|
فرینکفرٹ جرمنی میں منعقدہ ایک ادبی اور فکری یادگار تقریب
23.01.2012, 08:15pm , سوموار (GMT+1)
طاہر ملک۔عالمی اخبار بیورو چیف جرمنی
 فرینکفرٹ میں فن و ادب ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ایک یادگار اور منفرد ادبی اور فکری تقریب21 جنوری 2012 بروز ہفتہ منعقد ہوئی جسے تقریب کے شرکا نے ایک یادگار تقریب قرار دیا اور منتظمین سے درخواست کی کہ مستقبل میں بھی ایسی تقاریب کا اہتمام کیا جائے جس سے مسلمانوں میں فرقہ بندی اور فرقہ پرستی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ شعور اور فکر بیدار کیا جائے اور ان منافق اور زمانہ ساز مقامی۔ ملکی یا عالمی طاقتوں سے عام مسلمانوں کو آزاد کروانے کا ڈول ڈالا جائے جنہوں نے عام کلمہ گو کو اپنے نظریات اور عقائد کے ساتھ ساتھ بے عملی کا غلام بنا رکھا ہے اور اس طرح ان حلقوں کی دوکانداری چل رہی ہے اور مسلمان روز بروز علم سے دور اور بے عملی کے قریب ہوتا چلا جا رہا ہے
اس تقریب کے منتظمین ارشاد ہاشمی،دانیال رضا اور طاہر ملک نے اس بات پر نہایت خوشی کا اظہار کیا کہ گانے بجانے کی محفلوں میں تو لوگ دو تین گھنٹے بیٹھ ہی لیتے ہیں لیکن کسی خالص علمی اور فکری محفل میں لوگوں کا چار گھنٹے تک مکمل انہماک کے ساتھ بیٹھے رہنا اور پوری یکسوئی سے تقریب کی کاروائی کو سننا ایک کامیابی کی دلیل ہے
یہ ادبی اور فکری تقریب نیر اقبال علوی کی تصنیف ،نواہائے شوق، اور رکن عالم شاہ کے سرائیکی صوفیانہ کلام کے مجموعے۔دان فیضان۔ کی تقریب اجرا تھی جسکی صدارت فرینکفرٹ میں پاکستان کے قونصلر جنرل جی آر ملک نے کی اور مہمان خصوصی لندن سے تشریف لائے ہوئے معروف شاعر،ادیب ،سکالر،مرثیہ نگار،اتحاد بین المسلمین اور بین المذاہب کے داعی اور عالمی اخبار کے مدیر اعلی صفدر ھمدانی تھے جبکہ ہمبرگ سے معروف شاعرہ اور ذاکرہ طاہرہ رباب نے خصوصی شرکت کی
تقریب کا پہلا دور انہی دونوں کتابوں کے حوالےسے تھا جسمیں ارشاد ہاشمی،دانیال رضا،خورشید عالم اور صفدر ھمدانی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور نیر اقبال علوی کی کتاب کے موضوعات کے حوالے سے پاکستان اور مسلم امہ کے ہمہ جہت مسائل پر کھل کر گفتگو کی اور اس امر پر زور دیا گیا کہ ان رجعت پسند،تفرقہ باز،تفرقہ ساز اور مفاد پرست جمیعتوں اور طاقتوں کا کھل کر اور سامنے آ کر مقابلہ کیا جائے جو مسلم امہ کو اپنی محدود فکر اور تفرقہ ساز فکر کا غلام بنانا چاہتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کسی بڑے انقلاب سے قبل اپنی ذات میں انقلاب پیدا کیا جائے۔
طاہر ملک نے صفدر ھمدانی کا تازہ کالم گوشت حلال،انشورنس حلال ، ڈاٹ کام حلال مگر سوچ حرام ۔ پڑھ کر سنایا اور کہا کہ نوے فیصد لوگوں کو چونکہ اسمیں اپنا اصل چہرہ نظر آتا ہے اس لیئے وہ اس تحریر کو اسلام مخالف کہہ کر اپنی ذاتی گندگی کو چھپانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے پیشکش کی کہ کالم نگار خود یہاں موجود ہیں جس کسی کو اس کے کسی بھی حصے اختلاف ہو وہ براہ راست ان سے بات کر سکتا ہےان تمام فکری تقاریر کی تفصیل اگلے چند روز میں مفصل رپورٹ میں پیش کی جائے گی
پہلے حصے کے اختتام پر مختصر وقفے کے لیئے مہمانوں کی تواضع کی گئی جسکے بعد مشاعرے کا دور ہوا جسمیں مہمان خصوصی صفدر ھمدانی کے علاوہ ہمبرگ سے تشریف لائیں معروف شاعرہ طاہرہ رباب نے اپنے مخصوص ترنم میں اہنی فکری اور روحانی شاعری پیش کر کے حاضرین سے داد وصول کی۔
مقامی شاعر جناب طفیل خلش ایک عرصے بعد کسی محفل میں تشریف لائے تھے انہوں نے اپنی پنجابی شاعری پیش کر کے خوب داد وصول کی۔مشاعرے میں شرکت کرنے والے تمام شعرا کے اسمائے گرامی اور تفصیل بھی مقصل رپورٹ میں شامل ہو گی
سرکاری اہل کاروں اور سفارتخانوں کے افراد کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ وہ اول تو ایسی علمی اور خالص فکری تقاریب میں بہت کم کم آتے ہیں اور اگر آ جائیں تو درمیان میں اپنی لکھی لکھائی صدارتی تقریب پڑھ کر چلے جاتے ہیں۔ لیکن اس تقریب کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی تھی کہ تقریب کے صدر فرینکفرٹ میں پاکستان کے قونصلر جنرل جی آر ملک مکمل تقریب میں چار گھنٹے سے زائد عرصے تک نہ صرف شریک رہے بلکہ مکمل تقریب کو نہایت دلجمعی سے سنا اور پھر اپنے مختصر صدارتی خطبے میں ان تمام نکات کا اظہار کھل کر فرمایا جو تقاریر اور اشعار میں بیان ہوئے تھے۔ انہوں نے خاص طور پر جناب صفدر ھمدانی کی فکری گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ہمارے درمیان ان جیسے صاحبان علم اور سکالر موجود ہیں ہمیں عالمی۔فکری اور عملی رہنمائی ملتی رہے گی اور ایسے ہی افراد کے افکار کی روشنی میں ہم وطن عزیز کی کمیوں اور خامیوں کو بھی دور کر سکیں گے
انہوں نے تقریب کے منتظمین کو اس نہایت کامیاب تقریب کے انعقاد پر مبارکباد دی کہ جسمیں مقامی افراد کے علاوہ تین سو کلو میٹر دور سے بھی احباب شریک ہوئے تھے
اس تقریب کی چند تصاویر لیکن تفصیلی رپورٹ،وڈیو رپورٹ اور مزید تصاویر جلد ہی شائع کی جائیں گی
|