
روضہ ء حضرت امام زادہ داؤد علیہ السلام تہران کے مشہور و معروف البرز پہاڑی سلسلے کی ایک چوٹی پر واقع ہے جو شیمران کے علاقے سے کم و بیش بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اگر اس علاقے کا اپنے شہر اسلام آباد سے موازنہ کروں تو ہمارا سفر مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن سے شروع ہوکرایک پہاڑی چوٹی پیرسوہاوہ تک جاتا ہے۔ لیکن ان دونوں مقامات میں جو بنیادی اور واضح ترین فرق نظر آیا، وہ ان پہاڑوں کی وضع تھی۔ اسلام آباد کی پہاڑیوں کو اللہ تعالی نے بیسیوں اقسام کے سرسبزوشاداب درختوں اور جھاڑیوں سے نوازا ہےجن میں ایک خاص جنگلی حیات بھی پروان چڑھ رہی ہے۔ ملک کے کسی اور حصے یا بیرونِ ملک سے کوئی سیاح اسلام آباد آئے اور مارگلہ کی ان پہاڑیوں کی صحت افزا سیر کیئے بغیر چلا جائے، ایسا شازونادر ہی ہوتا ہے۔ جبکہ تہران کے جن پہاڑوں پر ہماری گاڑی رواں دواں تھی، وہ خشک، چٹیل اور کسی بھی سبزے سے مکمل طور پر پاک تھے۔ وہ پہاڑ چلتی ہوئی بیشمار گاڑیوں کی موجودگی کے باوجود بھی ویرانی اور وحشت کی خاموش تصویر بنے کھڑے تھے۔ تھوڑے سے سفر کے بعد میں خود بھی اکتاہٹ کا شکار ہوگیا اور ان پہاڑوں کا اپنے شہر کے پہاڑوں سے موازنہ کرکے خدا کا شکر اداکرنے لگا۔ خدا نے ہمارے ملک اور اسمیں بسنے والے باشندوں کو اپنی ہر نعمت سے نوازا لیکن ہم قدر نا شناس لوگوں نے سوائے کفرانِ نعمت کے اور کچھ نہ کیا۔ جبکہ تہران میں یہ عالم تھا کہ ان وحشت زدہ پہاڑوں پر بھی پکنک منانے والوں کی گاڑیاں ایک دوسرے سے سبقت لیجانے کی کوششوں میں رواں دواں تھیں۔ کچھ سفر مزید طے کرکے ہماری گاڑی ایک مقام پر جاکر رک گئی جہاں سینکڑوں اور گاڑیاں پہلے سے موجود تھیں اور ایک ٹریفک جام کا سا منظر تھا۔ ہمارے ڈرائور صاحب نے بتلایا کہ گاڑی یہیں پارک کرکے قریباً ایک کلو میٹر کا فاصلہ پیدل طے کرنا ہوگا کیوں کہ زائرین و سائرین کی ایک بڑی تعداد پہلے سے یہاں موجود ہے۔ ہمیں معلوم ہوا کہ امامزادہ داؤد علیہ السلام کا روضہ یہاں کے زائرین کے لیے نہ صرف ایک زیارتگاہ ہے، بلکہ پہاڑی بلندی پر واقع ہونے کی وجہ سے یہ ایک تفریحی مقام بھی ہے جہاں لوگ دوست، احباب، مہمانان اور خاندان بھر کے افراد کے ساتھ آتے ہیں۔ اپنے ساتھ خیمے، دریاں، کھانے پینے کا سامان، چولہے، حتٰی کہ زندہ مینڈھے تک لے آتے ہیں جنہیں یہیں پر زبح کرکے مختلف انداز میں پکاتے ہیں اور سارا دن یہاں پکنک منا کر شام ڈھلے اپنے گھروں کو واپس لوٹتے ہیں۔ ہمیں بھی ایسے کئی خاندانوں کا سامنا ہوا، جو بالکل اسی طرح سے تفریح کررہے تھے۔ محض یہی نہیں، بلکہ یہاں پر رہائش کے لیئے چند چھوٹے چھوٹے ہوٹل بھی موجود ہیں جن کو زائرین و سیاح افراد کی ایک کثیر تعداد استعمال کرتی ہے۔ اسکے علاوہ یہاں کا مقامی بازار بھی خاصا مشہور ہے جہاں دیگر اشیا کے علاوہ یہاں کے مخصوص حلوے بھی کثیر اقسام میں دستیاب ہیں۔ یہ سب دیکھ کر ہمیں اپنے مری پہنچنے کا احساس ہوا۔
ہم بھی اپنی گاڑی سے اتر کر روضے کی جانب چل دئے اور تھوڑی سی دیر کا سانس پھلانے والا سفر طے کرکے ایک روضے کے مقابل آگئے جسکا روضہء امام رضا علیہ السلام کے مشابہ گنبد غم و اندوہ کی تصویر بنا اپنے در پر آنے والوں کو مظلومانہ انداز میں خوش آمدید کہتا نظر آیا۔ بدلتے موسموں کی شدت نے اس گنبد کی وجاہت کو خاصا ماند تو کردیا تھا لیکن وہ ہنوز اپنے مکین کی مظلومیت کا ببانگِ دہل اعلان کررہا تھا۔ اس روضے کا وجود اپنے ہر زائر کے زہن میں اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ سینکڑوں برس قبل اہلِ بیت رسالت کے اس شہزادے پر زمین کس طرح تنگ کی گئی کہ اسے ان دشوار ترین پہاڑوں کی وحشتناک غاروں میں پناہ تلاش کرنا پڑی! جب ہم وہاں گئے تو ایک آرام دہ سڑک پر بہترین گاڑی میں سفر کرکے پہنچے تھے، اس پر بھی وحشت کا یہ عالم تھا کہ خشک پہاڑوں کی سنسانی ڈسنے کو لپک رہی تھی۔ کیا معلوم یہ امام زادہ اس دور میں کیونکر یہاں تک پہنچا ہوگا! جان بچانا اسلام میں واجب، مگر جان تو پھر بھی نہ بچی۔ کون تھے وہ شیطان کے چیلے جنکے خونیں پنجے اس بیابان میں چھپے ایک پھول کو بھی مسل گئے۔ ۔۔۔ کربلا یقیناً ہردور میں ہی برپا رہی۔
صفوی دور میں اس قبر کی نشاندہی ہوئی اور انہوں نے یہاں روضہ تو تعمیر کردیا مگر اہلِ مرقد کے بارے میں کوئی واضح تحقیق نہ ہوسکی۔ آیت اللہ مرعشی نجفی رح جو کہ علومِ شجرہ میں خاص مہارت رکھتے تھے، نے بہت عمیق تحقیق کے بعد اس روضے کو امام زادہ داؤد علیہ السلام سے منسوب کیا، جو کہ امام علی بن حسین السجاد علیہ السلام کی پاکیزہ نسل میں سے ایک امام زادے تھے۔
ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ شہر سے دور ہونے کے باعث یہاں زائرین کی قلیل تعداد ہوگی مگر یہاں توقعات کے برعکس لوگوں کا ایک ہجوم موجود تھا۔ جب ہم روضے کی عمارت میں باقاعدہ داخل ہوئے تو یہ دیکھ کر اور بھی حیرانی ہوئی کہ جتنی تعداد روضے کے باہر دھوم دھڑکا کرنے والوں کی تھی، اتنی ہی تعداد میں عابدین یہاں خضوع و خشوع کے ساتھ عبادات میں مشغول تھے۔ ضریح کے اردگرد لوگوں کی ایک بڑی تعداد مناجات و گریے میں مصروف تھی۔ اصغر بھائی نے بتایا کہ امام زادہ صالح کی طرح یہاں بھی دعاؤں کی قبولیت کی بہت روایات ہیں۔ میں سوچنے لگا کہ شاید اس کی وجہ اس مقام کی بلندی ہو! اس روضے کا ہال بھی خاصا کشادہ تھا جس کے درمیان میں ضریح تھی اور ایک جانب کو اسی ہال سے متصل ایک اور ہال تھا جہاں سے آنے والی آوازوں نے پورے روضے کا احصا کیا ہوا تھا۔ مناسکِ زیارت اور نماز کی ادائیگی کے بعد میں ان آوازوں کے تعاقب میں دوسرے ہال کی جانب چل پڑا۔ وہاں پہنچ کر دیکھا تو ایک عجیب ہی منظر تھا۔ وہاں مجلسِ عزاء ہو رہی تھی۔ غمِ حسین ایک ایسا عجیب و غریب غم ہے جسکی تاثیر میں خوشی ہے۔ میں بھی اس تقریبِ غم کو پا کر خوشی سے جھوم اٹھا اور اپنے آقا کا شکریہ ادا کرتا ہوا ان عزاداران کے درمیان جا بیٹھا، جو مصائبِ کربلا کو سن سن کر اپنےسر اور سینے پیٹ رہے تھے۔ ذاکر مائک ہاتھ میں اٹھائے کھڑا ہو کر نوحہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ خود بھی اشکبار تھا۔ میرے دماغ کو تو اس مجلس کا ایک لفظ بھی سمجھ نہ آیا لیکن روح اتنی عاقل نکلی کہ مصائبِ کربلا کے ایک ایک لفظ کو اپنی گہرائی تک اتارتی گئی اور میں بھی گریہ کرتا ہوا اس مجمع کا ایک حصہ بن گیا۔ میں کسقدر خوش نصیب تھا کہ اپنے سفرِ ِزیارات کے آخری لمحات میں تہران کی دورافتادہ ایک پہاڑی چوٹی پر مجلسِ حسین میں بیٹھا تھا۔ کیا ایسی عنایات ہر کسی کا مقدر ہیں؟
وہ دوپہر ہم نے کیا خوب گزاری۔ سہ پہر کے لگ بھگ ہم وہاں سے روانہ ہوئے اور اپنی گاڑی میں بیٹھ کر واپس تہران کی جانب چلے۔ جیسے ہی گاڑی نے پہلا موڑ کاٹ کر ڈھلوان کی جانب پیش قدمی کی، سڑک کے کنارے لگے بورڈ نے ہمیں "زیارت قبول" کہتے ہوئے رخصت کیا۔ بالکل ایسے ہی جیسے حضرت بی بی شہر بانو کی زیارت کے وقت کیا تھا۔ اس چھوٹی سی بات میں اس قدر اثر ہے کہ لوٹنے والے کا دل باغ باغ ہوجاتا ہے۔ کچھ دیر انہی پیچ و خم کے چکر کھا کر ہم زمین پر واپس آگئے اور ایک بار پھر انہی نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اپنی قیام گاہ واپس آگئے۔

ٹیکسی والے صاحب اپنے کام کو چل دئے اور ہم تینوں ایک ریسٹورینٹ میں جا بیٹھے۔ یہ ہمارا ایران میں آخری طعام ہونا تھا۔ اس لیئے ہم نے اپنے پسندیدہ کباب، کوبیدہ وغیرہ کے لیئے اس علاقے کے اس بہترین ریسٹوینٹ کا انتخاب کیا۔ خوب مزے لے لے کر ہم نے وہ ایرانی پکوان کھائے اور کھانے کے بعد یونہی بے سمت ٹہلنے لگے۔ چلتے چلتے اسی پارکِ شہر پہنچ گئے جہاں آج سے چند روز قبل آکر بالکل اسی طرح نادانستہ پہنچے تھے۔ اس پارک سے بھی ایسی انسیت ہوچلی تھی کہ دل چاہتا تھا کہ روز یہاں آیا کریں۔ آج ہمارے ساتھ کیونکہ ہمارا راہنما بھی تھا تو وہ ہمیں پارک کی اس جانب لے گیا جہاں ابھی تک ہمارا گزر نہیں ہوا تھا۔ کہنے کو تو وہ علاقہ بھی پورے پارک کی طرح ہی تھا لیکن وہاں کی خاص بات ایک قہوہ خانہ تھا۔ ہم بھی قہموہ پینے کی نیت سے اس میں داخل ہوگئے۔ اندر گئے تو وہ قہوہ خانہ کم، اور ایک عجائب و نوادرات خانہ زیادہ محسوس ہوا۔ کیونکہ اس کی بناوٹ اور سجاوٹ میں ایران کے قدیم نوادرات کا بخوبی استعمال کیا گیا تھا۔اس میں رکھی ہوئی مورتیاں، پرانے ریڈیو، قدیم پینٹنگز، رنگین پتھر، آلاتِ موسیقی، قالین اور کھڑکیاں دروازے ایک مکمل تاریخ کا پتا دے رہے تھے۔ پرلطف بات یہ تھی کہ وہاں ہماری طرح زیادہ تر افراد غیرملکی ہی تھے جو شکلوں اور حلیوں سے انگریز معلوم ہوتے تھے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ قہوہ خانہ کسی دور میں شراب خانہ رہا ہو، لیکن اب یہاں قہوے کے علاوہ اسنیکس بھی دستیاب ہیں اور ساتھ ہی مختلف زائقوں میں شیشہ بھی۔ داخل ہونے پر ایک بیرے اور خوشبوؤں سے لدے دھوئیں کے لچھوں نے ہمارا استقبال کیا۔ ہم بھی ایک تخت پر جا بیٹھے اور قہوے کا آرڈر دے کر گاؤ تکئے سے ٹک کر بیٹھ گئے۔ اس قہوے خانے کا ماحول ہمیں بھی انہی ادوار میں لے گیا جب تہران میں بگھیوں پر سفر کیا جاتا تھا۔ اس قہوہ خانے کے قہوہ کی یاد آج بھی قہوہ پینے پر مجبور کردیتی ہے۔ کچھ دیر وہاں گزارنے کے بعد ہم باہر نکلے تو ایک بزرگ نظر اتارنے کا ٹھیا لگائے بیٹھے نظر آئے۔ انکے سامنے رکھی میز پر مختلف چیزیں رکھی ہوئی تھیں اور ایک کڑاہی میں لوبان کی دھونی جل رہی تھی۔ ہم نے بھی بڑے چاؤ سے اپنی نظر اتروائی اور اس بزرگ سے دعائیں لیتے ہوئے پارک کا ایک چکر لگا کر باہر آگئے۔
شام تیزی سے قریب آرہی تھی۔ چنانچہ ہم اپنی قیام گاہ کی جانب چل پڑے اور اصغر بھائی اپنے گھر کی طرف۔ جب ہم ایک دوسرے سے رخصت ہورہے تھے تو یہ وہی وقت اور مقام تھا، جہاں چند روز قبل ہم پہلی مرتبہ ملے تھے۔ میری سوچ کی اسکرین پر وہی منظر ایک فلم کی مانند چلنے لگا۔ اس وقت بھی ہم نے مغرب کے وقت شاہِ خراسان گیسٹ ہاؤس کی مسجد میں ملنے کا فیصلہ کیا اور ایک دوسرے کو خداحافظ کہا۔ اپنے کمرے میں آکر ہم نے اپنی حتمی واپسی کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی نیت سے اپنا سامان اکٹھا کرکے باندھنا شروع کیا۔ یہ کام ختم کرتے کرتے مغرب کا وقت ہوگیا اور فضا میں اذان کی آواز ایک عجیب سی اداسی پھیلانے لگی جبکہ یہی اذان پہلی مرتبہ میرے لیئے لاکھوں خوشیوں کا پیغام لائی تھی۔ اذان کے ہر ہر کلمے کے ساتھ میرا دل ڈوبا جارہا تھا۔ اسی ڈوبتے دل کے ساتھ میں کمرے سے نکل کر مسجد میں جابیٹھا اور دیگر نمازیوں کے ہمراہ سرزمینِ ایران پر اپنی آخری مغربین ادا کی۔ جب سب نمازی آہستہ آہستہ چلے گئے تو میں سجدے میں گر کر خوب رویا اور اپنے رب سے دوبارہ اس سرزمین پر نماز ادا کرنے کی درخواستیں کیں۔ سجدے سے اٹھ کر زیارت تلاوت کرنے کھڑا ہوا تو سامنے دیوار پر اپنے آقا کا روضہ بنا نظر آیا جسکے چمکتے ہوئے مینار، دمکتا ہوا میرا محبوب گنبد اور اس پر جھومتا ہوا پرچم مجھے دلاسہ دیتے ہوئے نظر آئے۔ ایک لمحہ قبل تک میں ایک صحرا میں بالکل تنہا تھا اور اب یوں محسوس ہونے لگا کہ جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آگئی ہو۔ اس روضے کی شبیہ سے نکلنے والی تجلی نے میرے پژمردہ دل میں جان ڈال دی اور میں تازہ دم سا ہوکر باہر کی جانب چلا۔ گیسٹ ہاؤس کے استقبالئے پر اصغر بھائی میرے منتظر تھے۔ انہوں نے ایک عجیب سا کام کیا اور وہ یہ تھا کہ میری نماز کے دوران ہمارا حساب بے باق کرچکے تھے اور انکا اصرار تھا کہ آجکی رات ہم انکے مہمان بنیں۔ ہزار علتوں کے بعد بھی وہ نہ مانے اور ہمیں وہاں سے رخصت کروا کر ہی دم لیا۔ میں گیسٹ ہاؤس کے عملے کے ایک ایک فرد سے لپٹ کر ملا اور ہر ایک کا تمام خدمات پر شکریہ ادا کیا اور اپنی غیر موجودگی میں ان اللہ والوں سے اپنے حق میں دعا کی درخواست کی۔ ان تمام افراد سے اس تھوڑے سے وقت میں بالکل اپنوں جسیی انسیت ہوچکی تھی، سو انکی آنکھوں میں بھی اس جدائی پر غم کے آثار نظر آئے۔ میں ایک خادم کے ساتھ اپنے کمرے میں آیا اور زائرہ کو اپنے نئے پڑاؤ کے بارے میں بتا کر اپنا سامان اٹھوا کر باہر آگیا۔ میں حسرت بھری نظروں سے گیسٹ ہاؤس کے ایک ایک کونے کو دیکھ رہا تھا جنہوں نے ان چند دنوں میں ہمیں اپنا کرلیا تھا۔ باہر آئے تو ہماری ٹیکسی تیار کھڑی تھی۔ یہ وہی مقام تھا جہاں پہلے دن اپنی آمد کے موقع پر کھڑے ہو کر پہلے زائرہ اور پھر مجھے کرنٹ لگا تھا۔ یہاں پہنچتے ساتھ ہی ہماری نظریں اسی حسین نظارے میں کھوگئیں جس نے اس تمام دورے کو اپنے نور سے منور کیئے رکھا۔ میری آنکھوں سے بالکل اسی وقت کی طرح آنسو کی ایک جھڑی جاری ہوئی اور زمین میں فنا ہوگئی۔
ہماری ٹیکسی نے ایک فراٹہ بھرا اور دو منٹ میں ہمارے اگلے پڑاؤ یعنی اصغر بھائی کے دولتکدے پر پہنچ گئی۔ گو کہ اصغر بھائی کے گھر میں بالکل اپنے گھر کا سا احساس ہوا لیکن جوں جوں وقت گزرتا جارہا تھا، توں توں میری گھبراہٹ میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ ہم آپس کی باتوں میں لگ گئے جبکہ زائرہ نے باورچی خانے کا رخ کیا اور چائے بنائی۔ چائے کی میز پر ہم اپنی یادداشتوں کو دہرانے لگے اور اب تک کی گزری ہوئی ایک ایک بات کا یوں تذکرہ کرنے لگے جیسے برسوں کے بچھڑے اچانک مل جانے پر اپنے بچپن کو یاد کرتے ہیں۔ یہ شاید اس لیئے بھی تھا کہ مجھے اپنی زندگی کا احساس اس دیارِ مقدس میں جاکر ہی ہوا تھا۔ یا یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اہلِ لاہور جو بات اپنے شہر کے بارے میں کہتے ہیں، اس بات کو مشہد نے سچا ثابت کردکھایا تھا اور میرا کہنا یہ ہے کہ جس نے مشہدِ رضا نہیں دیکھا، وہ پیدا ہی نہیں ہوا۔ کچھ دیر اسی طرح روحانی گفتگو کرنے کے بعد ہم اٹھے اور بازار کی جانب چلے کیونکہ فہرست میں چند دوستوں کے نام رہ گئے تھے جنکے لیئے کچھ اشیاء خریدنا باقی تھیں۔ بازار جا کر ہم نے اپنے پاکستانی دوستوں کے لئے تحائف لئے اور ایک یادگاری تحفہ اپنے محسن کے لیئے لیا جس نے سرزمینِ امام پر ہمارے لیئے حقِ خدمت ادا کردیا تھا۔ میں نے آخری بار ان گلی کوچوں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا اور ڈوبتے دل کے ساتھ گھر کی جانب لوٹ آیا۔ ہم ایک بار پھر اکٹھے بیٹھے اور باتوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کردیا۔ جسطرح سے اصغر بھائی نے ہمارے ایران میں قیام کے دوران لمحہ بہ لمحہ ہمارا خیال رکھا تھا، اسکا حق تو میں ساری زندگی ادا نہیں کرسکتا تھا۔ بس اپنی خدمت کو اتنا ہی پیش کرسکا کہ پاکستان میں اگر انکے لئے میں کچھ کرسکا تو یاد ضرور فرما لیجیئے گا۔ انہوں نے میری اس درخواست کو شکریہ کے ساتھ قبول تو فرمایا لیکن آج تک کچھ عرض نہیں کیا۔ تھوڑی دیر بعد ہم سونے کا ایک فرض ادا کرنے کی نیت سے کمرے میں چلے تو گئے لیکن نیند کا وہاں دور دور تک کوئی گزر نہ تھا۔ کچھ دیر یونہی کروٹیں بدل کر بستر چھوڑ دیا اور نہا دھو کر ائرپورٹ جانے کے لئے تیار ہوگئے۔ لاہور کے لیے ہماری پرواز صبح سات بجے تھی جسکے لیئے ہمیں چار بجے کے بعد کسی بھی وقت ائرپورٹ پہنچنا تھا۔ ساڑھے تین بجے وہی ٹیکسی والے عباسزادہ صاحب تشریف لے آئے جنکے ساتھ ہم نے کئی سفر کئے تھے اور ان سے خاموش دوستی بھی ہوگئی تھی کہ ہم دونوں کے درمیان مختلف زبانوں کی ایک ٹھوس خلیج حائل رہی۔ لیکن اس خلیج نے ہمارے دلوں کو آپس میں ملنے کے لئے کوئی رکاوٹ نہ ڈالی اور ہم حبِ اہل بیت کے اٹوٹ رشتے میں بندھے رہے۔
اصغر بھائی نے ہمیں مکمل تپاک اور آداب کے ساتھ گاڑی میں بٹھا کر رخصت کیا۔ یہ ہماری اصغر بھائی سے آخری ملاقات تھی۔ تمام رستہ میں اس الجھن کو سلجھانے کی کوشش کرتا رہا کہ یہ کون شخص تھا جو ہمارے سرزمینِ امام پر قدم رنجہ ہوتے ساتھ ہی ایسے ملا کہ جیسے برسوں کا آشنا ہو۔ پورے قیام کے دوران ہماری ایسے خدمت کی جیسے سچ مچ خدام کسی اہم شخصیت کی خدمت کرتے ہیں۔ رہنمائی سے لیکر پیسے تک ہر شے ہمارے سوچنے سے پہلے ہمارے سامنے موجود ہوتی اور اس شخص کی بدولت ان مقامات کی زیارات سے مشرف ہوئے جو عام زائرین کی توجہ بھی حاصل نہیں کرپاتے۔ اس وقت تک وہ شخص میرے لیئے معمہ بن چکا تھا جس نے مجھے مکمل طور پر زہنی کوفت کا شکار کردیا تھا۔ پاکستان پہنچنے کے بعد میں نے سب سے پہلے اصغر بھائی کو ہی اپنے بخیریت پہنچنے کی اطلاع دی تھی جس پر انہوں نے خدا کا شکر ادا کیا۔ وہ میری ان سے آخری گفتگو ثابت ہوئی، کیونکہ اس دن کے بعد سے وہ شخص یوں منظر سے غائب ہوگیا جسیے اسکا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ میں نے انکے دئے گئے تمام نمبروں، پتوں اور ای میلز پر تلاش کرکے رابطہ بحال رکھنے کی ازحد کوشش کی مگر بے سود۔ ان کا اچانک سے یوں غائب ہوجانا بھی میرے لئے ایک طرف تو باعثِ حیرت تھا تو دوسری طرف باعثِ تشویش۔ میں آج بھی اس مانوس اجنبی کی تلاش میں ہوں جو مجھے حیران کرگیا تھا، گو کہ میں یہ حقیقت بھی جان چکا ہوں کہ وہ کوئی انسان نہ تھا بلکہ انسانی صورت میں امام کا متعین کردہ کوئی فرشتہ یا کوئی اور مخلوق تھا جسکی ڈیوٹی یہی تھی کہ سرزمینِ امام پر وارد ہوتے ساتھ ایک فٹ پاتھ کے کنارے ہم سے مل کرہماری تمام تر ذمہ داریاں اپنے کاندھے لیکر ہمیں سبکدوش کردے اور جب ہمارا واپسی کا وقت آئے تو وہ بھی اسی وقت اپنی ڈیوٹی پوری کرکے غائب ہوجائے۔
