
وہ جب کبھی بھی مسلم لیگ ن کی بات کرتا ہے یاکسی محفل میں میاں نوازشریف ' میاں شہبازشریف کی بات چھڑجائے تو اس کے لہجے میں جوش جذبات میں گرمی آنے لگتی ہے ' وہ جیل بھی گیا 'جیل کی سختیاں برداشت کیں حالانکہ ناز ونعم میں اس کی تربیت ہوئی لیکن اس کی زبان پر شکوہ آیا اورنہ ہی اس نے کوئی شکایت کی ۔
جیل کی سختیاں اورموسم کی گرمی اس کے جذبات پر اثر انداز نہیں ہوسکی بلکہ اب وہ مسلم لیگ کے بارے میں پہلے سے زیادہ سخت ترین نظریات کو اپنا چکا ہے ۔وہ نوجوان کوئی اور نہیں آفتاب احمد گلو ہی ہے جو دس سالہ دورآمریت میں نظریات کا عکاس بن کر ابھر ا' اس نے ثابت کیا کہ نظریات کیا ہوتے ہیںاور نظریات کی حفاظت کیلئے قربانی کس طرح دی جاتی ہے۔ ایک ایسے کٹھن دور میں جب بڑے بڑے سیاسی چغادری میدان چھوڑچکے تھے لیکن یہ نوجوان پرویز مشرف کی آمریت کے سامنے ڈٹارہا 'مستقل مزاجی اور نظریات سے لگائوآفتاب احمد گلو کی پہچان بن چکے ہیں اس کے خلوص اور نظریات سے وابستگی کی وجہ سے مسلم لیگی کی اعلیٰ قیاد ت نے گذشتہ روز ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے مسلم لیگ ن کا ضلعی جنرل سیکرٹری نامزد کیا ۔
وہ اکثر کہاکرتا ہے کہ اسے عہدے کی نہ توکبھی خواہش رہی ہے اورنہ ہی اس نے کبھی کوشش کی اسے مسلم لیگ اور میاں برادران سے خصوصی لگائو ہے بس اسی چاہت میں اس نے پیچھے دیکھنا گوارہ نہیں کیا اورآگے ہی آگے بڑھتا چلاگیا ۔ جیل کی کٹھنائیوں پر میاں برادران کی محبت غالب آگئی ۔ اپنی نامزدگی کے بارے میں آفتاب احمد گلو نے کہا کہ میری نامزدگی اس بات کی دلیل ہے کہ مسلم لیگ ن کارکنوں کی قدر کرنے والی جماعت ہے جو قربانیاں دینے والوں کے جذبات سے پوری طرح آگاہ ہے انہوں نے کہاکہ میں مقامی سطح پر کسی بھی دھڑے کاحامی یا مخالف نہیں میرا دھڑہ اورپلیٹ فارم دونوں ہی مسلم لیگ ہی ہیں جو اس پلیٹ فارم پر آئیگا میں اسے کھلے دل سے تسلیم کرتے ہوئے خوش آمدید کہوں گا۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت نے جو بھاری بھرکم ذمہ داری میرے کاندھوں پر لادی ہے انشا اللہ اس سے پوری طرح عہدہ برآہونے کی کوشش کرونگا۔ پرانے کارکنوں خاص طورپر پرویزمشرف کے دور آمریت میں قربانیاں دینے والے افراد کو سامنے لایاجائیگاکیونکہ ایسے لوگ ہی مسلم لیگ کی شان بان آن ہیںاورانہی کی قدر کرینگے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ مسلم لیگ ن کے ضلعی جنرل سیکرٹری ہیں کسی مقامی سیاسی دھڑے کے نہیں اور اب اولڈ 'نیولیگ کا تاثر بھی ختم ہوجاناچاہئے کیونکہ اب گولڈلیگ راج کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ چاہے مسلم لیگ اقتدار میں ہویا اپوزیشن میں ہردونوں صورتو ں میں مسلم لیگ کا پیغام گھر گھر پہنچانے کیلئے اپنے ضلعی صدر ودیگر کارکنان کے ہمراہ آگے بڑھتے چلیں گے۔
انہوں نے اس سوال کہ کیا یہ تاثر درست ہے کہ پہلی مرتبہ مسلم لیگ نے عہدے حقیقی کارکنوں کو دئیے ہی؟کے جواب میں آفتاب احمدگلو نے کہا کہ مسلم لیگ ایسے نوجوان 'بزرگوں کو ان عہدوں پر لارہی ہے جو حقیقی معنوں میں اس کے نظریات پر کاربند ہوں جو قربانیاں دینے والوں ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ میڈیا کی وساطت سے مسلم لیگ کے نظریات سے لگائو رکھنے والے لوگوں سے اپیل کریںگے کہ وہ آگے بڑھیں اورمسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے ملکی بقا اورسلامتی کیلئے جدوجہد کاآغاز کریں ہمارے دروازے ہر کسی کیلئے کھلے ہیں جو مسلم لیگ کے طرز سیاست کو اپنا تا ہے وہ ہماراسرمایہ ہے اورہم ایسے سرمایہ کو ضائع نہیں ہونے دیں گے۔