
بے نظیر بھٹو کو 27دسمبر 2007ء بروز جمعرات راولپنڈی میں انتخابی جلسے کے بعد اْس وقت قتل کیا گیا جب وہ جلسہ گاہ سے واپس جارہی تھیں۔
اْن پر فائرنگ کی گئی اور ساتھ ہی خودکش حملہ بھی جس میں وہ جاں بحق ہوگئیں۔حملے میں دو درجن دیگر افراد بھی جاں بحق ہوئے۔
بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری، بچے بلاول، بختاور اور آصفہ دبئی سے خصوصی پرواز سے اسلام آباد پہنچے اور C-130 طیارے میں بے نظیر بھٹو کی نعش لے کر علی الصباح سکھر آئے

یہاں سے انھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے موہنجودڑو لے جایا گیا اور وہاں سے ایمبولینس میں نو ڈیرو میں بھٹو ہاوٴس لایا گیا۔
ان کا جنازہ بعد نماز جمعہ گھر سے روانہ ہوا اور تقریباً ساڑھے چار بجے نمازِ جنازہ کے بعد اْنہیں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کو 28دسمبر 2007ء بروزجمعہ گڑھی خدا بخش میں بھٹو خاندان کے آبائی قبرستان میں اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔
پاکستان کی دو بارمنتخب ہونے والی وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے افسوسناک قتل پر ملک میں تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ۔اس دوران قومی پرچم سرنگوں رہا۔
ستائیس ددسمبر دوہزار سات پاکستان میں جنرل (ر) پرویز مشرف کے ایمرجنسی کے نفاذ کے باوجود بےنظیر بھٹو نے جنوری کے انتحابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا جسے ان کے حلیف نواز شریف نے ابتدائی طور پر اختلافات کے باوجود قبول کر لیا اور وہ بھی انتحابات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہوگئے۔ بےنظیر کا مؤقف تھا کہ ملک میں آمریت کا خاتمہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ انتخابات میں ہر صورت میں شامل ہوا جائے۔ راولپنڈی، لیاقت باغ میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وہ انتہائی پراعتماد دکھائی دیں۔
ستائیس دسمبر دو ہزار سات پاکستان پیپلز پارٹی کے لیاقت باغ راولپنڈی کے انتخابی جلسے میں پہلے ایک خودکش دھماکے کی اطلاعات موصول ہوئیں جن میں بتایا گیا کہ متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں تاہم بےنظیر بھٹو بخیر وعافیت ہیں۔
بےنظیر بھٹو کا قتل تاہم کچھ دیر بعد تصدیق ہوگئی کہ خودکش حملہ آور نے پہلے بےنظیر بھٹو پر گولیاں چلائیں اور جب اسے پکڑنے کی کوشش کی گئی تو اس نے خود کو ایک دھماکے سے اڑا دیا جس میں تیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔ یوں بےنظیر بھٹو گردن میں گولی لگنے سے انتقال کرگئیں۔ بےنظیر بھٹو اپنی پچھلی دو نسلوں میں سے بچ جانے والی آخری سیاسی شخصیت تھیں جن کے گرد پاکستان کی واحد عوامی جماعت پیپلز پارٹی کے کارکن پروانوں کی طرح جان نثار ہوتے رہے۔ اب ان کارکنوں کے لیے مرکزی شخصیت کون ہوگا، کون جانے۔
گڑھی خدا بخش میں تدفین اٹھارہ دسمبر دو ہزار سات کو بینظیر بھٹو کو ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔ گڑھی خدا بخش کا قبرستان بھٹو خاندان کا سیاسی قبرستان بن گیا جہاں اب بےنظیر اپنے دونوں بھائیوں اور والد سمیت دفن ہیں۔ یہ پاکستان میں پہلا قبرستان جس نے ایک درگاہ کی حیثیت اختیار کر لی ہے جہاں دن کو سینکڑوں افراد دعا کے لیے آتے ہیں جبکہ درجنوں افراد راتوں کو ورد کرتے رہتے ہیں۔