17.10.2026, 11:53am , ہفتہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان کا کردار۔11ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
10.03.2012, 06:40am , ہفتہ (GMT+1)

سید اکمل حسین ۔ لندن
گزشتہ قسط میں بات یہاں تک پہنچی تھی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسی لئے امام رضا علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے کہ تم کو  امر بالمعروف اور نہیں عن المنکر کرنا چاہئے  اگر نہیں کرو گے تو تم پر برے لوگ مسلط ہو جائیں گے پھر تمہارے نیک لوگ چاہئے جتنی دعائیں کریں قبول نہیں ہو گی۔ آئیے اپنے اپنے حصے کی شمع روشن کریں اور پہلے اپنے ارد گرد سے دین اور معاشرے کو نقصان پہنچانے والےافراد کی نشاندہی کریں جو چاہے کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں۔

فرامین آئمہ پر عمل کی توفیق بھی من جانب اللہ ہے اور اسکا انحصار نیت پر بھی ہے کہ کیا آپ واقعی یہ کام خوشنودی پروردگار کے لیئے کر رہے ہیں یا اسمیں آپ کوئی ذاتی منفعت یا مفاد مضمر ہے۔ یہ اپنی طرح کا ایک جہاد ہے جس کے لیئے پہلے اپنی ذات سے جنگ کرنی پڑتی ہے اور پھر معاشرے سے کہ جو ملائیت کے حصار میں ہے اور جسے صدیوں سے یہ بے عملی تعلیم کی گئی ہے کہ عیسائیت کی طرح چرچ میں کچھ پیسے دیدو تماہرے گناہ بھی معاف ہو جائیں گے اور روز محشر بخشش کا سامان بھی ہو جائے گا۔

یہی وہ بے عملی ہے جو زہر کی صورت میں ملائیت نے ذاتی مقاصد کے لیئے اسلامی معاشروں میں سرایت کی ہے اور بیچارے علم و تعلیم سے دور عام مسلمان اور مومن نے ہی ایک عام دستار و عبا پوش کو اپنا نجات دہندہ اور روز محشر بخشش کے لیئے اپنا سفارش کنندہ سمجھ لیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عام آدمی کا استحصال کرنے والے ان طبقوں کو طشت از بام کرنے کے لیئے جو بھی آواز بلند کرتا ہے اسے مطعون ہونا پڑتا ہے ،لعنت سننی پڑتی ہے اور عبادت خانوں کی داخلے پر پابندی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دین کے نام پر اہل ایمان کو بے وقوف بنانے والے یہ لوگ ایسے افراد کو دین دشمن اور اسلام دشمن قرار دیتے ہیں گویا کسی فرد پر تنقید اسلام پر تنقید ہے۔ اسی کا نام تو استحصال ہے

جرمنی کی ایک عبادت گاہ کا معاملہ جس کا ذکر میں نے گزشتہ اقساط میں کیا تھا اب سنجیدہ رخ اختیار کرتا جا رہا ہے اور ہائیڈل برگ کے سید جمال الدین جنکا داخلہ عبادت گاہ میں صرف اس لیئے بند کردیا گیا کہ وہ زیر تعمیر مسجد کا حساب کتاب مانگنا چاہتے تھے،انہوں نے اب مقامی پولیس سے رجوع کرنے کا سوچا ہے۔ اس درخواست کے اہم نکات انہوں نے مجھے بھی ارسال کیئے ہیں لیکن چونکہ ابھی انکی طرف سے انکو مشتہر کرنے کی اجازت نہیں اس لیئے اسے یہاں شائع نہیں کر رہا۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس آدمی نے مسجد کے تعمیری فنڈ میں ایک خطیر رقم دی ہے کیا شعری،اخلاقی اور قانونی طور پر اسکا یہ حق نہیں کہ وہ کم ازکم یہ ہی پوچھ لے کہ ایک خاص مقصد کے لیئے دی ہوئی اسکی رقم کہاں استعمال ہوئی ہے؟ اور کیا یہ انتظامیہ کی شرعی،اخلاقی اور قانونی ذمیداری نہیں کہ وہ عطیہ دینے والوں کی تشفی کریں؟ اب اگر جرمنی کی پولیس میں دھوکہ دہی کا یہ معاملہ جائے گا تو ذرا سوچیں کہ بدنامی کس کی ہو گی۔ غیر مسلموں کی نظر میں تو یہ افراد کا مسلہ نہیں مسلمانوں کا مسلہ ہے؟ کیا ہم اس طرح دین کی خدمت کر رہے ہیں یا دین کو بدنام کر رہے ہیں؟

