فرینکفرٹ میں فن و ادب ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام مشاعرے کی روداد 26.01.2012, 01:01am , جعمرات (GMT+1)
طاہر ملک۔عالمی اخبار۔بیورو چیف جرمنی
فرینکفرٹ میں فن و ادب ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ایک یادگار اور منفرد ادبی اور فکری تقریب21 جنوری 2012 بروز ہفتہ منعقد ہوئی جس کے دوسرے حصے میں ایک بھرپور مشاعرہ ہوا جسمیں مقامی شعرا کے علاوہ جرمنی کے دیگر شہروں سے بھی شعرا نے شرکت کی جن میں خاص طور پر ہمبرگ سے طاہرہ رباب قابل ذکر ہیں۔
اس نشست کی بھی صدارت فرینکفرٹ میں پاکستان کے قونصلر جنرل جی آر ملک نے کی اور مہمان خصوصی لندن سے تشریف لائے ہوئے معروف شاعر،ادیب ،سکالر،مرثیہ نگار،اتحاد بین المسلمین اور بین المذاہب کے داعی اور عالمی اخبار کے مدیر اعلی صفدر ھمدانی تھے
جن شعرا نے اس نشست میں اپنا کلام سنا کر سامعین سے داد وصول کی ان میں مہمان خصوصی صفدر ھمدانی کے علاوہ ایک مدت بعد فرینکفرٹ کی کسی ادبی محفل میں شرکت کرنے والے معروف شاعر طفیل خلش بھی شامل تھے۔ دیگر شعرا میں ارشاد ہاشمی،محمد اشرف ڈوگر،اسحاق اطہر،راشد رامیش،آفتاب حسین شامل تھے۔ جن احباب میں ترنم میں اشعار پیش کیئے ان میں محمد بابر چشتی، اسد اللہ خان، طارق درانی اور قاضی عبدالوحید شامل تھے۔
راشد رامیش کا کلام
حْسنِ کمیاب کی تمنا میں ہوں کسی خواب کی تمنا میں کاسہِ شام لے نکلا ہوں ایک مہتاب کی تمنا میں پھول ہوں خواہشِ بہاراں ہے دشت ہوں آب کی تمنا میں بند کرتا ہوں بابِ کم آثار اک نئے باب کی تمنا میں خود کو تو چھوڑ ہی دیا رامش ہم نے احباب کی تمنا میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت خواب ہے اور خواب کے اندر ہی رہنا ہے ہمیں ا س قریہ مہتاب کے اندر ہی رہنا ہے نہیں جانا ہے ہم نے داستانِ عشق سے باہر محبت کے سْنہری باب کے اندر ہی رہنا ہے میں تیرا عکس ہوں ، میں تجھ سے باہر جا نہیں سکتا کہ خوشبو کو گْلِ شاداب کے اندر ہی رہنا ہے آ دھوری سی میں خواہش ہوں جسے تکمیل سے پہلے بہر صورت دلِ بے تاب کے اندر ہی رہنا ہے میں موجِ حْسن ہوتا تو کناروں کی طرف جاتا کہ موجِ عشق نے گرداب کے اندر ہی رہنا ہے نکل کہ دیکھنا کیا ہے کناروں کی طرف ہم نے مسلسل دیدہ آب کے اندر ہی رہنا ہے نکل کر آنکھ سے میں تو فنا ہو جاوٗ ں گا رامش مجھے اس قریہ نایاب کے اندر ہی رہنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پنجابی زبان کے معروف شاعر طفیل خلش کی غزل کا قلمی عکس
طاہرہ رباب نے اپنا مختلف کلام ترنم سے پیش کر بے حد داد وصول کی خاص طور پر انکا یہ کلام
ارشاد ہاشمی کے اشعار وڈیو میں
مہمان خصوصی صفدر ھمدانی نے اپنی انقلابی اور مزاحمتی شاعری پیش کی جسے سامعین و حاضرین نے بے حس سراہا۔خاص طور پر انکی یہ نظم۔۔۔۔تم لوگ کر رہے ہو جو بیعت یزید کی۔۔۔۔
کس منہہ سے تم کو‘‘منصفِ اعلیٰ‘‘ کوئی کہے تم نے یزیدِ وقت کے ہاتھوں پہ کر کے بیعت انصاف کا جنازہ نکالا ہے شہر سے تم اور تمہارے جیسے یہ سارے ضمیر بیچنے والے ستم شعار ‘‘ملت کا افتخار، بے مثل بے وقار‘‘ کس منہہ سے خود کو عادل و منصف کہو گے تم یہ جان لو کہ اس کی سزا بھی سہوگے تُم نشے میں حکمرانی کے تُم جو ہوئے ہوگُم یہ عہد بھی ہے اپنے زمانے کی کربلا ہر سمت انتشار ہے ہر سمت ابتلا اب ہو چکی عوام کی ذلت کی انتہا خوفِ خُدا رہا نہیں حاکم کو اِک ذرا ہونے کو ختم اب ہے مظالم کا سلسلہ نکلیں گے سرفروشوں کے سڑکوں پہ قافلے اب دیکھنا تو ظلم کے ماروں کے حوصلے یہ عہد بھی ضمیر فروشوں کا عہد ہے آزاد چاپلوس ہیں اور عدل قید ہے صیاد مطمئن ہے مقید ہے منصفی اس کربلا میں حق کی سپاہ بے نوا سہی حاکم کے ظلم و جور کی اب انتہا سہی مُٹھی میں جابروں کی مقید صبا سہی کہنے کو در بدر مری ہر التجا سہی لیکن یہ سچ ہے تم ہی ہو طاقت یزید کی حکمت تمہاری ساری ہے حکمت یزید کی تم جیسوں نے ہی کی ہے اطاعت یزید کی سیرت تمہاری شمر کی صورت یزید کی قائم تمہارے دَم سے حکومت یزید کی اقدام ہیں تمہارے شریعت یزید کی تم لوگ کر رہے ہوجو بیعت یزید کی!
اس تقریب میں مہمان خصوصی صفدر ھمدانی کی فکری تقریر کی طرح انکی شاعری بھی حاضرین نے یکسوئی اور انہماک سے سنی۔ جسکے بعد متعدد حلقوں نے ان سے نجی گفتگو کی خواہش کا اظہار کیا لیکن وقت کی کمی اور اگلی صبح لندن روانگی کی وجہ سے تمام احباب سے معذرت کرنا پڑی لیکن طاہر راجپوت۔(میزبان)، زاہد افضل،عقیل کھوکھر،راشد خان،الیاس بٹ کے بے حد اصرار پر ہوٹل ‘‘لا میکس لاؤنچ‘‘ میں ایک نجی نشست میں مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال ہوا اور مہمانوں کی تواضع مفرحات سے کی گئی
عالمی اخبار کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے
ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور
ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور
بے لاگ صحافت ہے۔ . رابطہ ٹیلی فون: لندن447796515479+ ، آسٹریلیا
61425201035+ ، ای میل:
رابطہ@عالمی
اخبار۔کوم۔ جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں