|
کیا امریکہ کی دریافت چینی مسلم نے کی؟ از ۔ صفدر ھمدانی
30.05.2010, 01:05am , اتوار (GMT+1)
صفدر ھمٰدانی۔۔ لندن
آج کے کالم کا اصل موضوع امریکہ کی دیافت کا ایک نیا تحقیقی پہلو ہے۔
امریکہ کی دریافت کا سہرا یوں تو ایک طویل زمانے سے کولمبس کے سر باندھا جاتا ہے لیکن اب تحقیق کے نئے ڈانڈے چین سے ملتے نظر آتے ہیں اور انہیں شواہد کی بنیاد پر محققین یہ سوچ رہے ہیں کہ آیا امریکہ کی دریافت ایک چینی کا کارنامہ نہیں تھی؟ دو ہزار چھ میں چین میں ایک قدیم نقشہ کی نمائش بیجنگ اور لندن میں کی گئی تھی جس سے یہ ثابت ہوتا ہےکہ کیا کولمبس سے پہلے ایک چینی شخص امریکہ پہنچا تھا۔اس نقشے میں برطانیہ شامل نہیں۔
اس نقشہ میں شمالی اور جنوبی امریکہ ہے اور یہ تحریر ہے کہ یہ سن 1418 میں بنائے جانے والے ایک نقشے کی نقل ہے جو سن 1763 میں تیار کی گئی۔ اب اگر یہ نقشہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس سے اس نظریے کو بھی درست ماننا ہو گا کہ سن 1492 میں کولمبس کی امریکہ آمد سے قبل چینی سیاح امریکہ پہنچے تھے۔
ماہرین اس وقت اس بات کی تحقیق کررہے ہیں کہ کیا نقشے کی یہ نقل حقیقت میں 1763 میں تیار کی گئی۔ اس پر ماہرین کی رپورٹ بس تیار ہو ہی چکی ہے۔
اس نقشے کے ساتھ چینی رسم الخط میں یہ بھی کندہ ہے کہ اسے مو ای تونگ نے بنایا تھا اور چینی شہنشاہ یونگل کے اقتدار کے سولہویں سال یعنی سن 1418 میں تیار کیے جانے والے ایک نقشے سے اس کی نقل تیار کی گئی۔نقشے میں افریقہ اور آسٹریلیا دکھایا گیا ہے لیکن یورپ کے ملک جیسے برطانیہ کا نام نہیں ہے۔
سن دوہزار ایک میں اس نقشے کو شنگھائی میں ایک تاجر سے چینی وکیل اور کلیکٹر لیوگانگ نے خریدا تھا۔ ہفتہ وار جریدے اکانومِسٹ کے مطابق، لیو گانگ کو نقشے کی اہمیت اس وقت معلوم ہوئی جب انہیں برطانوی مصنف گیوِن مینزیز کی ایک کتاب کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ مینزیز کی اس کتاب کا نام ہے: ’چودہ سو اکیس -- جس سال چین نے امریکہ کی تلاش کرلی۔‘ 1421 The Year China discovered Americaاس کتاب میں مصنف نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی ایڈمرل ’ژینگ ہی‘ نے دنیا کا بحری چکر لگایا اور سفر کے دوران امریکہ بھی دریافت کیا۔ ژینگ ہی ایک چینی ایڈمرل، محقق اور مسلمان تھا ۔ خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے جنوب مشرقی ایشیا اور انڈیا کا چکر لگایا لیکن یہ بات طے نہیں ہے کہ وہ امریکہ گئے یا نہیں۔
اگر یہ ثابت ہو بھی جائے کہ ماہرین کے زیرغور یہ نقشہ سن 1763 میں تیار کیا گیا تب بھی ناقدین یہ کہہ سکتے ہیں یہ 1418میں بنائے گئے نقشے کی اصل صداقت کے مطابق نہیں بھی ہو سکتا اور اس بات کا سہار بھی لیا جاسکتا ہے کہ پوری صداقت سے یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ چینی اڈمرل ’ژینگ ہی‘ نے امریکہ دریافت کیا کیوں کہ ان کا یقین ہے کہ اس سے کافی قبل سن 1000 میں برطانیہ میں مقیم وائکنگ لیئف اریکسن نے شمالی امریکہ کا دورہ کیا۔
ابھی یہ تحقیق نامکمل ہے اس لیئے آج کا یہ کالم بھی مکمل نہیں۔
|