
جی ہاں 2007 میں بے نظیر کے قتل پر فوری رد عمل کے طور پر جو یہ کالم لکھا تھا اسے آج بھی جب دوبارہ پڑھنے کے لیئے بیٹھا ہوں تو کچھ بھی تو نہیں بدلا۔ ہر چیز آج بھی شرمندہ تعبیر ہے اور اس مفادات کی دنیا میں نہ جانے کب تک اسی طرح رہے
آج 2011 میں چوتھی برسی کے موقع تک بے نظیر کے قاتل ایک ایسی حکومت گرفتار نہیں کر سکی جو آج بھی بے نظیر کی قبر کی سیاست کر رہی ہے۔ایسی حکومت جو بے نظیر کے خون کی بدولت قائم ہوئی ہے اور جس میں ملک کا صدر خود انکا شوہر آصف زرداری ہے۔
آج 2011 میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کا سربراہ پوچھتا ہے۔۔۔۔
بینظیر کے قتل کو 4سال گذر گئے، قتل کا کیا ہوا، چیف جسٹس کا سوالآج 2011 میں بڑے بھٹو کے قاتل جنرل ضیا الحق کی کابینہ میں رہنے والے پیپلز پارٹی کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ بے نظیر کے قتل کی تحقیقات مکمل ہو
گئی ہیں ۔ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی اجازت سے رپورٹ کے کچھ حصے جاری کرسکتے
ہیں
آج 2011 میں پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر راجا ریاض احمد نے کہا ہے کہ وفاقی
وزیرداخلہ بینظیرکے قاتلوں کو بے نقاب کرنے والے تھے لیکن بلاول بھٹو نے
روک دیا
آج 2011 میں یپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کی عدم گرفتاری سے کارکنوں میں مایوسی پھیلی ہے۔
بس چار سال میں اسی قدر تبدیلی آئی ہے کہ جنکو بے نظیر اپنے قاتل خود کہتی اور اپنی کتاب میں لکھتی تھیں وہ آج پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومت میں شامل ہیں۔
بس چار سال میں یہ تبدیلی آئی ہے کہ بھٹو کی پھانسی پر مٹھائی بانٹنے والے وفاقی وزیر بنے ہوئے ہیں
بس چار سال میں یہ تبدیلی آئی ہے کہ پارٹی جس کارکن کے سہارے پر کھڑی ہے وہ مضطرب ہے اور موجودہ پارٹی قیادت سے نالاں ہے جبکہ صعوبتیں برداشت کرنے والوں کو ذلت کے ساتھ پارٹی بدر کر دیا گیا ہے
آئیے آپ بھی میرے ساتھ 2007 میں لکھے ہوئے یہ الفاظ دوبارہ پڑھیں اور فیصلہ کریں کہ کیا کچھ تبدیل ہوا ہے؟
پاکستان
کی خونی سیاست کی تاریخ کا ایک اور باب بند ہو گیا۔ بے نظیر بھٹو جو انیس
سو ترپن میں پیدا ہوئی تھیں انہیں ستائیس دسمبر دو ہزار سات کو راولپنڈی
کے خونی لیاقت باغ میں ایک خود کُش بمبار کا نشانہ بننا پڑا اور پھر
اٹھائیس دسمبر دو ہزار سات جمعے کے روز پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اس باب
کو ہزارہا روتے،بلکتے،سر پیٹتے اور ماتم کرتے لوگوں کی موجودگی میں اپنے
والد ذوالفقار علی بھٹو کی قبر کے دائیں جانب اندھیری قبر میں اتار دیا
گیا جہاں صرف اور صرف اعمال کی روشنی کام آئے گی۔اپنے قتل
سے چند روز پہلے وہ اسی قبرستان میں جب گئی تھیں اور اپنے والد کی قبر پر
بیٹھ کر جس جگہ قرآن خوانی کر رہی تھیں اسوقت شاید انکے وہم و گمان میں
بھی نہ ہو گا کہ وہ جس جگہ بیٹھی اپنے والد کے لیئے قرآن کی تلاوت کر رہی
ہیں عین اسی جگہ پر چند روز بعد انکی قبر بن جائے گی۔
میری اپنی
دانست میں بے نظیر کےسیاسی نظریے سے کسی کو بھی اختلاف ہو سکتا ہے لیکن جس
طرح سے انہیں اس سیاسی منظر نامے سے ہٹایا گیا وہ قابل مذمت اور قابل نفرت
ہے کیونکہ اگر یہی صورت حال رہی تو پھر شاید کوئی بھی سیاستدان محفوظ نہ
رہے۔
میں
یہ مان لیتا ہوں کہ القائدہ نے بے نظیر کے قتل کی ذمیداری قبول کر لی ہے
لیکن کیا مجھے کوئی بھی حکمران اس بات کا جواب دے سکے گا کہ یہ القائدہ
کون ہے اور اسے کس نے پالا پوسا اور کس نے اس القائدہ کو ایسا بے قاعدہ
بنا دیا کہ جس نے بوتل سے اس جن کو نکالا تھا وہ خود بھی اسے واپس بوتل
میں نہیں بند کر سکتا۔قائد اعظم نے جو پاکستان بنایا تھا
کیا وہ یہی پاکستان ہے ؟
ایسا پاکستان جہاں حکمران اور عوام دو الگ الگ نسلیں ہیں،جہاں حاکم عوام
کو حشرات الارض سمجھتے ہیں،جہاں کوئی کرسی چھوڑنے کو تیار نہیں چاہے ملک
تباہ و برباد ہو جائے،جہاں سیاست قتل اور خونریزی کا دوسرا نام بن گیا
ہے،جہاں ایک طرف عام لوگ لائنوں میں لگے ایک کلو آٹا نہیں لے پاتے وہاں
دوسری طرف حاکمین کے محلات میں انکے کُتوں کو اکیسویں گریڈ کے سرکاری افسر
کے برابر مراعات اور سکون میسر ہے۔
وہ سب لوگ جو اب بے نظیر کی
تعریف کرتے نہیں تھک رہے کیا وہ انکی زندگی میں انکی ان خوبیوں کا اعتراف
نہیں کر سکتے تھے۔ دراصل ہمارے معاشرے میں خاص طور پر سیاسی کلچر میں اسی
منافقت نے گھر کر رکھا ہے اور یہی منافقت ہمارے مجموعی معاشرے کو دیمک کی
طرح چاٹ چکی ہے۔
بے
نظیر نے اپنے والد کے سیاسی اور جسمانی قتل کے بعد پیپلز پارٹی کو سنبھالا
اور پاکستان کے آمر مطلق ضیا الحق کی فوجی حکومت کے خلاف جمہوریت کی بقا
کے لیئے اس قافلے کی رہنمائی کی۔انہیں کی قیادت میں جہانگیر بدر اور سید
قمر عباس سمیت کتنے ہی پارٹی کے کارکنوں نے کوڑے کھائے اور جیلوں کی
صعوبتیں برداشت کیں لیکن فوجی آمریت کے سامنے سر نہیں جھکایا۔پھر
اسی بے نظیر کو اپنے ارد گرد جمع ہونے والے مفاد پرست ٹولے کی وجہ سے پی
پی پی کے اساسی ارکان سے الگ ہونا پڑا اور اپنی دو حکومتوں کو بھی قربان
کرنا پڑا۔ وہ سینئر لوگ جو ذوالفقار علی بھٹو کے سیاسی فلسفے کے حامی تھی
وہ خاموشی سے ایک طرف ہوگئے اور بے نظیر کے ارد گرد ایسے ایسے لوگ جمع ہو
گئے جنہوں نے بڑے بھٹو صاحب کو نہ دیکھا اور ان کے ساتھ کام کیا اور نہ ہی
انکے سیاسی فلسفے سے کوئی آگاہی حاصل کی۔
یہ وقت اس بحث میں جانےکا
نہیں کہ خود پیپلز پارٹی کے لوگوں نے اس پارٹی کو کتنا نقصان پہنچایا لیکن
اب یہ ضرور سوچنا ہوگا کہ کیا بے نظیر کے بعد بھی یہ جماعت خاندانی اور
موروثی قیادت سے باہر نکل کر واقعی پوری روح کے ساتھ عوامی جماعت بنتی ہے
یا نہیں۔ جبکہ اس سے انکار نہیں کہ یہ جماعت واحد پاکستان کی سیاسی جماعت
ہے جسکی جڑیں اب بھی عوام میں ہیں۔
بے
نظیر خود تو اسی مٹی کا رزق بن گئیں جس مٹی سے انکا خمیر اٹھا تھا لیکن
انکے نظریے کو باقی رہنا ہو گا۔ یہ فیصلہ تو تاریخ کرے گی کہ کیا بے نظیر
کے ساتھ بھی چودہ سو سال پہلے کی کوفے کی تاریخ دوہرائی گئی ہے جب کوفیوں
نے نواسہ رسول کو خط پہ خط لکھ کر انہیں اپنی حمایت کا یقین دلوایا تھا
اور کوفے آنے کو کہا تھا لیکن بلوانے کے بعد انکا ساتھ چھوڑ دیا۔ہماری
آج کی اسلامی ممالک کی زیادہ تر حکومتیں اسی حکمتِ یزید اور حکمت ابن زیاد
کو اپنا محور بنائے ہوئے ہیں،ہم خود پاکستان میں امریکہ کی جنگ لڑ رہے ہیں
اور خود ہماری اپنی فوج اپنے ہی ملک کے مختلف حصوں میں اپنے ہی ملک کے
لوگوں کو گولہ و بارود کا رزق مہیا کر رہی ہے۔
یہ
خود کُش کون ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں؟ انکی نرسریاں کن علاقوں میں ہیں؟ انہیں
کس نے مالی اعانت سے پالا ہےَ؟ انہیں کون اسلحہ سپلائی کرتا ہے؟ یہ کس کے
ایما پر یہ کاروائیاں کرتے ہیں؟ کس لیئے یہ خود کش قابل گرفت نہیں ہیں؟
انکی پشت پناہی کون کرتاہے؟
کروڑوں بلکہ اربوں روپے کے بجٹ پرپلنے والی ہماری خفیہ ایجنسیاں انکے بارے میں معلومات کیوں نہیں اکٹھے کر پاتیں؟
یہ اورایسے کتنے سوال ہیں جو مجھ جیسے بہت سے لوگ پوچھنا چاہتے ہیں اپنے حکمرانوں سے۔یہ
تو طے ہے کہ بے نظیر شدت پسند نہیں تھیں۔ وہ اعتدال پسند اور میانہ رو
سیاستدان تھیں لیکن ایسے اعتدال پسند سیاستدان کا ایسا بھیانک اختتام کیا
حکومت اور حاکموں کے خلاف کھلی چارج شیٹ نہیں ہے؟ لیاقت باغ کی تاریخ تو
لیاقت علی خان سے بے نظیر بھٹو تک ایک ہی ہے کہ اس جگہ ہونے والے کسی قتل
کا مجرم نہ پکڑا گیا اور نہ پکڑا جائے گا۔
میں
ابھی تھوڑی دیر پہلے سی این این دیکھ رہا تھا جہاں ‘‘مارک سیگل‘‘ بے نظیر
کے قتل پر اپنے خیالات کااظہار کر رہے تھے انہوں نے اس دوران ایک انکشاف
کیا ہے جو شاید بے نظیر کے قتل کی ایف آئی آر ہو۔مارک
سیگل کے بقول۔۔۔اپنے قتل سے صرف چند روز قبل اپنی ایک ای میل میں بے نظیر
نے امریکہ میں انہین یہ لکھا: ’اگر میں قتل ہوجاوں تو اس کا ذمہ دار صدر
پرویز مشرف کو سمجھا جائے کہ میرے مانگنے پر بھی انہوں نے مطلوبہ سیکیورٹی
آلات مہیا نہیں کیے‘ ۔
پوچھنے
والے یہ بھی پوچھتے ہیں کہ ‘‘لیاقت باغ ''کا نام کیوں نہیں تبدیل کر دیا
جاتا ہو سکتا ہے کہ اس طرح یہاں قتل کی روایت ختم ہو جائے۔
یا پھر سی ون تھرٹی اور فوجی ہیلی کاپٹروں کو چکلالہ سے سیاسی لیڈروں کی لاشیں بھیجنے کے لیئے کب تک استعمال کیا جاتا رہے گا؟
کب تک شہر جلتے رہیں گےَ کب تک ؟
بھٹو خاندان کی ‘‘کنڈلی‘‘ میں شاید موت لکھی ہی اس طرح ہے۔
فوجی
آمریت ذوالفقار علی بھٹو کو رات کے اندھیرے میں پھانسی چڑھا دیتی ہے، بے
نظیرجواں سال بھائی شاہنواز کی جنوبی فرانس سے لاش لیکر وطن لوٹتی ہے،
مرتضیٰ بھٹو کا قتل خود بے نظیر کی وزارت عظمیٰ کے دوران ہوتا ہے اور اب
خود بے نظیر خود کُش بمبار کا نشانہ بن جاتی ہیں۔ اس گھرانے میں موت کی
خوشبو بس گئی ہے شاید۔لیکن
یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ فرعون سے لیکر یزید تک اور یزید سے کسی بھی
آمرمطلق تک،سب کا انجام ایک سا ہی ہوا ہے۔ایسی حالت میں وہ خوش نصیب ہے
جسے دو گز زمین میسر آ جائے۔