16.10.2026, 08:01am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » صفدر ھمٰدانی
 

اے نوید مسیحا تیری قوم کا حال موسیٰ کی بھیڑوں سے ابتر ہوا۔صفدر ھمدانی
23.09.2015, 03:05am , بدھ (GMT+1)

صفدر ھمدانی۔ لندن
مجھے اللہ کے آخری نبی کی عطا کردہ ایک نعت کے تین شعر یاد آ رہے ہیں اور یہی تین شعر آج کی اس تحریر کی تحریک بنے ہیں۔ یہ نعت رسول میں نے 1974میں لکھی تھی

اُمت پہ سخت وقت ہے امداد یانبی
بیٹھے ہوئے ہیں تاک میں صیاد یا نبی
۔۔۔
تقسیم ہو گیا ہوں میں اپنے وجود میں
کس کو سناؤں جا کے یہ روداد یا نبی
۔۔۔
ہاتھوں میں ہے یزید کے پھر سے زمامِ دہر
پھر سر اٹھا رہے ہیں یہ شداد یا نبی

اپنی اس تحریر کا عنوان میں نے جس مصرعے کو بنایا ہے وہ اللہ کے حبیب کے منتخب اور خالص نعت کے شاعر حفیظ تائب کی ایک نہایت مقبول نعت کا مصرعہ ہے جسے آگے چل کر مکمل آپکی خدمت میں پیش کر ؤنگا

یہ سب نعت بھی ہے،امت مسلمہ کا نوحہ بھی اور ایسے حالات کا مرثیہ بھی جو مسلم دنیا کے ننانوے فیصد عوام دشمن حاکموں کی وجہ سے اسلام کی بے عزتی اور مسلمانوں کے ساتھ حقارت کی وجہ بنے ہوئے ہیں۔ 

روز بروز مزید گہری ہوتی ہوئی ایک ایسی تاریکی ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ جہل کے سائے میں اور عوام دشمنی کے منشور کی روشنی میں یہ مسلم حکومتیں اپنے ضمیر تو فروخت کر چکی ہیں بڑی طاقتوں خصوصی طور پر امریکہ کے ہاتھوں لیکن بیچارے بے زبان عوام کا بھی سودا کر چکی ہیں۔

اپنی حکومتوں کو قائم رکھنے کی خاطر ان ابرہہ صفت حاکموں نے امریکہ اور مغربی ممالک کا آنکھیں بند کر کے ساتھ دیا۔عراق کی اینٹ سے اینٹ بجوا دی، اکثر نے مسلمانوں کے ازلی دشمن اسرائیل کو تسلیم کر لیا، امریکہ،برطانیہ سے اربوں ڈالر کا اسلحہ خریدا اور اپنے عوام کو بھوکا مارا، اب ایران اور شام کو تباہ کروانے کے لیئے امریکی ایجنڈے کو خود اپنے ہاتھوں سے پورا کروا رہے ہیں۔ 

یہ بے غیرت حاکم نہ جانے اس بےضمیری اور نجس زبانوں سے کیسے عالمین کے لیئے رحمت نشان اللہ کے آخری نبی کا نام لیتے ہیں،درود پڑھتے ہیں اور میلاد کی محفلوں میں نعتوں پر مستی میں دیوانہ وار سر ہلاتے جیسے حضور کے دیوانے نظر آتے ہیں۔

مسلم معاشروں میں اب لگ بھگ ہر چیز جیسے روایت اور دکھاوا بن گیاہے۔ اللہ کے آخری نبی، وارث ختم نبوت، خِلق اول،خَلقِ اول، مزمل،مدثر،صادق،امین،یاسین،طہٰ اور ایسے ہی نورانی ناموں کے حامل نبی کا یوم ولادت بھی بس جیسے اب ایک روایت بن کے رہ گیا ہے جسکا کا عمل یا اس دن کی روح سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔وہ ہستی جسے خالق کون و مکاں نے اپنا حبیب کہا اور جس کے لیئے عالمین خلق کیئے اور جسے عالمین کے لیئے رحمت بنایا، اس ہستی کا یوم ولادت مسلمان ملکوں اور مسلمانوں کی اکثریت کے ہاں بس ایک چھٹی کا دن بن گیا ہے یا پھر نعت کی چند محفلیں اور نیاز لنگر کی تقسیم، سرکاری درباری تقریبات میں اللہ اور اسکے آخری نبی کے فرمودات کی حکم عدولی کرنے والوں کی شرکت اورمیلاد نبی کے جلسوں کی صدارت علمائے حقہ کا لباس پہنے ہوئے علمائے سو کرتے نظر آتے ہیں۔ 

