16.10.2026, 09:01am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

والدِ محترم حضرت حسن اور حسین جناب علی ابنِ ابی طالب کرم اللہ وجہہ
28.12.2008, 12:35pm , اتوار (GMT+1)

شمس جیلانی۔وینکیور
رمضان جہاں رحمتوں کا مہینہ ہے ، بخششوں کا مہینہ ہے، اسکو ایک خصوصیت اور یہ بھی اللہ سبحانہ تعالیٰ نے عطا فر مادی کہ اپنے ایک نیک بندے حضرت علی کرم اللہ وجہ کو شہادت عطا کر کے سرفراز فر مایااور مزید درجا ت بلند فر مائے۔ ہم یہاں ان کی پیدا ئش لیکر شہادت تک کاایک مختصر سا واقعا تی خاکہ پیش کر نے کی کوشش کر رہے ہیں جوکہ تاریخ میں چاند اور ستاروں کی طرح جگمگاتے ملیں گے اور ان کا انکار یا تردید کسی بھی صاحبِ ایمان کے لیئے ناممکن ہے ۔گوکہ ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو کسی کی ضد میں ،یا بہکائے میں آ کر کسی سے نفرت یا محبت کر نا شروع کر دیتے ہیں ؟

جبکہ آج کی دنیا پروپیگنڈے کی دنیا ہے اور حضرت علی کی کرادار کشی کی تاریخ توصدیوں پر انی ہے جس میں اشرفیوں کو بھی دخل تھا ۔وجہ یہ تھی کہ وہ عظمت کا ایک ایسا مینارتھے جس کی ان کے بعد نقل ممکن نہیں تھی ۔اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کایہ ارشادِ گرامی سند ہے کہ ‘‘ علی تمہارا معاملہ بھی عیسیٰ علیہ السلام جیسا ہوگا کہ کچھ تمہیں اتنا بڑھا دیں گے کہ جہنم میں جا ئیں گے اور کچھ اتنا گرا ئیں گے کہ جہنم اپنا ٹھکانہ بنا ئیں گے ‘‘ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے بچا ئے کہ یہ بہت بڑی وعید ہے اگر لوگ سمجھیں ؟ پھر ایک شکایت کرنے والے کو حضور کایہ جوا ب کہ ‘‘جو علی سے محبت رکھتا ہے وہ مجھ سے محبت رکھتا ہے اور جو علی سے بغض رکھتا ہے وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے ‘‘ اور یہ کہ ‘‘ علی تم میں سب سے زیادہ خوفِ خدا رکھنے والا ہے

حضرت علی کی خصو صیات یہ تھیں کہ انہوں نے ہمیشہ فقر اور فاقے کی زندگی گزاری وہ اپنے کردار میں امام السالکیں اور امام المتقین تھے ؟ ان کی ولایت کے سلسلہ میں کسی بھی فر قہ کو اختلاف نہیں ہے ۔اور یہ سلسلے ان ہی کا عطا کردہ وہ فیض ہے جوآج تک جاری ہے اور انشا اللہ قیامت تک جاری رہے گا ۔اس لیئے کہ وہ اپنے پیچھے اہلِ سنت میں بھی سترہ سلسلے چھوڑ گئے ہیں جو ان کے بعد دنیا میں اسلام پھیلا نے کا با عث ہو ئے ۔ ورنہ باد شاہ تو اسلام کو پہلے ہی ٹھکا نے لگا دیتے ۔ یہ ہی ان کی وہ خوبیاں تھیں جو ہمیشہ ہر جگہ دنیا میں ان کے آڑے آتی رہی ہیں ۔ حضرت علی کی فضیلت میں اتنی احادیث ہیں ان کو بیان کرنے کے لیئے ایک ضخیم کتاب چا ہیئے۔ جبکہ حضرت علی کے بارے میں جو احادیث ملتی ہیں ان میں بعد میں آنے والوں اور بنوالوں کی طرح اشرفیوں کو کوئی دخل نہیں ہے ، کیونکہ ان کے پاس اشرفیاں کبھی تھیں ہی نہیں ۔وہ جو کچھ اور جیسے کچھ تاریخ میں موجود ہیں وہ اپنے ذاتی کر دار اور ان قر بانیوں کی بنا پر ہیں جو انہوں نے اور ان کے اہلِ خاندان نے نبی کریم اور اسلام کی معاونت میں دیں اور اس سلسلہ میں تمام مشکلات بھی جھیلتے رہے ۔ جبکہ شاہوں کے اشرفی والے عمل کی وجہ سے احادیث کی تعداد تو ایک وقت بڑھ کر سات لاکھ تک جا پہو نچی ،جو کہ محد ثین کی کوششوں سے اب گھٹ کر سات ہزار کے قریب رہ گئیں ہیں ۔

لیکن ابھی بھی جو احادیث حضرت علی کے بارے میںاحادیث کی مستند کتابوں موجود ہیں وہ بھی اتنی ہیں کہ یہ مختصرصفحات ان سب کو بیان کرنیکے لیئے کافی نہیں ہیں ۔ لہذا میں یہاں صرف ایک اورمستند حدیث پیش کر کے ان کے بارے میں تاریخی فضائل بیان کرناشروع کر تا ہوں جو تاریخ کی کتابوں میں بلا تخصیص موجود ہیں۔یہ حدیث مسند احمد میں ہے اور انہوں نے اس کے حوالے بھی دیئے ہیں ۔اسی کو ابنِ کثیر نے بھی ‘‘البدایہ والنہا یہ ‘‘ میں نقل کیا ہے وہ یہ ہے کہ ‘‘ کوئی مومن علی سے بغض نہیں رکھ سکتا اور کوئی منا فق علی سے خوش نہیں رہ سکتا ‘‘ اس کے بعد اب وہ چند حقائق جن میں وہ یکتا نظر آتے ہیں؟ سب سے بڑی فضیلت تو انہیں یہ حا صل ہے کہ وہ واحد شخص تھے جو کہ اپنی پیدائش سے لیکر حضور کے وصال تک ہمیشہ ان کے ساتھ دکھا ئی دیئے ۔ اس لیئے کہ جب وہ پیدا ہو ئے تو حضور ان کے گھر میں قیام پذیر تھے اور حضرت علی کے والدِ محترم حضرت ابی طالب کے زیر کفالت تھے ۔ پھرجب حضور کی شادی حضرت خدیجہ  الکبریٰ سے ہو گئی تو اس وقت حضور نے اپنے چچا کا بار ہلکا کر نے کے لیئے جو کہ کثیر العیال تھے حضرت علی کو اپنی کفالت میں لے لیا، اس کی دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے۔ کہ وہ اس تعلیم کی عملی تفسیر پیش کر نے کے لیئے بیچین ہوں کہ ‘‘ احسان کا بدلہ احسان ہے ‘‘ گوکہ ابھی یہ آیت نازل نہیں ہو ئی تھی ۔مگر اس ہستی کے لیئے جو کہ مجسم قر آن تھی یہ قر آن کی عملی تفسیر پیش کر نے اور امت کو سبق دینے کا بہترین مو قع تھا۔ کیونکہ آئندہ چل کران کا ہر فعل قابلِ اتباع بننا تھا ؟

ابھی حضرت علی کی عمر دس گیارہ ہی برس تھی کہ حضور کو رسالت عطا ہو ئی ۔ ایک دن حضرت علی نے عجیب بات دیکھی کہ حضرت خدیجہ اور ان کے عمزاد نماز پڑھ رہے ہیں ، چونکہ یہ طریقہ عبادت نیا تھا اور وہ اس سے مانوس نہ تھے ۔ حضرت علی پو چھتے ہیں یہ آپ کر رہے ہیں ؟ حضورنے فر مایا کہ ہم اللہ سبحانہ تعالیٰ کی عبادت کر رہے ہیں اور اللہ سبحانہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول مقرر فر مایا ہے ۔ یہ وہ وقت تھا کہ ابھی حضور کو تبلیغ کی اجازت ہی نہیں ملی تھی۔ ان پر ایمان لانے والی روئے زمین پر صرف ایک ہستی ان کی زوجہ محترمہ تھیں ، جو پہلی وحی سنتے ہی پکار اٹھی تھیں کہ بے شک آپ نبی ہیں اور اللہ آپ کو تنہا نہیں چھوڑے گا ۔اس لیئے کہ آپ بھوکوں کو کھانا کھلاتے ہیں مظلوموں کی مدد کرتے فر ماتے ہیں ۔ چو نکہ حضور  اپنے طور پرکچھ نہیں کرتے تھے تا وقتیکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم نہ آجائے ۔جس کی خود اللہ سبحا نہ تعالیٰ نے بھی تصدیق فر مائی ہے کہ ‘‘یہ نبی اپنی مر ضی سے کچھ نہیں کہتے یہ وہی کچھ کہتے ہیں جو میں حکم دیتا ہوں ۔ لہذا ابھی نہ حکم ملا تھا نہ تبلیغ شروع ہوئی تھی ، اس لیئے کسی اور کے ایمان لا نے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ حضرت علی نے عبادت میں شامل ہونا چا ہا ، توحضور نے فر مایا کہ اس کے لیئے تم پہلے اپنے والد سے اجازت لو، مگر ساتھ میں یہ بھی تاکید فر مادی کے ان سے ابھی ذ کر نہ کر نا کیو نکہ وجہ وہی تھی کہ وہ اس سلسلہ میں حکم خداوندی کے منتظر تھے، مگر حضرت علی نے ضد کی اور دوسرے روزوہ بھی شاملِ نماز ہو گئے ۔ پھر وہ وقت آیا کہ وہ آیت نازل ہو ئی کہ ‘‘ تم اپنے اہلِ خاندان کو دین کی دعوت دو اور انہیں جہنم سے بچا ؤ ‘‘

حضرت علی کو حضور نے حکم دیا کہ سب قرابتداروں کو دعوت دو اور کچھ ان کے لیئے کھانے پینے کا بھی بندو بست کرو ۔ حضرت علی کہیں سے ایک چھو ٹے سے بر تن میں کھانا لے آئے اور اور ایک چھو ٹے سے ہی بر تن میں دودھ بھی جو ایک آدمی کے لیئے بھی کا فی نہ تھا۔ جبکہ اس موقعہ پر چالیس سے زیادہ خاندانِ نبوت کے افراد مد عو کیئے گئے تھے اور موجود بھی تھے۔ حضور نے پہلے کھانا شروع کرایا ، پھر جب سب سیر ہو گئے ، مگر کھانا اور دودھ جوں کا توں رہا تو پھر حضور نے وہ مشہور جملے ارشاد فر مائے کہ اگر میں یہ کہوں کہ کوہِ صفا کی دوسرے طر ف غنیم کی فو ج آپہو نچی ہے تو تم لوگ یقین کرو گے ؟ سب نے یک زبان ہوکر کہا کہ بے شک ! اس لیئے کہ آپ صاد ق اور امین ہیں آپ کی زبان سے ہم نے کبھی کو ئی غلط بات نہیں سنی ۔ تب حضور ان سے دوبارہ مخاطب ہو ئے اور فرمایا کہ اگر میں یہ کہوں کہ خدا ایک ہے اور میں اس کا رسول ہو ں تو کیا تم مانوگے ؟ اس وقت وہی ایک اکیلابچہ تھا جو اٹھ کرکھڑا ہو تا ہے اور کہتا ہے کہ میں آپ پرایمان لا تا ہوں ، حضور اسکو بٹھا دیتے ہیں، پھر حضوراپنی بات دہراتے ہیں ۔ پھر بھی خاموشی رہتی ہے وہی بچہ دوبارہ کھڑا ہو تا ہے ، حضور پھر بیٹھنے کا حکم دیتے ہیں ۔ اور تیسری مر تبہ اپنی بات دہراتے ہیں پھر بھی خاموشی ہی رہتی ہے تو پھر وہی بچہ کھڑا ہو تا ہے تو حضور فر ماتے ہیں کہ علی تم آج کے بعد میرے وزیر ہو ؟ اب لوگوں کی خاموشی ٹو ٹتی ہے اور الٹا سیدھا بکنے لگتے ہیں کہ محمد تم تو بہت بڑے جادو گر ہو ،کیا تم نے ہمیں یہ جا دو دکھانے کے لیئے بلایا تھا؟ پھر ابو لہب ، حضرت ابو طالب سے مخاطب ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ پہلے تو تمہارے بھتیجے نے ہم پر بر تری کا دعویٰ کیا تھا اور اب تمہا رے بیٹے کی بھی ہمیں تابعداری کر نا پڑے گی ؟ اور یہ کہہ کرپھر بکتاجھکتا ہواچلا جاتا ہے اور اپنے ساتھ ، بقیہ اہلِخاندان کو بھی لیجاتا ہے۔

