ایک زمانے سے اردو ادب میں لوگ اپنی شہرت اور نام آوری کے لئے نت نئے ہتھکنڈے بروئے کار لاتے ہیں
لیکن اُن کی یہ حُمق گرم بازاری دیکھ کر اہلِ ادب خاموش رہتے ہیں،کیونکہ کون کمینوں کے منہ لگے ! اگر ہر ایک سےتعرّض کرتے پھریں تب بھی اُن کے علم میں اضافہ نہیں ہو گا۔بلکہ صنادیدِ آ ئمہ طریقت میں اندک افزائش ہو سکتی ہے۔
برّصغیر کے شہروں میں خیابانوں پر اکثر چوراہوں پر شعبدہ باز نما دوا فروش اپنی عجیب و غریب حرکات سے اور
صداؤں سے آبرین کی ای
 |
| ہرزہ مشتاب و پئے جادہ شناساں بر دار |
ک جماعت اپنے گرد جمع کر لیتے ہیں اور آ خر میں ایک کراماتی پڑیا کے کرشمے اپنے مقصد کے لئےلوگوں کو دکھا کر رقم اینٹھ لیتے ہیں۔اکثر ان آبرین میں پڑھے لکھے لوگ بھی ہوتے ہیں لیکن وہ کبھی ان دوا فروشوں سےبات نہیں کرتے۔ان حیلہ گروں سے گفتگو وہی کرتا ہے جو مایوس ا لعلاج ہوتا ہے۔
اسی طرح کے حیلہ گرادَب میں بھی موجود ہیں جن کو اردو ادب پر کلنگ کہتے ۔کہتے زبانیں تھک گئیں اور قلم ابان کو بُجنگ لکھنے پر مجبور ہے۔ آج ہم جن آستین بھجنگوں کی بات کر رہے ہیں وہ ہیں شمس ا لرحمن فاروقی اور اُن کا بازیچہ حیدر قریشی جو احسان ناشناس اور نمک حرام ہونے کے ساتھ ساتھ مار آستین بھی ہے لیکن زھر مہورہ اس کی مکّرای کےگزند کو ختم کر دے گا۔اردو ادب میں جناب ڈاکٹر گوپی چند نارنگ ایک اعلیٰ ادبی میراث کے حامل ہیں وہ ایسی چابک دستی سے اردو
والوں کے لئے تحقیق و تنقید قلمبند کرتے ہیں کہ ان کی اقدار نگاری کو دیکھ کر ہر دانشمند شخص اُن کو دانشور محترم پکار اٹھتا ہے
جب دوسری زبانوں کے ادب کوندے کو لپکاتے ہیں تو اردو زبان پر نور کی بجلیاں کوندنے لگتی ہیں۔اب ستم ظریفی ملاحظہ فرمائین کہ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ جو دانشگاہوں میں درسِ ادب دیتے رہے،جو دانشگاہ کے وائس چانسلر رہے جن کی متعدد کتابوں کی ہر اہلِ علم مدح کر چکا ہے۔سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر ذاکر حسین یا مولانا امتیاز علی عرشی یا قاضی عبد الودود یا آلِ احمد سرور جن کے مداح و معترف تھے اُن پر اعتراض کون لوگ کر رہے ہیں ۔
(۱) شمس ا لّرحمن فاروقی جنہوں نے فارسی کی ایک کتاب کا عنوان سرقہ کر کے اپنی کتاب کا نام شعرِ شور انگیز رکھ لیا۔اس پر نیا ورق ممبئی میں ایک مضمون شائع ہوا تھا کہ میر تقی میر کے اشعار کی تشریح ٔ سبزی فروشوں کی زبان میں کی گئی ہے ! پھر شمس ا لّرحمنٰ فاروقی آ جتک صنف ’’ ہر سیہ ‘‘ کی بابت کچھ نہیں جانتے اس صنف میں مرزا دبیر کے شاگرد میاں مشیر بہت بڑے شاعر تھے ۔قیس زنگی پوری اور منتصر زید پوری کا جواب نہیں اس صنف سے موصوف واقف
نہیں ہیں۔
(۲) حیدر قریشی ان کے بارے میں کچھ کہنا ہی عبث ہے ابھی چندیں قبل موصوف کی کتاب آئی ہے بعنوان.......
’’ حاصلِ مطالعہ‘‘ اس کتاب کا نام ہونا چاہیے تھا’’ لا حاصلِ مطالعہ ‘‘ ۔ اس کتاب کے صفحہ نمبر ۲۵۲ میں حیدر قریشی خوداپنے لئے رقم طراز ہیں’’’ میری فارسی کا خانہ خالی ہے،اس لئے اتنا ہی کہا کہ کاش میں ایسا علمی مضمون لکھ سکتا ‘‘‘۔
حیدر قریشی کے دماغ کا ہر خانہ خالی ہے جو شخصی اردو زبان بغیر انگریزی کی بیساگھی لگائے نہیں لکھ سکتا،جو
اردو والا یہ کہے کہ میری فارسی کا خانہ خالی ہے وہ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ پر معترض ہو................
’’ بسوخت عقل ز حیرت کہ این چہ بو العجمی است‘‘
تیسرے نمبر پر حیدر قریشی نے مسلکی داؤں یہ کھیلا کہ جماعت احمدیہ کے ایک پڑھے لکھے ریسرچ اسکالر عمرانشاہد بھنڈر صاحب کو اپنا بازیچہ بنانے میں کامیاب رہے ۔بھنڈر صاحب اردو ادب ،تحقیق و تنقید میں نیا نام صرفاپنی دو منفی کاوشوں سے ہیں جن کو لکھوانے میں حیدر قریشی کامیاب ہا کیونکہ ہے تو وہ ادبی بھجنگ ،عمران شاہد بھنڈرصاحب کو کوئی بھی مضمون معلوماتی تحقیق یا مثبت ادوار پر آجتک نہیں آیا ہے۔اب جب موصوف نے ادب کے کوہِ ہمالیہ جسکا نام ڈاکٹر گوپی چند نارنگ ہے پر لکھنا شروع کیا ہے تو یہ نہ لکھا ہوتا کہ ’’ مشرقی شعریات والے حصے کے بارےمیں کچھ بھی یقین سے کہنا مشکل ہے۔‘‘ ( جدید ادب صفحہ ۲۲۳)بھنڈر صاحب یہ بڑے پتے کی بات لکھ گئے کیونکہ آپ پیدا پرورش مشرق کے ہیں اور مشرقی شعریات پر کچھ کہنے
کے قابل نہیں ہیں ؟ پھر آپ مغرب والوں سے کیا اکتساب کریں گے مغربی ادب پر کیا لکھیں گے ؟ آپ اپنی پی ایچ ڈی
مکمل کریں اور راہی ملکِ پاکستان ہوں آپ کیوں بھجنگوں کے حصار میں پھنسے ہیں۔پھر آپ جرمنی کے اس بغض و انتقامی پرچے جدید ادب (صفحہ ۲۲۲)میں لکھ رہے ہیں کہ ’’ اردو کا دانشور یا سوشل مفکر سیاست کے نام سے بھی خائف ہو جاتاہے اور اس کا ادب خطرے میں پڑنے لگتا ہے۔بالکل ملّا پنڈت کی طرح جو خدا کو طاقت ور بھی کہتے ہیں اور خطرےمیں بھی سب سے پہلے خدا کو یاد کر ڈالتے ہیں‘‘
بھنڈر صاحب تازہ واردِ بساطِ ادب ہیں آپ کے مندرجہ بالا اقتباس کو دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ شائد فیض احمد فیضنام کے کسی شاعر کا نام آپ نے نہیں سُنا کیونکہ پہلے مشرقی شعریات کی بابت تحریر کر چکے ہیں کہ کچھ یقین سے کہنا مشکل ہے اس لئے گمان غالب ہے کہ جس شاعر نے ’’ خونِ دل میں ڈبو لیں تھیں انگلیاںاپنی‘‘ یعنی فیض احمد فیض کی قید و بند کی سعوبتوں سے آپ ناواقف ہیں پھر احمد ندیم قاسمی ،سبطِ حسن یا ظہیر کشمیری وغیرہ آپ کے ملک کے کشورِ جوہر ہیں۔ہندوستان میں اُس وقت رابندر ناتھ ٹیگور نے سَر کا خطاب لینے سے انکار کیا ہے جبکہ علّامہ اقبال نے قبول
کر لیا ۔پھر ولی دکنی مصحفی ۔سودا۔مرزا غالب سے بات چل کر سیّد سجاد ظہیر ۔سردار علی جعفری سے آگے تک جاتی ہے۔
آپ چلے ہیں ڈاکٹر گوپی چند نارنگ پر اعتراض کرنے ! آپ کچی سڑک کے راہی ہیں آپ پکّی سڑک پر کبھی نہیں
چل سکتے ہیں۔آپ مجھ سے سومیل کی دوری پر رہتے ہیں پھر بھی صرف فون پر ہی بات ہوئی ہے اور آپ اس امر سے کبھی انکار نہیں کر سکتے ہیں کہ آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ حیدر قریشی ایک جاہل آدمی ہے اور اب میں اُس کے کہنے پرکچھ نہیں لکھوں گا۔
بھنڈر صاحب آپ سچ بولیں آپ نے ہی مجھ سے کہا تھا کہ حیدر قریشی نے مجھے شمس ا لرحمنٰ فاروقی کا نام
اور پتہ دے کر نارنگ صاحب کے خلاف والے میرے دونوں مضمون شمس ا لرحمنٰ فاروقی کو ارسال کرنے کو کہا ہے۔
خیر اب تو آپ حقیقت ماجرا کیا ہے سمجھ گئے ہونگے۔آپ نارنگ صاحب کی یادگار کتاب ساختیات پسِ ساختیات
کی ہر جلد کا مطالعہ فرمائیں جا بجا نارنگ صاحب عربی ادب ،فارسی ادب اور مغربی ادب کے حوالے دئیے ہیں۔بعض
جگہ ترجمے میں وہ کیفیت نہیں آتی اس لئے پورا کا پورا انگریزی کا متن ویسا ہی لکھ دیا ہے۔اب کیونکہ آپ ٹھان کے چلےآئے تھے کہ آپ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کے خلاف ہی لکھیں گے اور خلاف کے سوا کچھ نہیں لکھیں گے اس لئے آپ کی نظر خوبیوں پر ٹھہر ہی نہیں سکتی ہے یہ ساری زحمت آپ نے جس ادبی بھجنگ کے اُکسانے پر اٹھائی ہے،آپ نارنگ صاحب کے ضمن میں یہ قصّہ غور سے پڑھ لیں کہ.........
ایک بار راک فیلر کے سیکرٹری نے کہا کے شام کے اخبار میں کل ایک کالم نگار نے آپ پر سخت تنقید کی ہے۔راک فیلر چُپ رہا اور دوسری باتیں کرنے لگا سیکرٹری نے پھر کہا کہ اُس’’ گدھے‘‘ کالم نگار کی حماقت کا آپ کوئی جواب نہیں دیں گے ؟ راک فیلر نے اب جواب دیا کہ ’’ یہ اخبار بالکل غیر معروف ہے۔میں نے آج سے پہلے اس کا نام بھی نہیں سُنا تھا۔یہ کل شام کو شائع ہو تھا اور رات کو ردّی کی ٹوکری میں چلا گیا ہو گا۔ممکن ہے کچھ لوگوں نے میرے خلاف باتیں پڑھی بھی ہوں۔۔۔۔۔مگر ابتک کسی کو یاد نہ ہونگی ؟اور اگر میں جواب لکھوں گا تو یہ اخبار مشہور ہو جائیگا کہ راک فیلر نے فلاں اخبار اور اس کالم نگارکے خلاف بیان دیا ہے۔پھر لوگ پُرانے اخبار کو تلاش کرنے لگیں گے۔اور اس اخبار کی فروخت میں اضافہ ہو جائے گا اور وہ احمق لکھنے والا میرے جواب سے ملک گیر شہرت حاصل کر لے گا۔اور لوگ اس کے ساتھ ساتھ میرا نام بھی لینے لگیں گے۔اسلئے ان منقود ا لا اسلاف لکھنے والوں کو شہرت کی بھوک ہے اور اس بھوک میں وہ بھونک رہے ہیں اب اُن کے آ گےمیں کیوں ہڈّی ڈالوں ؟؟؟
غالب نے صاحبِ عالم مار حروی کو حاسدوں کے بارے میں جو لکھا تھا وہ ادبی بھجنگوں کو ذرا گرہ میں باندھ لینا چاہیے’’غور کرو وہ خرانِ ناشخص کیا کہتے ہیں اور میں خستہ و درد مند کیا بکتا ہوں۔‘‘ (ص 1019،خطوطِ غالب،جلد سوئم)نواب میر غلام بابا خان کو ایک خط میں لکھا’’ بات یہ ہے کہ اوچھی بونجی والے گمنام لوگ اپنی شہرت کے لئے مجھ سےلڑتے ہیں‘‘ واہ واہ .اپنے کو نامور بنانے پر ناحق احمق بگڑتے ہیں۔( ص 1007،جلد سوئم) ادبی بھجنگوں کو اوچھی پونجیوالے کہنا بھی ان کے ساتھ رعائت برتنا ہے.
ہرزہ مشتاب و پئے جادہ شناساں بر دار اے کہ در راہِ سخن چوں تو ہزار آمد و رفتتمام شُد
حیدر طباطبائی19 Oakwood Close , south Gate
London N14 4JY
U.K
Tel: 0044,771,829 6816
‘‘ادارے کامضمون نگار کی رائے سے متفق پونا ضروری نہیں‘‘