16.10.2026, 05:32am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں ۔۔۔۔۔ از ۔۔۔۔۔ صفدر ھمدانی
01.04.2016, 04:00am , جمہ (GMT+1)

صفدر ھمدانی لندن
‎

۔مرزا غالب(1797-1869)اردو زبان کے سب سے بڑے شاعر سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کاا صل کمال یہ ہے کہ وہ ز ندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے ہیں اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کردیتے ہیں۔غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انہوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔غالباًً ً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی]

‎مرزا غالب کا نام اسد اللہ بیگ خاں تھا۔ باپ کا نام عبداللہ بیگ تھا ۔ آپ دسمبر 1797ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہو گئے۔ نواب احمد بخش خاں نے مرزا کے خاندان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کرا دیا۔ 1810ءمیں تیرہ سال کی عمر میں ان کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الہی بخش خاں معروف کی بیٹی امراءبیگم سے ہو گئی شادی کے بعد انہوں نے اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہہ کر دہلی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔

‎شادی کے بعد مرزا کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہو گئے ۔ اس دوران میں انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ور قرض کا بوجھ مزید بڑھنے لگا۔ آخر مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالب نے قلعہ کی ملازمت اختیار کر لی اور 1850ءمیں بہادر شاہ ظفر نے مرزا غالب کو نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب عطا فرمایا ، اور خاندان تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کر دیا اور 50روپے ماہور مرزا کا وظیفہ مقرر ہوا۔


‎غدر کے بعد مرزا کی سرکاری پنشن بھی بند ہو گئی ۔ چنانچہ انقلاب 1857ءکے بعد مرزا نے نواب یوسف علی خاں والی رامپور کو امداد کے لیے لکھا انہوں نے سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا جو مرزا کو تادم حیات ملتا رہا۔ کثرت شراب نوشی کی بدولت ان کی صحت بالکل تباہ ہو گئی مرنے سے پہلے بے ہوشی طاری رہی اور اسی حالت میں 15 فروری 1869ء کو انتقال فرمایا

‎‫ انھوں نے اپنی زندگی میں بہت دکھ اور مشکلیں اٹھا ئیں انھیں وہ آرام اور سکون میسر نہ ہوا جس کے وہ حق دار تھے شا ئد ہر بڑے آدمی کی زندگی کاالمیہ ہے اس کو جانے کے بعد یاد کیا جا تا ہے مرزا غالب کی شاعری کو اب کم وبیش نصف صدی ہونے کے قریب ہے لیکن آج بھی ان کی شا عری پڑھ کر یوں محوس ہو تا ہے کہ وہ اسی دور کے شاعر ہو ان کا سارا کلا م ہما رے عہد کے لیےہی لکھا گیاہو ایک بڑےاور عظیم شا عر کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ ہر دور میں زندہ و جا وید رہ ہوٰئ مدت کہ غالب مرگیا پر یاد آتا ہےوہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتاغالب کے چند اشعار :


ظاہر ہے کہ گھبرا کے نہ بھاگیں گے نکیرین

ہاں منہ سے مگر بادہء دو شینہ کی بو آئے



ہوگئے ہیں جمع اجزائے نگاہ_ آفتاب

ذرْے اس کے گھر کی دیواروں کے روزن میں نہیں




ہو فشار_ ضعف میں کیا ناتوانی کی نمود

قد کے جھکنے کی بھی گنجائش مرے تن میں نہیں




کمال_ گرمیء سعی_ تلاش_ دید نہ پوچھ بہ
 رنگ_ خار مرے آئنے سے جوہر کھینچ


آتش پرست کہتے ہیں اہل_ جہاں مجھے

سرگرم_ نالہ ہائے شرر بار دیکھ کر


فراغت کس قدر رہتی مجھے تشویش_ مرہم سے

بہم گر صلح کرتے پارہ ہائے دل نمکداں پر
‬
‎یک بار دلی میں رات گئے کسی مشاعرے یا دعوت سے مرزا غالب مولانا فیض الحسن فیض سہارنپوری کے ہمراہ واپس آ رہے تھے۔راستے میں ایک تنگ و تاریک گلی سے گزررہے تھے کہ آگے وہیں ایک گدھا کھڑا تھا۔مولانا نے یہ دیکھ کر کہا: مرزا صاحب! دلی میں گدھے بہت ہیں۔
‎مرزا نے کہا: نہیں حضرت، باہر سے آ جاتے ہیں۔مولانا جھینپ کر چپ ہو رہے۔

