
ابتدائے آفرینس سے ہی فن اور فنکار زمانے کی ضرورت رہے ہیں اور ان کی اہمیت سے قطع نظر انکار نہیں کیا جاسکتا۔ارتقائے حیات، قوموں کے عروج و زوال اور تہذیب و تمدن کا پتہ انہی فن کاروں کی تحریروں اور تصویروں سے ملتا ہے۔اجنتا کے غار، بابل و نینوا کی تاریخ،ہڑپہ و موہنجوداڑو اور وادئ سندھ کی تہذیب و تمدن کے آثار سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے فن اور فنکار ہر دور میں کتنی اہمیت کے حامل تھے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نِت نئے تجربات واصطلاحات اور ایجادات نے جنم لیا جس سے ترقی کی نئی راہیں کھلیں کمپیوٹر کی ایجاد نے ساقط زندگی میں تہلکا مچا دیا اور اب کمپیوٹر زندگی کے ہر شعبہ میں اہم ضرورت سمجھا جاتا ہے۔
علوم فنون کی بات کی جائے تو ریاضی کو مدر آف سائینس کہا جاتا ہے سو اعداد و شمار کی جمع تفریق کی اس مشین (کمپیوٹر) نے فنون لطیفہ کے شعبہ میں بے شمار آسانیاں پیدا کیں۔جو فنکار پہلے رنگ و روغن اور برش سے کینوس پر رنگوں کی کہکشائیں بکھیرتے تھے اب وقت اور جدیدیت کے ساتھ مختلف کمپیوٹر سافٹ ویئرز میں الیکٹرانک ٹولز کی مدد سے بے شمار اچھوتے اور دل کو محسور کر دینے والی تخلیقات پیش کر رہے ہیں ایسے ہی نابغۂ روز گار بزرگ ارٹسٹ بدر الدین بدر نے1966 ء میں فیصل آباد سے بطور کمرشل آرٹسٹ سائن بورڈ پینٹر کی حیثیت سے اپنے فن کا آغاز کیا ۔کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور جدیدیت سے ہم آہنگی وقت کا تقاضا بنی تو بدر الدین بدر نے لاہور جا کر نئی ٹیکنیکس کے ساتھ مختلف ایڈورٹائزر کمپنیوں میں ملک کے نامور آرٹسٹوں کے ساتھ کام کرکے اپنے فن میں نکھار پیدا کیا۔

ٹیکسٹائل انڈسٹری کی وجہ سے فیصل آباد کو پاکستان کا مانچسٹر کہا جاتا ہے جہاں سے نِت نئے ڈیزائنوں ، رنگوں اور بہترین کوالٹی میں ٹیکسٹائل
پروڈکٹس پوری دنیا میں ایکسپورٹ کی جاتی ہیں ۔مادر وطن اور شہر کی خوشبو انسان کو ہمیشہ اپنی طرف کھینچتی ہے سو بدر صاحب نے واپس فیصل آباد آکر اپنی ایڈورٹائزنگ ایجنسی کا آغاز کیا جہاں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کا م شروع کیا جہاں ٹیکسٹائل ڈیزائننگ ،پرنٹنگ ،پینٹنگ،خطاطی،پازٹیو فلم میکنگ،پلیٹ پروسیسنگ اور ڈائنگ کی تربیت دی جاتی تھی۔پرنٹنگ اور پینٹنگ میں نئی نئی جہتیں متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ مصورانہ خطاطی میں آپ نے فری ہینڈ رائٹنگ (خطِ تُک) ایجاد کیا جو اپنی خوبصورتی کے اعتبار سے بے حد مقبول ہوا ۔ آرٹ اینڈ ڈیزائن میں جدّت اور مہارت کے پیش نظر سعودی عرب کی ایک بیت بڑی کمپنی میں جاب کی آفر ہوئی توبدر صاحب نے بہتر روز گار کے پیش نظر وہاں عرصۂ 20 سال اپنے فن کے جوہر بکھیرکر اہل سعودیہ کے آرٹسٹوں اور گرافکس ڈیزائنروں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔بعد از فیصل آباد میں آکر فنون اکیڈمی ٹرسٹ کی بنیاد رکھی جہاں ایڈورٹائزنگ و ڈیزائننگ میں جدید کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا استعمال ،پینٹنگ، پرنٹنگ،ڈائنگ اور پریس پرنٹنگ کے
متعلقہ مفت تعلیم دی جاتی ہے۔

ڈیجیٹل پینٹنگ میں بدر صاحب نے ہمیشہ ایسے موضوعات کو اپنے کینوس پر اتارا جن کا تعلق ہماری مادرِ وطنی، تہذیب و تمدن اور دیہی زندگی سے ہے۔ برقی کینوس یعنی الیکٹرانک سکرین پر ٹیبلٹ کی مدد سے ڈیجیٹل پینٹنگ میں آپ کا کوئی ثانی نہیں۔ آپ نے بے شمار علمی ادبی اور سماجی شخصیات کے پورٹریٹ کے علاوہ دیہی زندگی کو بے حد خوبصورت انداز میں ڈیجیٹل پینٹنگ کے اچھوتے شاہکار پیش کئے جو انٹر نیٹ میں فیس بُک اور مختلف ویب سا ئٹس پر جا بجا دمکتے ستاروں کی طرح نظر آتے ہیں ۔
تعلیمی اعتبار سے بدر صاحب نے کوئی بڑی ڈگری حاصل نہیں کی مگر آرٹ اینڈ ڈیزائن اور ڈیجیٹل پینٹنگ میں انہیں ایک عظیم آرٹسٹ اور استاد کی حیثیت سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔
مزید معلومات اور رابطہ کیلئے ویبسائٹ وزٹ کیجئے۔http://www.badarartist.com