
تتلیوں کے پروں پر لکھی نظم خوں میں نہائی ہوئی
خون جو اسرائیلی درندے بہاتے رہے
موت کے رقص پر مسکراتے رہے
خون اُن بے گناہوں کا جو بھوکے بچوں کی خاطر گھروں سے نکل کر گئے
اُس غزہ کی طرف
جسکی گلیوں میں برسوں سے اب موت ہے حکمراں
جس کے بچوں پہ ٹوٹا ہوا بھوک کا آسمان
جس کی ساری فضا میں دھواں ہی دھواں
اُس غزہ کی طرف
جسکے ہر ایک گھر میں کہیں نہ کہیں ایک بچہ ہے بھوکا،ڈرا اور سہما ہوا
وہ غزہ جسکی تصویر میں
ایک ننھی سی میت تھی مسجد کے ملبے پہ رکھی ہوئی
اس طرح جیسے تصویر ہو مسکراتی ہوئی
خالی آنکھوں کا نوحہ کوئی کیا لکھےآؤ سینہ زنی کر کے اُن بیگناہوں کو رو لیں ذراقتل میں جنکے شامل ہیں خود اپنے ہی حکمراں
اپنے سینوں پہ کب سے اٹھائے ہوئے بے ضمیری کے بوجھ
کس طرح سے میں اس عہدِ حاضر کی کرب وبلا کی کہانی لکھوں
جس کے کردار سارے یوں لگتا ہے میرے ہی ہم نام ہیں
کوئی محمود عباس کے نام کاکوئی شاہ حسین ہے کوئی شاہ حسن ۔
ان میں شامل ہے اک نام ‘‘عبداللہ‘‘ بھییہ سبھی ایسے ناموں کی تضحیک ہیں

ان کے سینوں میں قرآن ہو گا مگر
انکے دل سب جہالت کی طرح سے تاریک ہیں
اک عجب درد اور دُکھ کا ماحول ہے
مسجدِ اقصیٰ خوں میں ہے ڈوبی ہوئی
اور فلسطین کی سرزمیں
ارضِ کرب وبلا کی طرح سرخ ہے
پھر یزیدانِ عصرِ رواںہاں تقاضہء بیعت پہ ہیں متفقآج پھر ارضِ اہلِ فلسطین پر
حذبِ شیطان نے
اسقدر بربریت سے دھجیاں اُڑائی ہیں انسانیت کے قوانین کی
جس طرح اک نئی کربلا

ارضِ اہلِ فلسطین سے دے رہی ہے صدا
المدد یا خُدا۔المدد یا نبی۔المدد یا علی سب کے مشکل کُشا
چاروں جانب فضا میں برستی ہوئی آگ اور خون کی ایسی بارش ہے جس میں
زندگی کی کوئی ایک رمق بھی نہیں
چار سو پھیلی تاریکیوں میں کہیں اک چمک بھی نہیں
آسماں سے وہ بارود برسا کہ ساری زمیں جل گئی
جسم معصوم بچوں کے ٹکڑے ہوئے اور مٹی میں پَل بھر میں مل کر فنا ہو گئے
حذبِ شیطان نے
حذبِ ایمان پر پوری طاقت سے کچھ ایسا حملہ کیا
جس پہ فرعون،نمرود،شداد سب خود بھی حیران ہیں
ابرہہ عہدِ حاضر کا اک بار پھر
آہنی،آتشیں ہاتھیوں سے
یوں غزہ پہ ہے حملہ آور ہوا
یا حسین ابنِ حیدر ترے ماننے والوں پر ہے عجب ظلم کی انتہا
ریزہ ریزہ ہوئے جسم جیسے فضا میں کہیں کھو گئےبھوک سے بلبلاتے ہوئے کتنے معصوم ماؤں کی گودوں میں اپنا لہو پی کے ہیں سو گئےابرہہ عہدِ حاضر کا اس بار تنہا نہیںساتھ اُس کے بڑی طاقتوں کے خدایانِ شر بھی تو ہیںہاں مگر یہ بھی سچ ہے کہ اس بار شاید کوئیسورئہ فیل نازل نہ ہواور اس کا سبب
ہم مسلمانوں کی بے حسی کے سوا اور کچھ بھی نہیں
حذبِ شیطان کے آتشیں،آہنی ہاتھیوں نے ہمارے گھروں کو تباہ کر دیا
آسماں سر سے پاؤں سے کھینچ لی ہے زمیں
شہر اُجڑے ہوئے
گرد اوڑھے ہوئے سو رہے ہیں مکیں

عالمِ کفر و شر تو ہے جاگا ہواحاکمینِ عرب اور عجم جیسے سوئے ہوئےاک عجب بے حسی کی ہے یہ انتہا
حذبِ شیطان کے آتشیں،آہنی ہاتھیوں نے جنہیں ریزہ ریزہ کیا
اُن پہ ماتم کُناں
اُن پہ سینہ زناں
اُن پہ نوحہ کُناں کوئی بھی تو نہیں

بِک گئے ہیں قلم اور قلم کار خفتہ ضمیری کی میت اٹھائے ہوئےاور مسلمان حاکم محلات میں سہم کر چھُپ گئےایسے حالات میں بھی ہیں اپنے حرم کو سجائے ہوئےاے عرب اور عجم کے مسلمان حاکموارضِ بغداد و لبنان کی موت کے بعد اب تمہیںموت پر سرزمینِ ‘‘غزہ‘‘ کی مبارک کہیںتم نے اپنے ہی دین اور تہذیب کا جس طرح سے جنازہ نکالاہے اُس پر مبارک تمہیںتم نے اپنی شجاعت و جرآت کے زرین ابواب کوجس طرح پارہ پارہ کیااُس پہ بھی تم کو تحسین ہو

اور ابد تک تمہارے ان عشرت کدوں میں اُجالا رہےسب جہانوں میں تمہاری اس بے ضمیری کا بھی بول بالا رہےبے ضمیری کے نشے میں مدہوش حاکمینِ عرب اور عجم کو ہمارا سلامایسے فرمانرواؤں کی زریں عباؤں قباؤں پہ جانیں نثارجن کو ہے صرف اپنی حکومت سے پیاربصرہ و کوفہ و شہرِ بغداد کے بعد اب آپ کوہو مبارک فلسطین بھی لُٹ چکااب غزہ حذبِ شیطان کی ملکیت بن گیااور ہر اک گھر پہ جسطرح سے موت کا راج ہے
اوریہ ساری فضا
خون اور بارود کی بو میں ہے جس طرح سے نہائی ہوئی

اور یہ عزت مآب حکمراں
سامراجی خداؤں کے پٹھو یہ فرمانرواقحبہ خانوں میں مدہوش سوئے ہوئےپاسبانِ حرم

مصلحت کی قبا کو منافق بدن پہ سجائے ہوئےتاج اور تخت کے عشق میں بے ایماں،دوغلے حکمراں
چند دن اور ہیںدیکھنا ہوں گے یہ سب بھی عبرت نشاںکعبئہ دل میں اب کوئی دے تو اذاں