‎مرزا غالب کے ادبی لطائف

‎(1) ایک مرتبہ جب ماہِ رمضان گزر چکا تو بہادر شاہ بادشاہ نے مرزا صاحب سے پوچھا کہ: مرزا، تم نے کتنے روزے رکھے؟غالب نے جواب دیا: پیر و مرشد ، ایک نہیں رکھا۔


‎(2) جب مرزا غالب قید سے چھوٹ کر آئے تو میاں کالے صاحب کے مکان میں آ کر رہے تھے۔ایک روز میاں صاحب کے پاس بیٹھے تھے کہ کسی نے آ کر قید سے چھوٹنے کی مبارکباد دی۔ مرزا نے کہا: کون بھڑوا قید سے چھوٹا ہے۔ پہلے گورے کی قید میں تھا۔اب کالے کی قید میں ہوں۔

‎(3) غدر کے بعد مرزا غالب بھی قید ہو گئے۔ ان کو جب وہاں کے کمانڈنگ آفیسر کرنل براؤن کے سامنے پیش کیا گیا تو کرنل نے مرزا کی وضع قطع دیکھ کر پوچھا۔
‎ویل، ٹم مسلمان ہے۔
‎مرزا نے کہا، جناب، آدھا مسلمان ہوں۔
‎کرنل بولا۔ کیا مطلب؟
‎مرزا نے کہا، جناب شراب پیتا ہوں، سؤر نہیں کھاتا۔


‎(4) ایک دفعہ مرزا غالب گلی میں بیٹھے آم کھا رہے تھے ان کے پاس ان کا ایک دوست بھی بیٹھا تھا جو کہ آم نہیں کھاتا تھا اسی وقت وہاں سے ایک گدھے کا گزر ہوا تو غالب نے آم کے چھلکے گدھے کے آگے پھینک دیے گدھے نے چھلکوں کو سونگھا اور چلتا بنا تو غالب کے دوست نے سینا پھلا کر کہا دیکھا مرزا گدھے بھی آم نہیں کھاتے تو مرزا نے بڑے اطمینان سے کہا کہ جی ہاں گدھے ہیں جو آم نہیں کھاتے

‎(5) مرزا غالب شطرنج کے بڑے شوقین تھے۔ مولانا فیض الحسن سہارنپوری دلی میں نئے نئے آئے تھے۔ غالب کو پتا چلا کہ وہ بھی شطرنج کے اچھے کھلاڑی ہیں تو انہیں دعوت دی اور کھانے کے بعد شطرنج کی بساط بچھا دی۔ ادھر سے کچھ کوڑا کرکٹ ڈھونے والے گدھے گزرے تو مولانا نے کہا “دلی میں گدھے بہت ہیں!“ مرزا غالب نے سر اٹھا کر دیکھا اور بولے “ہاں بھائی، باہر سے آ جاتے ہیں۔“

‎(6) مراز غالب رمضان کے مہینے میں دہلی کے محلے قاسم جان کی ایک کوٹھری میں بیٹھے پچسی کھیل رہے تھے. میرٹھ سے ان کے شاگرد مفتی شیفتہ دہلی آئے، تو مرزا صاحب سے ملنے گلی قاسم جان آئے۔ انہوں نے دیکھا کہ رمضان کے متبرک مہینے میں مرزا پچسی کھیل رہے تھے۔ انہوں نے اعتراض کیا : “مرزا صاحب ہم نے سنا ہے کہ رمضان میں شیطان بند کر دیا جاتا ہے۔“ مرزا غالب نے جواب دیا “مفتی
‎صاحب آپ نے ٹھیک سنا ہے۔ شیطان جہاں قید کیا جاتا ہے، وہ کوٹھری یہی ہے۔“

‎حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعد
‎بارے آرام سے ہیں اہلِ جفا میرے بعد

