دل کی باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔احتشام جمیل شامی کے ساتھ السلام علیکم۔۔۔عالمی اخبار میں آج سے میں آپ کے لیے لا رہا ہوں۔پیاری پیاری شخصیات سے انٹرویو کا سلسلہ،جس کا عنوان ہے(دل کی باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔احتشام جمیل شامی کے ساتھ
احتشام جمیل شامی نمائندہ خصوصی برائے پاکستان عالمی اخبار
shamiokara@gmail.com

شاعری تخلیق کار کی جبلت کا وہ پہلو ہے جو کسی بھی مصروفیت،دباؤ،یا رکاوٹ کے باوجود پنہاں نہیں رہ سکتا،اسے اظہار پانا ہی ہوتا ہے کہ فطرت اس انکشاف کی منتظر رہتی ہے۔
اپنی بے پناہ مصروفیات میں سے گھر،اور شاعری کو قت دینے والی شخصیت پیشے کے حوالے سے ڈاکٹر ہیں۔۔۔ان کے دو شعری مجموعے (پھول سے بچھڑی خوشبو)
اور (میں آنکھیں بند رکھتی ہوں)منظر عام پر آچکے ہیں۔ہماری خوش قسمتی کہ انہوں نے اپنے قیمتی وقت میں سے ہمیں بھی کچھ وقت دیا۔آج کی شخصیت خوش شکل بھی ہے اور خوش اخلاق بھی۔خوبصورت بھی ہے اور خوب سیرت بھی۔۔۔صوم و صلوٰۃ کی پابند ہیں۔۔۔۔۔۔
شخصیت۔۔۔ محترمہ ڈاکٹرنجمہ شاہین کھوسہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاعرہ ،ادیبہ،دانشور
انٹرویو۔۔۔۔احتشام جمیل شامی(نمائندہ خصوصی برائے پاکستان۔۔۔۔عالمی اخبار
* تاریخ پیدائش/ جائے پیدائش:
O۔۔۔5دسمبر بستی جندانی ڈیرہ غازی خان
* ولدیت:
O۔۔۔ جان محمد کھوسہ
* تعلیم:
O۔۔۔ ایم بی بی ایس
* وہ تعلیمی ادارے جہاں تعلیم حاصل کی:
O۔۔۔ نشتر میڈیکل کالج ملتان
* خاندانی پس منظر
O۔۔۔ سخت گیر بلوچ قوم جوزمینداری سے وابستہ ہے
* ازدواجی حیثیت
O۔۔۔ شادی شدہ
* بچے۔۔۔؟
O۔۔۔ دو بیٹے محمدعمرفریدکھوسہ اورمحمدحمزہ فرید کھوسہ ہیں
* وسیلۂ معاش
O۔۔۔ زمینداری ہے اوراپناپرائیویٹ ہسپتال ہے۔
* شاعری کے پیچھے کیا محرکات ہیں؟
O۔۔۔وہ خواہشیں جو جنم دینے سے پہلے مرجائیں‘ کسی نہ کسی صورت میں پھوٹتی ہیں۔
* پہلاشعرکب کہا؟
O

۔۔۔دسمبر1996میں ہاؤس جاب کے دوران پہلی نظم’’ملاقات آخری‘‘ کہی جو میری پہلی کتاب’’پھول سے بچھڑی خوش بو ‘‘میں شامل ہے۔
* استاذِ سخن کون ہیں؟
O۔۔۔ شروع میں توباقاعدہ اصلاح نہیں لی مگراب غزل کہنے کے بعد جاویداحسن صاحب ڈیرہ غازی خان اوررضی الدین رضی صاحب ملتان کودکھادیتی ہوں۔
* تصانیف جو اب تک شائع ہوئیں
O۔۔۔’’پھول سے بچھڑی خوش بو ‘‘اور’’ میں آنکھیں بندرکھتی ہوں‘‘
* اعزازات/ایوارڈز
O۔۔۔دوسری کتاب پردوایوارڈز’’خوش بو رایٹرزایوارڈ اور’’درشن میگزین ایوارڈ مل چکے ہیں۔
* آپ غزل اورنظم دونوں اصناف میں طبع آزمائی کررہی ہیں‘ کس صنف میں زیادہ آسانی اورخوبی سے اظہار کرتی ہیں؟
O۔۔۔مجھے نظم کہنازیادہ اچھا لگتا ہے حالاں کہ میری غزلیں زیادہ پسند کی جاتی ہیں۔
* شاعروں اورشاعرات میں کس سے زیادہ متاثر ہیں؟
O۔۔۔ مجھے علامہ اقبال‘ فیض احمدفیض‘احمدفراز‘محسن نقوی اور پروین شاکربہت پسند ہیں۔
* دیکھا یہ گیا ہے بعض شاعرات نے شاعروں کی نسبت زیادہ جرأت سے اپنا مافی الضمیربیان کیا ہے‘آپ کے کلام میں بھی اس کے اثرات موجود ہیں۔ کیامخصوص اور روایتی ماحول میں مشکلات کا سامنا نہیں ہوتا؟
O۔۔۔یوں سمجھیں آگ کا دریا پھلانگناپڑتا ہے۔ جب میری پہلی کتاب آئی توہرطرف عجیب نظروں اورسوالوں کاسامناکرناپڑا۔
* اپنے دور میں اداجعفری پھرپروین شاکر‘ فہمیدہ ریاض اور کشورناہید نے اپنی جداگانہ شناخت بنائی اور اُردوشاعری کادامن نسائی لہجے سے بھردیا۔ جاری وقت میں وہ خاص آواز ظاہرنہیں ہوئی۔آپ کاکیاخیال ہے؟
O۔۔۔ اُس دور میں الیکٹرونک میڈیا کی اتنی بھرمار نہیں تھی۔ نیوزپیپرزاورمیگزین بھی گنے چنے تھے۔اگر کوئی اچھا لکھ رہا ہوتاتواس کی مناسب حوصلہ افزائی کی جاتی۔آج اچھا لکھنے والے بہت ہیں لیکن وہ متشاعروں کی بھیڑ میں گم ہیں اور میڈیا پربھی چندلوگوں کی اجارہ داری ہے جواپنی پسندکے لوگوں کوسامنے لاتے ہیں۔آج بھی اچھا لکھنے والے موجود ہیں۔
* آپ پیشے کے اعتبارسے ڈاکٹر ہیں۔ سائنس اورآرٹ کی وسیع خلیج کو آپ نے کیسے ہم کنارکردیا؟
O۔۔۔ڈاکٹری میراپیشہ ہی نہیں بلکہ عشق بھی ہے اورشاعری تحلیل نفسی(کتھارسس) کاذریعہ۔۔۔ میرے لیے دونوں بہت اہم ہیں۔احساس کے لیے وقت کی کوئی قید نہیں ہوتی۔
* ڈاکٹر کی زندگی بہت مصروف ہوتی ہے‘ آپ تخلیقی کاموں کے لیے وقت کیسے نکال لیتی ہیں؟
O۔۔۔میں گائنی آبسٹرکیکٹس کی پریکٹس کررہی ہوں اوراپناایک چھوٹاساہسپتال ہے جہاں چوبیس گھنٹے کام ہوتا ہے۔ شاعری کے لیے کوئی وقت مختص نہیں ہے۔ جب کچھ ذہن میں آیا لکھ لیتی ہوں۔
* کبھی کسی مریض کودیکھتے ہوئے بھی تخلیقی کیفیت طاری ہوئی یامریض کی حالت کودیکھ کراندر کی شاعرہ بیدار ہوئی؟
O۔۔۔ ایسی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔کئی دفعہ ایسا ہوا میرے ذہن میں بہت سے خیالات نے جگہ بنائی مگرکچھ لکھا نہ جاسکا اور جب لکھنے کے لیے وقت ملا تووہ کیفیت نہ مل سکی۔ اگر مجھے لکھنے کے لیے وقت ملے توروزانہ سیکڑوں موضوعات ملتے ہیں۔
* مطالعے کے لیے وقت کیسے نکال لیتی ہیں؟
O۔۔۔ اپنی نیندکی قربانی دے کرخاص طورپررات کے وقت جب ایمرجنسی کوڈیل کررہی ہوتی ہوں۔اس دوران میں ٹائم ملے تو پڑھ لیتی ہوں۔
* محبت شاعری کابنیادی نقطہ ہے۔ ہماری بیش ترشاعری اسی کے مدار میں گھومتی ہے۔ کیاشاعری کے لیے محبت ضروری ہے؟
O۔۔۔محبت کے بغیرشاعری کچھ بھی نہیں۔۔۔ پھرشعرصرف لفظوں کاہیرپھیرہوجاتاہے‘جس میں کوئی تاثیر نہیں ہوتی۔
* عشق اورمحبت کی تفریق کیسے کریں گی؟
O۔۔۔عشق کی بنیادمحبت ہے۔۔۔ محبت جب ہرتفریق کوختم کردے اوروفااورجنوں کاامتزاج بن جائے توعشق ہوجاتی ہے۔۔۔ عشق وحدانیت ہے۔۔۔ خدا ہے۔
* کیاآپ سمجھتی ہیں کہ محبت کوشاعری کے موضوعات سے نکال دیں توبھی شاعری پڑھنے والوں کے جذبات کوشانت کرے گی؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
* آپ کے خیال میں موجودہ عہد کی شاعری کاکیامقام ہے؟
O۔۔۔شاعری کے لیے بدقسمتی کادور ہے۔۔۔ لوگوں کے پاس وقت نہیں کہ شاعری پڑھیں۔پڑھنے لکھنے اورکتاب نے اپنامقام کھودیاہے۔
* آپ کاخمیرجس مٹی سے لیاگیا ہے‘وہ ایک تہذیب رکھتی ہے‘ علمی‘ادبی اوردینی بھی۔۔۔ آپ کی شاعری پربھی اس کے اثرات موجود ہیں‘عام قاری اس کی شناخت کیسے کر سکتا ہے؟
O۔۔۔دل کی بات اثررکھتی ہے۔اگرمیرے لفظوں میں وفااوردعاہوگی توعام قاری بھی پہچان لے گا۔ (جواب تشنہ ہے‘ مزیدوضاحت کیجیے)
* ہمارے یہاں حمد‘نعت‘ منقبت اوراسلامی اثرات کی دوسری اصناف بھی ہیں۔آپ نے اس طرف توجہ دی ہے؟
O۔۔۔ جی! میں نے حمدونعت کہی ہیں بلکہ میں نے کعبہ پاک کے سامنے بیٹھ کرجونعت کہی وہ مجھے توپسند ہے ہی لوگوں نے بھی بہت پسند کی۔
* اگرآپ کوزیاوہ وقت ملے توآپ کیاکام کرناپسندکریں گی؟
O۔۔۔مجھے زیادہ توکیاکم وقت بھی ملے تومیں کوشش کروں گی کہ مجھ سے جتنا ممکن ہوسکے لوگوں کی خدمت کروں اوراللہ کی مددسے کچھ نیک کام کرجاؤں۔
* آپ کاشعبہ یقیناایک مکمل خدمت کاشعبہ ہے۔کیاکسی اورفلاحی کام میں بھی مشغول ہیں؟
O۔۔۔جی! میں جنوبی پنجاب(خواتین ونگ کی) مذہبی وذہنی ہم آہنگی وامن کمیٹی کی چیئرپرسن ہوں۔
* فارغ اوقات میں کیا مشغلہ ہوتا ہے؟
O۔۔۔ لکھناپڑھنا‘کوکنگ اورباغبانی کرنا۔
* ہسپتال‘ گھراورپھرتخلیقی کاموں کے درمیان فرق اورانصاف کیاآسان ہے؟
O۔۔۔بالکل بھی نہیں۔۔۔ لیکن میری خوش قسمتی ہے کہ میراہسپتال اورگھرنزدیک ہیں۔میراایک پاؤں گھر میں تودوسرا ہسپتال میں ہوتاہے۔اسی بھاگ دوڑ کی وجہ سے سرکاری ملازمت چھوڑی۔۔۔ جہاں تک تخلیقی کاموں کاتعلق ہے توذہنی سفراوراحساس کاسفرتوساتھ ساتھ جاری رہتے ہیں۔مخصوص وقت نہیں ہے تخلیقی کاموں کے لیے۔
* ابلاغ کے اس تیزترین دور میںآج کا شاعرکہاں کھڑا ہے؟کیا اس کی آوازپہلے جیسی مؤثر ہے؟
O۔۔۔انفرادی طورپرتوکچھ لوگ سامنے آئے ہیں مگربہت سے اچھالکھنے والے ابلاغ کی اس دوڑ میں گرد بن چکے ہیں۔
* بعض لوگوں کوشکوہ ہوتا ہے کہ مضافات میں رہنے والے ادیبوں کو نظراندازرکھا جاتا ہے‘ کیاآپ بھی یہ سمجھتی ہیں؟
O۔۔۔
* مضافات کے ادیبوں کواپنی شناخت کے لیے کیا کرناچاہیے؟
O۔۔۔
* کیاہمارانظامِ تعلیم ہماری تہذیب وثقافت کی معاونت کرتا ہے؟
O۔۔۔کچھ عرصہ پہلے تک ایسا تھا مگراب ایسا نہیں ہے۔۔۔اب ہمارانظام مغربی ثقافت کی معاونت کررہاہے۔ہم اغیارکے طورطریقے اپناکراپنی تہذیب وثقافت گم کرچکے ہیں۔
* موسیقی سے لگاؤ ہے؟ ہے توکس قسم کی موسیقی کو پسند کرتی ہیں؟
O۔۔۔سنجیدہ اوردردمیں لپٹی ہوئی موسیقی پسند ہے‘خصوصاًغزلیہ کلام۔
* بدن کی شاعری یعنی رقص پسند ہے؟
O۔۔۔کلاسیکل رقص کسی حدتک پسند ہے مگرآج کل کایہ بے ہودہ ناچ کسی طورپسند نہیں ہے۔
* پسندیدہ کتاب۔۔۔ پسندیدہ شخصیت۔۔۔۔۔۔پسندیدہ قوم۔۔۔۔۔۔پسندیدہ نظم/شعر
O۔۔۔ میری پسندیدہ کتاب قرآن پاک ہے‘ پسندیدہ شخصیت حضرت محمد صلی اللہ کی ذات گرامی ہے‘ پسندیدہ قوم پاکستانی ہے۔ جب کہ ساغرصدیقی کایہ شعرپسند ہے :
زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
