اڑتالیس گھنٹے میں نے جس کرب اور سولی پر لٹک کر گزارے ہیں یہ تو میں جانتا ہوں اور یہ انتظار اس لیئے کیا کہ شاید اس ملک کے صدر کا کوئی بیان آ جائے جو اپنی سابق وزیر اعظم بیوی کی تصویر اٹھا اٹھا کر آج بھی عالمی ادارے سے لیکر عام جلسے تک میں گھومتا ہے اور جو ایک دھماکے میں جاں بحق ہو جانے والی ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی کو شہید کہتے ہوئے نہیں تھکتا۔ لیکن میں ناکام ہو گیا اور مزید انتطار نہیں کر سکتا کہ اب دل جیسے سینے کی دیوار توڑ کر باہر نکلنا چاہتا ہے
میں نے اڑتالیس گھنٹے انتظار کیا کہ انسانی حقوق کا راگ الاپنے والے ملک کے وزیر اعظم کا شاید کوئی بیان ہی آ جائے کہ انکو اپنی بیٹی بہت عزیز ہے لیکن شاید یہ خبر اور ایک استاد اور سرکاری اہل کار خاتون کے منہہ پر طمانچے کی آواز ایوان وزیر اعظم کی بلند دیواروں کے اس پار سنائی نہیں دی ہے
میں نے اڑتالیس گھنٹے عالم نزع میں اس لیئے گزارے اور انتظار کیا کہ شاید اس ملک کی قومی اسمبلی کی خاتون اسپیکر کی طرف سے کوئی مذمت کا بیان ہی جاری ہو جائے، ملک کی اعلیٰ عدالت کی چیف جسٹس کو ہی قوم کی ایک بیٹی کے منہہ پر لگنے والی وحیدہ شاہ کے طمانچے کی سرخی دکھائی دے دے، اس ملک کا کوئی انسانی حقوق کا ادارہ بولے،اساتذہ کی کوئی تنظیم ہی ایک بیان جاری کر دے،کوئی شاعر،کوئی ادیب کوئی بڑا کالم نگار دو فقرے ہی لکھ دے۔ لیکن نہیں کچھ بھی تو نہیں ہوا۔اور اس لیئے نہیں ہوا کہ یہ ہم ایک قوم اور ملت کے طور پر مردہ ہو چکے ہیں۔ہماری موت ہو چکی ہے،ہم اجتماعی طور پر بے حس اور بے شرم ہو چکے ہیں۔ ہم کو جبر اور ظلم سہنے کی عادت ہو چکی ہے۔جس دن ہماری تذلیل نہ ہو اس دن ہمارے بدن میں درد ہوتا ہے۔ ہم اپنے چہرے نوچ نوچ کر مکروہ الشکل بن چکے ہیں۔جس دن اور جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس دن میں جرمنی کے شہر فرینکفرٹ کے ایک ہال میں انجمن غلامان مصطفیٰ کے زیر اتنظام ہونے والی میلاد مصطفیٰ کی تقریب میں کوئی تین سے زیادہ عورتوں اور مردوں کی موجودگی میں تقریر کرتے ہوئے انسانیت پر اور خاص طور پر عورتوں پر اللہ کے رحمت نشاں رسول اور حبیب کی کرم نوازیوں کی بات کر رہا تھا اور بتا رہا تھا کہ اسلام نے عورت کو جو عزت دی تھی مسلمان ممالک اور مسلمان حاکم عورت کو وہ عزت نہیں دے سکے۔آج بھی عورت پر اکثر وہی عہد جہالت کے مظالم ہوتے ہیں جنکو اللہ کے آخری نبی نے ختم کیا تھا۔ میں کہہ رہا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ ان مسلم ممالک اور ان مسلمانوں کو یہ خبر ہی نہ پہنچی ہو کہ اللہ کے رحمت نشان رسول نے پچھڑی ہوئی عورت کو کیسے فاطمہ مزاج اور فاطمہ نشان بنا دیا تھا۔
فرینکفرٹ کے ہال کے اندر میلاد رسول کی محفل میں بیٹھی ہوئی ایک سو سے زیادہ خواتین اپنی قسمت پر ناز کر رہی تھیں کہ اللہ کے آخری رسول نے انہیں ذلت سے نکال کر عزت کا تاج پہنایا،لیکن فرینکفرٹ سے ہزارہا میل دور پاکستان کے صوبہ سندھ کے ایک گاؤں ٹنڈو محمد خان میں حکمران جماعت پیپلیز پارٹی کی طاقت کے نشے میں مدہوش ایک خاتون امیدوار ایک خاتون کو ہی جو استاد بھی ہے منہہ پر طمانچے مار رہی تھی جسے ٹی وی کیمروں نے ریکارڈ کر کے ..زندہ گواہی .. کے طور پر ٹی وی چینلوں پر چلا دیا۔سارے جہانوں کے لیئے اللہ کے رسول نے عورت کو عزت دی تھی لیکن اس بے عمل اور بدنصیب مسلمان نے عورت کو بے عزت کر دیا۔ سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ طمانچہ کھانے والی استاد خاتون کے منہہ پر جس ہاتھ کی پانچ انگلیاں شہادت دے رہی ہیں وہ ہاتھ بھی ایک خاتون کا ہے،ایسی خاتون جو منتخب ہونے سے پہلے ہی طاقت کے اس نشے میں ہے اور اللہ جانے منتخب ہونے کے بعد کس حالت میں ہو گیجرمنی سے لندن واپس آتے ہوئے بھی جہاز میں سوار ہونے سے پہلے اپنے موبائل پر ذرائع ابلاغ کو دیکھتا اور پڑھتا رہا کہ شاید اقتدار کے ایوانوں سےکوئی ایک بیان ہی جاری ہو جائے لیکن یہ میرا خام خیال نکل۔
گھر واپس آکر میں اپنی بیٹی زہرا کو فون کرتے ہوئے گھبرا رہا تھا اور خوف زدہ تھا کہ کہیں ٹندو محمد خان میں میری بیٹی کے منہہ پر لگنے والے طمانچے کے درد کی شدت نے یہاں میری بیٹی کو بے حال نہ کر دیا ہو۔ سفر کی تھکاوٹ کے باوجود آنکھیں بند کرتے ہوئے ڈر رہا تھا کہ کہیں بند آنکھوں میں مسلم امہ کی اس بیٹی کا طمانچہ زدہ چہرہ نہ آ جائے۔وحیدہ شاہ نے جنکو اپنے طاقت کے نشے کا نشانہ بنایا ان میں سے ایک پریزائڈنگ افسر حبیبہ میمن اور دوسری اسسٹنٹ پریزائڈنگ افسر شگفتہ میمن ہے۔
خبر جو اب سامنے ائی ہے وہ اس طرح ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضمنی الیکشن کے دوران پولنگ عملہ پر تشدد کرنے والی پیپلزپارٹی کی نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی وحیدہ شاہ پر مقدمہ درج کر لیا گیا اور ان کا نوٹیفکیشن بھی روک دیا گیا۔ الیکشن کمیشن سندھ کی ہدایت پر ریٹرننگ افسر نے علی اصغر میاں ٹنڈو محمد خان میں مقدمہ درج کرا دیا ہے۔
وحیدہ شاہ نے پولنگ کے دوران ایک پولیس اسٹیشن میں جا کر مبینہ دھاندلی پر پریذائیڈنگ آفیسر اور دیگر خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ تشدد کی فوٹیج میڈیا میں آنے کے بعد الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا اور وحیدہ شاہ کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی تھی جس کے بعد ریٹرننگ افسرنے مقدمہ درج کرا دیا۔
ریٹرننگ افسرنے کہا کہ پی ایس 53 ٹنڈو محمد خان میں ہونے والے ضمنی الیکشن کے نتائج روک دیے گئے ہیں۔ وحیدہ شاہ کے خلاف کارروائی کی انکوائری ہونے تک سرکاری نتائج کا اعلان نہیں کیا جائے گا۔ جبکہ چیف الیکشن کمشنر نے آئی جی سندھ سے رپورٹ بھی طلب کرلی۔ ان کے حلقے کی خواتین نے وحیدہ شاہ کے خلاف مظاہرہ کیا اور نعرے بازی کی۔۔۔۔۔۔۔
وحیدہ شاہ پولنگ سٹیشن پر اپنے مخالف امیدوار میر مشتاق تالپور کی ووٹر کی پرچی دیکھ کر اتنی طیش میں آگئی تھیں کہ انہوں نے پہلے تو اسسٹنٹ پریزائڈنگ افر شگفتہ میمن کو تھپڑ مارا اور پھر پلٹ کر پو لنگ اسٹیشن کی انچارج پریزائڈنگ افسر حبیبہ میمن کو تھپڑ مار دیا۔"
پریزیئڈنگ افسر اور اسسٹنٹ پریزائڈنگ افسر ہائی سکول ٹیچر کی حیثیت سے سرکاری اسکولوں میں ٹنڈو محمد خان میں ہی ملازم ہیں۔
کاش یہ خبر سچی ہو اور سرکاری محکمہ اطلاعات نے شائع نہ کروائی ہو۔ اقتدار کی گردش سراؤں میں صبح سے شام تک کیسے کیسے گھناؤنے کھیل کھیلے جاتے ہیں اسکو مجھ فقیر نے بھی زمانہ ملازمت میں بہت قریب سے دیکھا ہوا ہے اور اسی تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ یہ حکمران ایسی تصویر بھی دکھا سکتے ہیں کہ وحیدہ شاہ بچ جائے اور طمانچہ کھانے والی قوم کی بیٹی کو الیکشن میں دھاندلی کروانے کے الزام میں چھ ماہ کی سزا اور لاکھوں روپے جرمانہ ہو جائے۔ اور شاید اسکی بنیاد بھی رکھ دی گئی ہے کہ ایک جعملی پریس کانفرنس میں وحیدہ شاہ کے ساتھ دو برقعہ پوش خواتین ہیں جن میں سے کہا جاتا ہے کہ ایک مظلوم منہہ پر طمانچے کھانے والی ہے لیکن صحافیوں کے بصد اصرار کے باوجود اسکی شکل نہیں دکھائی گئی جبکہ دوسری جانب ایک ٹی وی چینل کے اینکر نے دعویٰ کیا ہے کہ جب یہ جعلی پریس کانفرنس ہو رہی تھی توطمانچہ کھانے والی خاتون کا بھائی اس ٹی وی اینکر کو بتا رہا تھا کہ اسکی بہن گاؤں میں موجود ہے۔
جن قوانین کے تحت یہ مقدمہ درج ہوا ہے اس میں الزام ثابت ہونے پر وحیدہ شاہ کو زیادہ سے زیادہ تین ماہ کی قید ہو سکتی ہے اور اگر ملزمہ کو سزا ہو گئی تو وہ نااہل قرار دی جاسکتی ہیں اور نااہلی کے بعد ان کی رکنیت ختم ہو جائے گی۔ لیکن یہ سب ہنوز دلی دور است والا معاملہ ہے۔ ابھی تو سرکار کو یہ علم ہی نہیں کہ قوم کی ایک بیٹی سرکاری ڈیوٹی دیتے ہوئے حکمران سرکاری پارٹی کی ایک امیدوار خاتون کے ہاتھوں ذلیل ہو گئی ہے
ٹنڈو محمد خان کے سیاسی حلقے کہتے ہیں کہ اپنے مرحوم شوہر محسن شاہ کے ایک انتخاب کے دوران بھی وحیدہ شاہ نے مردوں کے ایک پولنگ سٹیشن میں داخل ہو کر ایک مرد پولنگ افسر کو تھپڑ مارا تھا لیکن ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو سکی تھی۔ محسن شاہ کا انتقال ایک ماہ قبل ہوا تھا اور پیپلز پارٹی نے وحیدہ شاہ کی درخواست پر انہیں ٹکٹ دیا تھا۔
اس تناظر میں محسوس تو یوں ہوتا ہے کہ وحیدہ شاہ پرانی مریض ہیں اور عادی مجرم بھی لیکن کسی نے انکی اس غنڈہ گردی کا نوٹس نہیں لیا،تا ہم اب وقت آ گیا ہے کہ ایسے مکرہ چہروں کی سیاسی بساط کو لپیٹا جائے
پاکستان کے عوام خود پر ہونے والے نوے فیصد مظالم اور زیادتیوں کے خود ذمیدار ہیں کہ انہیں جوتے کھانے اور ذلیل ہونے کا نشہ ہو گیا ہے اور جس دن انکی تذلیل نہ ہو اس دن پرانے نشئی کی طرح انکا بدن ٹوٹنے لگتا ہے۔
کاش یہ تھپڑ صدر زرداری اور مرحومہ بے نظیر کی بیٹی آصفہ یا بختاور کے منہہ پر لگا ہوتا یا پھر وزیراعظم گیلانی کی بیٹی فضہ بتول گیلانی کے منہہ پر لگا ہوتا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ زمانہ کب کا گزر چکا جب قوم کی بیٹی سب کی بیٹی ہوتی تھی۔ سوچتا ہوں کہ لعنت ہو اس سیاست پر کہ صدر،وزیر اعظم،چیف جسٹس،اسپیکرقومی اسمبلی یا کسی اعلی ترین عہدے دار نے اسکا نوٹس نہیں لیا،لیکن ان سفاک حاکموں نے اپنے بچوں کی ہی ایسی تربیت کی ہوتی کہ انہیں اپنی ہموطن بہن کی بے عزتی اور تذلیل محسوس ہوتی۔ سوچتا ہوں اللہ کیوں کر ہمیں اپنی خاص امان میں رکھے اور کیوں ہمیں ایمان
کی سلامتی عطا کرے کہ ہم وہ لوگ ہیں جنہیں اپنی “ مجرمانہ خاموشی“ کی سزا
روز ملتی ہے اور آج بھی ملی ہے ۔
جو
قومیں چپ کا روزہ رکھ لیتی ہیں وہ قومیں اس وقت تک نہیں جاگتی جب تک گھر
گھر آگ نہیں لگ جاتی اور ہر گھر سے لاش نہیں اٹھتی ۔۔ ظلم کے خلاف آواز نہ
اٹھانا ہی ظالم کی حمایت ہوتی ہے اور ظالم کا ساتھ دینے والے کی سزا تو
ہوتی ہی ہے ۔اور یہی سزا ہے کہ روز اپنی ضمیر کی لاش اپنے کندھوں پر رکھے اپنے اندر ہی چیختا رہتا ہوں ۔
کاش ہم ظالم کو ہر جگہ پر ظالم کہنا ہی سیکھ جائیں ۔اور کچھ نہیں تاکہ روز
حشر اتنا تو ہو کہ گواہی دینے والوں میں ہمارا نام بھی ہو ۔کیونکہ وہ مالک
کل کائینات جانتا ہے کہ ہمارے اختیار میں بس اتنا ہی تھا ۔ وہ معبود کبھی
بے عدل ہو ہی نہیں سکتا کہ زرداری کا ح
ساب چیف جسٹس سے لے اور گیلانی کا
حساب ہم اور آپ سے لے ۔
ہم سب نے
اپنے اپنے اعمال کی جوابدہی کرنی ہے ۔سو وہ جانتا ہے کہ ہمارا اختیار کتنا
تھا ۔ التجا کرتا ہوں کہ بس ظالم کو ظالم کہنا سیکھ جایئے اور اس کے ظلم
کی تشہیر کرنا اپنا فرض بنا لیجئے اور لوگوں کو آ گاہ کرتے رہئے کہ یہ
ظلم یہاں ہوا ہے ہمارا المیہ ہی یہ ہے صفدرکہ ہر ظالم کو ہم مظلوم سمجھےیہ لمحہ فکریہ ہے اس ملک کے عوام کے لیئے کہ جو اپنے ووٹ سے اپنے قاتل منتخب کرتے ہیں۔
ہم جیسے لوگ کئی برسوں
سے ان ضمیر فروش اور عوام دشمن سیاست دانوں پر تُف کرتے آئے ہیں اور ان کے لیئے تُف کا لفظ بہت چھوٹا ہے. لیکن
اب عوام پر تُف اس لیئے کرنا پڑ رہی ہے کہ
ایسے عوام پر جو اپنے ووٹ سے بار بار اپنے قاتل منتخب کرتے ہیں۔ّ” یہ بات
تو طے ہے نا کہ جیسا بھی نظام سہی ان قاتلوں.لٹیروں اور بدمعاشوں کو عوام
کے ووٹ کی پشت پناہی حاصل ہے. یہ ایک الگ بحث ہے کہ ملک میں دیگر نظام کی
طرح انتخابات کا نظام بھی ناکارہ ہے اور اسمیں عوام کے ووٹ کا صرف نام
استعمال ہوتا ہے. لیکن جیسا بھی نظام ہے اسمیں ووٹ شمار کیا جاتا ہے اور یہ
ووٹ عوام کی اکثریت ہی دیتی ہے.
اسوقت چار بڑی ڈاکو اور لٹیرا کمپنیاں
ہیں.ایک پیلپز پارٹی،دوسری مسلم لیگ ن،تیسری ایم کیو ایم اور چوتھی اے این
پی. اب ذرا غنڈوں اور عوام دشمن طاقتوں کا اتحاد تو دیکھیں کہ یہ ساری
جماعتیں بے گناہ عوام کا قتل بھی کر رہی ہیں اور وفاق کی حکومت میں اتحادی
بھی ہیں. شاید آپ کہیں کہ مسلم لیگ ن کانام میں نے غلط لکھا ہے،جی نہیں یہ پچھلے دروازے سے اقتدار میں شامل ہیں اقتدار کے مزے بھی لوٹ رہی ہیں.وزیروں کی کوٹھیوں میں بھی رہتے
ہیں،اپنی کاروں پر پاکستان کا جھنڈا لگا کر اس پرچم کی توہین بھی کرتے ہیں
لیکن کسی اصول یا کسی سچ کی خاطر حکومت نہیں چھوڑتے. یہی ان کی بدنیتی،عوام
دشمنی اور اقتدار کی لالچ ہے.
اب ذرا مشرقی یورپ کی گزشتہ صرف 15 سال کی سیاست کا جائزہ لے لیں تو پتہ چل
جائے گا کہ عام لوگوں نے کیسے راتوں رات حاکموں کو نکال باہر کیا بلکہ
چوراہوں میں لٹکا دیا.
عوام کی طاقت سے کون انکار کرے گا. اسی لیئے اپنی طاقت اور قوت سے ناآشنا
ان عوام پر ”تُف” کہا ہے. کاش یہ عوام بے حسی کے حصار سے باہر آ جائیں اور
ننگے پاؤں ،بھوکے پیٹ ایک بار اسلام آباد پہنچ کر اگلی نسلوں کو محفوظ کر
آئیں. اسی لیئے تو میں نے لکھا تھا کہ….
یہ پاک دھرتی نہ جانے کیسے رزیل لوگوں کے ہاتھ میں ہے
کہ ملک پانی میں بہہ گیا ہے
انہیں یہ احساس ہی نہیں ہے کہ لوگ پتوں پہ جی رہے ہیں
خود اپنا ہی خون پی رہے ہیں
لہو سے زخموں کو سی رہے ہیں
وطن میں قبریں بھی کم ہوئیں تو تمام لاشوں کو نزرِ آبِ رواں کیا ہے
وہ سیلِ تند خو کہ جس نے کتنے گھروں کو پل بھر میں
دیکھ لو بے اماں کیا ہے
مگر یہ حاکم کہ ان غریبوں کے دکھ سے بھی آشنا نہیں ہیں
جو ووٹ دیکر خود اپنے قاتل کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں
مرے وطن کی زمیں پہ جیسے لہو کے پودے اُگے ہوئے ہیں
ہر ایک بستی میں موت کا جیسے رقص جاری
کہیں پہ سیلاب ڈس رہا ہے
کہیں مسلماں خود اپنے بھائی کے خون سے ہاتھ رنگ رہا ہے
کہیں پہ خود کُش اُڑا کے خود کو بسوئے جنت رواں ہوا ہے
یہ ملکِ امن و اماں جو اب ملکِ جنگ لگتا ہے
اسکو اپنے ہی گھر کے لوگوں نے لوٹ ڈالا
یہاں گھروں کے ہیں در مقفل
جو بچ گئے ہیں وہ رزقِ آبِ رواں بنے ہیں
عجب ستم ہے کہ مُلک بھر میں ہے موت کا جیسے رقص جاری
مگر یہ حاکم کہ اپنے بچوں کو لے کے یورپ میں گھومتے ہیں
بلادِ مغرب سے کہہ رہے ہیں
ہمارے بچے تو پیدا ہوتے ہی حکمراں تھے
یہ آج بھی کل کے حکمراں ہیں
عجب ستم ہے کہ ملک اک گھر کی جیسے جاگیر بن گیا ہے
حصارِ ظلمت عوام کی جس طرح سے تقدیر بن گیا ہے
وطن میں ہر روز گولیوں سے غریب شہری کہ مر رہے ہیں
مگر یہ حاکم کہ گھر سے باہر ہیں گھر کی انکو خبر نہیں ہے
کٹے ہوئے ہیں جو سر تو اِن میں خود انکے بچے کا سر نہیں ہے
ذرا بھی ان پہ اثر نہیں ہے
بنامِ حاکم یہ داغِ ذلت ہیں اور کچھ باخدا نہیں ہیں
یہ ناگ وہ ہیں جو اپنی ہی سرزمیں میں بیٹھے ہوئے تھے چھُپ کر
بلوں سے باہر اب آ چکے ہیں
یہ ناگ وہ ہیں جنہوں نے اپنے ہی گھر کے لوگوں کو ڈس لیا ہے
یہ میری آنکھوں میں کیسا منظر ٹھہر گیا ہے
میں جیسے صحرا میں پیاسا تنہا بھٹک رہا ہوں
عجیب صحرا ہے جسمیں ہر سو فقط ہے بھوک اور تشنہ لبی کا غلبہ
فضا میں جیسے لہو کا کڑوا سا ذائقہ ہے
نگاہوں میں جو ہزاروں چہرے ہیں ماتمی ہیں
سنو اے آزردگانِ شب اب یہ طے ہوا ہے
کہ اب کسی بھی غنیمِ فاقہ کشاں کے ہاتھوں پہ بیعتِ دل روا نہ ہو گی
کہ اقتدارِ طویل کے لالچی لٹیروں نے جسم و جاں میں نقب لگائی
ہماری آنکھوں کو اپنی لالچ کے اندھے نیزوں پہ یوں پرویا
کہ ساری بینائی گندے پانی میں بہہ گئی ہے
یہ میرے بچوں کے ازلی دشمن یہ حاکمانِ شبِ سیاہ ہیں
یہ میرے بچوں کا خون پی کے جو پَل رہے ہیں
یہ میرے شہروں کی روشنی کو نگل رہے ہیں
چراغِ شب کی تھرکتی لو بھی بجھا رہے ہیں
بنو اُمیہ سے اپنا رشتہ بتا رہے ہیں
سنو اے میرے وطن کے لوگو
درندوں کا یہ رزیل ٹولہ
جو اپنی دھرتی کے سارے لوگوں کو تہنا کر کے
مزے سے خود مغربی فضاؤں میں جھومتے ہیں
یہ بے عمل حاکمانِ شہرِ وفا پلٹ کے جو گھر کو آئیں
تو ان سے سارا حساب لینا
مجھے قسم ہے کہ کالے سانپوں یہ کریہہ المزاج ٹولہ
تمہارے ہاتھوں نہ بچ سکے گا