‎منصبِ شیفتگی کے کوئی قابل نہ رہا
‎ہوئی معزولئ انداز و ادا میرے بعد

‎شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے
‎شعلۂ عشق سیہ پوش ہوا میرے بعد

‎خوں ہے دل خاک میں احوالِ بتاں پر، یعنی
‎ان کے ناخن ہوۓ محتاجِ حنا میرے بعد

‎درخورِ عرض نہیں جوہرِ بیداد کو جا
‎نگہِ ناز ہے سرمے سے خفا میرے بعد

‎ہے جنوں اہلِ جنوں کے لۓ آغوشِ وداع
‎چاک ہوتا ہے گریباں سے جدا میرے بعد

‎کون ہوتا ہے حریفِ مۓ مرد افگنِ عشق
‎ہے مکّرر لبِ ساقی میں صلا میرے بعد

‎غم سے مرتا ہوں کہ اتنا نہیں دنیا میں کوئی
‎کہ کرے تعزیتِ مہر و وفا میرے بعد

‎آۓ ہے بے کسئ عشق پہ رونا غالب
‎کس کے گھر جاۓ گا سیلابِ بلا میرے بعد

مضمون کی تیاری میں انٹرنیٹ کے مواد سے بھی مدد شامل ہے

:دیگر مضامین
(29.03.2016) ایسٹر عیسائی مذہب کا تہوار جب حضرت عیسٰی کو صلیب پر چڑھایا گیا
(28.03.2016) صوبہ پنجاب میں شامل کوٹ مٹھن خاص کر پیر غلام فرید کی وجہ سے مشہور ھے
(24.03.2016) مارچ کی 23 تاریخ۔ پاکستان کی تاریخ میں یوم پاکستان تجدید عہد کا دن ہے
(21.03.2016) نوروز عالم افروز کا تہوار کیا ہے؟
(20.03.2016) دماغ کو ریموٹ کنٹرول بنانے والا حیرت انگیز آلہ جدید ٹیکنالوجی کا مرہون منت
(15.03.2016) بوہری اور آغا خانیوں میں کیا فرق ہے؟۔۔۔۔۔۔۔از ۔۔۔۔۔۔. ابوزین الہاشمی
(13.03.2016) نوبل انعام یافتہ بنگالی شاعر، موسیقار اور مصور رابندر ناتھ ٹیگور
(10.03.2016) دنیا بھر میں آٹھ مارچ کو خواتین کے حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے
(06.03.2016) کیا سلفی گروہوں کا جہاد شیعہ نسل کشی ہے؟ ایک فکر انگیز تجزیہ
(03.03.2016) پاکستان2018تک بھی نونہالوں کو معذوری سے بچانے میں ناکام رہیگا
(02.03.2016) ایک برطانوی کمپنی کے پالتو کتوں کیلئے لگژری گھر تیار 
(27.02.2016) نوے برس پُرانے بحری جہاز کو گھر میں ڈھال دیا گیا۔ ایک رپورٹ
(27.02.2016) برطانیہ میں یورپی سطح پر نئی ادبی تنظیم ۔۔ارباب زوق۔۔ کا قیام عمل میں آیا ہے
(24.02.2016) ایک نظر دیکھتے ہییں  کہ یمن کے حوثی جنگجو کون ہیں؟
(23.02.2016) حسینی مشن لندن میں سیدہ آل زہرا کے چہلم کی مجلس عزا کا انعقاد
(21.02.2016) برطانیہ میں پاؤنڈ درختوں پر نہیں لگتے۔یہاں بھی غربت کے مہیب مناظر ہیں
(19.02.2016) انیس فروری آغا طالش کی18ہویں برسی اور صہبا اختر کی20ویں برسی ہے
(19.02.2016) امریکی سائنس دانوں نے مصنوعی انسانی کان بنانے کی اہم پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔
(16.02.2016) شاعر، ادیب، مرثیہ نگار ،صحافی صفدر ھمدانی کا پچاس سالہ قلمی سفر 
(13.02.2016) ویلنٹائن ڈے ایسا تہوار ہے جس نے پچھلے کئی ہزار سال میں کئی چولے بدلے۔



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں