15.10.2026, 03:46pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ڈاکٹر نگہت نسیم
 

آج غزہ تنہا نہیں جل رھا۔از ۔نگہت نسیم
31.12.2008, 01:19am , بدھ (GMT+1)

نگہت نسیم ۔سڈنی

 دوستو!  آج یوں لگ رہا ھے جیسے غزہ نہیں جل رھا بلکہ پوری مسلم امہ کی غیرت اور خودداری جل رھی ھے ۔۔ اوربے حس دنیا ھمارے لٹنے اور تنہا رہ جانے کا جشن منا رھی ھے ۔

مسلمانوں کی آپس کی یکجہتی کی  ضرورت پڑنے پر ھمیشہ کی طرح مسلمان حکمرانوں   کی گہری خاموشی سے کوئی بھی نہیں چونکا ۔۔ہاں سب چونکے تو اس وقت جب یہ خبر آئی کہ اردن ، مصر اور سعودی عرب بھی غزہ کو لوٹنے  ، نہتے لوگو کو جلانے اور مارنے کی سازش میں فرعونوں کے ساتھ شامل ھیں تو پہلے تو دکھ ھوا لیکن پھر یقین ھو گیا کہ تاریخ ھمیشہ کی طرح خود کو دھرانے بیٹھ گئی ھے  ۔۔

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آخر  تاریخ اپنے صرف سیاہ باب ھی کیوں دھراتی ھے ۔ اس کی روشن مثالیں  کیوں لوٹ کر نہیں آ سکتی ۔ حالیہ ممبئی حملوں کے بعد پاک بھارت کی حالیہ کشیدگی پر جو دن رات اشتعال آمیز بیان بازی دونوں طرف جاری ھے ۔

 اس کے پس منظر میں  آج  ایک بات تو طے ھوئی  کہ اگر آج ھم اسرایئلی وحشت پر خاموش رھے تو کل ھمارا حال اس سے بھی بدتر ھو گا کہ فلسطینی توپھر بھی غیور اور بہادر قوم ھے جو صرف قومی یکجہتی پر یقین رکھتی ھے ۔ اور کئی دہائیوں سے تنہا ھی لڑتی آرھی ھے ۔  انکی نسلوں کے پاس کچھ بھی نہیں ھے سوائے ایک فلسفہ آزادی کے جس کی خاطر وہ آج تک نہیں ہاری اور نہ ھی ھارے گی ۔

قطع نظر اس بات کہ دنیا کے نقشے پر  جنگ کہاں کہاں ھو رھی ھے اور روزانہ کتنے اور کیسے  نہتے شہری شہید ھو رھے ھیں ۔۔؟  پھولوں جیسے بچے  باسی پنکھڑیوں کی طرح  کیوں بکھر رھے ھیں ۔۔؟ اور  یہ بات بھی اب مجھے نہیں کرنی کون کس کے کیئے کی سزا پا رہا ھے ۔۔؟

  میں تو یہ سوچ رھی ھوں کہ آخر جنگ کی ھی کیوں جاتی ھے ۔اس کے مفہوم و معنی ھر ملک کے لیئے الگ سہی پر جو بات مشترک ھے وہ تھی اپنے ملک کے شہریوں کی جان و مال کا تحظ ۔۔ جس کا حق ھر ملک کو ھوتا ھے ۔۔ ۔ اپنی قوم کی تحفظ کی باتیں کرنے والے جنگ کرتے ھوئے دوسرے ملک کے  شہریوں کے تحفظ کا خیال کیوں نہیں رکھتے ۔۔؟  لیکن ھوتا یوں کہ جب بھی  پرائی یااپنی آگ اپنے ملک میں یا کسی اور ملک  میں دہکائی جاتی ھے تو اس کی آنچ سے اپنے گھربھی محفوظ نہیں رہتے۔

کہتے ھیں کہ کسی ملک میں ایک  بادشاہ کادربار لگا تھا ۔مہمانوں کی ضیافت کا انتظام تھا ۔ سب طعام و کلام میں مشغول  تھے ۔ اتنے میں ایک شخص آیا جس کی آنکھ نکلی ھوئی تھی اور خون بہہ رھا تھا ۔بادشاہ نے پوچھا کہ ماجرہ کیا ھے ۔ اس شخص نے بتایا کہ و ہ پیشہ ور چور ھے اور چوری کی نیت سے کسی ساھوکار کی بجائے ایک غریب جولاہے کے گھر داخل ھوگیا اور واپسی پر  جب وہ دیوار کودنے لگا تو جولاہے کا ھتھیار اس کی آنکھ میں گھس گیا اور آنکھ باھر آ گئی ۔

یہ سن کر بادشاہ کو غصہ آ گیا اور حکم دیا کہ جولاہے کی آنکھ بدلے کو طور نکال دی جائے ۔ جولاہا بہت دردمندی سے بولا سرکار آپ کا فیصلہ میری سر آنکھوں پر لیکن میر اکام دونوں آنکھوں کا ھے سو آپ ایسا کریں کہ ساتھ کے گاؤں میں ایک موچی رھتا ھے اس کاکام  تو  ایک آنکھ سے بھی چل سکتا ھے سو آپ اس کی آنکھ بدلے میں نکال لیجیئے ۔ چناچہ دوسرے دن بادشاہ کے حکم پر موچی کی ایک آنکھ بدلے کے طور پر نکال کر انصاف کا تقاضا پورا کیا گیا ۔۔

کون جانے بڑی سرکار نے بھی انصاف کاتقاضا پورا کرنے کے لیئے اسرائیل کی آنکھ پھوڑنے کا بدلہ ساتھ کے گاؤں غزہ سے نہ لے لیا ھو اور باقی کے گاؤں اپنی خیر منانے کے لیئے صرف ہاں میں ہاں ملانے کے لیئے رہ گئےھوں ۔۔۔ یہ تو بڑی عقل کی باتیں ھیں ۔۔جنہیں ھم چھوٹے ملکوں کے چھوٹی عقل والے کیا جانیں ۔۔

ھم تو بس دو باتیں  جانتے ھیں کہ ھر جنگ میں ایک میر جعفر کا ھونا بہت ضروری ھوتا ھے اور ایک ایسے  منصف بادشاہ کا جس کا کام صرف انصاف کا تقاضا پورا کرنا ھوتا ھے اور  انصاف بھی وہ جس کے لیئے وہ جب چاھے کسی کی بھی آنکھ نکال کر کسی  کی آنکھ کا بدلہ لے لے ۔۔۔ اور انسانیت کا بول بالا کرنے کے لیئے  دنیا میں ایک غزہ نہیں بلکہ  چاھےتو ھر ملک کو غزہ بنا دے ۔۔!

دوستو ! سچ تو یہ ھے  کہ  آج غزہ تنہا  نہیں جل رھا بلکہ پوری مسلم امہ جل رھی ھے اور مسلمان حکمرانوں کی بے حسی اور  خاموشی کی اس آگ میں ھماری غیرت اور خودداری بھی جل رھی ھے ۔۔ اور باقی دنیا ھمارے لٹنے اور تنہا رہ جانے کا جشن منا رھی ھے ۔

 

 

 


:دیگر مضامین
(28.12.2008) دہشت گرد کون ؟ وہی جو خود کرب و بلا میں ھیں ۔از نگہت نسیم
(27.12.2008) کب تک ھمیں صرف مرنے والوں کا ماتم کرنا ھے۔از۔نگہت نسیم
(26.12.2008)  جمہوریت = عوام سرکار سب بےبس اور لاچار ۔از۔نگہت نسیم
(26.12.2008) اچھا بھلا بھارت حملے کی غلطی کیوں نہ کرے ۔از نگہت نسیم
(20.12.2008) ایک عجیب طرح کی اداسی ھے
(05.12.2008) میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کرؤں ۔از نگہت نسیم
(20.11.2008)  کھیل ھی کھیل میں سارے جگنو مار دیئے ۔از نگہت نسیم
(09.11.2008)  ہماری سویر کیسے ھو؟ از نگہت نسیم
(07.11.2008) میرا بھی ایک خواب ھے ۔از نگہت نسیم
(02.11.2008) صحافت عبادت ھے یا تجارت۔ از نگہت نسیم
(01.11.2008) عالمی اخبار کے اجرا پر پہلا اداریہ
(14.10.2008) امن کی فاختہ تو پاکستان میں موجود ہے ہمیں علم نہ تھا
(14.10.2008) امن کی فاختہ پاکستان کے آسمان پر کہیں نظرنہیں آرھی
(14.10.2008) قانون اور پاکستان میں “ن “ کا نقطہ
(14.10.2008) چالیس ھفتوں کی کہانی ایک ھفتے میں ختم
(14.10.2008) جونہی فیصلہ ہوا بھولی عوام کو مزید گمراہ کردیا جائے گا
(14.10.2008) جمہوری خاندان کی خاندانی آمریت
(14.10.2008) ‘‘تو ایک اک حرف جی اٹھے گا‘‘
(14.10.2008) قوموں کے مزاج انکے عروج و زوال کے امین ہوتے ہیں
(14.10.2008) احمد فراز ، اٍس بے بصر عہد کی زندہ مثال



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں