانیں بند ہوگئیں اور رات دیر تک کھلے رہنے والے بازاروں میں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ پورے شہر میں خوف و دہشت کی فضا تھی۔ سڑکوں پر بھگدڑ کی سی فضا اور ٹریفک بھی بے ہنگم ہوگیا تھا۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے لوگ حواس باختہ ہوگئے ہیں۔ وہ سڑکیں جو یکطرفہ ٹریفک کے لئے تھیں وہاں دونوں اطراف سے گاڑیاں آجانے سے صدر سمیت کئی علاقوں میں بدترین ٹریفک جام تھی جبکہ ٹرانسپورٹ گاڑیاں بھی غائب ہوگئی تھیں جس کی وجہ سے سینکڑوں لوگ کئی علاقوں میں پھنس گئے ۔
بینظیر بھٹو کے گھر بلاول ہاوس پر سوگ کی فضا تھی۔ شہر بھر سے آنے والے کارکن دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ اسی روزبلاول ہاوس کے جانب سے بتایا گیا تھا کہ آصف علی زرداری بچوں سمیت رات کے کسی وقت راولپنڈی پہنچ رہے ہیں۔دوسری طرف شہر کے کئی علاقوں میں ہنگامے پھوٹ پڑے ۔ لیاری، کھارادر، سلاوٹ پاڑے، گرومندر، ڈیفنس، کلفٹن،گلشن اقبال اور گلشن حدید سمیت دیگر کئی علاقوں میں ہوائی فائرنگ ہوئی۔ مشتعل لوگوں کے ہجوم سڑکوں پر نکلے جو دیوانہ وار نعرے لگا تے رہے اور پتھراو کر تے رہے اور ٹائروں کو آگ لگا تے رہے۔ سب سے جذباتی منظر لیاری میں تھا جو جہاں خواتین بھی سڑکوں پر نکل کر سینہ کوبی اور بین کررہی تھیں۔
اسی رات غیرملکی حکومتوں کا ردعمل بھی دیکھنے میں آیا اس حوالے سے امریکی حکومت نے بینظیر بھٹو پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی واشنگٹن میں امریکی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس حملے سے پاکستان میں مفاہمتی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔ روس کی حکومت نے بھی حملے کی مذمت کی ۔ روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس حملے سے دہشت گردی کے واقعات کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔
ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ نےمحترمہ بھٹو کی موت پرگہرے افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'ان کی موت سے برصغیر ایک بہترین رہنما سے محروم ہوگیا ہے۔' انہوں نے کہا کہ محترمہ بھٹو کی موت سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے اور وہ اس مشکل گھڑی میں پاکستانی عوام کے غم میں شریک ہیں۔
فرانس نے بینظیر پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ 'قابل نفرت فعل' ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ نے بینظیر بھٹو پر حملے کی مذمت کی۔ وزیر خارجہ ڈیوِڈ ملیبینڈ نے پاکستان میں 'تحمل اور یکجہتی' کی اپیل کی ۔ افغانستان کی حکومت نے بینظیر پر قاتلانے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے 'بربریت' قرار دیا۔
افغان صدر حامد کرزئی نے کہا کہ بینظیر کے قاتل پاکستان اور امن کے دشمن ہیں۔ بینظیر بھٹو اور حامد کرزئی نے اسی روز اسلام آباد میں ملاقات کی تھی۔ قبل ازیں بینظیر بھٹو پر کراچی میں اٹھارہ اکتوبر پاکستان واپسی پر ایک استقبالیہ ریلی میں خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں ایک سو چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پاکستان واپسی کے بعد سے ان کی سکیورٹی پر مسلسل تشویش پائی جارہی تھی۔پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو کی آٹھ سال سے زیادہ جلا وطنی کے خاتمے کے دن کراچی میں خوفناک بم دھماکوں میں کم از کم 125 افراد ہلاک اور 250 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔
بینظیر بھٹو کی ریلی میں پہلا دھماکہ کراچی میں شاہراہ فیصل پر کارساز کے قریب رات کو بارہ بجکر پانچ منٹ پر پیش آیا تھا۔ اس کے فوراً بعد ہی دوسرا دھماکہ ہوا تھا۔ تاہم بینظیر ان دھماکوں سے محفوظ رہیں۔ دھماکے کے وقت بینظیر بھٹو ٹرک کے عرشے سے اتر کر نیچے ٹرک میں بنائے گئے خصوصی کمرے میں آرام کرنے گئی تھیں۔ انہیں فوراً وہاں سے اتار کر محفوظ مقام پر پہنچایا گیا جبکہ جلسہ گاہ کا کنٹرول رینجرز نے سنبھال لیا۔ اس کے تھوڑی دیر بعد لاوڈ سپیکر سے اعلان کیا گیا کہ بینظیر بھٹو محفوظ ہیں۔کراچی پولیس نے دھماکے کو ایک خود کش حملہ قرار دیا تھا۔
