یہ ربیع الاول کا مہینہ تو ہے ہی عالمین کی عید کا مہینہ۔ وہ لوگ تنگ دل اور کم ظرف ہیں جو اسے مسلمانوں کی عید کا مہینہ کہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے آخری اور محبوب ترین نبی کو محدود کرتے ہیں اور حکم الہی کی حکم عدولی کے سزاوار ہوتے ہیں کہ اللہ پاک نے اپنے اس حبیب پاک کو بالکل اپنے قد کے ساتھ ملا کر ہمیشہ کھڑا رکھا ہے کہ جہاں خود کو رب العالمین کہا تو نبی پاک کو رحمت الالعالمین کہا اور نا سمجھ اور کم علم مسلمانوں نے اللہ کو بھی رب المسلمین بنا دیا اور اللہ کے محبوب خاص کو بھی رحمت برائے مسلمین بنا دیا۔ اللہ پاک ہمیں معاف کرے اور ہماری سوچوں کے ساتھ ساتھ ہمارے دلوں میں بھی وسعت پیدا کرے۔ آمین ثمہ آمین
دین اسلام میں تمام بڑی عیدوں میں سے سب سے بڑی عید یہی عید میلاد رسول ہے کہ اللہ پاک نے صرف اس دنیا کو ہی نہیں تمام عالمین کو حشرتک کے لیئے حضور کی رحمت کے سائے میں محفوظ کر دیا۔ اب یہ اپنی اپنی اوقات،ظرف اور ہمت ہے کہ ہم نے اس رحمت کو کتنا کتنا اور کسیے کیسے سمیٹا
ہمارے ہاں عید کا تصور سویوں،گوشت اور دو رکعت نماز تک محدود ہو کر رہ گیا ہے حالانکہ اسلام کی روح کے مطابق کسی بھی مسلمان اور مومن کے لیئے ہر وہ دن عید کا دن ہے جس دن وہ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی نہ کرے، اللہ کے حبیب،انکی اہلبیت اور انکے باوفا صحابہ کے فرامین اور انکے نقوش قدم پر چلنے کی حقیقی کوشش کرے
اب عید پر بچوں کے لیئے ایک تصور عیدی کا بھی ہے۔ ایسے میں اس صدی کی سب سے بڑی خوشخبری اسی عید میلاد رسول صلی الہ علیہ وآلہ وسلم کے موقع پر آئی ہے اور آئی بھی اس سرزمین سے ہے جہاں اللہ کا اپنا گھر ہے اور جہاں اللہ کے حبیب خاص کا روضہ مبارک ہے اور جہاں جنت البقیع ہے
 |
| سعودی خواتین کو مبارک |
یہ خبر پڑھنے کے بعد میرا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے اور میرا جی چاہتا ہے کہ پورے عالم اسلام سے کہوں کہ اقوام متحدہ میں اسلامی ممالک مل کر اور او آئی سی میں تمام رکن ممالک مل کر سعودی عرب کے لیئے اظہار تشکر کی قرار داد پیش کریں اور اس صدی کی اصلاحاتی خبر پر سعودی عرب کا شکریہ بھی ادا کریں اور انکے لیئے کلمات تحسین بھی کہیں کہ انہوں نے سعودی عرب میں خواتین کو فٹ بال میچ دیکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے حالانکہ اس پر عمل درآمد 2014 میں ہو گا۔ ظاہر ہے کہ پاسبانان حرم کے لیئے اور اللہ کے گھر کے متولیوں کے لیئے،اللہ کے نبی کے روضے کے کلید برداروں کے لیئے فیصلہ تھا ہی اتنا بڑا اور اہم کہ اس پر عمل کے لیئے کم از کم 3 سال تو لگیں گے ہی نا۔ جس فیصلے کو کرنے میں سو سال لگ گئے ہوں اگر اس پر عمل درآمد کے لیئے تین سال کی مدت درکار ہے تو اسمیں کونسی قیامت آ گئی ہے۔ ہم عوام اور مسلمان بھی بس یہ چاہتے ہیں کہ آج فیصلہ ہو اور کل عمل درآمد شروع ہو جائے۔لیجئے اس خوشی اور مسرت کے عالم میں آپکو خبر تو مکمل سنانا ہی بھول گیا۔ خبر اس طرح ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سعودی عرب کے ایک حکومتی اخبار کا کہنا ہے کہ ملک میں پہلی مرتبہ خواتین کو فٹبال اسٹیڈیم میں میچ دیکھنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ عرب روزنامے "الشرق" نے نامعلوم اہلکاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ سنہ 2014
کو سعودی عرب کے مغربی ساحلی شہر جدہ میں تعمیر ہونے والے اسٹیڈیم میں
خواتین تماشائی بھی فٹبال میچ دیکھ سکیں گی۔ عہدیدار کے مطابق نئے اسٹیڈیم میں نجی کیبن پر مشتمل الگ فیملی سیکشن ہو
گا۔ نیز خواتین کے لیے الگ بالکونیاں بھی تعمیر کی جائیں گی جہاں میچ
دیکھنے کی خواہشمند خواتین تماشائی باوقار طریقے سے میچ دیکھ سکیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب یہ اخباری خبر ہے اور اللہ کرے کہ سچی ہو اور کل کہیں سعودی حکومت کا کوئی ترجمان اسے غلط قرار نہ دے دے اور ہماری یہ خوشی بھی عارضی ثابت ہو
سعودی حاکموں نے کیسا فیاضی اور وسیع القلبی اور وسیع الذہنی کا مظاہرہ کیا ہے کہ اکیسویں صدی کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اور اسلام میں خواتین کے مقام اور حقوق کا ادارک کرتے ہوئے ایسا بڑا قدم اٹھایا ہے کہ مرحوم حاکموں کی روحیں لرز گئی ہونگی کہ اب سعودی خواتین بھی فٹ بال میچ اسٹیڈیم میں دیکھیں گی۔اللہ کرم کرے اور 2014 کہیں قیامت کا سال نہ ہو

ابھی تو سععودی عرب کی خواتین گاڑی چلانے کے لیئے لائسینس حاصل کرنے کے لیئے تحریک چلا رہی ہیں اور ایسے میں ایسا بے ہودہ اور غیر اسلامی مطالبہ کرنے پر کچھ خواتین کو سزا بھی سنائی گئی ہے اور ایسے حالات میں اس ملک سے ایسی خبر کا آنا کیا عید والی بات نہیں۔ ہم بھی کیا لوگ ہیں کسی کے اچھے کام پر خوش نہیں ہوتے۔ ویسے تو سعودی عرب سعودیوں کا اپنا ملک ہے وہ وہاں جو اور جیسا قانون اور حکم چاہیں اسے نافذ کریں لیکن ہم عالم اسلام کے مسلمانوں کا کیا کریں کہ وہ اللہ کے گھر اور اللہ کے حبیب کے روضے کی وجہ سے اس ملک کو اپنے ممالک سے بھی زیادہ عزیز سمجھتے ہیں حالانکہ آل سعود ان بیچاروں کو کہتے بھی مسکین اور سمجھتے بھی مسکین ہیں
مجھے یقین ہے کہ سعودی ی عرب کی خواتین میں ایک خوشی و مسرت کی لہر دوڑ گئی ہو گی۔انہیں بھی اپنے ہونے کا یقین ہو گیا ہو گا۔ ان میں بھی کم ازکم 2014 تک زندہ رہنے کی تمنا بیدار ہو گئی ہو گی کہ وہ بھی اس صدی کے عجوبے کو رونما ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ سعودی خواتین فٹ بال میچ بنفس نفیس اسٹیڈیم میں دیکھنے جائیں۔مجھے علم ہے کہ اس دروان ٹی وی کیمروں کے لیئے خاص طاقت کے شیشے ایجاد کیئے جائیں گے جو ایسے میچ دکھائیں گے جنہیں دیکھنے خواتین آئی ہوں کیونکہ عام ٹی وی کیمروں کے شیشے اس منظر کا بوجھ شاید برداشت نہیں کر پائیں گےذرا سوچیں کہ آخر ان حاکموں کو اس فیصلے تک پہنچنے میں کن کن مسائل اور عذابوں سے گزرنا پڑا ہو گا۔ کہ ابھی 22 مئی 2011کی بات ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سعودی عرب میں خواتین پر ڈرائیونگ کی پابندی کو چیلنج کرنے والی خاتون کوگرفتار کر لیا گیا ۔انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے دوسرے کارکنوں کا کہنا ہے کہ خاتون نجلہ حریری کو انٹرنیٹ پر ڈرائیورنگ کی ویڈیو جاری کرنے کے چند روز بعد ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔اس ویڈیو میں نجلہ حریری خود گاڑی چلا رہی تھیں اور انٹرنیٹ پر اس ویڈیو کو پانچ لاکھ سے زائد لوگوں نے دیکھا ۔
واضح رہے کہ سعودی عرب میں خواتین کو کار چلانے کی اجازت نہیں ہے لیکن نجلہ حریری نے اپنی کار خود چلانی شروع کی تھی اور انہوں نے اس ممانعت کو چیلنج کیا تھا۔نجلہ حریری نے معروف شہر جدہ کے آس پاس ڈرائیونگ شروع کی تھی۔کہا جاتا ہے کہ کسی سعودی شہر میں مسلسل گاڑی چلانے والی وہ واحد خاتون تھیں جن کے مطابق سودی اپنے آپ سے جھوٹ بولتے ہیں خواتین کے لیے زیادہ تحفظ اس میں ہے کہ وہ خود ڈرائیو کریں۔ ہمارے ملک میں چالیس لاکھ بیرونی ڈرائیور ہیں، ہم ان سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور خودگاڑی چلانا چاہتے ہیں۔
پینتالیس سالہ نجلہ حریری کا کہنا تھا کہ انہیں یہ حوصلہ مشرق وسطیٰ میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں سے ملا۔ انہوں نے کہا ’اب بہت ہوچکا، مجھے ڈرائیونگ کا تو حق حاصل ہے۔‘محترمہ حریری کے پاس مصر اور لبنان کے ڈرائیونگ لائسنس ہیں اور یہ انہوں نے ملک سے باہر رہتے ہوئے حاصل کیے تھے۔ ان کے پاس ایک انٹرنیشنل لائسنس بھی ہے جسے وہ یوروپ میں ڈرائیونگ کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’خواتین کو گاڑی چلانے سے باز رکھنے کے لیے کوئی قانون نہیں ہے، یہ معاشرے کی روایات ہیں جو کہتی ہیں کہ عورت کو گاڑی نہیں چلانی چاہیے۔‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انہی دنوں میں یہ خبر بھی آئی کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سعودی بادشاہ کی طرف سے خواتین
کو حق رائے دہی دینے کے اعلان کے صرف دو روز بعد ایک خاتون کو اس جرم میں
10 کوڑوں کی سزا سنائی گئی جس کو گاڑی چلاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد میں بادشاہ سلامت نے از راہ ترحم اس سزا کو معاف کر دیا۔
گزشتہ برس جون کے مہنیے کی ایک خبر یہ بھی دیکھتے چلیں۔سعودی عرب کی ایک عدالت نے ایک شخص کو شاپنگ مال میں سر عام بوسے بازی پر چار ماہ قید اور نوے کوڑے مارنے کی سزا سنائی ۔ سعودی عرب کے ایک سرکاری اخبار الیوم میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پولیس نے مبینہ مجرم اور دو عورتوں کو کیمروں کی مدد سے دوسرے خریداروں کے سامنے غیر اخلاقی حرکات کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔اس شخص کی عمر بیس اور تیس سال کے درمیان ہے اور وہ شاپنگ مال میں رکھی کرسیوں پر اپنے ساتھ بیٹھی عورت کے ساتھ بوسے بازی اور معانقہ کر رہا تھا۔ لیکن یہ واضح نہیں ہوا کہ ان کے ساتھ گرفتار کی گئی دوسری عورت کیا کر رہی تھی۔
اخبار نے لکھا ہے کہ عدالتی فیصلے کے تحت بوسے بازی کے جُرم میں سزا پانے والے شخص کو تین مراحل میں نوے کوڑے لگائے جائیں گےاور اس کے شاپنگ مالز میں دو سال تک داخلے پر پابندی ہو گی ۔
چلیں ہم بھی اس فحاشی کے حق میں نہیں لیکن جہاں دس کوڑوں میں جنازہ نکل جائے وہاں نوے کی کیا ضرورت۔
 |
| بندر عبد العزیز |
بس ایک خبر اور۔۔۔۔۔۔۔برطانیہ کی ایک عدالت نے ایک سعودی شہزادے سعود عبد العزیز بن ناصر السعود کو اپنے ذاتی ملازم کے قتل کے الزام میں مجرم قرار دیا ہے۔ چونتیس سالہ سعود عبد العزیز سعودی بادشاہ عبداللہ کے نواسے ہیں۔سعودی شہزادہ پر الزام تھا کہ اس نے اپنے ذاتی ملازم بندر عبد العزیز کو لندن کے ایک ہوٹل کے کمرے میں قتل کیا تھا۔ برطانوی پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ایسے شواہد ملے ہیں کہ شہزادے کے اپنے ملازم کے ساتھ جنسی روابط تھے اور وہ دونوں ایک ہی کمرے میں ٹھہرتے تھے۔
اب آپ خود بتایئے کہ ایسے حالات میں کیا یہ اس صدی کی سب سے بڑی اصلاحاتی خبر نہیں سعودی خواتین کے لیئے؟۔