دوستو! آج یوں لگ رہا ھے جیسے غزہ نہیں جل رھا بلکہ پوری مسلم امہ کی غیرت اور خودداری جل رھی ھے ۔۔ اوربے حس دنیا ھمارے لٹنے اور تنہا رہ جانے کا جشن منا رھی ھے ۔
مسلمانوں کی آپس کی یکجہتی کی ضرورت پڑنے پر ھمیشہ کی طرح مسلمان حکمرانوں کی گہری خاموشی سے کوئی بھی نہیں چونکا ۔۔ہاں سب چونکے تو اس وقت جب یہ خبر آئی کہ اردن ، مصر اور سعودی عرب بھی غزہ کو لوٹنے ، نہتے لوگو کو جلانے اور مارنے کی سازش میں فرعونوں کے ساتھ شامل ھیں تو پہلے تو دکھ ھوا لیکن پھر یقین ھو گیا کہ تاریخ ھمیشہ کی طرح خود کو دھرانے بیٹھ گئی ھے ۔۔
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آخر تاریخ اپنے صرف سیاہ باب ھی کیوں دھراتی ھے ۔ اس کی روشن مثالیں کیوں لوٹ کر نہیں آ سکتی ۔ حالیہ ممبئی حملوں کے بعد پاک بھارت کی حالیہ کشیدگی پر جو دن رات اشتعال آمیز بیان بازی دونوں طرف جاری ھے ۔
اس کے پس منظر میں آج ایک بات تو طے ھوئی کہ اگر آج ھم اسرایئلی وحشت پر خاموش رھے تو کل ھمارا حال اس سے بھی بدتر ھو گا کہ فلسطینی توپھر بھی غیور اور بہادر قوم ھے جو صرف قومی یکجہتی پر یقین رکھتی ھے ۔ اور کئی دہائیوں سے تنہا ھی لڑتی آرھی ھے ۔ انکی نسلوں کے پاس کچھ بھی نہیں ھے سوائے ایک فلسفہ آزادی کے جس کی خاطر وہ آج تک نہیں ہاری اور نہ ھی ھارے گی ۔
قطع نظر اس بات کہ دنیا کے نقشے پر جنگ کہاں کہاں ھو رھی ھے اور روزانہ کتنے اور کیسے نہتے شہری شہید ھو رھے ھیں ۔۔؟ پھولوں جیسے بچے باسی پنکھڑیوں کی طرح کیوں بکھر رھے ھیں ۔۔؟ اور یہ بات بھی اب مجھے نہیں کرنی کون کس کے کیئے کی سزا پا رہا ھے ۔۔؟
میں تو یہ سوچ رھی ھوں کہ آخر جنگ کی ھی کیوں جاتی ھے ۔اس کے مفہوم و معنی ھر ملک کے لیئے الگ سہی پر جو بات مشترک ھے وہ تھی اپنے ملک کے شہریوں کی جان و مال کا تحظ ۔۔ جس کا حق ھر ملک کو ھوتا ھے ۔۔ ۔ اپنی قوم کی تحفظ کی باتیں کرنے والے جنگ کرتے ھوئے دوسرے ملک کے شہریوں کے تحفظ کا خیال کیوں نہیں رکھتے ۔۔؟ لیکن ھوتا یوں کہ جب بھی پرائی یااپنی آگ اپنے ملک میں یا کسی اور ملک میں دہکائی جاتی ھے تو اس کی آنچ سے اپنے گھربھی محفوظ نہیں رہتے۔
کہتے ھیں کہ کسی ملک میں ایک بادشاہ کادربار لگا تھا ۔مہمانوں کی ضیافت کا انتظام تھا ۔ سب طعام و کلام میں مشغول تھے ۔ اتنے میں ایک شخص آیا جس کی آنکھ نکلی ھوئی تھی اور خون بہہ رھا تھا ۔بادشاہ نے پوچھا کہ ماجرہ کیا ھے ۔ اس شخص نے بتایا کہ و ہ پیشہ ور چور ھے اور چوری کی نیت سے کسی ساھوکار کی بجائے ایک غریب جولاہے کے گھر داخل ھوگیا اور واپسی پر جب وہ دیوار کودنے لگا تو جولاہے کا ھتھیار اس کی آنکھ میں گھس گیا اور آنکھ باھر آ گئی ۔
یہ سن کر بادشاہ کو غصہ آ گیا اور حکم دیا کہ جولاہے کی آنکھ بدلے کو طور نکال دی جائے ۔ جولاہا بہت دردمندی سے بولا سرکار آپ کا فیصلہ میری سر آنکھوں پر لیکن میر اکام دونوں آنکھوں کا ھے سو آپ ایسا کریں کہ ساتھ کے گاؤں میں ایک موچی رھتا ھے اس کاکام تو ایک آنکھ سے بھی چل سکتا ھے سو آپ
اس کی آنکھ بدلے میں نکال لیجیئے ۔ چناچہ دوسرے دن بادشاہ کے حکم پر موچی کی ایک آنکھ بدلے کے طور پر نکال کر انصاف کا تقاضا پورا کیا گیا ۔۔
کون جانے بڑی سرکار نے بھی انصاف کاتقاضا پورا کرنے کے لیئے اسرائیل کی آنکھ پھوڑنے کا بدلہ ساتھ کے گاؤں غزہ سے نہ لے لیا ھو اور باقی کے گاؤں اپنی خیر منانے کے لیئے صرف ہاں میں ہاں ملانے کے لیئے رہ گئےھوں ۔۔۔ یہ تو بڑی عقل کی باتیں ھیں ۔۔جنہیں ھم چھوٹے ملکوں کے چھوٹی عقل والے کیا جانیں ۔۔
ھم تو بس دو باتیں جانتے ھیں کہ ھر جنگ میں ایک میر جعفر کا ھونا بہت ضروری ھوتا ھے اور ایک ایسے منصف بادشاہ کا جس کا کام صرف انصاف کا تقاضا پورا کرنا ھوتا ھے اور
انصاف بھی وہ جس کے لیئے وہ جب چاھے کسی کی بھی آنکھ نکال کر کسی کی آنکھ کا بدلہ لے لے ۔۔۔ اور انسانیت کا بول بالا کرنے کے لیئے دنیا میں ایک غزہ نہیں بلکہ چاھےتو ھر ملک کو غزہ بنا دے ۔۔!
دوستو ! سچ تو یہ ھے کہ آج غزہ تنہا نہیں جل رھا بلکہ پوری مسلم امہ جل رھی ھے اور مسلمان حکمرانوں کی بے حسی اور خاموشی کی اس آگ میں ھماری غیرت اور خودداری بھی جل رھی ھے ۔۔ اور باقی دنیا ھمارے لٹنے اور تنہا رہ جانے کا جشن منا رھی ھے ۔