|
اپنے اپنے غم کی گٹھڑیاں .......۔۔از.ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
15.03.2012, 09:05am , جعمرات (GMT+1)
ڈاکٹر نگہت نسیم
کبھی کبھی بہت سوچتی ہوں کہ دنیا میں اتنی رونق اور خوبصورتی ہے کہ دنیا کو چھوڑ کر جانے کا سوچتے ہی دل بند ہونے لگتا ہے اور اس ڈر سے آنکھیں بھی جھپکنے کو دل نہیں کرتا ۔ پھر بھی انسان کو نہ اپنے آنے پر اختیار اور نہ ہی اپنے جلدی جانے پر زور۔ روز ہی اس دنیا سے ہزاروں لوگ اپنی مرضی کے بغیر ہی چلے جاتے ہیں اور اپنی یادوں کو کبھی نہ مٹنے والی کمی کی صورت پیچھے چھوڑ جاتے ہیں ۔ جہاں بھی جاؤں ، جدھر دیکھو ، کچھ بھی پڑھوں ، جس سے بھی ملوں ہر بشر اپنے اپنے غم کی گٹھڑی ساتھ لے کر چل رہا ہوتا ہے ۔ اور جیسے ہی اسے موقع ملتا ہے وہ اسے دوسروں کے پاس چھوڑ کر آگے بڑھ جاتا ہے ۔
ایسے لگتا ہے جیسے اللہ کریم نے ہم پر روزے فرض کئے ہیں اسی طرح سے غم سہنا بھی ہر ایک کے لئے فرض کر دیا ہے ۔ شاید جیسے روزے جسم کی زکوات کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی بھوک تکلیف کے احساس کو زندہ رکھنے کے لئے فرض تھے ایسے ہی غم آشنائی میں دوسروں کو غم نہ دینے کا درس پنہاں تھا ۔ پر ہم انسان عجیب ہیں ہر احساس وقتی سا رکھتے ہیں ۔ مجھے یہ بھی سمجھ نہیں آتی کہ یہ اب ہو رہا ہے یا صدیوں سے انسانوں کے چال چلن یہی ہیں جیسے شدید بھوک کے بعد ان کا احساس دوسروں کی بھوک ختم کرنے کے لئے جاگتا ضرور ہے پرافسوس وہ احساس جلد ہی اپنی موت مرجاتا ہے ۔ کبھی لگتا جیسے ہرا بھرا زخم ایک وقت کے بعد سوکھ جاتا ہے اسی طرح سے انسانی احساس ہر ناگہانی آفت کے گزر جانے کے کچھ ہی عرصہ بعد مرجایا کرتا ہے ۔
میری ماں ہمیشہ کہا کرتی ہیں کہ ہم انسانوں پر جب بھی کوئی دکھ تکلیف آتی ہے تو وہ صرف اور صرف اللہ کریم کی طرف سے آتی ہے اور ہمیں یہی بات سمجھانے آتی ہے کہ دیکھو " تم جیسے کئی اور بھی ہیں " ، ان کی دلجوئی اپنا غم سمجھ کر کرو ۔ ان کے نزدیک انسان کی پہچان ہی اس کی دلداری ہے ۔ میں جب اپنی کتابیں کھول کر پڑھتی ہوں تو نفسیات کی کتاب کا ہر باب یہی کہانی کہتا ہے کہ تم جیسے کئی اور بھی ہیں ۔۔ سب کے پاس اپنے اپنے غم کی گٹھڑیاں ہیں ۔ ان کی دلداری کرو ۔
اپنی ماں کی باتیں --- کتابی باتیں اس وقت سچ لگیں جب پچھلے برس ہمارے بڑے بھائی طارق محمود ہمیں چھو ڑ کر اس دنیا سے چلے گئے تھے ۔ یوں لگتا تھا جیسے اب ہم کبھی ہنس نہ سکیں گے ۔ کسی رات کی سویر نہ ہوگی ۔ جیسا غم ہم پر آن پڑا تھا ویسا کسی کے ساتھ نہ ہوا تھا ۔ پر ایسا نہیں تھا ۔ پرسہ دینے والے اپنی اپنی گٹھڑیاں کھول کر بیٹھ گئے تھے ۔ وہ میرے بھائی کو نہیں اپنے کسی پیارے کو رو رہے تھے ۔ اس برس فروری کی اٹھائیس تاریخ کو جب ہمارے چھوٹے بھائی خالد محمود کی جوانمرگی ہوئی تو وہ سلا ہوا زخم پھر سے ادھڑ گیا ۔ ہماری آزمائیشوں کے دن رات بہت لمبے ہو گئے ہیں ۔ یوں لگ رہا ہے جیسے ہم ایک بار پھر ہنسنا بھول رہے ہیں ۔ جو بھی ہمیں ہمارے پیاروں کا پرسہ دینے آتا ہے وہ اپنے غم کی گٹھڑی ہمارے گھر چھوڑ جاتا ہے ۔ میں رات کے پچھلے پہر جب نم آنکھوں سے اپنے اطراف دیکھتی ہوں تو سوائے غم کی گٹھڑیوں کے کچھ دیکھائی نہیں دیتا ۔
یہی سچ تھا جیسے روزے فرض ہیں اسی طرح سے اب غم فرض ہو گئے تھے تاکہ ہم ایک دوسرے کے غم کو محسوس کر سکیں ۔ اور دکھوں میں ایک دوسرے کا ساتھ دے سکیں ۔ پر یہ سمجھ نہیں آتا کہ دلداری کو نماز کی طرح ادا کرنے والوں کے امتحان کیوں ختم نہیں ہوتے ۔اب دوسروں کے غموں کی گٹھڑیاں سنبھال رکھنا بھی تو دلداری ہی تھی ۔۔ اور ان کے سامنے اپنے غم کی گٹھڑی کو چھپا رکھنا شاید دلداری کی انتہا تھی ۔
آج جب میں چار ہفتوں کے بعد اپنی جاب پر واپس آئی تو بہت ساری خبریں ایک ساتھ ملی جن میں ایک خبر مجھے بے حد اداس کر گئی ۔ گزشتہ دو دنوں سے ہماری اسٹاف نرس “ ڈی “ آئی سی یو میں داخل تھی ۔ “ ڈی “ ہم سب کی ہی نہیں بلکہ اپنے مریضوں کی بھی لاڈلی اور دلدار نرس ہے ۔ ہفتے کے دن اس کی ڈیوٹی تھی ۔ اسی دوران اسے سر میں شدید درد ہوا ۔ اسے لے کر مین ہوسپٹل جانا پڑا جو ہماری ہیلتھ سروس بلڈنگ کے بلکل سامنے ہی ہے ۔ وہاں ایمرجنسی میں اس کا برین اسکین ہوا تو پتہ چلا کہ اسے برین ہیمرج ہو رہی ہے ۔ پچھلے برس اس کی ہارٹ سرجری ہوئی تھی اور اس کا والو نیا لگایا گیا تھا ۔ ڈی کا ماننا تھا کہ دل کے والو “ دل کے دروازے“ ہوتے ہیں ۔ جن کو ہوا ، روشنی اور لوگوں کے آنے جانے کے لئے ہر دم کھلا رکھنا چاہیئے ۔ خوش مزاج سی ڈی کے دل کا دروازہ بہت ٹوٹ پھوٹ گیا تھا اس لئے اسے پچھلے برس بدلنا پڑا تھا۔
اب ایک برس کے بعد ڈاکٹرز نے بتایا کہ اسے نیا والو راس نہیں آیا کیونکہ اس آپریشن کے بعد جو دوا کھانی پڑتی ہے وہ ڈی کے جسم پر اثر نہیں کر رہی جس سے اس کے دماغ کی شریانوں سےخون نکلنا شروع ہو گیا ہے جسے اگر فوری طور پر بند نہ کیا گیا تو ڈی کی جان کو خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔ سو اب دوبارہ جیسے ہی ڈی کی حالت سنبھلے گی اس کی اوپن ہارٹ سرجری کرنا ہو گی اور اس کے دل کا دروازہ یعنی والو پھر بدلا جائے گا ۔ اس فکر والی خبر پر ہم سب ہی بے چین تھے ۔ آئی سی یو کے بیڈ نمبر چھ کے گرد ڈی کے بچے کھڑے تھے جنہوں نے ابھی ابھی ماں کے پروں کے ساتھ اپنی پرواز ملائی تھی ۔ اس کا شوہر مائیکل ہر ممکن اس کا دل بہلا رہا تھا ۔ مجھے ڈی کی آنکھوں میں جینے کی تمنا صاف دیکھائی دے رہی تھی پراس کی زبان سہمی ہوئی تھی ۔۔ بہت ساری ادھر ادھر کی باتوں کے دوران ڈی کی آنکھیں اپنی بہن بھائیوں کی بے چینی کا زکر کرتے ہوئے بار بار جھلملا رہی تھیں ۔ وہ مجھ سے کہہ رہی تھی ڈاکٹر میں جینا چاہتی ہوں لیکن میرے پاس یقین نہین رہا ۔۔۔ میں نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا تھا اس دنیا میں جتنے بھی لوگ سانس لے رہے ہیں ان میں سے کسی کے پاس جیتے رہنے کی کوئی گارنٹی نہیں ہے ۔ سچ پوچھو تو کوئی یقین بھی ہمراہ نہیں ہے ۔۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا ڈاکٹر میں تمہیں اداس نہیں کرنا چاہتی پر یہ بھی تو سچ ہے نہ کہ کسی کے دل کا دروازہ یوں بند بھی تو نہیں ہے ۔
ڈی کا دل تو بیمار دل تھا پر وہ پھر بھی ہنس رہی تھی ۔۔۔ اپنے گھر والوں
کوآنے والے وقت سے نپٹنے کا حوصلہ دے رہی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے
مریضوں کی صحتیابی کے لئے میری مدد بھی مانگ رہی تھی ۔ وہ صرف امیدوں کی فصل لگانا جانتی تھی ۔
میں ڈی کے بارے میں جتنا سوچتی ہوں اتنی ہی اس کے قریب ہوتی جا رہی ہوں ۔ میں اس کی بات کا اس وقت تو کوئی جواب نہیں دے سکی تھی ۔۔۔۔ پر جب سے سوچ رہی ہوں کہ دل کے دروازے تو کئی طرح سے بند ہوتے ہیں ۔۔۔ جیسے جو کسی کے غم کا احساس نہ کرے ۔۔ کسی کی کسی بھی مد میں کوئی مدد نہ کرے ۔۔۔ جو وقت پر بیمار کی دلداری نہ کرے ۔۔ جو اپنے بہن بھائی دوست احباب کو شرمندگی سے نہ بچائے ۔۔ کسی کی بھوک کو اپنی زمہ داری سمجھ کر شکست نہ دے ۔۔۔ پیٹھ پیچھے کسی کی عزت نہ رکھے ۔۔ اپنی انا کی دیواروں کو کبھی نہ گرائے ۔۔۔ یہ سب کیا تھا ۔۔ “ غرور “ اور “ تکبر " نے تندرست دل کےسارے دروازے بند کر دئے تھے ۔ایسے لوگوں کے پاس بھلا وقت ہی کہاں تھا جو کسی کے غم کی گٹھڑی اپنے پاس رکھ سکتے ۔
بس میں نے سوچ لیا ہے کہ کل جب میں ڈی سے ملنے آئی سی یو جاؤنگی تو اسے ضرور بتاؤنگی کہ دلدار وہ ہوتے ہیں جوکبھی اپنے غم کی گٹھڑیاں کسی کے پاس چھوڑ کر نہیں جاتے بلکہ جاتے جاتے ان کی گٹھڑی بھی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں ۔اور ڈی تم ایسی ہی دلدار ہو ،اس لئے مجھے یقین ہے کہ تمہارے دل کے اگر سارے والو بھی بند ہو گئے تو تب بھی تمہارے دل کے دروازے کبھی بند نہیں ہونگے۔
|