اس کے بعد حضرت علی گھر ہو یا سفر ہر مو قعہ پر ساتھ نظر آتے ہیں حتیٰ کہ ایک دن حضور فر ماتے ہیں کہ علی میری چادر اوڑھ کر میرے بستر پر لیٹ جا ؤ کیونکہ میں ہجرت کر رہا ہوں اور باہر کفار گھر کاگھراؤ کر چکے ہیں اور وہ میرے قتل کے درپہ ہیں۔ تم کل ان کی امانتیں دے کر میرے پاس آجانا، تمہارا انشا اللہ وہ کچھ نہیں بگاڑسکیں گے ۔ حضرت علی جو ‘‘سمعنا اور اطعنا ‘‘ کی چونکہ عملی تمثیل تھے وہ اس کے بعد کوئی سوال ہی نہیں کرتے ہیں اور چپ چاپ حضور کے بسترِمبارک پر محوِاسترا حت ہو جاتے ہیں ۔ بعد میں وہ اکثر فر ما یا کرتے تھے کہ ‘‘ مجھے اس دن سے زیادہ بہتر نیند پھر کبھی نہیں آئی ‘‘
مدینہ پہونچ کر بھی وہ ہر مر حلہ پر ، ہر سرد اور خشک میں حضور کے ساتھ نظرآتے ہیں ۔ ایک دن حضور مہاجر اور انصار میں بھائی چارہ کراتے ہیں اور حضرت علی کا ہاتھ تھام کر فر ماتے ہیں یہ میرا بھا ئی ہے۔ اسکے بعد انہیں شرفِ دامادی عطاہو تا ہے وہ انکی سب سے چہتی صاحبزادی حضرت فا طمہ الزہرہ کے شوہر بنتے ہیں ۔ تمام غزوات میں حصہ لیتے ہیں ۔ کافروں کے مشہور سورما عبد ود کو غزوہ خند ق میں قتل کر تے ہیں جو ایک ہزار سواروں کے برابر مانا جاتا تھا ۔ پھر اس درِخیبر کو اوکھاڑ پھینکنے والا واقعہ رونما ہو تا ہے ۔ جبکہ اس پر پہلے کئی حملے ناکام ہوچکے ہیں یہودیوں کے خیال میں وہ قلعہ نا قابلِ تسخیر ہے ۔ اس صورتِ حال میں حضور یہ مزدہ سناتے ہیں کہ کل میں علم اس کو دونگا جس کو اللہ اور رسول چاہتے ہیں ؟ لوگ رات بھر منتظر رہتے ہیں کہ دیکھئے وہ کون خوش نصیب ہے جس کو یہ اعزاز حاصل ہو تا ہے ؟صبح کوعلی کو طلب فر ماکر پرچم دربارِ رسالت سے انکوعطا کیا جاتا ہے ، جبکہ وہ آشوبِ چشم میں مبتلا ہیں ، حضور اپنے لعاب دہن سے مسیحائی فرماتے ہیں اور حضرت علی اس دروازے کو تنہا اوکھاڑ پھنکتے ہیں جو مختلف روایات کے مطابق دس سے لیکر چالیس مجاہدین سے بعد میں نہیں اٹھ سکا اور قلعہ فتح کر کے کا میاب اور کامراں واپس تشریف لاتے ہیں

اور ہاں وہ واقعہ بھی جبکہ نجران کے عیسا ئیوں کا وفد آتا ہے اور ان سے آیتِ مبا ہلہ کے نزول کے بعد حضورسے یہ طے پا تا ہے کہ وہ بھی کل اپنے بیٹی بیٹوں کو لے کر آئیں اور میں بھی کل اپنے بیٹی بیٹوں کو لیکر آتا ہوں؟ دوسرے دن جو اصحاب حجرے سے برآمد ہوتے ہیں، ان میں آگے آگے حضور تھے ، ان کے پیچھے حضرت علی اور حضرت فا طمہ الزہرہ اور حسن اور حسین تھے۔

اس کے بعد اب تاریخ میں یہ اندراج بھی ملا حظہ فر ما لیں جو کہ ہر طرح سے مستند ہے کہ جب سورہ توبہ کی وہ آیات جن میں کفار پر حج کرنے اور حدودِ حرم میں رہائش اور داخلہ پر پابندی لگا ئی گئی ، توحضور نے حضرت علی کو اس کا اعلان کر نے کے لیئے روانہ کیا جبکہ امیر حج کے طور پر وہ پہلے ہی حضرت ابو بکر کو روانہ فر ما چکے تھے۔صحابہ کرام نے مشورہ دیا کہ انہیں کسی قاصد کے ذریعہ مطلع فر مادیں ، وہ وہاں اعلان کر دیں گے ۔ مگر حضور نے فر مایاکہ اس کام کے لیئے اہلِ بیت میں سے ہی کوئی ہونابہتر ہے ۔
پھر وہ واقعہ جبکہ حضور پہلی مرتبہ انکو اپنے پیچھے مدینہ میں اہلِ بیت کی نگہداشت کے لیئے چھوڑ گئے مگر ان کی حمیت نے گوارا نہیں کیا کہ حضور کو تنہا خطرے کے وقت چھوڑ دیں جب کہ منافق سب بغلیں بجا رہے کہ یہ یا تو شہید ہو جا ئیں گے یا رومن فو جیں گر فتار کر لیں گی ۔ بلکہ رئیس المنا فقین عبد اللہ بن ابی سلول کی تاج پوشی کی تیاری بھی شروع ہوچکی تھی ۔ ابھی حضورچند منزل ہی تشریف لے گئے تھے کہ علی ہونچ گئے۔ پوچھا کیسیآئے ؟انہوں نے حقیت حال عرض کی فرمایا واپس جا ؤ۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ مجھ میں اور تم میں وہ نسبت ہو جو حضرت مو سیٰ اور ہارون میں تھی۔

بظاہر اس ارشادِ رسالت میں کوئی ایسی بات نہ تھی مگر اس کے جو مضمرات تھے وہ بابِ علم نے سمجھ لیئے کہ ان کو حضور نے کونسا کام سونپا ہے اور انہیں اس سے عہدہ براہ ہو نا ہے ۔ وہ تھا دین کی اقامت اورحفاظت ۔ جس کو انہوں نے حضور کے بعد اپنی ذمہ داری سمجھا اور بخوبی نبھایا کہ جب کوئی خلافت لینے کو تیار نہیں تھا تو وہ بار بھی انہوں نے لوگوں کے مجبور کر نے پر اٹھایا۔ جب کے اس سے پہلے وہ ہمیشہ گریزاں رہے۔ لیکن پھر زمانے نے انہیں چین نہیں لینے دیا ۔ وہ بہت ہی دلبرداشتہ ہوگئے اور انہیں کثرت سے حضور  کا وہ ارشادَ گرامی یاد آنے لگا۔ جس میں انہیں ان کی شہادت کی خبر یہ فرماکر دی گئی تھی تمہیں ایک بدترین اور مردود شخص شہید کرے گا اور تمہارے سر کے خون سے تمہاری داڑھی تر ہوگی ۔

 وہ بار بار فرماتے کہ وہ بد بخت ابھی تک پیدا کیوں نہیں ہو ا تاکہ میں اپنے ر فیقِاعلیٰ سے جا ملوں ۔ وہ شخص پیدا تو ہوچکا تھا مگر ابھی وقت نہیں آیا تھا۔ وہ وقت بھی انیس یا سترہ رمضان کو بہ اختلاف مورخین آگیا ۔ ایک ابنِ ملجم نامی مردود نے اپنے چند دوسرے خارجیوں کے ساتھ ملکر حضرت علی کے قتل کی سازش کی جس میں ایک قطامہ نام کی عورت بھی شامل تھی ۔ اس نے اپنی زہریلی تلوار سے اس وقت ان پرحملہ کیا جب وہ فجر کی نماز کے لیئے باہر تشریف لائے ۔ اس مردود نے ان کے سر پر ضربِ کاری لگا ئی ۔ حضرت علی نے اپنی جگہ جعدہ بن ہبیرہ بن ابی وہب کو نماز فجر کی امات کے لیئے کھڑا کیا اور پھر مسجد کے فر ش پر دراز ہو گئے ۔

حضور ے ارشاد کے مطابق ان کی ریشِمبارک خون سے تر ہوچکی تھی لہذا انہوں نے جان لیا کہ ان کا آخری وقت آپہو نچا۔ کاتب کو طلب کیا اور ایک بے مثال وصیت تحریر فر ما ئی جو کہ امت کے لیئے قیامت تک مشعل راہ رہے گی اور پھر اس عظیم مجاہد نے جس کی زندگی میدان جنگ گزری اپنی جا ن اکیس رمضان المبا رک المبارک کو اللہ سبحانہ تعالیٰ کے سپرد کر دی اور اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملا۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔

:دیگر مضامین
(26.12.2008) بے نظیر کی زندگی کا آخری سفر
(23.12.2008) قوم کیلئے بے غیرتی و شرمندگی کا گھونٹ۔
(23.12.2008)  ‘‘کی دم دا بھروسہ یار، دم آوے نہ آوے‘‘
(22.12.2008) راجکماریوں کا شاہی غسل
(22.12.2008) جوتا مارنے سے کیا ثابت ہوا؟
(19.12.2008) پاکستان میں جو تا چلتے چلتے کیوں رہ گیا ؟
(18.12.2008) آئیے جوتا جوتا کھیلیں
(17.12.2008) اردو کا قاعدہ یا القائدہ
(16.12.2008) الف سے الزیدی - ب سے بوٹ
(15.12.2008) ب سے بُش۔ب سے بوٹ
(12.12.2008) کرکٹ کمنٹیٹر محمد ادریس کا پیغام
(30.11.2008) حج اور تاریخِ کعبہ
(25.11.2008) عیدالاضحی:بیس لاکھ کا بیل اور پانچ لاکھ کا بکرا
(25.11.2008) کارٹون اور حقیقت میں کوئی فرق نہیں
(25.11.2008) وزرات اطلاعات کے نام ایک کھلا خط
(23.11.2008) معروف صحافی خاور نعیم ہاشمی کا پیغام
(22.11.2008) عالمی اخبار کے اجرا پر سڈنی کی فریدہ لاکھانی کا پیغام
(20.11.2008) نام میں کیا رکھا ہے؟
(16.11.2008) لفظ پاکستان کے خالق کایوم پیدائش
(16.11.2008)  ہم احتجاج کرتے رہیں گے آپ اپناکام کرتے رہیں



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں