دنیائے اسلام آج رحمت للعالمین حضرت محمد مصطفی، احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مسعود کا جشن منا رہی ہے۔ ولادت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم تخلیق آدم سے لے کر قیامت کے واقع ہونے تک انسانی تاریخ کے عظیم اور بابرکت ایّام میں سے ایک ہے۔ اللہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ آپؐ انسانیت کے لیے اللہ کا آخری پیغام ہدایت لے کر آئے تھے۔ اس لیے یہ پیغام کسی مخصوص دور، کسی مخصوص قوم یا کسی مخصوص زبان بولنے والوں کے لیے نہیں ہے۔ آپ کے ذریعے اللہ کا آخری پیغام ہدایت قرآن مجید اور اسوۂ حسنہ کی صورت میں محفوظ کر دیا گیا ہے۔ دوسرے انبیائے کرام مصلحین امت میں سے صرف آپ کی تعلیمات اور آپ کی حیات طیبہ کا ایک ایک لمحہ مستند حالت میںمحفوظ ہے۔ آپؐ کی بعثت حق وباطل کے درمیان کش مکش کا نکتۂ عروج بھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے صاف اور واضح الفاظ میںبیان کردیا ہے کہ اللہ نے آپ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ اس لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے دین کو تمام باطل نظام ہائے حیات یا ادیانِ باطلہ پر غالب کردیں۔ یہ کش مکش رحمانی اور ابلیسی قوتوں کے درمیان روز ازل سے جاری ہے۔ امت مسلمہ حق وباطل کی اس کش مکش میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وارث ہے۔ اب یہ امت مصطفیؐ کا فرض ہے کہ وہ قیامت تک پرچم مصطفیؐ کو بلند کرے نظام مصطفی کو نافذ کرے یعنی سابق انبیائے کرام کی بشارتوں کے مطابق اللہ کی ابدی حکومت قائم کرے۔ اس اعتبار سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت امت مسلمہ کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اس دور میں بھی حق کو مٹانے میں مصروف ابلیسی عناصر اس بات سے باخبر ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اہل ایمان کی محبت امت مسلمہ کی سب سے بڑی قوت ہے۔ امت مسلم کا ہر صاحب شعور مسلمان اس تصور پر یقین رکھتا ہے کہ آج کے مسائل کا حل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے میں ہے۔ اس بات کا احساس بھی ہے کہ آج دنیا میں مسلمان جس نکبت اور ذلت وخواری کا شکار ہیں اس کا سبب تعلیمات مصطفیؐ سے دوری ہے۔ ماہ ربیع الاول کی آمد سے مسلمانوں کے دلوں میں حب رسولؐ کی سرشاری میں اضافہ ہوتا ہے حب رسولؐ امت مسلم کی بیداری کا سبب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کی بیداری سے خائف عناصر امت کو کمزور کرنے کے لیے پے درپے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کررہے ہیں۔ یہ کوئی نیا سلسلہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی ابلیس کے پیروکاروں نے حق کو مغلوب کرنے کے لیے انبیائے کرام کی تعلیمات کو بے اثر کرنے کے لیے ان کی تعلیمات کو چھپایا، انبیائے کرام پر الزامات لگائے ان کی زندگیوں کو مسنح کیا یہاں تک کہ انبیائے کرام کو قتل کرنے تک سے دریغ نہیں کیا۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ ابلیس اور اس کے پیروکار اس کوشش میں ناکام ہوگئے ہیں، لیکن وہ ابھی تک اس سے باز نہیں آئے ہیں۔ اس لیے یوم ولادت نبوی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ امت اپنے اصل منصب کو پہچانے اور محسن انسانیت اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری پیغام کو مٹانے کے لیے ابلیسی قوتیں جو کردار ادا کررہی ہیں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ یہ کردار اس وقت تک ادا نہیں ہوسکتا جب تک ہر مسلمان ملک میں اسوۂ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق مدینے کی پہلی اسلامی ریاست کے نمونے پر اسلامی حکومت قائم نہ کی جائے۔ ابلیسی قوتیں ہر ایسی کوشش کو بنیاد پرستی، انتہا پسندی، جنونیت اور بالآخر دہشت گردی قرار دے کر مسلمانوں کے اوپر حملہ آور ہیں۔ اسی مقصد کے لیے عراق اور افغانستان کو کھنڈر بنادیا گیا ہے۔ اسی مقصد کے لیے وزیرستان، یمن اور صومالیہ میں ڈرون حملے ہو رہے ہیں، اسی مقصد کے لیے دنیائے اسلام میں شیعہ، سنی اور عرب وعجم کی تفریق پیدا کی جارہی ہے۔ اسی مقصد کے لیے مالی میں بمباری کی جارہی ہے یہی مقصد ہے جس کی وجہ سے حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پامال کرنے کی خباثت کو آزادی رائے قرار دیا جارہا ہے۔ اسی وجہ سے ہر مسلمان ملک میں خائن اور بدعنوان عناصر کو مسلمانوں کو کچلنے اور غلام رکھنے والے حکمرانوں کی پشت پناہی اور سرپرستی کی جارہی ہے اس لیے کہ یہ قوتیں جانتی ہیں کہ اگر آئین پیغمبرؐ دنیا کو معلوم ہوگیا تو انسانوں کو غلام بنانے والے ابلیسی نظام کے تاروپود بکھر جائیں گے۔ سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی پیغام یہ ہے کہ امت مصطفیؐ حق وباطل کی کش مکش میں اہل حق کے ساتھ کھڑی ہوجائے عالم کفر اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو مٹانے کے لیے اپنی پوری طاقت صرف کر رہا ہے، اس لیے عاشق رسولؐ کا فرض ہے کہ وہ دین مصطفی کی حرمت اور اسے غالب کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ آج دنیا میں ڈیڑھ ارب کلمہ گو مسلمان اور 57 آزاد مسلم ریاستیں ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی ملک بھی ایسا نہیں ہے جسے مدینہ کی اسلامی ریاست کے مطابق قرار دیا جاسکے۔
عالمی اخبار کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے
ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور
ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور
بے لاگ صحافت ہے۔ . رابطہ ٹیلی فون: لندن447796515479+ ، آسٹریلیا
61425201035+ ، ای میل:
رابطہ@عالمی
اخبار۔کوم۔ جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں