کراچی سے عقیل جعفری اور ملتان سے رضی الدین رضی کی اطلاع کے مطابق تمام ادبی حلقوں میں یہ خبر انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ سنی جائے گی کہ اردو اور پنجابی کے ممتاز شاعر ، ادیب اور ادبی جریدے تخلیق کے مدیر اظہر جاوید آج 14 فروری 2012ءکو دل کا دورہ پڑے سے لاہور میں وفات پاگئے
انا للہ و انا الیہ راجعون ۔

اظہر جاوید 4جنوری 1938ءکوراولپنڈی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی تصانیف میں پھر غم جاناں، غم عشق گر نہ ہوتا، بڑی دیر ہوگئی، ساحر لدھیانوی،شہر غم، خزاں کے پتے اور بلغارین افسانوں کے اردو ترجمے شامل ہیں۔
رضی الدین رضی نے انکے انتقال پر کہا ہے کہ ایسی زندہ دل اور باغ و بہار شخصیت کہ کہ کیا بتاؤں ۔ پرانی انارکلی میں بھگوان سٹریٹ والا ان کا دفتر ٹی ہاؤس کے بعد واحد جگہ تھی جہاں بہت سے ادیبوں سے ملاقات ہو جاتی تھی۔ابھی کچھ دیر قبل شاکر نے مجھ سے تعزیت کی ہے لیکن مجھ میں اب تک یہ حوصلہ نہیں ہو ا کہ میں ڈاکٹر انور سدید صاحب سے تعزیت کروں۔ جانتا ہوں وہ کتنے دکھی ہوں گے
امروز میں ان کا ترتیب دیا ہوا ادبی ایڈیشن اپنے معیار اور ترتیب کے حوالے سے ملک بھر سے شائع ہونے والے ادبی صفھات میں خاص مقام رکھتا تھا ۔ ماہنامہ تخلیق انہوں نے چالیس برس زندہ رکھا ۔ان کے ساتھ ہی یہ جریدہ بھی ماضی کا حصہ بن گیا۔ چند روز قبل ہی تخلیق کا آخری شمارہ موصول ہوا جس کے لفافے پر انہوں نے اپنے ہاتھ سے میرا نام اور پتہ تحریر کیا تھا ۔۔ یہ میرے لئے ان کی آخری تحریر تھی ۔۔
پاکستان اور پاکستان سے باہر ادیبوں ،شاعروں اور ادبی تنظیموں نے اطہر جاوید کے انتقال پر اظہار افسوس کیا ہے
عالمی اخبار کے شعبہ ادب اور ادارتی عملے نے مرحوم کے انتقال ہر افسوس کا اظہار کیا ہے اور دعائے مغفرت کی ہے
فرانس سے آزاد دنیا کے مدیر اعلیٰ میاں امجد اور انکے حلقہ احباب نے بھی اظہر جاوید کی مغفرت کی دعا کی ہے اور انکی ادبی خدمات کو سراہا ہے