مختلف عبادت گاہوں سے اسلام کے خلاف آج کل جوکچھ ہورہاہے ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت ہورہاہے یہ کوئي اتفاق نہیں ہےکہ اسلام کے خلاف جوکچھ امریکہ جرمنی برطانیہ اور دیگر مشرقی اور یورپی ممالک  کے علاوہ اپنے ہر دل عزیر ملک پاکستان کی عبادت گاہوں جو نفاق آپس میں پھیلایا جا رہا ہے   -جوکہ ایک شیطانی سامراجی طاقت کا سر چشمہ بھی ہے  - وہی باتیں دوسرےاندازمیں عیسائیت کے اعلی رتبہ مذھبی رہنما کی زبان پر بھی جاری ہوتی ہیں۔آج کی اس تحریر میںاس  کا مواخذہ کرنا نہیں چاہتا بلکہ جس  مسئلہ کا تجزیہ کرنا کی کوشش کر رہا ہوں  یہ محض اتفاق نہیں ہوسکتا۔

جرائد میں رسول اسلام کی توہین،دین اسلام پر تشدد پسند ہونے کے الزامات کے ساتھ ساتھ مختلف طرح سے عبادت خانوں میں نا اہل افراد کا سربراہ ہونا اور وہ اعتراضات، جو مسلمان قوموں پرطرح طرح کی تہمیتیں،اس کے علاوہ  عبادت خانوں کے سربراہاں کی خاموشی اور ان جانب سے صلیبی جنگ اور مسلمانوں کے خلاف اعلانیہ مخاصمانہ بیانات،یہ محض اتفاق نہیں ہوسکتا۔ ان عبادت گاہوں کے راستے دشمن ،ملت اسلامی کے خلاف صف آراء ہوچکا ہے اور ہرطرح سے مسلمانوں کو نقصان پہنچانےکے درپۓ دکھائي دیتاہے

یہ بھی ایک  حقیقت ہے اور  نہایت اہم اور قابل توجہ ہےکہ اس پیکار میں ظاہری اور مادی لحاظ سے کی جانے والی ناکام  منصوبہ بندیوںسے عبادت گاہوں کی تعمیراتی کاموں میں روکاوٹ بھی پیدا کی جاتی ہے جب بھی ایام عزا و میلاد قریب آتے ہیں شور مچایا دیا جاتا ہے کہ امسال تعمیر کے لئے رقم کی ضرورت ہے اور طرح طرح کے حربے استمعال کر کے معصوم عوام سے رقم بٹورتے ہوئے نظر آتے ہیں اوریہ ایام جیسے ہی گزر گئے نام نہاد سربراہان ناکام ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔   یہ مسئلہ نہایت توجہ کا طالب ہے، یہ ایک حقیقت ہے ۔

عبادت گاہوں کے نام نہاد قابض اور  سامراجی طاقتوں پر ان سادہ لوح مسلمانوں کا، یقین کرنا مشکل ہو گیا ہے اور جہاں ایک سچا اورمخلص مسلمان جو  اس تحریک میں حصہ لیتا ہے اس کو یا تو عبادت گاہ  سے برطرف کر دیا جاتا ہے اور یا پھر اس کے داخلے پر پابندی لگا دی جاتی ہے کچھ ایسے ہی واقعات لاس انجلس ، شکاگو اور برطانیہ  کے علاوہ پاکستان کی عبادت گاہوں میں عام دیکھنے  کو ملتے ہیں۔ پولیس تھانہ تو ایک عام سی بات ہو چکی ہے۔ اور امریکہ اور برطانیہ میں تو یہودی وکلا سے سے ان معصوم مسلمان کے خلاف مدد لیتے ہوئےپائے گئے ہیں۔

 اب کچھ حقائق  جو سامنے آئے ہیں ان تمام واقعات کے خلاف آواز بلند کر کے  بعض ضروری اقدامات کرنے ہونگے جن میں سب سے پہلا ضروری امر"اتحاد"ہے اسلامی اتحاد اور اسلامی یکجہتی ۔

مسلم عبادت گاہوں کے سربراہوں کی اب تو یہ عادت بن چکی ہے کہ  نفاق اور گروہ بندی کر کے  آپس میں لڑاکر عبادت گاہ کی سربراہی کو قائم رکھنا ان کا ہدف ہوتا ہے۔ ابھی کچھ عرصہ قبل برطانیہ اور امریکہ کے  اہم عبادت خانوں  اس قسم کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ اور یہ روایت  بہت پہلےسے چلی آرہی ہے "لڑاؤاور حکومت کرو"ایک پرانی پالیسی ہے اس سلسلے میں ہم سب نے بہت کچھ کہا سنا ہے اور ہم سب کو یہ معلوم ہے لیکن افسوس کہ بعض موقعوں پر ہمارادشمن یہی پالیسی اپناتاہے اور ہم غافل ہیں ۔اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کی وجہ سے۔غلط تجزیہ و تحلیل کی وجہ سے اپنی تنگ نظری کی وجہ سے اپنے ذاتی یا کچھ دنوں کے مفادات کو طویل مدت مفادات پرترجیح دینے کی وجہ سے ۔

آج کے حالات پرنگاہ ڈالیں تو عبادت  گاہوں کی پالیسی ہے مختلف گروہوں کے درمیان جنگ چھیڑنا ہے  شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پھیلانا ہے  یہ ساری پالیسیاں جانی پہچانی ہیں ،ہم سب کواس کا سب سے پہلے علاج کرنا چاہیے۔ہم یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ امت اسلامی کااتحاد ایک ضرورت ہے ۔اسلامی یکجہتی میں ایک طرح سے سارا عالم اسلام شامل ہے ہمیں یکجہتی کا مظاہرہ کرناہوگا ایک دوسرے کی مددکرنی ہوگي

ان عبادت گاہوں میں جوہدف اتحاد کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں ان میں اہم ترین بعض غلط فہمیاں اور جہالت ہے ہمیں ایک دوسرے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوتا ایک دوسرے کے سلسلے میں توھمات کا شکار ہیں ایک دوسرے کے عقائدوافکار کے بارے میں غلط فہمیوں کا شکارہیں،شیعہ سنی کے بارے میں سنی شیعہ کے تعلق سے ایک قوم دوسری قوم کے تعلق سے اپنے ہمسائے کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہیں اور تمام عبادت گاہوں کے سربراہ  بھی ان  غلط فہمیوں کو بھرپورطرح سے ہوا دے رہا ہیں اور افسوس کہ کچھ لوگ ان ہی غلط فہمیوں کے زیر اثر غلط تجزیے کرتے ہیں دشمن کی جامع سازش کو نظر اندازکردیتے ہیں اس کے ہاتھوں کا کھلونا بن جاتے ہیں

اگر چہ پیشہ کے اعتبار کے ترکھان یا ٹیکسی چلانے کا کام انجام دیتے ہیں اور عبادت گاہ کا سربراہ ان سے غلط فائدہ اٹھاتاہے ۔کبھی کبھی ایک چھوٹا سا محرک انسان کو بیانات دینے اور موقف اختیارکرنے پر مجبورکردیتاہے ایسا کام کرنے پر مجبورکرتاہے کہ سربراہ اپنی کرسی کے چکر میں  اس سے اپنی سازش کے حق میں استفادہ کرتاہے جس کے نتیجے میں مسلمانوں کے درمیان فاصلہ بڑھ جاتاہے ۔