پاکستان کے تین صدور اور تین وزراءاعظم سمیت اہم سیاسی شخصیات پر قاتلانہ حملے ہوئے۔ ان قاتلانہ حملوں میں ایک صدر اور ایک وزیراعظم ہلاک ہوئے جبکہ دیگر بال بال بچ گئے۔
قیام پاکستان کے بعد چار برس بعد ہی ملک کے پہلے وزیر اعظم کو قتل کردیا گیا۔ لیاقت علی خان کو سولہ اکتوبر سنہ انیس سو اکیاون میں اس وقت گولی مار کرکے ہلا ک کیا گیا جب وہ راولپنڈی کے کمپنی باغ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے۔
صدر جنرل ایوب خان ملک کے پہلے صدر تھے جن پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ صدر جنرل ایوب پر آٹھ نومبر سنہ انیس سو اڑسٹھ میں پشاور یونیورسٹی میں خطاب کے دوران فائرنگ کرکے ان کو ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی تاہم صدر ایوب اس قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے۔
صدر جنرل ضیاءالحق پاکستان کے دوسرے صدر تھے جن پر قاتلانہ حملے ہوئے تاہم ان کی ہلاکت سترہ اگست سنہ انیس سو اٹھاسی میں فوجی طیارے کی تباہی سے ہوئی۔ اس حادثہ سے صدر جنرل ضیاءالحق کے علاوہ اعلی فوجی افسر اور پاکستان میں امریکہ کے سفیر بھی ہلاک ہوگئے۔
سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے بھائی میر مرتضی بھٹو بھی اپنی بہن کے دورے حکومت میں گولی لگنے سے ہلاک ہوئے۔ میر مرتضیٰ بھٹو بیس ستمبر انیس سو چھیانوے کو اپنے سات ساتھیوں سمیت پولیس فائرنگ سے اپنے آبائی اقامت گاہ سترہ کلفٹن کے باہر ہلاک ہوئے تھے۔
نواز شریف ملک کے دوسرے وزیر اعظم تھے جن پر اس وقت قاتلانہ حملہ ہوا جب وہ لاہور کے نواحی علاقے رائے ونڈ میں واقع اپنے فارم پر جارہے تھے اور ان کے راستے میں ایک پل کے نیچے رکھا گیا بم ان کی گاڑی گزرنے کے بعد پھٹا اور اس طرح نواز شریف محفوظ رہے۔
صدر جنرل پرویز مشرف پر دسمبر سنہ دوہزار تین میں یکے بعد دیگرے دو انتہائی خطرناک حملے ہوئے۔ تاہم صدر مشرف معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔صدر جنرل مشرف پر پہلا حملہ چودہ دسمبر سنہ دو ہزار تین کو راولپنڈی کے جھنڈا چیچی پل پر ریموٹ کنٹرول بم سے کیا گیا تھا لیکن صدر کے قافلے کی گاڑیوں میں نصب شدہ 'سگنل سینسرنگ' آلات کی وجہ یہ بم اس وقت نہیں پھٹ سکا تھا جب گاڑیاں پل سے گزر رہی تھیں۔
اس واقعہ کے دس دنوں بعد صدر مشرف پرپچیس دسمبر کو دوسرا حملہ کیا گیا اور ان کو خودکش حملہ کے ذریعے ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی۔ راولپنڈی میں صدر جنرل پرویز مشرف کے قافلے پر اس خطرناک خود کش حملے میں کم از کم چودہ افراد ہلاک اور چھیالیس زخمی ہوگئے ہیں۔ صدر مشرف کے قافلے پر دو مختلف اوقات پر دو گاڑیوں سے حملہ کیا گیا۔ یہ گاڑیاں دو پیٹرول سٹیشنوں سے باہر نکلی تھیں۔ اس حملے میں صدر مشرف بال بال بچ گئے۔
وزیر اعظم شوکت عزیز پر بھی تیس جولائی سنہ دو ہزار چار میں ان کی انتخابی مہم کے دوران ایک قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ محفوظ رہے۔ تاہم اس حملے میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔شوکت عزیز اٹک میں اپنی انتخابی مہم کے دوران فتح جنگ کے قریب ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کر کے باہر آ رہے تھے کہ جلسہ گاہ سے کچھ فاصلے پر ان کی گاڑی کے قریب ایک زور دار دھماکہ ہوا تھا۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری بھی اس سال سترہ جولائی کی شام اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار میں ہونے والے وکلاءکنونشن کے پنڈال کے قریب ہونے والے دھماکے میں بال بال بچے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری اپنی معطلی کے دوران ایک جلوس کی شکل میں وکلا کنونشن میں خطاب کے لیے آرہے تھے اور ان کا قافلہ جلسہ گاہ سے کچھ فاصلے پر تھا جب پنڈال میں بم دھماکا ہوا۔ اس دھماکے میں کم از کم پندرہ افراد ہلاک اور اسی کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔ اس بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں پیپلز پارٹی کے کارکن بھی شامل تھے۔
سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی اٹھارہ اکتوبر کو آٹھ برسوں کی جلاوطنی کے بعد ملک میں واپسی پر ان کے استقبالیہ جلوس میں خودکش حملے میں ایک سوانتالیس افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ یہ دھماکہ بینظیر بھٹو کے ٹرک سے کچھ فاصلے پر ہوئے۔ تاہم بینظیر بھٹو اس انتہائی خطرناک حملے میں محفوظ رہیں۔ لیکن ستائیس دسمبر کوپاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو ہلاک کردیا گیا۔
راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ان کے انتخابی جلسے پر حملہ کیا گیا حملے میں بینظیر بھٹو انتقال کرگئیں۔ حملے کے بعد انہیں شدید زخمی حالت میں جنرل ہسپتال لے جایا گیا تھا لیکن انہیں بچایا نہ جاسکا۔ راولپنڈی میں قاتلانہ حملے میں ہلاک ہونے والی سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کو لاڑکانہ میں ان کے آبائی گاوں گڑھی خدا بخش میں سپرد خاک کیا گیا۔اس موقع پرگڑھی خدا بخش میں پیپلز پارٹی کے کارکن ہزاروں کی تعداد میں جمع تھے جبکہ پورے پاکستان سے کارکنوں کے قافلے اپنی رہنماءکی آخری رسومات میں شرکت کے لیے لاڑکانہ پہنچے تھے۔ بینظیر بھٹو کا جسد خاکی پاکستان ایئرفورس کے ایک 130-C طیارے کے ذریعے راولپنڈی سے سکھر اور پھر وہاں سے ہیلی کاپٹر پر ان کے آبائی شہر لاڑکانہ کے موہنجوداڑو ایئرپورٹ پہنچایا گیا تھا۔ بینظیر بھٹو کی میت پاکستانی وقت کے مطابق رات ایک بجکر بیس منٹ پر راولپنڈی کی چکلالہ ائیربیس سے سکھر کے لیے روانہ کی گئی ۔ طیارے میں ان کے شوہر آصف علی زداری اور بچے بلاول، بختاور اور آصفہ بھی موجود تھے۔
میت کے ساتھ ان کے پیپلز پارٹی رہنماءمخدوم امین فہیم، راجہ پرویز اشرف، شیریں رحمان اور دیگر شامل تھے۔
پاکستانی حکومت نے پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کے نام پر انسانی حقوق ایوارڈ کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق یہ ایوارڈ ہر سال انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی دو تنظیموں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے تین افراد کو دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ بےنظیر بھٹو کے نام پر انسانی حقوق فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں ابتدائی طور ایک کروڑ روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔اس بات کا اعلان وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے وزارت انسانی حقوق کی طرف سے مرحومہ بے نظیر بھٹو کو اقوام متحدہ کا ایوارڈ ملنے کے موقع پر ایک منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔ ہر سال 27 دسمبر کو بےنظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر مختلف افراد کو انسانی حقوق ایوارڈ دیئے جائیں گے اور یہ ایوارڈ حاصل کرنے والے افراد اور تنظیموں کے نام یوم آزادی یعنی 14 اگست کو بتائے جائیں گے۔
جنرل اسمبلی کی طرف سے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی شخصیات اور اداروں کو یہ اعزاز ہر پانچویں سال دیا جاتا ہے اور اب تک یہ اعزاز امریکہ میں شہری حقوق کے بڑے رہنما ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جونئیر، سابق امریکی صدر جمی کارٹر، نیلسن منڈیلا اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کو دیا جا چکا ہے۔
بے نظیر بھٹو کی موت ملک دشمنوں کی فتح تھی۔ بے نظیر کے جانشین کئی ایک پیدا ہو جائیں لیکن ایک وژن اور ایک لیڈر بننے کیلئے ملک اور اس کے عوام کی بہتری کیلئے انتھک جدو جہد، اس راہ میں حا ئل رکاوٹوں کا ڈٹ کر مقا بلہ کر نے وا لے اوصاف کے علاوہ خدا تعالی کی رحمت شامل حال جب تک نہ ہو۔لیڈر شپ نا مکمل رہتی ہے۔پا کستان کی مو جودہ صورتحال اور عنقریب مستقبل میں پاکستان کے عوام کو محسوس ہو گا کہ بے نظیر کے بعد پاکستان سیاسی طور پر یتیم ہو چکا ہے۔ اگر بے نظیر کی زند گی وفا کر تی تو پاکستان کی تا ر یخ مختلف ہو تی۔
اے پی ایس