گھر سے ائرپورٹ کے لئے گاڑی روانہ ہوئی تو تمام تہران قدرتی اندھیرے اور مصنوعی روشنیوں کے سمندر میں ڈوبا ہوا سو رہا تھا۔ سڑک پر اکادکا گاڑی نظر آتی تھی اور ہماری گاڑی اس خاموش ماحول کو پریشان کئے بغیر اس سے بھی زیادہ خاموشی سے دوڑ رہی تھی۔ وہ تہران کی سڑک تھی یا میرا وجود تھا کہ جس پر موت کی سی کیفیت طاری تھی۔ جوں جوں فاصلہ طے ہوتا جا رہا تھا، توں توں جسم سے جو روح کھنچتی محسوس ہو رہی تھی۔ میں اپنی ہی سوچوں میں مرا جارہا تھا کہ اچانک سے روشنیوں کے چند ہالوں نے گویا جانکنی کے عمل کو روک سا دیا۔ وہ نور کے ہالے روضہء حضرت امام خمینی رح سے خارج ہورے تھے۔ تھوڑی دیر میں ہم اس مقام تک پہنچ گئے اور عباسزادہ صاحب نے گاڑی کو دھیرے سے ایک کونے میں لیجا کر روک دیا اور ہم نے اتر کر وہیں کھڑے کھڑے حضرت کی روح کے واسطے سلام اور فاتحہ کا ہدیہ ایصال کیا۔ دس منٹ کی مزید مسافت طے کرکے ہم ائرپورٹ پہنچ گئے۔ ائرپورٹ پر بھی اس وقت ویرانی کا سا سماں تھا۔ ائرپورٹ کے ضروری مراحل سے گزرتے ہوئے جب ہم کاؤنٹر پر پہنچے تو ایک انتہائی بااخلاق خاتون سے واسطہ پڑا جنہوں نے بہت آرام اور سکون کے ساتھ ہمارے سارے کام کرڈالے اور ہمیں لاؤنج کی جانب روانہ کردیا۔ اسی کاؤنٹر پر رکھے ہوئے ایک کیلنڈر نے آخری مرتبہ ہم میاں بیوی کی توجہ اپنی جانب کھینچ ڈالی اور ہم دونوں ایک ساتھ ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے خوشی سے اچھل پڑے اور شکریہ یا امام کے الفاظ سے اپنی زبانوں کو جاشنی بخشنے لگے۔
اسی دوران ائرپورٹ لاؤنج کی مسجد سے اذانِ فجر کی پکار بلند ہوئی اور ہم دیوانہ وار دوڑتے ہوئے مسجد کی جانب لپکے۔ مسجد پہنچ کر میں نے فجر کے ساتھ دو رکعت نمازِ شکرانہ ادا کی اور سجدہءشکر میں گرپڑا۔ جو کچھ اب تک میرے ساتھ ہوا اور میری ذات پر بیتی، اس سب پر خدا کا شکر ادا کیا اور کھڑے ہو کر اپنے آقا کے حضور سلام پیش کیا۔ مسجد کی دیواروں کے رستے میرے دل کی دیواروں پر سورۃ القلم کی آخری دو آیات چمکتی ہوئی دِکھنے لگیں جو اب سے کچھ لمحات قبل کاؤنٹر کےکیلنڈر پر ، کل امام زادہ صالح علیہ السلام کے روضے کے داخلی دروازے پر، کچھ روز قبل حرمِ بی بی معصومہ میں، بازاروں میں، ہوٹلوں میں، مھرآباد ائرپورٹ کے انفرمیشن کاؤنٹر پر اور سب سے پہلے زائرسرائے شاہِ خراسان کے صدر دروازے پر مجھے اور زائرہ کو حیرت و عشق کے جھٹکے لگاتی ہوئی نظر آتی تھیں۔