عصر حاضرمیں عبادت خانوں  کے مسائل کا بنیادی حل "اتحاد"ہے مسلمانوں کو آپس میں متحد ہونا ہوگا،علماء اوردانشورحضرات مل بیٹھ کراتحاد اسلامی کامنشورتیارکریں نہ کہ مسلکی ٹی وی پر بیٹھ کربیان کا سلسلہ جاری کریں ایسا منشورتیار کریں کہ کج فہم و متعصب اور وابستہ  افراد مسلمانوں کی بڑی جماعت کو آسانی سے اسلام سے خارج قرارنہ دےسکے اور ان پر کفر کا فتوی نہ لگاسکے۔

آج تاریخ اسلامی علماء و دانشوروں سے تقاضہ کررہی ہےکہ اس طرح کا منشورتیارکیاجائے کہ اگرآپ نے یہ کام انجام نہ دیا  تو آئندہ آنے والی نسلیں آپ کا مواخذ ہ کریں گي۔آپ سربراہاں عبادت گاہوں کے اقدامات کو دیکھ رہے ہیں،  جو اسلامی تشخص کو نابود کرنے اور امت میں اختلافات ڈالنے کے لۓ اس کی کوششوں کا مشاھدہ کررہے ہیں۔ آپس میں بیٹھیں علاج تلاش کریں اصول دین  کو فروع دین  پر ترجیح دیں فروع دین میں ممکن ہے ایک مذھب کے پیروکاروں کے درمیان اختلاف موجود ہواس میں کوئي حرج نہیں ہے ۔مسلمانوں کے درمیان بہت سے مشترکات پائے جاتے ہیں ان مشترکات کے محورپر سب اکٹھا ہوں

عبادت گاہوں کے سربراہ اور نام نہاد ملا  کی سازشوں اور چالوں سے ہوشیا ررہیں۔خواص (اھل علم )آپس میں مذھبی امور پر بحث و گفتگو کريں لیکن عوام میں یہ بحثیں نہ لے جائيں ایک دوسرے کی نسبت دلوں میں کدورت پیدا نہ کریں اسلامی فرقوں اسلامی قوموں اور ایک قوم کے مختلف گروہوں کے درمیان  دشمنیوں میں اضافہ نہ کریں ۔

 یہ سربراہ اور  اور زبردستی جابر و ظالم ملا و حاکم قابض عبادت گاو  اسلام کو نیست نابود کرنا چاھتاہے اسلام کو نشانہ بنانا چاھتاہے ،یہ سربراہ فنون لطیفہ،تشہیراتی ہتھکنڈوں سیاست اور ذرایع ابلاغ سے استفادہ کرتے ہوۓ اسلام کے خلاف جو اپنا  پروپگینڈا کررہا ہے کہ اسلام اور ادیان کے لۓ خطرہ ہے ایسا نہیں ہے اسلام دیگر ادیان کا مخالف نہیں ہے ۔اسلام وہی دین ہے کہ جب اسلامی سپاہ نے غیر مسلم سرزمینیں فتح کیں تو دیگر ادیان کے پیرووں نے اسلامی رحمت و مھربانی پر  شکروامتنان کا اظہارکیا اور مسلمانوں سے کہا کہ آپ ہم پر ہمارے سابق حکمرانوں سے زیادہ مہربان ہیں،اسی شام کے علاقے میں جب مسلمان فاتحیں داخل ہوۓ تو یہان بسنے والے یہودیوں اور عیسائيوں نے مسلمانوں سے کہا کہ آپ لوگ بڑی مہربانی سے ہمارے ساتھ پیش آرہے ہیں مسلمانوں نے عوام کے ساتھ نرم رویہ اختیارکررکھاتھا۔

ہم نے اسلامی امت کو کیا اس تجربے سے آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ملت ایران نے استقامت ،خدا پر توکل اور خود اعتمادی کے اپنے تجربے سے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر آپس میں ملت میں اتحاد ہو تو بڑے سے بڑے مادی دشمن کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ یہاں اسلام کو ایک منڈی کی جنس بنا کر بیچا جاتا ہے۔ دین میں تو مسالک کے نام پر تقسیم ہے ہی لیکن مسالک میں بھی افراد پرستی کے نام پر گروپ بندی ہے۔ اب رہی سہی کسر مسلکی ٹی وی چینلوں نے پوری کر دی ہے جہاں ایک ہی مسلک کے لوگ ایک دوسرے کو غاصب اور دھوکے باز قرار دیتے ہیں اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اس پلیٹ فارم کو اپنی کردار سازی کے لیئے استعمال کر رہے ہیں۔

اپنے گریبان میں جھانکیئے کہ کیا روز محشر آپکے پاس اپنے حق میں دلیل کے طور پر پیس کرنے کے لیئے اعمال نامے میں کچھ ہے؟ کسی ٹی وی کو دیئے ہوئے پیسے، میلاد و مجلس کے لیئے دی ہوئی رقوم اور اسلام میں بھیلایا ہوا تفرقہ اس روز کام نہیں آئے گا۔ اس روز اعمال کی بنیاد پر فیصلہ ہو گا اور ہم میں سے کتنے کلمہ گو ہیں جو اپنے نبی،امام اور رہبر کو اس روز شرمندہ نہیں کریں گے۔

جاری ہے۔۔۔باقی اگلی قسط میں

:دیگر مضامین
(10.03.2012) یورپ اور برطانیہ کے مقبول مداح اہلبیت صفدر رترمذی کا چہلم دس مارچ ہفتے کو
(05.03.2012) پاک یورو جرنلسٹس فورم' کے قیام پر دنیا بھر سے مختلف حلقوں کے پیغامات کا سلسلہ جاری
(04.03.2012) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان کا کردار۔10ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(03.03.2012) پاک یورو جرنلسٹس فورم' کے قیام پر ادبی،صحافتی ،دینی اور سماجی تنظیموں کے پیغامات
(01.03.2012) فرینکفرٹ میں عظیم الشان جلسہ بسلسلہ عید میلادُالنبی کی رپورٹ
(01.03.2012) فرینکفرٹ جرمنی میں انجمن غلامان مصطفیٰ کے زیر اہتمام جلسہ عید میلاد نبی
(29.02.2012) ڈرامہ نگار دلشاد نسیم کے شوہر اور ڈاکٹر نگہت نسیم کے بہنوئی کے قُل ادا کر دیئے گئے
(25.02.2012) یورپ کی سطح پر پاکستانی صحافیوں کی تنظیم''پاک یور جرنلسٹس فورم'' کا قیام عمل میں آیا ہے
(25.02.2012) انجمن غلامان مصطفیٰ جرمنی فرینکفرٹ کے زیر اہتمام جلسہ عید میلاد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
(24.02.2012) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان کا کردار۔9 ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(22.02.2012) معروف شاعرہ ارشاد عرشی ملک کے شوہر راحت نسیم ملک کا انتقال
(20.02.2012) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان کا کردار۔8 ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(15.02.2012) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان کا کردار۔7 ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(14.02.2012) معروف شاعر ،ادیب اور ادبی جریدے ..تخلیق.. کے مدیر اظہر جاوید لاہور میں انتقال کر گئے
(13.02.2012) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان کا کردار۔چھٹی قسط ۔ سید اکمل حسین
(13.02.2012) عالمی اخبار کے بیورو چیف لند ن سیداکمل حسین کے تایا زاد بھائی انتقال کر گئے
(11.02.2012) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان کا کردار۔5ویں قسط۔سید اکمل حسین
(08.02.2012) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ حرف آخر کے طور پر چند معروضات
(08.02.2012) معروف شاعرہ اور افسانہ نگار محترمہ ثمر بانو ہاشمی انتقال کر گئی ہیں
(06.02.2012) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان کا کردار۔چوتھی قسط۔سید اکمل حسین



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں