
عالمی اخبار میں کچھ عرصہ قبل برطانیہ کے مسلکی ٹیلی ویژنوں کی منفی نشریاتی حکمت کے حوالے سے ایک تحقیقاتی سلسلہ شروع کیا گیا تھا جسے ایک اقلیتی مسلک کے نوجوان تجزیہ کار افضال بن غنی لکھتے تھے اور اس سلسلے میں کسی فرد،تنظیم کا ٹی وی چینل کا نام لیئے بغیر وہ حقائق بیان کیئے جاتے تھے جسکا عام مسلمان،قاری یا ناظر کو علم نہیں ہوتا۔
اس سلسلے نے نام نہاد مذہبی قائدین اور دین کو تجارت بنانے والے حلقے میں کھلبلی مچا دی اور اس تحقیقاتی سلسلے میں اکثریت کو جب اپنے چہرے نظر آنے لگے تو جھوٹے الزام کو گناہ کبیرہ کہنے والوں نے خود ہی اپنے حواریوں کے ساتھ مل کر ایسے ایسے جھوٹے الزامات کا سلسلہ شروع کیا کہ الحفیظ و الامان۔ اس خطرناک کھیل میں برطانیہ سے باہر کے بھی کچھ دین فروش شامل ہو گئے اور پھر خود کو خدائی ٹھیکیدار سمجھنے والوں نے جسے چاہا اور جیسے چاہا اسکی عزت نیلام کرنا شروع کی۔ مساجد و عبادت گاہوں میں آنے پر پابندی لگائی، بہو بیٹیوں کو ای میلوں اور خطوط کے ذریعے گالیاں دیں، عدالتی چارہ جوئی کی دھمکیاں دی گئیں اور عبادت گاہوں میں ایک عام مسلمان پر لعنت ڈالنے سے بھی گریز نہیں کیا گیا

اس تحقیقاتی رپورٹ کے حوالے سے مسلسل یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ افضال بن غنی نام کا کوئی فرد نہیں اور اسے عالمی اخبار کے مدیر اعلیٰ صفدر ھمدانی یا میں سید اکمل حسین لکھتے ہیں۔
افضال بن غنی نے خود ایک قسط میں بتایا تھا کہ وہ ایک مسلکی ٹی وی سے منسلک ایک معروف مولانا کے سگے بھانجے ہیں اور انہیں دوسرے مسلک میں شادی کرنے کی وجہ سے خاندان والوں نے گھر سے ہی نہیں بلکہ اپنے طور خدائی فیصلہ کرتے ہوئے مسلک سے بھی نکالنے کا حکم دے دیا تھا۔ افضال بن غنی دین کے نام پر تجارت کرنے والے ایسے لوگوں کو بہت قریب سے جانتا ہے اور اسے اندرون خانہ بے شمار معلومات حاصل ہیں اور اسی بنیاد پر اسکی تحریروں نے سچ بولنے کی تلقین کرنے والوں کو سچ سننے کا حوصلہ نہیں دیا اور خدائی فیصلے کرنے والوں نے سچ کو سامنے لانے والوں کو کافر تک کہنا شروع کر دیا۔کچھ بزرگوں اور اہل دل حضرات کی درخواست پر افضال بن غنی کا سلسلہ روک دیا گیا۔ بیس اقساط کے اس سلسلے کی ابھی دو اقساط باقی ہیں جنہیں جلد ہی شائع کیا جائے گا لیکن اس دوران جرمنی میں فرینکفرٹ کے ایک عبادت خانے میں پیدا ہونے والی وہ صورت حال سامنے آئی جسمیں ایک صاحب نے زیر تعمیر مسجد کا حساب مانگا تو جیسے گناہ کبیرہ کر دیا اور پھر اسے کافر اور بے دین کہنے پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ اس پر عبادت خانے میں داخلے پر پابندی لگا دی اور جس کسی نے اس کے حق میں آواز بلند کی اسکا بھی یہی حشر کیا گیا۔ اس سارے معاملے میں بڑے بڑے نام نہاد حق گو لوگوں کے نام بھی آتے ہیں جن میں حق سچ کی ایک بات سننے کا حوصلہ نہیں تھا اور جو بوجوہ زیر تعمیر مسجد کا حساب کتاب عام مسلمان کو دینے سے کتراتے تھے اور کتراتے ہیں

کسی بھی مسلک کے عبادت خانے ہوں انکے منتظمین کے ہاں ایسی بدعتیں موجود ہیں اور ان منتظمین نے خود کو طاقت کا ایسا مرکز بنا رکھا ہے کہ وہ عبادات و ذکر کے لیئے آنے والوں کی خدمت کرنے کی بجائے انکی ذاتی زندگیوں کے مالک بن بیٹھے ہیں۔
اسی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھ طالب نے اپنےعلم، اپنی عقل، مطالعے اور فہم کے مطابق تحریر کا یہ نیا سلسلہ شروع کیا ہے جسکا مقصد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بیان کے ساتھ تحریک فکر محمد صلی اللہ اور تحریک حسینی کے اہداف پر روشنی ڈالنی ہے اور حسینی وقار و افتخار کو داؤ پر لگانے والے دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان کے کردار اور بے عملی کو سامنے لانا ہے تا کہ عام مسلمان اس سے آگاہ ہو سکے۔ یہ تحریر کسی مخصوص فرقے یا مسلک کے حوالے سے نہیں اور نہ ہی کسی خاص فرد کی مناسبت سے ہے بلکہ سیدھے سادھے پیرائے میں عام آدمی کی ذہنی تربیت اور آگاہی کے لیئے ہے۔
آئیے ذرا سچ اور جھوٹ کو سب سے پہلے بہت مختصر طور پر قرآن پاک کی زبان اور اسکی آیات کی روشنی میں دیکھیں تا کہ اگلی اقساط میں ہونے والی گفتگو کو سمجھنے میں آسانی رہے اور کوئی مخصوص جماعت،تنظیم یا فرد اسے اپنی طرف منسوب نہ سمجھے کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ سچ خود سر چڑھ کر بولتا ہے کیونکہ آپ بے شک کوئی نام نہ لکھیں لیکن جسکے کردار کا ذکر کریں گے اسے خود ہی معلوم ہو جائے گا کہ یہ اسکا ذکر ہے۔
إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لاشريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،
فقد قال اللہ تبارک و تعالیٰ فی کلامہ المجید، أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔
(أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ) (التوبۃ: 119)
حضرات! اللہ تعالیٰ کا بےحد احسان وکرم ہے کہ اس نے دنیا میں صدق یعنی سچائی جیسی عظیم صفت بھی پیدا کی ہے اور انسانوں کویہ حکم دیا کہ سچائی کو اپنائیں، اس کو اپنی زندگی میں داخل کریں، اس کو اپنا شیوہ اور وطیرہ بنائیں۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جھوٹ کو بھی پیدا کیا مگر اس سے بےحد ڈرایا ، اس سے دور دور رہنے کی تلقین کی،اس کی مذمت کی اور اس کے برے نتائج سے آگاہ کیا۔
ذرا سوچیئے کہ اگر اللہ تعالی ٰ کی جانب سے سچائی کو اپنا نے اور جھوٹ سے دور دور رہنے کا حکم نہ ہوتا تو آج دنیا کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا ۔ ہر انسان ایک دوسرے سے جھوٹ بولتا ، اس لیے کہ جھوٹ بولنا بےحد آسان ہوتا ہے۔ دل تھوڑا سا جھوٹ کی طرف مائل ہوا اور ہونٹوں میں حرکت ہوئی جھوٹ نکل گیا، دیکھا آپ نے کتنا آسان ہے۔ جبکہ سچ بولنا بےحد مشکل ہے۔ بہت زیادہ جان گسل اور کٹھن ہے سچ کی طرف دل کو مائل ہونے میں بھی دیر لگتی ہے اور سچ کے لیے ہونٹ بھی لرزتے ہوئے کھلتے ہیں۔

ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ سچ یا جھوٹ کی نوبت ہی اس وقت آتی ہے جب معاملہ پھنستا ہوا نظر آتا ہے، اور عموماً اس کے پیچھے کوئی ڈر اور کوئی خوف پوشیدہ ہوتا ہے۔ کہیں مال کے ضائع ہونے کا ڈر، کہیں جان جانے کا ڈر، کہیں لوگوں کی نظروں سے گر جانے کا ڈر تو کہیں نوکری چلی جانے کا ڈر، اور ڈر کا یہ سلسلہ زلف جاناں کی طرح دراز ہے یہاں تک کہ کہیں، والدین کا ڈر کہیں بچوں کا ڈر، کہیں استاد کا ڈر تو کہیں طلبہ کا ڈر،کہیں بیوی کا ڈر تو کہیں شوہر کا ڈر، کہیں ذمہ داروں کا ڈر تو کہیں کسی اور کا ڈر۔ اوریہ ڈر اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ انسان سے جانے یا انجانے میں کوئی ایسا عمل سرزد ہوجاتا ہے جس کا اظہار معیوب ہو، یا اس کی وجہ سے کسی پریشانی کا اندیشہ لاحق ہو۔ اور اس پریشانی سے بچنے کے لیے کوئی بہانہ تراشتا ہو۔ کوئی خوبصورت سا بہانہ بنا کر اپنا دامن بچا لینا چاہتا ہو۔ ایسا کرنے پر وقتی طور پرتو وہ خود کو کامیاب تصور کرتا ہے مگر جھوٹ تو جھوٹ ہے اس کا پردہ کبھی نہ کبھی اور کہیں نہ کہیں ضرور فاش ہوتا ہے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جھوٹ کا انجام برا ہوتا ہے۔
جاری ہے۔۔۔۔باقی اگلی قسط میں