مگر اب جبکہ یہ سفرِ حیرت و عشق تمام ہونے کو آیا تو تمام عقدے کھل چکے تھے، تمام الجھنیں دور ہوچکی تھیں اور اپنے امام کے منصوبہ جات کے اسرار عیاں ہوچکے تھے۔ میری آنکھوں کے سامنے امام رضا علیہ السلام کا روضہ اپنے کمال پر جگمگا رہا تھا جو حقائق عیاں ہونے پر مسکراتے ہوئے مجھے مبارکباد دے رہا تھا کہ کسطرح مجھے یہیں سے ایک شریکِ حیات مہیا کیا گیا۔ جسکے ساتھ میں نے اس سفر پر آنے سے چند ماہ قبل اپنے شہر کے نواح میں واقع ایک قصبے حسن ابدال کا سفر کیا۔ جہاں کربلا کے ایک فقیر نے وقتِ رخصت مجھے ایک تحفہ دیا اور ساتھ ہی مسکراتے ہوئے ایک پوشیدہ پیغام بھی دیا تھا کہ اس تحفے کو اپنا وظیفہ بنا لوگے تو انشاءاللہ کچھ وقت میں خوشخبری پاؤ گے۔ وہ تحفہ اس دن سے ہم دونوں کا وظیفہ بن چکا تھا اور محض پانچ ماہ بعد وہ وقت آیا کہ مجھے اپنی تمام عمر کی سب سے بڑی خوشخبری ملی کہ میں امام رضا علیہ السلام کی زیارت کرنے ایران پہنچ چکا ہوں، جس پر تہران پہنچتے ساتھ ہی زائرسرائے شاہِ خراسان کے صدر دروازے پر مرمریں پتھر پر نقش سورۃ القلم کی آیات وَإِن يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ وَمَا هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ مہرِ تصدیق ثبت کرتی نظر آئیں۔ یہی دو آیات، کربلا کے اس فقیر علمدار شاہ بخاری کا دیا ہوا وہ خاص الخاص تحفہ تھا جو ہم دونوں کا وظیفہ تھا۔
مجھے اپنی زندگی کی نبائے عظیم تو مل گئی اور میں فوزِ عظیم پر بھی فائز ہوگیا مگر میں اس ڈھنگ سے ہنوز ناواقف ہوں کہ کیسے اپنے امام کا شکریہ ادا کروں جو اس انوکھے انداز میں مجھے اس گھر سے اٹھوا کر اپنے دربار تک لے گئے اور مجھ کم ظرف کو ہرگزرتے لمحے کے ساتھ ان ان انعامات سے نوازاتے گئے، جن سے فیضیاب ہوکر میری روح اسقدر توانا ہوگئی کہ فضائے عشقِ امام رضا علیہ السلام کی بیکراں وسعتوں میں محوِ پرواز ہوگئی۔ ایک ایسی پروازِ عشق، جسکا سفر جاری ہے۔ اس سفر کا عازم، میں فراقِ امام میں تڑپتا ہوں اور اپنے پروردگار سے التجائیں کرتا ہوں کہ میرے نصیب میں یہ لکھا ہو کہ عصمت کے حیرتکدوں کا سفرِ عشق جاری رہیگا۔ میرا پروردگار اس مادی زندگی میں پے در پے مجھے اسی طرح اپنے آقا امام ضامن علیہ السلام، تمام معصوم ہستیوں (ع) اور آپکے عشاق و غلامان کے رحمتکدوں تک لیجائے۔ مجھے یہ شرف بخشے کہ اسی طرح درہائے فردوس پر حاضری دوں تاوقت یہ کہ میری روح اس بدنِ خاکی سے جدا ہو اور سیدھی اپنے آقایان کے قدموں میں پہنچ جائے۔ عاشق اور معشوق کے درمیان حائل تمام حجابات زائل ہو جائیں اور مجھے اپنے وارثان کی دوبدو زیارت کا شرف حاصل ہوجائے۔
اللهم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجهم و اهلک اعداهم من الجن والانس من الاولین والآخرین