جلوسوں کے سامنے پھولوں کے ہار پہنے میلاد کی ریلیوں کی قیادت ایسے ایسے لوگ کر رہے ہوتے ہیں جنکی زندگیوں میں کہیں بھی ایمان اور دین رسول کی ایک جھلک نظر نہیں آتی۔

کیا حج کے موقع پر ، محرم کے ایام میں یا پھر اللہ کے حبیب کے یوم ولادت پر ہم اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی زحمت کریں گے کہ کیا ہم انفرادی طور پر اور مسلم امہ کے طور پر اسلام اور اللہ کے آخری نبی کے نام کی لاج رکھنے والے ہیں یا پھر شرمندگی کا باعث ہیں۔ 

ہم اگر سال میں اسی ایک دن کے موقع پر ہی اپنا احتساب کر لیں تو زندگی کی کتنی ہی تاریک راہیں روشن ہو جائیں۔ کبھی کیا آپ نے یہ سوچا کہ چودہ سو سال پہلے اللہ کے حبیب نے جن کافر عربوں کے درمیان اپنی زندگی کے اہم ترین چالیس سال گزارے انہوں نے آپ سرکار کی ایسی تکریم کی کہ کبھی حضور کا نام لیکر انہیں مخاطب نہیں کیا بلکہ جب بھی کہا انکے کردار اور وصف کی مناسبت سے فقط یا صادق کہا یا امین کہا۔ اور اللہ کے حبیب نے خود اس دور کے کافروں کو بھی کافر نہیں کہا بلکہ اپنے کردار سے انکے دلوں میں اسلام کا نور اتارا اور انہیں دین حقہ کی جانب بلایا۔

آج اللہ کے اس حبیب کی امت کا حال کیا ہےِ حفیظ تائب کا یہ مصرعہ اس کا سچا عکاس ہے۔۔۔۔اے نوید مسیحا تیری قوم کا حال موسیٰ کی بھیڑوں سے ابتر ہوا۔۔۔مسلمان ہی مسلمان کا دشمن ہے۔ اسلام کا نام لینے والے غیر مسلموں سے بھی اخلاق کے معاملے میں بدتر ہیں۔ یہ جس نبی کی امت ہیں وہ معلم اخلاق تھا اور یہ امت جیسے اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو چکی ہے۔

اسلامی معاشرہ اور مسلم معاشرہ دو الگ الگ اکائیاں بن چکی ہیں۔ مسلم معاشروں میں اسلامی معاشرے کا کوئی عکس نظر نہیں آتا۔ ان مسلم معاشروں نےسیاست کو جیسے گالی بنا کر رکھ دیا ہے۔ عوام کی حالت حشرات الارض سے زیادہ نہیں ہے۔ ابھی پاکستان کے شہر کوئٹے میں چار دن تک ستاسی لاشوں کے ساتھ انکے لواحقین صرف اس لیئے نقطہ انجماد سے بھی کم سردی میں اس لیئے بیٹھے رہے کہ وہ اپنا اور اپنے بچوں کا تحفظ چاہتے تھے جو انکا بنیادی حق ہے۔ مسلم حاکم مجموعی طور پر بے حس ہو چکے ہیں اور انکے خون میں جیسے ملوکیت کا خون دوڑ رہا ہے۔

اسلام جس نے ایک جان کے زیاں کو ایک قوم کا زیاں قرار دیا تھا اُس اسلام کا نام لینے والی حکومتیں خود اپنی رعایا کے ساتھ کیا سلوک کر رہی ہیں یہ سوچ کر بھی نفرت ہوتی ہے۔ جن ملکوں میں اللہ کے گھر کے نام سے موسوم مساجد اور عزا خانے محفوظ نہ ہوں وہاں عام گلی محلے کیا محفوظ ہو نگے۔ حاکم اپنے ایوانوں میں بدمست ہیں اور عوام سڑکوں پر بے آبرو

مسلمان جو کام سب سے آسانی سے اور بے خوف ہو کر کر رہا ہے وہ دوسرے مسلمان کو کافر قرار دینا ہے۔ ایک مسلمان اسلام کے نام پر ہی دوسرے مسلمان کا گلا کاٹ رہا ہے،مسجد ومنبر نوے فیصد تجارت بن گیا ہے اور جہالت کے نمائیندے مسجد ومحراب و منبر کو اپنے ذاتی مقاصد اور مالی منفعت کے لیئے استعمال کر رہے ہیں، مسجد و منبر کو گروی رکھنے والا بدکردار ملاں خود کو اسلام کا نمائیندہ اور مسلمان کا رہنما کہتا ہے

علمائے دین کے لباس میں دین فروش سر عام معصوم اور بے علم اور کم علم  مسلمان کو بے وقوف بنا رہا ہے، مساجد میں اور منبروں پر کھلی آنکھوں اور بے خوفی سے جھوٹ بولا جاتا ہے، عبادات میں دکھاوا ہی دکھاوا ہے،حج جیسے فیشن بن گیا ہے، زکوات خمس اور صدقات کے پیسے سے نام نہاد دینی قائدین حصص کی منڈی میں شیئرز خریدتے ہیں۔ مدرسوں میں دینی تعلیم کے لیئے آنے والے بچوں کے ساتھ کیسا گھناؤنا سلوک کیا جاتا ہے، حرام راستے سے مال کمانے پر شب قدر کی نمازیں اللہ کے گھر میں ادا کرتے ہیں، محرم کے جلوسوں میں شامل افراد کو کافر کہہ کر بم سے اڑایا جاتا ہے، امت فرقوں میں تقسیم ہو چکی ہے اوراس تقسیم پر یہ کہہ کر خوش ہوتی ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول کی بہتر فرقوں والی حدیث پر عمل کیا ہے

بے حیائی کو حیا کانام دیا جاتا ہے۔ منبروں پر اداکاری ہوتی ہے، اللہ کے دین کو خوب خوب بیچا جاتا ہے، اپنے مقاصد کے لیئے جھوٹی حدیثیں گھڑی جا تی ہیں، خوف خدا جیسے قصہ پارینہ بن چکا ہے، نظام اسلام کا شور مچانے والے خود پر اس نظام کو لاگو کرنے سے عاری ہیں ، عزتوں کے جیسے جنازے نکل گئے ہیں، اہل علم گھروں میں مقید ہیں اور جاہل و بے عمل ان پر حکمران ہیں،دین کی قیادت بے عمل کے ہاتھ میں ہے۔ اور اس پر بھی انکو یہ زعم ہے کہ روز محشر اللہ کے حبیب انکی شفاعت کریں گے۔

اللہ بے شک غفور الرحیم ہے لیکن مسلمان شاید اللہ کی رحمت اور غفاریت کا امتحان لینا چاہتا ہے۔

ہمارے گناہوں کی فہرست ایسی طویل اور گھناؤنی ہے کہ جہنم بھی ہمارے لیئے انعام ہو گا سزا نہیں۔ ہم نے کلمہ پڑھ کر کلمہ گو کو قتل کیا ہے، ہم نے اسلام کے چہرے کو مسخ کیا ہے۔ہم نے حضور کو بھی ایک شخصیت سمجھ کر پوجا ہے انکے کردار کو اپنی روح میں نہیں اتارا۔

ایسے ماحول میں ذرا مرحوم حفیظ تائب جنت مکانی کی یہ نعت پڑھیئے جو نوحہ بھی ہے اور نہ بدلنے والے حالات کا مرثیہ بھی۔

دے تبسم کی خیرات ماحول کو ہم کو درکار ہے روشنی یا نبی
ایک شیریں جھلک ایک نوری ڈھلک تلخ وتاریک ہے زندگی یا نبی

اے نوید مسیحا تیری قوم کا حال موسیٰ کی بھیڑوں سے ابتر ہوا
اسکے کمزور اور بے ہنر ہاتھ سے چھین لی چرخ نے برتری یانبی

کام ہم نے رکھا صرف اذکارسے تیری تعلیم اپنائی اغیار نے
حشر میں منہ دکھائیں گے کیسے تجھے ہم سے ناکردہ کار امتی یانبی

