گذشتہ قسط کا اختتام
ہم لوگ علی الصبح ہی بیدار ہوگئے اور نماز سے فارغ ہوکر ان دو اہم مقامات کی جانب جانے کی غرض سے تیار ہوگئے، جہاں جا کر ہمیں آج کے دن کو قیمتی بنانا تھا۔ یعنی زیارتِ حضرت امام زادہ صالح علیہ السلام اور حضرت امامزادہ داؤد علیہ السلام۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی جبکہ ہماری رفت میں کچھ وقت باقی تھا تو اس دوران ان دو حضرات کی بابت کچھ معلومات حاصل کرنے کی غرض سے میں نے کتاب کھولی اور مطالعہ کرنا شروع کیا۔ قبل اسکے کہ میں کچھ پڑھ پاتا، دروازے پر دستک ہوئی۔ کھول کر دیکھا تو مہمان خانے کا ایک ملازم تھا جو ہمیں یہ بتانے آیا تھا کہ ہمارے دوست استقبالیہ پر ہمارا انتظار کررہے ہیں۔ چنانچہ ہم نے اپنا ضروری سامان اٹھایا اور کمرہ بند کرکے باہر آگئے۔ استقبالیہ پر اصغر بھائی مع اپنے ٹیکسی والے دوست کے موجود تھے اور وہ مہمان خانے کے عملے سے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ہم وہاں سے رخصت ہو کر باہر آئے اور گاڑی میں بیٹھ کر اپنے آج کے سفر کا آغاز کردیا۔ مجھے اس وقت زرا بھی معلوم نہ تھا کہ ہماری منازل کہاں کہاں ہیں اور وہاں پہنچنے کے لئے کتنا وقت درکار ہوگا۔ اگر یہ تمام کام خود سے سرانجام دینے ہوتے تو معاملہ کچھ اور ہوتا، لیکن یہاں میرے مولا نے جو ایک محسن ہمارے واسطے مختص کیا تھا، اسکی موجودگی میں ہمیں کچھ فکر نہ تھی کہ کہاں جانا ہے، کب جانا ہے اور کیسے جانا ہے۔ ہمیں تو اپنے نصیب جگانے کا ایک اشارہ ملتا اور ہم مالا مال ہوجاتے۔ ایران میں قیام کے دوران آج تک کوئی وقت ایسا نہیں آیا جب کسی مسئلے کا سامنا ہو یا پریشان ہونے کی نوبت آئے۔ اپنی جلد بازی یا بے قراری کی وجہ سے پریشان ہوا ہوں تو وہ علیحدہ بات ہے۔ آج بھی کہنے کو تو ہم صرف دو مقامات پر زیارت کا شرف حاصل کرنے نکلے تھے لیکن جب ہماری گاڑی سڑک پر آئی تو اصغر بھائی نے بتایا کہ جن دو مقامات پر ہم جارہے ہیں، ایک تو یہ کہ ان کی زیارت کا بہت زیادہ اجر و ثواب اور معصومین کی جانب سے تاکید ہے، دوسرے یہ کہ عموماً بیرونی زائرین ان مقامات کی جانب لاعلمی کے باعث توجہ نہیں دیتے اور ثالثاً یہ کہ ان امام زادگان کی زیارات ایسی جگہوں پر واقع ہیں کہ جہاں جاتے ہوئے سارے تہران کی سیر ازخود ہوجاتی ہے۔
تہران۔۔۔۔جو کہ خود اب تک ہمیں اپنے اندر جذب کرچکا تھا اور جس نے اسقدر اپنائیت کا احساس دلایا تھا، آج ہمیں دعوتِ نظارہ بھی دے چکا تھا۔ یہ یقیناً میرے مولا کی بیکراں اور بیشمار عطاؤں میں سے ایک اور عطیہ تھا کہ ہمیں بہانے سے ایسا موقع فراہم کیا گیا۔ ورنہ پروگرام کے مطابق تو آج کا دن ہم نے قم میں ہی گزارنا تھا اور یہ بھی معلوم نہ تھا کہ کہیں کی زیارت کرپائیں گے یا ہوٹل میں ہی پڑے رہیں گے۔ تھوڑا سا فاصلہ گلی کوچوں اور چھوٹی چھوٹی سڑکوں سے گزار کر ہم اصلی خیابان پر آگئے جو تہران کی سب سے طویل، مشہور اور خوبصورت ترین خیابان ہے، جسکا نام ولی العصر اسٹریٹ یا خیابانِ ولی العصر ہے۔ یہ خیابان مشرقِ وسطٰی کی طویل ترین، جبکہ جدید تحقیق کے مطابق دنیا کی سب سے طویل خیابان ہے۔ یہی خیابان وہ خطِ فاصل ہے جو تہران کو مشرقی اور مغربی منطقوں میں جدا کرتی ہے۔ اس خیابان کو شہنشاہ رضا شاہ پہلوی نے تعمیر کروایا تھا ۔ اسی مناسبت سے اسکا اولین نام خیابانِ پہلوی رکھا گیا۔ مگر جب سلطانیءجمہور کا زمانہ آیا تو جہاں دیگر نقش ہائے کہن کو مٹایا گیا، وہیں اسکا نام بھی بدل کر اس وقت کے وزیرِ اعظم کے نام پر خیابانِ مصدقی اور پھر مزید بعد میں امام عصر عج کے نام پر خیابانِ ولی العصر رکھ دیا گیا۔ یہ تہران کی شہری سرگرمیوں کا مرکز ہے جہاں چوبیس گھنٹے ٹریفک رواں رہتی ہے۔ اس کے اطراف میں دفاتر، دکانیں، بڑی بڑی عمارات، ریسٹورینٹ، سینما گھر اور مختلف پارک ہیں جن میں سےمشہور ترین پارکِ ملت ہے جو تہران کی بیشمار پہچانوں میں سے ایک ہے۔ 12 میل طویل اس خوبصورت خیابان کےگرداگرد چنار کے حسین درخت خاموش کھڑے اسکے حسن کو چار چاند لگا رہے ہیں جو ہر بدلتے موسم کے ساتھ ایک نئے رنگ کی خلعت اوڑھ لیتے ہیں۔

ہم نے خیابانِ ولی العصر کے ابتدائی حصے سے اپنے سفر کا باقاعدہ آغاز کیا اور اسکے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی مختلف عمارات اور دیگر سرگرمیوں کے مراکز کے بارے میں اپنے گائیڈ سے معلومات لیتے رہے۔ آج موسم انتہائی خوشگوار تھا۔ آسمان اس حد تک صاف تھا کہ یوں لگتا تھا جیسے سر پر ایک اجلی نیلگوں چادر تنی ہوئی ہو۔ اس پر اتنی ہی صاف اور چمکیلی دھوپ جس سے ہلکی ہلکی ہوا اپنی ترنگ میں لہراتے ہوئے چھیڑ خانی کررہی تھی۔ میری خوشی اور جوش نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ موسم کا انسسانی جذبات پر کس حد تک گہرا اثر ہوتا ہے۔ ہماری نظروں کے سامنے سے نئے نئے مناظر گزر رہے تھے جن میں قدیم و جدید عمارات سب سے زیادہ جاذبِ نظر تھیں۔ اس خیابان کا سفر یہ بات واضح کرتا ہے کہ تہران واقعی قدیم و جدید تہذیب کا مرقع ہے۔ چلتے چلتے ہم اس مقام تک پہنچے جو تہران کی پہچان اور اس کا داخلی دروازہ ہے یعنی برجِ
آزادی! اسی برج سے کچھ فاصلے پر تہران کا مقامی ہوائی اڈہ مہر آباد واقع ہے۔ امام خمینی ائرپورٹ کی تعمیر سے قبل جب مہرآباد ائرپورٹ تہران کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہوتا تھا تو برجِ آزادی تہران میں وارد ہونے والے شخص کو خوش آمدید کہتا ہوا نظر آتا تھا۔
پچاس میٹر اونچے خالص سفید مرمر سے بنے اس برج کو رضا شاہ پہلوی نے 1971ء میں ایرانی شہنشاہیت کی ڈھائی ہزار سالہ تقریب کے موقع پر تعمیر کروا کر اسے "شاہ یاد مھریہ" کا نام دیا تھا۔ یہ مقام ایامِ انقلاب میں انقلابی سرگرمیوں کا مرکز بھی بن چکا تھا جہاں اکثر جلسے جلوس منعقد ہوا کرتے تھے۔ انقلاب کے زریعے جب مستضعفین کو شہنشاہیت سے آزادی ملی تو اس مقام کا نام بھی شاہ یاد نہ رہا، بلکہ "برجِ آزادی" پڑگیا۔ یہ برج پچاس ہزار مربع میٹر کے وسیع و عریض میدان کے بیچوں بیچ واقع ہے جسے میدانِ آزادی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میدان میں بیشمار خوبصورت فوارے، پھول، بوٹے، مرمریں راہداریاں اور سبز گھاس دیکھنے والے کو اپنے اندر سمو لیتے ہیں۔ یہ برج قدیم ساسانی اور اسلامی فنِ تعمیر کا ایسا شاہکار ہے جو دیکھنے والے کو مبہوت کرکے رکھ دیتا ہے۔ اس عجیب و غریب عمارت کی خوبصورتی کا راز اس کی تعمیر کے عقب میں چھپے تخلیقی تصورات، محنت اور لگن ہے۔ اس کی تعمیر میں سنگِ مرمر کے آٹھ ہزار تراشے استعمال ہوئے ہیں اور یہ سنگِ مرمر بھی کوئی عام مرمر نہیں ہے بلکہ اسے ایران کے مایہ ناز سنگ شناس قنبر رحیمی صاحب جو کہ اپنے فن کی بنیاد پر سلطانِ سنگِ ایران کہلاتے تھے، نے اصفہان سے خاص طور پر مہیا کیا تھا۔ اسکی تعمیر ایران کےصفِ اول کے ماہرِ تعمیرات حسین امانت صاحب کے ہاتھوں انجام پائی جبکہ سنگ تراشی کا ان تھک مرحلہ اپنے دور کے اولین سنگ تراش غفار داورپناہ نے انجام دیا۔ اس عمارت کے زیریں طبقے میں ایک محیر العقول عجائب گھر ہے جو ہر ناظر کی آنکھوں کو اپنی حیران کن تجلی سے دگنا کھلنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
یہاں کچھ دیر کو ٹھہر کر میں اس دروازے کے سحر میں کھو گیا اور حسبِ عادت اسی رستے سے ماضی کی بھول بھلئیوں میں کھو گیا۔ میں نے وہیں کھڑے کھڑے ایک انقلابی جلسے میں شرکت بھی کی اور علامہ اقبال کی خواہش
تہران ہو اگر مشرق وسطیٰ کا جنیوا
شاید کہ مسلمانوں کی تقدیر بدل جائے
سے سو فیصد متفق ہوتے ہوئے اس شہر کو اقوامِ اسلام کا مرکز بننے کی دعا کی۔ آج کے بین الاقوامی حالات اب یہی آشکار کرتے نظر آتے ہیں کہ مسلمانوں کی تقدیر بدلنے کا محور انشاءاللہ تہران ہی ہوگا۔
گاڑی تیز رفتاری سے اپنی منزل کی جانب بھاگی جارہی تھی اور ہر گزرتا منظر اپنے مقام پر ہمارے لئے ایک نیا منظر چھوڑ کر پیچھے رہ جاتا۔ میری آج کی اس سیرگاہ کی سیر کے لئے بھی کئی مہینے درکار تھے جن کو ہم نے چند منٹوں میں سمو کر سیر کے نام پر اپنے دل کو بہلا لیا۔ میں خاموش بیٹھا مسلسل باہر کے مناظر کو تکے جارہا تھا۔ کبھی کوئی پارک آتا تو کبھی کوئی عمارت۔ چلتے چلتے مٹیالے رنگ کی ایک عمارت اس طرح نظروں کے سامنے آئی کہ دس منٹ کا فاصلہ طے ہوگیا مگر اس عمارت کی طوالت ختم نہ ہوئی۔ میں نے حیرت کے مارے اصغر بھائی سے اس شیطان کی آنت کے بارے میں پوچھا۔ معلوم ہوا کہ وہ واقعی شیطان ہی کی آنت تھی۔ وہ عمارت دراصل رضا شاہ پہلوی کے مختلف کاروبار کے دفاتر اور عملے کے رہائشی فلیٹ تھے۔ جب بادشاہ کی سواری مہر آباد ائرپورٹ سے ہوا میں پرواز کرتی یا کہیں اورسے اڑتی ہوئی آتی اور یہاں نزول کرتی تو بادشاہ سلامت کلمے "شاہ زندہ باد" کی شکل میں تعمیر شدہ اس عمارت کو دیکھ کرخوش ہوجاتے۔ انوکھے لاڈلوں کی چاند سے کھیلن کی ان ننھی ننھی خواہشات پر میں عش عش کر اٹھا۔ مجھے مزید معلوم ہوا کہ جب اس بت کو انقلاب کے زریعے ریزہ ریزہ کیا گیا تو اسکے تمام نشانات بھی مٹا دئے گئے اور اس عمارت سے ملحق کچھ اور عمارات تعمیر کی گئیں جس سے نفسانی خواہشات کا عکاس وہ جملہ گدمڈ ہوگیا اور زندہ باد رہنے والا شاہ یہاں بھی نابود ہوگیا۔
تہران کی دھنک کے یہ سارے رنگ دیکھتے دیکھتے ہم گھنٹہ بھر کی مسافت طے کرکے اپنے پہلے پڑاؤ یعنی زیارت گاہ امام زادہ حضرت صالح بن امام موسٰی کاظم علیہ السلام تک پہنچ گئے جو تہران شہر سے تقریباً 10 کلو میٹر کے فاصلے پر شمالی علاقے شمیران کے پہاڑی سلسلے تجرش میں واقع ہے۔ آپ امام رضا علیہ السلام کے بھائی اور ایک جلیل القدر مقربِ الٰہی ہستی تھے۔ آپ کی فضیلت میں کئی روایات وارد ہوئی ہیں جن میں سے آپکے زائرین کی دعاؤں کی یقینی قبولیت ہے۔ ہم گاڑی سے اتر کر جب روضے کے احاطے میں داخل ہوئے تو اصغر بھائی نے رک کر ہمیں اس بابت بتایا کہ زندگی کی کوئی ایسی گرہ جو اب تک ہزار تدبیر کے بعد بھی نہ کھل سکی ہو، یہاں اپنی درخواست پیش کریں تو پہاڑ جتنا مسئلہ بھی رائی کے دانے کی مانند اڑ جائیگا۔ اس روضے میں مدفون شاہزادے کی برکات سے اس احاطے میں خدا دکھی دلوں کی مرادوں کو برلاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ معرفت دور دور سے یہاں اپنی حاجات لیکر آتے ہیں۔ جب یہ سب معلوم ہوا تو میں جلدی جلدی روضے کی جانب بڑھا۔ اذنِ دخول کی تلاوت کے بعد امام زادہ حمزہ علیہ السلام کے حضور درودوسلام پیش کیا۔ آپکی زیارت اپنے تئیں معرفت کے ساتھ بجا لایا اور ضریح کی جالی تھام کر خوب رازونیاز کیا اور وہ وہ باتیں کرڈالیں جو اب تک کہیں نہ کی تھیں۔ گو کہ یہ روضہ خاصا کشادہ تھا لیکن زائرین کی قلیل تعداد کے باعث بہت زیادہ وسیع و عریض محسوس ہورہا تھا۔ میں کچھ دیر جالی سے لپٹا اپنے آقازادہ سے گفتگو میں مشغول رہا اور بعد ازاں نمازِ ہدیہ کہ ادائیگی کی نیت سے تھوڑے فاصلے پر مصلے پر جا کھڑا ہوا۔ نماز ادا کی۔ حالتِ تشہد میں تھا تو محسوس ہوا کہ کوئی دائیں جانب کھڑا ہے۔ سلام پھیر کر ابھی تسبیح اٹھایا ہی چاہتا تھا کہ پاس کھڑا ہوا شخص لپک کر میرے پاس آیا اور میرا شانہ جھنجھوڑ کر جلدی سے مجھے اٹھنے کو کہا۔ میں نے ہڑبڑا کر دیکھا تو وہ شخص کوئی اور نہیں، اصغر بھائی تھے اور مجھے کچھ خاص دکھانے کے لیئے بے چینی سے میری نماز کے اختتام کا انتظار کررہے تھے۔ یہاں میری نماز تمام ہوئی اور وہاں وہ مجھے گھسیٹتے ہوئے روضے کے داخلی دروازے کے باہر لے گئے اور یہاں کھڑا کرکے مجھ سے دروازے کا بغور جائزہ لینے کی فرمائش کی۔ جوں جوں میری نظریں دروازے کے بالائی حصے پر کی گئی چوب کاری کی ہجے کرتے ہوئے الفاظ اور پھر کلمے کی شکل میں پڑھتی گئیں، میرے دل کی دھڑکن بڑھتی گئی اور آہستہ آہستہ اطمنان اور خوشی کی کیفیت میں ڈھل گئی۔ میں نے لپک کر دروازے کے اس حصے کو مس کیا اور تبرکاً اپنے چہرے پر مل لیا اور ایک مرتبہ پھر مصلے پر جا کر نمازِ شکرانہ ادا کی۔ میں نے دیکھا کہ اصغر بھائی اس غیر متوقع تحفہ پر، جو کہ ملا بھی مجھے ہی تھا، مجھ سے زیادہ خوش اور پرجوش تھے۔ گویا اس تحفے میں انکا بھی حصہ شامل ہو۔ انہوں نے امامزادہ صالح علیہ السلام کے رحمتکدے اور دعاؤں کی قبولیت کے مرکز میں کھڑے ہوکر حسرت بھرے انداز میں مجھ سے اپنے حق میں دعا کرنے کی درخواست کرکے مجھ کم ظرف کو شرمندہ کرڈالا۔ بھلا میری کیا اوقات تھی کہ میں گناہگار کسی پرہیزگار انسان کے حق میں دعا کرتا مگر یہ آج کی نہیں، زیارات کے تمام سفر کی داستان کا لازمی مشاہدہ تھا کہ ان علاقوں کے مقامی افراد بیرونی زائرین سے ہاتھ جوڑ جوڑ کر اپنے لیئے دعائیں کرواتے ہیں۔ شاید انہیں مقامِ زائرین کی معرفت کا اندازہ ہو!

جس روحانی سکون اور قلبی اطمنان کا احساس امامزادہ صالح علیہ السلام کے احاطے میں ہوا، وہ شاید اب تک کہیں محسوس نہیں ہوا تھا۔ واقعی وہاں کی فضا میں ایک عجیب سی طمانیت تھی جو قابلِ بیان نہیں۔ میں آج بھی یہ سوچتا ہوں کہ خدا نے اپنے پسیندیدہ بندوں کی بارگاہوں میں ہر ایک کو ایسا منفرد مقام عطا فرمایا ہے جسکا نہ کسی دوسرے مقام سے مقائصہ کیا جاسکتا ہے اور نہ ان احساسات کو قیدِ بیان میں لایا جاسکتا ہے۔ جہاں بھی جاؤ، اسکے لطف و کرم کا ایک نیا ہی رنگ دیکھنے کو ملتا ہے۔ بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ حضرت کی ضریح کی جالی تھام کر جو کچھ میں عرض کررہا تھا، باطنی آنکھوں سے ان تمام باتوں کو وقوع پذیر ہوتا ہوا بھی دیکھ رہا تھا جو اس بات کی دلیل تھی کہ میرے رہبر نے جو اس مقام کے بارے میں مجھے بتایا ہے، صد فی صد درست ہے۔
قبل اسکے کہ ہم وہاں سے کوچ کرتے، اذانِ ظہرشروع ہوگئی اور ہمیں ایک اور عظیم مقام پر باجماعت نماز ایک جید پیشِ نماز کی اقتدا میں ادا کرنے کو نصیب ہوگئی۔ اسے کہتے ہیں عنایات کی بارش جس سے ہمارے کامل وجود فیضیاب ہورہے تھے۔ یاخدا تیری کس کس عطا پر تیرا شکر ادا کیا جائے۔ بیشک تیری عنایات بیکراں اور ہمارا شکر ادا ہونے کے قابل نہیں، پس تو ہی رحیم و کریم ہے جو ہمارے ناقص عمل کو بھی شرفِ قبولیت بخش دیتا ہے اور گناہوں کے باوجود بھی اپنے انعامات کا سلسلہ ترک نہیں کرتا۔ نماز تمام ہوئی تو ایک مؤمن تبرک تقسیم کرتا ہوا مجھ تک آیا اور اس مقدس بارگاہ کا تبرک میرے ہاتھ میں تھما کر آگے چل دیا۔ اس مقامِ اطمنان سے باہر نکلنے پر دل بالکل مائل نہ تھا لیکن خیال آیا کہ خدا کی عنایات کا ایک اور ذائقہ کچھ اور فاصلے پر ہمارا منتظر ہے، سو وہاں سے اٹھے اور اپنی روح کو مزید بلندی کی جانب پرواز کروانے کی نیت سے امام زادہ داؤد علیہ السلام کے مقامِ شرف کی جانب چل پڑے جو خود بھی تہران کے پہاڑی سلسلے کی چوٹی پر واقع ہے۔ یعنی اس سیدزادے کی زیارت انسان کو جسمانی طور پر بھی بلندی کی جانب لیجاتی ہے۔ مجھے جو اعزازات اس مقام سے ملے، انکے باعث میں روحانی طور پر اتنا قوی ہوگیا کہ اپنی اگلی منزل کی جانب جانے کے لئے قلبی طور پر مائل ہوگیا۔