* پسندیدہ رنگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پسندیدہ خوش بو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پسندیدہ موسم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پسندیدہ ملک/مقام۔۔۔۔۔۔
O۔۔۔گلابی اورفیروزی رنگ پسند ہیں‘یاسمین کی خوش بو من کو لبھاتی ہے‘ بہار کاموسم دامنِ دل کو اپنی طرف کھینچتا ہے اورمکہ اور مدینہ سمیت پاکستان پسند ہیں۔
* کوئی ایسی بات جس کااظہارکرناچاہتی ہوں؟
O۔۔۔ہاں! یہ کہناہے کہ اے لوگو! منافقت چھوڑدو‘سچ کوسچ سمجھ کرپیارکرو۔۔۔اپنی شناخت‘اچھائی اورتہذیب کودوسروں کی تہذیب اور برائی پرقربان نہ کرو۔۔۔ اللہ کودھوکا دینے کی کوشش نہ کرو کہ وہ سب سمجھتا ہے۔
* اپنے کچھ اشعار سنائیے
* جلدرکھتا نہیں شاھین کوئی تجھے چراغوں کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ رازِ زندگی ‘ خود زندگی سمجھا گئی مجھ کو
* ہجر میں بھی یہ مری سانس اگرباقی ہے۔۔۔۔۔۔ اس کامطلب ہے محبت میں اثرباقی ہے
* ابتدا درد ہے ‘ انتہادرد ہے۔۔۔۔۔۔ عشق کا درد تو لادوا درد ہے
* رت جگے ‘ آنسو‘ دعائے بے اثر ہے اور میں۔۔۔۔۔۔ عشق لاحاصل ہے ‘ اک اندھاسفر ہے اور میں
* آس اب بجھنے لگی وہ لوٹ کرآئے نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔جھیل پراب بھی وہ اک تنہاشجر ہے اور میں
ڈاکٹر نجمہ شاہین کی چند مشہور غزل قارئین کی نذر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزل محبتوں کا صلہ نہیں ہے لبوں پہ حرفِ دعا نہیں ہے نہیں وہ تصویر پاس میرے سو ہاتھ میرا جلا نہیں ہے میں اپنی لو میں ہی جل رہی ہوں جو بجھ گیا وہ دیا نہیں ہے بس اِک پیالی ہے میز پر اور وہ منتظر اب مرا نہیں ہے لکھا جنم دن پہ اس کو میں نے وہ خط بھی اس کو ملا نہیں ہے میں کس لئے پار جاؤں شاہیں؟ وہاں مرا ناخدا نہیں ہے ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ غزلخوابوں میں بھی گر وصل کا امکان نہیں ہےشب جاگتے رہنے میں بھی نقصان نہیں ہےرستہ وہ بدلنا ہی تھا ہم دونوں نے لیکن حیرت تو یہی ہے کہ تُو حیران نہیں ہےکیوں خوف زدہ ہو گئے تم ایک گھٹا سے؟میں نے تو بتایا تھا کہ طوفان نہیں ہے کس واسطے اور کون یاں پہچانتا مجھ کوجب تیرے سوا کوئی بھی پہچان نہیں ہےشاھین گو اجڑا ہوا رستہ تو ہے لیکن اس دل کی طرح سے تو یہ ویران نہیں ہے ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہّّغزل یہ مرا ادراک ، بس مجھ تک ہی کیوں محدود ہے؟ایک پتھر دل ہی کیوں آ خر مرا معبود ہے؟پا رہے ہیں منزلیں اپنی سبھی سجدوں سے جبکس وفا کی راہ میں یہ دل مرا مسجود ہے؟پھول ، تاروں ، خوشبوؤں سے دل ہوا بیزار اور دھوپ کانٹو ں کا سفر ہی بس مجھے مقصود ہے ہجر کے لمحوں میں آنکھوں سے جھڑی تھمتی نہیں اورتھمے بھی کس لئے وہ درد لا محدود ہےاس کہانی میں کہیں بھی تذکرہ میرا نہیں لیکن اِک اِک لفظ میں شاھین وہ موجود ہےڈاکٹر نجمہ شاھین کھوسہ