گزشتہ دوسری قسط میں تفصیل سے جھوٹ کے حوالے سے بات ہوئی حقیقت تو یہ ہے کہ سچا ئی اس دنیا میں بھی انسان کو عزت وتوقیر عطا کرتی ہے اور لوگوں کی نظروں میں اس کو ثقہ بنا دیتی ہے۔ سچ بولنے میں کچھ دشواریوں کا آنا یقینی ہے کیوں کہ ہر اچھی چيز کے حصول میں ایک قیمت چکانی پڑتی ہے۔ اور ہر گلاب کو کانٹوں سے گھیر دیا گيا ہے ۔ تو ظاہر ہے سچ بولنے سے ملنے والا مقام ومرتبہ یوہی آسانی سے نہیں مل جاتا ہے مگر سچ بولنے کی وجہ سے آنے والی ہر پریشانی عارضی ہے،وقتی ہے جلد یاد یر اس کا خاتمہ لازمی ہے ہر دور، ہر زمانے میں نو ر وظلمت کا تصادم رہاہے، ابتدائے آفریش سے ہی صدق وکذب کی جنگ چلی آرہی ہے،جھوٹ اور سچ کا مقابلہ کوئي انو کھی بات نہیں یہ سر شت ابن آدم میں داخل ہے۔

دنیا کی تاریخ اس سے بھری پڑی ہے۔ مگر تاریخ شاہد ہے کہ جیت ہمیشہ سچ کی ہوئی ہے دنیا جانتی ہے۔ کہ صادقین کو جب صدق کے پاداش میں تختہ دار پربھی چڑھایا گیا تو دنیا نے ان کے صدق کی عظمت وقوت کو جھک کر سلام کیا ، سچ جب بھی میدان میں ثابت قدم رہا باطل سرنگوں ہوگیا ۔ سچ انسان کوقوت عطا کرتا ، مردانگی عطا کرتا ہے، ثابت قدمی کا ہنر بخشتا ہے ۔ اور زندگی کی حقیقی لذت سے بہرہ و ر کرتا ہے ۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سچ کے ساتھ زندگی گزارنے کا مزہ ہی کچھ اور ہوتا ہے ۔ اللہ کے علاوہ نہ کسی کا ڈر نہ کسی کا خوف اطمنان قلب اور سکون جان اس کی زندگی کا خا صہ بن جاتا ہے ۔
ارشاد نبوی ہے :
(دع ما یریبک إلی ما لا یریبک فإن الصدق طمانیۃ، والکذب ریبۃ) [رواہ الترمذی]۔
"وہ چیز چھوڑدے جو تجھے شک میں ڈالے، اور اسے اختیار کر جس کی بابت تجھے شک وشبہ نہ ہو۔ اس لیے کہ سچ اطمنان کا باعث ہے اور جھوٹ شک اور بے چينی ہے۔ [اس کو ترمذی نے روایت کیا اور کہا کہ حدیث صحیح ہے حدیث: 2518]
سچ اور سچائی اختیار کرنے سے نہ صرف اطیمنان قلب حاصل ہوتا ہے بلکہ سچ بولنے والے کی زندگی میں سچ بولنے کی وجہ سے برکتوں کی آمد بھی شروع ہو جاتی ہے
اسلام نے سب سے زیادہ مذمت جس عیب کی ہے وہ جھوٹ ہے ،جبکہ ہم مسلمانوں نے اسے سیاست کا خوبصورت نام دے رکھا ہے اور بڑے فخر سے اس کا ذلر کرتے ہیں اورکہا جاتا ہے دیکھا میں نے کیسا چکر چلا یا؟ جبکہ قر آن نے تو جھوٹے کی گواہی کو تا حیات رد کرنے کا حکم دیا ہوا ہےاور مخبر ِ صا دق حضرت محمد مصطفی(ص) نے تو یہاں فرما دیا کہ مسلمان سب کچھ ہو سکتا ہے مگر جھوٹا مسلمان نہیں ہو سکتا اور ان کے بعد جن بزرگوں نے احادیث جمع کیں انہوں نے بھی اتنی احتیاط رکھی کہ اگر درمیان میں ایک راوی بھی جھوٹا یا مشکوک ہوا تو وہ حدیث ہی رد کر دی۔ ان میں سے ایک بزرگ کا مشہور واقعہ ہے کہ انہیں معلوم ہوا کہ ایک صا حب کے پاس ایک حدیث ہے، وہ اسے لینے کے لیئے بہت لمبی مسافت طے کر کے وہاں پہو نچے تو دیکھا کہ وہ صا حب اپنی خا لی جھولی دکھا کر اپنے گھوڑے کو قریب بلا رہے ہیں وہ فورا ً وہیں سے واپس ہو گئے کیونکہ انہوں نے سوچا کہ جو بیچا رے پالتو جانور کو چکر دے رہا وہ کتنا بڑا جھوٹا ہو گا، اس کا کیا اعتبار لہذااس سے ملے بغیر واپس چلے آئے؟ مگر ہما را عالم یہ ہے کہ دنیا کی سب سے زیادہ جھوٹ بولنے والی قوم اب مسلمان ہیں ۔ اور ہمارے ہر عبادت گاہ میں محمد آل محمد کی احادیث جمعہ کے خطابات کے علاوہ دیگر مذہبی تقربیات میں بھی اس کا سہارا لیا جاتا ہے قوم کے نام نہاد لیڈر بھی اس میں سر تا پا ملوث نظر آتے ہیں ۔

برا ہو ان نام نہاد لیڈروں کا جو جھوٹ بول کر صرف اور صرف اپنا نام بچانے کے لئے نئے نئے فا رمولا متعارف کراوا یا کرتے ہیں اور اس زمانے میں تو یہ فیشن بن گیا ہے کہ کہ اتنا جھوٹ بولو ، اتنا جھوٹ بولو کہ لوگ سچ سمجھنے لگیں۔ اور جو افراد ان کا ساتھ دے رہے ہیں وہ بھی اس گناہ میں برابر کے شریک ہیں ۔ اس کا نتیجہ کیا نکلاوہ تو دنیا نے دیکھ لیا کہ جرمنی نہ صرف تباہ ہو گیا بلکہ اس نے ذلت آمیز شکست کھا ئی! اور اس وقت کے کر تا دھرتاؤ ں میں سے کوئی پھانسی چڑھا اور کسی کو خود کشی کر نا پڑی۔
مگر عبرت کسی نے نہیں پکڑی اور ہر ایک نے اس راہ پر ہر نئے فیشن کی طرح نہ صرف چہل قدمی کی ،بلکہ سر پٹ دوڑنا شروع کر دیا۔ اس میں اسلامی مماملک کے علاوہ برطانیہ اور دیگر مذہبی عبادتیں گاہوں کے سربراہ بھی سب سے آگے پہں۔۔ نتیجہ یہ ہے کہ اب ان کی ہر بات، ہر فعل ،کو لوگ شک کی نگا ہ سے دیکھتے ہیں۔ اور سچ کو بھی سچ نہیں مانتے کیو نکہ دنیا میں ساکھ ہی اس چیز ہے جو انسان کو جانوروں سے افضل بنا تی ہے
اگر کسی نے ساکھ ہی جھوٹی ہو تو پھر بچا کیا؟ اور اس میں اور جانوروں میں کیا فرق رہا جبکہ جانور بھی بے عقل ہو نے کے با وجود اگر اس کو ایمانداری سکھا دی جا ئے تو وہ بہتر ہو جا تا ایک کتے کی وفا داری کو ہی لے لیں وہ مرتے دم تک وفا دار رہتا ہے اور اپنے مالک سے کبھی بھی بغاوت نہیں کرتا اور آپ اس پر اعتماد کر سکتے ہیں۔ مثلا ً شکا ری کتے کے پکڑے ہو ئے شکار کو قر آن نے جائز قرار دیا ہے، بشرطیکہ وہ اس مقصد کے لیئے سدھا یا گیا ہو،کیونکہ وہ سدھ جانے کے بعد اس میں خیانت نہیں کر تا اور کتا ہو نے کے با وجود بھی وہ خائن اور بد دیانت نہیں رہتا۔ اور وہ صر ف اپنے ما لک کے لیئے ہی شکار کو پہلے پکڑتا ہے اور اس کو اسوقت تک پکڑ ے رکھتا ہے جب تک کہ وہ اس کے سپرد نہ کر دے، حالانکہ ہما ری غلط کاریوں وجہ سے کتا بھی بیچارہ بد نام ہے کہ ایک محاورہ ہما رے یہاں کی خواتین مردوں کے لیئے اکثر بو لتی ہیں کہ “ مرد کی کتے جیسی ذات ہے کہ ہر ہانڈی میں منھ ڈالتاہے “ اور ہمارے ان اداروں کے سربراہان بھی اسی زمرے میں آتے ہیں کہ اپنے عبادت گاہ کو چھوڑ کر دوسرے کی عبادت گاہوں میں اپنی سایست چمکنے کے لئے اپنے ناجائز مشورہ سے فتنہ ڈالٹے پھرتے ہیں ۔
ہم مسلمان ہونے کے با وجود کہیں نہیں چوکتے نہ اپنے حقیقی مالک سےڈرتے ہیں اور نہ ہی ان عوام سے جنہوں نے ان پراعتماد کر کے حکمراں بنا یا ہوا ہے۔ اور اس پر غضب یہ ہے کہ یہ ہی مکر ہم نے من حیثت القوم اب اپنا اووڑھنا بچھو نا بنا لیا ہے۔ اس لیئے کہ دین تو امرا ءکا چلتا ہے جبکہ قر آن میں کیا لکھا ہے سنت کیا ہے اس کی کون پر واہ کرتا ہے مگر اس کے با وجود ہم ہیں مسلمان
ان کا عقیدہ ہے کہ ہم اپنے اس حرام مال سے جو ہم نے خیانت سے کما یا ہے اللہ کو دے کر را ضی کر لیں گے۔ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ فر ما چکا ہے کہ میں پاک ہوں اور صرف پاک چیزیں قبول کر تا ہوں اور اپنے بندوں کو بھی ہدا یت فرمادی کہ اگر میرا قرب حا صل کر نا چا ہتے ہو تو تم حلال کھا ؤاور صرف طیب چیزیں کھا یا کرو، کسی کا مال زمین ، جا ئداد نہ دباو، کسی کو نہ ستا ؤ، نہ خود رشوت کھا ؤ، نہ حکام کو کھلا ؤ مگر ہما را کردار کیا ہےجواب آپ پر چھوڑتا ہوں ۔
آج یہ باتیں اس لیئے درمیان میں پھر آگئیں ۔ کہ اب پاکستانی حکومت کا یہ عالم ہے کہ دنیا میں کو ئی اعتبار کر نے کو تیار نہیں ۔ کیونکہ ہم نے جھوٹ بولنا اپنا شیوہ بنا لیاہے ! جن ملزمان کو دنیا ڈھونڈتی پھر رہی تھی وہ کسی نے اپنی ناک کے نیچے چھپا ئے ہو ئے تھے (کس نے یہ پتہ نہیں) جو پکڑے اور مارے گئے ۔ایسے کردار پرکون اعتبار کر ے گا۔؟

ہم اللہ کے نا شکرے تو ہیں ہی ،مگر جس کا کھاتے ہیں اسی پر بھی غرا تے ہیں ۔ پھر روتے ہیں کہ دنیا میں ہما ری عزت نہیں ہے بھا ئی عزت تو کر دار سے بنتی ہے اپنے رہنما حضور اکرم کی ذات اکرم (ص) کو دیکھ لو کہ وہ اس حالت میں امین کہلا تے تھے اور لوگ ان کا دل سے احترام کرتے تھے۔ جبکہ اس وقت دنیا میں معزز کہلا نے کے لیئے جو چیزیں لازمی تھیں ان کے پاس ان میں سے ایک بھی نہیں تھی ۔ نہ بڑا خاندان، نہ بہت سے بیٹے، نہ مال و زر۔ پھر بھی احترام اتنا تھا کہ وہ اس کے با وجود اپنے کر دار کی وجہ سے امین کہلا تے اور اس دور میں بھی معتبر مانے جا تے تھے مگر ہم خود کو زبانی طور پر انکا (ص) غلام کہنے کے با وجود ، اتبا ع گوبل کر تے ہیں جس کے نام پر اس کی قوم خود لعنت بھیجتی ہے۔
بات مذہبی عبادت گاہوں تک پہونچ گئی تو چند تصاویر آپ بھی دیکھ لیں کہ ایک ادارے کے سکریٹری کا کردار جو جرمنی میں ایک عبادت گاہ کے سیکریٹری ہیں ان کے کر توت پر نظر دوڑائی جائے شرم سے سر جھکا جاتا ہے وہ اپنے آپ کوسرکار اور انکی آل کا غلام کہتے ہیں اور حرکات یہ ہیں کہ اللہ کی پناہ اسی طرح برطانیہ کے ایک ادارے کے معتمد کا بھی یہی حال ہے کریڈٹ کارڈز کے فراڈ سے لے کر کار کے حادثہ میں انشورنس تک کے فراڈ میں شامل ہیں اور پھر نیک پروین بن کر دوسروں پر کیچیڑ اچھالنا ان کا شیوا ہے ۔ قوم سے چھوٹ بول کر کسی نہ کسی طرح معتمد بن گئے اور اب ان جیسا شریف النفس انسان کوئی نہیں ہے۔ گزشہ چند سالوں میں بھی عمارت میں کوئی تعیمراتی کام نہ کروا سکے جبکہ لوگوں سے خوب رقم بٹوری جا رہی ہے