روح ویران ہے آنکھ حیران ہے ایک بحران تھا ایک بحران ہے
گلشنوں شہروں قریوں پہ ہے پرفشاں ایک گھمبیر افسردگی یانبی

سچ میرے دور میں‌جرم ہے عیب ہےجھوٹ فن عظیم آج لاریب ہے
ایک اعزاز ہے جہل و بے رہ روی ایک آزار ہے آگہی یانبی

رازداں اس جہاں میں بناؤں کسے روح کے زخم جاکر دکھاؤں‌کسے
ٍغیر کے سامنے کیوں‌تماشا بنوں کیوں‌کرؤں دوستوں‌کو دُ کھی یانبی

زیست کے تپتے صحرا پہ شاہ عرب تیرے اکرام کا ابر برسے گا کب
کب ہر ی ہوگی شاخ تمنا میری کب مٹے گی میری تشنگی یانبی

یانبی اب تو آشوب حالات نے تیری یادوں کے چہرے بھی دھندلادیئے
دیکھ لے تیرے  تائب کی نغمہ گری بنتی جاتی ہے نوحہ گری یانبی

:دیگر مضامین
(14.08.2015) اے قائد ہم شرمندہ ہیں۔۔۔۔از۔۔۔۔۔ صفدر ھمدانی
(31.07.2015) بوالہوس کو آئینہ دکھلائیں گے ۔ از ۔صفدر ھمٰدانی۔ پہلی قسط
(18.06.2015) کیا آج روزہ ہے؟ جی ہے ۔ جی نہیں ہے۔ از۔ صفدر ھمٰدانی
(12.05.2015) اردو تو بولنی نہیں آتی اور انگریزی بھی غلط بولتے ہیں۔ از ۔صفدر ھمدانی
(01.05.2015) یکم مئی : آج کا دن ہے یوم انالحق آج کا دن مزدور کا دن ہے؟ از صفدر ھمٰدانی
(26.03.2015) پاکستان کو سعودی عرب اپنے مظالم میں شامل کررہا ہے ۔ از۔ صفدر ھمدانی
(23.03.2015) ایسے حکمران اپنے زوال کا خود باعث بن جاتے ہیں ۔ از ۔ صفدر ھمدانی
(19.01.2015) ہم ایک بے حس، مردہ اور مکروہ معاشرے کے فرد ہیں۔ از۔ صفدر ھمٰدانی
(31.12.2014) صفدرؔ خُدا کی لعن ہو ایسے نظام پر ۔ از ۔ صفدر ھمٰدانی . قند مکرر
(22.12.2014) سانحہ پشاور کے تناظر میں فکری ، علمی اور عملی بیداری کی ضرورت ۔ صفدر ھمدانی
(22.10.2014) سعودی عرب کے مفتی اعظم نے ٹویٹر کو برائیوں کا منبع قرار دے دیا۔از۔صفدر ھمٰدانی
(10.10.2014) ہماری بربادی ہماری بے حسی میں لکھی گئی ہے ۔ از۔ صفدر ھمٰدانی
(04.10.2014) عالم اسلام کی غربت اور خانہ کعبہ کے لیئے 20ملین ریال کا غلاف ۔ از۔ صفدر ھمٰدانی
(02.09.2014) پارلیمان کا مشترکہ اجلاس ۔نشستن، گفتن ، برخاستن ۔ از۔ صفدر ھمٰدانی۔ صوتی کالم
(31.08.2014) چراغ کی لو پھڑ پھڑا رہی ہے۔ اگست 2013 کا منظوم کالم جو آج بھی تازہ ہے۔ صفدر ھمدانی
(29.08.2014) حد ہو گئی ۔۔۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔۔۔ از۔۔۔۔صفدر ھمٰدانی
(18.08.2014) عمران خان کا اعلان ۔ سول نافرمانی شروع۔ فیس بُک پر عالمانہ گفتگو کا لطف لیجئے
(14.08.2014)  آزاد فضاؤں کے باسیوں کو نویدِ آزادی دینے والی آواز . مصطفیٰ علی ھمٰدانی
(31.07.2014) داعش نے باقاعدہ شادی دفاتر بھی کھول لئےہیں۔ از۔۔۔ صفدر ھمدانی
(29.07.2014) وطن کے سب غریبوں کے لیئے یہ عید وحشت ہے ۔ از ۔ صفدر ھمدانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں