آج پوری دنیا میں وحشت کا ایک نیا سورج طلوع ھوا ھے جس کی کرنوں میں معصوموں کی چیخیں اور آہ بکا کے ساتھ ماتم ھے اور اس ماتم کا سلسلہ اسی ماتم سے جا ملتا ھے جس سے دنیا کی تاریخ کا ھر ورق کسی شہید کے لہو سے لکھا ھوا ھے ۔
خبر یہ ھے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے حملوں میں دو سو سے زائد فلسطینی شہید ھو گئے ھیں اور سینکڑوں زخمی پڑے ھیں ۔
اسرائیلی وزیر خارجہ زیپی لونی نے کہا کہ اپنے شہریوں کی حفاظت کے لئے اسرائیل کو فوجی آپریشن کا فیصلہ کرنا پڑا ہے، جس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا۔
اسرایئلی جارحیت اور وحشیانہ دہشت گردی کاجواب دینے کے لیئے حماس کے جلاوطن رہنما خالد مشعل نے کہا ھے کہ وہ فلسطینی مجاھدوں کو خود کش حملوں کی اجازت دیتے ھیں ۔ انہیں اپنی زمین اور لوگو کو بچانے کے لیئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ھے
ادھر بھارت کے صدر من موھن سنگھ نے ایرانی صدر سے کہا ھے کہ اب صبر کی انتہا ھو چکی ھے ، جنگ کا آپشن کھلا ھے ۔ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رھا ۔اسکے برعکس پاکستان کے صدر آصف زرداری نے کہا کہ وہ جنگ نہیں چاھتے لیکن اگر مسلط کی گئی تو منہ توڑ جواب دینگے ۔اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔
محرم الحرام کا مہینہ شروع ھوا جاتا ھے اور یوں لگتا ھے جیسے یزیدوں نے ایک بار پھر دہشت گردوں سے نام بدل لیا ھے ۔ اور ھر جگہ پر آگ اور دھویں میں لپٹی شہیدوں کی لاشیں بکھر رھی ھیں ۔
میں اکثر سوچتی ھوں کہ کیادہشت گرد وہ ھوتے ھیں جو کلاشنکوفوں سے نہتے لوگو کو بھون دیتے ھیں یا وہ لوگ ھیں جو خود اپنے عہد کی کرب و بلا کا رزق بنے ھوتے ھیں ۔
آج دنیا کا میڈیا چیخ چیخ کر کہہ رھا ھے کہ امریکا اور برطانیہ نے غزہ پر اسرائیل کے ہولناک حملہ کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے اور اسرائیل سے غزہ پر بمباری روکنے کا مطالبہ کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ کیا کہنا۔ شاباش۔ مرحبا۔تحسین۔ دنیائے جمہوریت کے چمپین دو بڑے ملکوں پر کہ جنہوں نے انسانیت کے خلاف ناقابل معافی اسرائیلی جرم کی حمایت کر کے خود کو بھی مجرموں کی صف میں شامل کر لیا۔
دوستو ! سچ تو یہ ھے ا س بربریت اور وحشت کے اندھے راج پر امن کو رخصت لینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رھا ۔
برطانیہ اور امریکہ کی لے پالک اولاد،اسرائیل اور اسکے علاوہ اور کر بھی کیا سکتا ہے۔