جرمنی کی عبادت گاہ کا گزشتہ قسط میں ذکر کیا تھا نہ جانے کئی ملین یورو کی رقم تو اکٹھی کی جا چکی ہے مگر نہ جانے کون کدھر گئی ۔ اب جو پیسے دینے والے حساب مانگتے ہیں تو انہیں دین و مسلک کے نام پر بلیک میل کیا جاتا، شر پسند اور دشمن دین کہا جاتا ہے۔ حساب مانگنے پر افراد کو ایک ہی نسل کے افردا جو ان عبادت گاہیوں کے سربراہ کی شکل میں قوم پر مسلط ہیں اور ان کی مدد سے جن عہدہ پر براجمان ہیں ان کو ہی عبادت گاہوں میں داخلے پر پابندی دیتے ہیں اور اپنی زبان پر قائم بھی نہیں رہتے۔ معافی نامے کو تحریر کرواتے ہیں اور ان پر عمل نہیں کرتے ۔کیا ایسے فاسق اور فاجر افراد ان اداروں میں فائز رہنے کے قابل ہیں؟ جو معاشرہ کے عزت دار افراد کی بات کو بھی نہیں مانتے ۔ انٹرنیٹ پر ای ملیوں کی صورت میں ایک طوفان بدتمیزی برپا ہے ایک دوسرے کو جاہل،بے دین اور خائن تک کہا جارہا ہے۔ لوگ خود ہی منصف بن گئے ہیں اور اس دوران کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو خود کو کہتے تو پڑھا لکھا ہیں لیکن ایسے معاملات میں جہل کُل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہ سب اس لیئے ہے کہ کسی نے بھی ان سے حساب کتاب کیوں مانگا۔ یہ کیا کوئی جرم ہے کہ اگر پیسے دینے والا اپنے پیسوں کا حساب مانگے کہ جس مد میں دیئے تھے وہاں خرچ ہوئے یا نہیں۔ ہم نے پہلے بھی ایک مرتبہ کہا تھا کہ ہما رے عبادت گاہوں کے معلم اور صاحب عبا اور قبا جھوٹ نہیں بولتے مگر کیونکہ وہ اکثر بات کا بتنگڑ بنا دیتے ہیں جیسے کہ عراق پر چڑھ دوڑے کہ اس کے پاس ہلا کت کے بہت بڑے ہتھیاروں کا ذخیرہ ہے ۔ لیکن وہ ڈھونڈنے کے با وجود کہیں نہیں ملے ۔ پتہ نہیں زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا ؟ وہ بھی جب تک انہیں کا آدمی تھا جب تک کہ ایران سے لڑ رہا تھا اور علاقائی غنڈے کا کردار ادا کر رہا تھا۔ اسی طرح اسا مہ بن لا دن بھی ان کا تھا جب تک کے وہ روس کے خلاف لڑ رہا تھا جس کی تلاش میں وہ بعد میں افغانستان پر چڑھ دوڑے اور نتیجہ یہ ہوا کہ ان فاسق اور فاجر افراد کو جھوٹ کی بنا پر عہدہ تو مل گیا مگر عبادت گاہوں میں ان کے آنے کی وجہ سے جو زلزلہ آیا وہ یہ ہرگز برداشت نہ کر سکے اور وہ دیوالیہ کے قریں ہوے ہوئے نظر آتے ہیں یا ہو نے جا رہے ہیں کییونکہ ان میں سے کچھ دم نہیں کے اپنے جھوٹ کے سہارے جی سکیں۔
باقی اگلی قسط میں