16.10.2026, 10:02am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

خطبئہ زینب سلام اللہ علیہا
31.12.2008, 01:20am , بدھ (GMT+1)

سید محمد شبیب حسینی
پڑھ کے نہج البلاغہ دنیا میں لوگ اچھے ادیب ہوتے ہیں
تیرے خطبوں کا فیض ہے زینب آج ہم میں خطیب ہوتے ہیں

گیارہ ہجری میں ایک بوسیدہ مکان سے پیوند لگی چادر زیب تن کئے ایک خاتون در بار خلافت کی طرف گامزن تھی وہ خاتون جس کی چادر کے پیوندوں کی ضوفشانی ماہ وانجم کی چمک دمک او رنورانیت کو شرمندہ کئے دے رہی تھی وہ خاتون کی جو سراپا نور تھی جس کی صداقت کا یہ عالم یہ تھا کہ اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے خالق کائنات نے خلعت جنت اس کے بچوں کے زیب تن کرنے کے لئے رضوان جنت کو خیاط بن جانے کا حکم دیا، جس کی محبت اور جانشانی کا یہ عالم تھا کہ رحمتہ للعالمین نے اسے امّ ابیہا کے لقب سے نوازا جس ک زہد و عبادت کا یہ عالم تھا کہ اسے زینت محراب، فخرالسا جدین علی ابن ابی طالب علیہما السلامنے عبادت میں اپنا بہترین شریک قرار دیا وہ بزرگ خاتون احقاق حق اور چہرئہ باطل سے پردہ ہٹانے کے لئے دربار کا رخ کرتی ہیں اور اس بی بی نے دربار خلافت میں ایسا خطبہ پڑھا کہ چشم کائنات متحیر ہو گئی ۔ عرب کے فصیح و بلیغ افراد اپنے کو گونگا محسوس کرنے لگے اور علماء کے لئے یہ معلوم کر پانا مشکل ہو گیا کہ اس خطبہ میں کہاں خدا کا کلام ہے اور کہاں بنت پیا ممبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا!
اس بی بی نے بھرے دربار میں ظالموں کو شر مسار کر دیا اور باطل کے چہرے سے اس طریقے سے نقاب ہٹا ئی کہ قیام قیامت تک کے لئے ہر حق جو کیلئے حق و باطل کے درمیان امتیاز کر پانا آسان ہو گیا اور اس خاتون نے یہ بتایادیا کہ دیکھو جب باطل زیادہ سر اٹھانے کی کوشش کر یگا ، تو ہم میں سے کوئی آگے آئے گا اور باطل کو اس کی سر پچیوں کا مزہ ضرور چکھا ئے گا اور اگر ضرورت پڑی تو اس امر کو انجام دینے کے لئے خاندان بنی ہاشم کی عورتیں بھی قدم آگے بڑھا سکتی ہیں۔

وہ عظیم کارنامہ جو شہزادی اسلام نے 11ھ میں انجام دیا تھا 61 ھ میں آپ کی بیٹی عقیلہ بنی ہاشم، ثانی زہرا جناب زینب کبریٰ سلام اللہ علیہ نے دہرا یا 61ھ میں جب ظلم و استبدا د اپنی انتہائی منازل تک پہنچ رہا تھا، باطل کو سر پیچیاں حد سے گذر رہی تھیں جب درندگی کے چنگل میں انسانیت دم توڑتی نظر آ رہی تھی ، شرافت و صداقت کو جب ظلم و بربریت نے اپنے سیاہ بادلوں کے گھیرے میں لے لیا تھا اس دیانت کو لباس الحاد پہنانے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ دین اسلام ویران گلیوں اور سنسان بیابانوں میں ناصر و مددگار کی تلاش میں سر گرداں تھا، خلافت کے نام پر اسلام کا مذاق اڑا یا جاا رہا تھا ، در بار خلافت مداریوں اور طوائفوں کا اڈا بن گیا تھا، پھر ایسے ماحول میں کچھ دینداروں کی نگاہیں جناب زہرا سلام اللہ علیہا کوتلاش کر رہی تھیں، اس وقت جناب زہرا سلام اللہ علیہا تو نہ تھیںلیکن ثانی زہرا سلام اللہ علیہانے یہ آوا ز دی کہ اگر زہرا نہیں تو ثانی زہرا موجود ہے ، اور اس باعظمت خاتون نے دربار شام میں وہ شجاعانہ خطبہ دیا کہ زبانیں یہ کہنے پر مجبور ہو گئیں کہ :

دلیر باپ کی بیٹی کا نام ہے زینب

اس خطبے سے سوتے ہوئے ذہن جاگنے لگے چہرہ باطل سے پردہ اٹھ گیا ، وہ ایسا خطبہ تھا کہ جسے سن کر لوگ دنگ رہ گئے ، جناب زینت سلام اللہ علیہاکی تقریر سننے کے بعد لوگوں کے لئے یہ سمجھ پانا مشکل ہو گیا کہ کوئی خاتون دربار خلافت میں تقریر کر رہی ہیں یا، علی مرتضیٰ مسجد کو فہ میں خطبہ دے رہے ہیں ، وہ خطبہ اس قد حکمت آمیز تھا کہ صاحبان عقل و خر آج بھی یہ کہتے ہوئے نظر آرہے ہیں

دیار شام میں خطبہ حکیما نہ تھا زینت کا

کربلا میں امام حسین علیہ السلامکی شہادت کے بعد مقصد حسینی کو دنیا تک پہونچانے والاکوئی نہ تھا اگر زینب سلام اللہ علیہا نے سید سجاد علیہ السلام کے ساتھ اس کام کو انجام نہ دیا ہوگا، اس وقت کہ جب درباری مؤرخین سید الشہداء علیہ السلام کو ایک خارجی سے تعبیر کر رہے تھے، جب ضمیر فروش مقررین منبر رسول کے خلاف تبلیغات سوء کر رہے تھے تو وہ زینب سلام اللہ علیہا ہی تھیں کہ جنہوں نے آراستہ دربار میں سیکڑوں کے مجمع میں اثبات حق کے لئے اپنے لبوں کو جنبش دی اور خواب غفلت میں پڑے ذہنوں کو جھنجھوڑا، ہفتوں کی پیاس کے باوجود ایسی تقریر فرمائی کہ دربار خلافت میں ایک تلاطم مچ گیا ، یزید یت دم توڑنے لگی، اور اس طریقہ سے زینت نے بھرے دربار میں فتح حسینی کا اعلان کر دیا ثانی زہرا سلام اللہ علیہااثبات حق کے لئے اور چہرئہ باطل سے نقاب ہٹانے کے لئے زہرا ہی کی طرح آیات قرآنی کا سہارا لیا اور فرمایا کہ شکر ہے عالمین کے رب کا، درورد و سلام و آل رسول پر، خدائے پاک نے صحیح فرمایا ہے کہ ﴿عم کان عاقبۃ الذین اباؤ االسوء ان کنبو ابأیات اللہ و کانو ایہا یستہزنون﴾ برے کام کرنے والوں کا انجام برا ہے کہ ان لوگوں نے آیات خدا کی تکذیب کی اور اس کا مذاق اڑایا اے یزید کیا تو یہ گمان کرتا ہے کہ تو نے ہمارے لئے زمین و آسمان کے دروازوں کو بند کر دیا ہے اور ہم کو غلاموں کی طرح پھرایا ہے ، تو ہم خدا کے نزدیک ذلیل ہو گئے اور تو ذی وقار ؟ اور اس طرح سے ہم پر تیرا غلبہ ہو گیا، لہٰذا خدا کے نزدیک تیری عزّت اور سر بلندی کے مترادف ہے ؟ پس تو نے تکبّر کیا اور یہ سمجھ بیٹھا کہ فاتح عالم ہے تھوڑا قدم بڑھا، کیا قول خدا کو بھلا بیٹھا ہے :
﴿ولا یحسبنّ الذین کفر واانّما نملی لہم لیزدادواانسمأ و لہم عذاب الیہم﴾

کافروں کو یہ گمان نہیں کرنا چاہئے کہ ہم نے انہیں مہلت دی اس لئے کہ ہم ان کا بھلا چاہتے ہیں ، نہ ! ایسا نہیں ہے، بلکہ ہم نے انہیں مہلت دی تاکہ وہ گناہ زیادہ کریں اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے آپ یزید کو مخاطب کر کے آگے ارشاد فرماتی ہیں کہ:

﴿ أمن العدل با بن الطلقاء تضبرک ہرابرک و امائک و بو فک بنات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بایاافد ھتلت بنور ہن و ابدلت وجو ہنّا﴾
...... ا ے میرے جد کے آزاد کردہ غلام کے بیٹے کیا یہی انصاف ہے کہ تو اپنی عورتوں اور کنیزوں کو تو پس پردہ رکھے اور رسول زادیوں کو اسیر کر کے کشاں کشاں پھرائے؟ بے پردہ شہر بہ شہر لے جایا جائے ؟ اور نا محرموں کی نگاہیں ان کے چہروں پر ہو ں تو نے ذریت پیغمبرکا خون بہایا کہ جو آل عبدالمطلب میں روئے زمین پر ستاروں کے مانند تھے تو نے جو یہ کہا کہ :
لیث اتبا فی ببدر نہروا جزع الخزرج من وقع الال
لعبث ہما ئم با لملک فدا ضبر جاء ولا وہی نزل
تو جس طریقہ سے تو نے آج اپنے بزرگوں کو یاد کیا اور اپنے اسلاف کو آواز دی، پریشان نہ ہو کہ عنقریب تو ان سے ملے گا اور یہ آرزو کر ے گا کہ اے کاش تیرے ہاتھ شل ہو گئے ہوتے اور تیری زبان گنگ ہو گئی ہ ہو تی اور تو وہ باتیں نہ کہتا جو کہیں وہ کام نہ کر تا جو کیا !
بہ خدا قسم تو نے خود اپنی کھال کھینچی، اپنے گوشت کو ٹکڑے ٹکڑے کیا، تو رسول کے پاس حاضر ہوگا اس حال میں کہ تیرے دوش پر خون آل رسول صلی اللہ علیہ و آلہ کا بار ہوگا،

﴿ولا تحسبنّ الذین قتلو افی سبیل اللہ امواتا بل اہیاء عند ربہم یر زقو ن ﴾

و کفیٰ با للہ ہما کمأو بحمدخصمأ و بجبرئیل ظہیرأ(رفع المسجوع ض۔۵۱)

جناب زینب سلام اللہ علیہا کا خطبہ الفاظ کا وہ بحر ذ خار ہے کہ جس کی و شجاعت صبر و استقامت علم و حلم کے موتی کسب کئے جا سکتے ہیں خلاصئہ کلام یہ کہ جناب زینب سلام اللہ علیہاکا ایک خطبہ اس قدر مؤثر تھا کہ جس نے اسلام کی جاتی ہوئی آبرو کو بچا لیا مقصد حسینی کو پائمال ہونے سے محفوظ کر لیا کلمہ توحید کو صبح قیامت تک کے لئے جلا بخش دی انسانیت کو حیات جاوید عطا کی اور یہ بتادیا کہ کل ہماری ماں نے چہرئہ باطل سے نقاب ہٹائی تھی اور آج ہم اس کارنامہ کو اس طرح دوہرارہے ہیں کہ تا قیامت اس کی یاد باقی رہے گی۔

عصمت و عظمت و تو قیر مجسم ز ینب گلشن حیدر کرار کی شبنم زینب
کار شبیر کی حامی معظم زینب راہ اسلام میں قربانی پیہم زینب
حق عطا قطرے کو کر سکتا ہے دریا ہونا
ورنہ آسان نہیں ثانی زہرا ہونا
٭٭٭٭٭
یو این این

:دیگر مضامین
(29.12.2008) بنی اسرائیل سےریاست اسرائیل تک!
(28.12.2008)  ادبی بُھجنگ کے نام حیدر طباطبائی کا پیغام
(28.12.2008) لکھنؤ عزاداری کا تاریخی مرکز
(28.12.2008) عظمتِ آبائے رسول
(28.12.2008) واقعہ کر بلا کا پسِ منظر
(28.12.2008) والدِ محترم حضرت حسن اور حسین جناب علی ابنِ ابی طالب کرم اللہ وجہہ
(26.12.2008) بے نظیر کی زندگی کا آخری سفر
(23.12.2008) قوم کیلئے بے غیرتی و شرمندگی کا گھونٹ۔
(23.12.2008)  ‘‘کی دم دا بھروسہ یار، دم آوے نہ آوے‘‘
(22.12.2008) راجکماریوں کا شاہی غسل
(22.12.2008) جوتا مارنے سے کیا ثابت ہوا؟
(19.12.2008) پاکستان میں جو تا چلتے چلتے کیوں رہ گیا ؟
(18.12.2008) آئیے جوتا جوتا کھیلیں
(17.12.2008) اردو کا قاعدہ یا القائدہ
(16.12.2008) الف سے الزیدی - ب سے بوٹ
(15.12.2008) ب سے بُش۔ب سے بوٹ
(12.12.2008) کرکٹ کمنٹیٹر محمد ادریس کا پیغام
(30.11.2008) حج اور تاریخِ کعبہ
(25.11.2008) عیدالاضحی:بیس لاکھ کا بیل اور پانچ لاکھ کا بکرا
(25.11.2008) کارٹون اور حقیقت میں کوئی فرق نہیں



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں