گزشتہ قسط میں بات یہاں تک پہنچی تھی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے گریبان میں جھانکیئے کہ کیا روز محشر آپکے پاس اپنے حق میں دلیل کے طور پر پیش کرنے کے لیئے اعمال نامے میں کچھ ہے؟ کسی ٹی وی کو دیئے ہوئے پیسے، میلاد و مجلس کے لیئے دی ہوئی رقوم اور اسلام میں بھیلایا ہوا تفرقہ اس روز کام نہیں آئے گا۔ اس روز اعمال کی بنیاد پر فیصلہ ہو گا اور ہم میں سے کتنے کلمہ گو ہیں جو اپنے نبی،امام اور رہبر کو اس روز شرمندہ نہیں کریں گے۔
آئیے آج بات کو مزید آگے بڑھانے سے پہلے ذرا یہ ایک خبر پڑھ لیجئے جو ہمیں اس مغربی اور بقول اکثر لوگوں کے اس کفر زدہ معاشرے میں شرمندہ کروانے کے لیئے کافی ہے۔ حاجیوں کو مکہ مدینہ لے جانے کاروبار اب جیسے کینسر کی طرح پھیل گیا ہے اور اسمیں صفر اعشاریہ دو فیصد لوگوں کے علاوہ باقی سب لوگ اسے تجارت اور بہت منافع بخش تجارت کے طور پر کر رہے ہیں اور اسمیں ٹریول ایجنٹ، عام ملاں مولوی اور اس تجارت سے متعلقہ دلال بھی شامل ہیں اور یہ لوگ مل کر حج اور اللہ رسول کے نام پر عام مسلمان کو باقاعدہ لوٹتے ہیں۔میں حیران ہوں کہ لوٹ مار کے اس کھیل میں شامل لوگ خود بھی حاجی نمازی ہیں۔میلاد اور مجالس بھی کرواتے ہیں اور اس دھندے میں شریک ہونے کے باوجود نہ جانے کس طرح رات کو سکون کی نیند سوتے ہیں۔ خیر اسکی جزا وسزا تو اس رب رحیم کا معاملہ ہے جسکے گھر عام مسلمان کو لے جانے کے لیئے اب گلی گلی محلے محلے حج گروپ کھل گئے ہیں
ایسے میں قابل تعریف ہیں وہ معدودے چند ادارے یا افراد جو نفع و نقصان کی بنیاد پر یا پھر فقط لاگت کی بنیاد پر یہ کام خوشنودی پروردگار کے لیئے کر رہے ہیں۔
جس خبر کا میں نے آغاز میں ذکر کیا وہ اس طرح ہے اور عالمی اخبار میں شائع ہو چکی ہے۔
۔۔۔۔۔۔برطانوی عازمین حج کے ساتھ دھوکہ دہی پر ٹور آپریٹر کو جرمانہ، کاروبار پر 5 سال کی پابندی17.03.2012, 01:02am , ہفتہ (GMT+1)عالمی اخبار لندن بیوروبرطانیہ کے سادہ لوح عازمین حج و عمرہ کو لوٹنے کے خلاف برطانوی حکومت کے کریک ڈاؤن اور قانون سازی کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں اور ایک برطانوی عدالت نے 47 عازمین حج کے ساتھ دھوکہ دہی کرنے والے ایک ٹور آپریٹر قاری محمد نواز کو بھاری جرمانے کی سزا دی ہے اور اس کے کاروبار پر پانچ سال کے لئے پابندی بھی عائد کر دی ہے۔
ریڈنگ کراؤن کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ سلاؤ کے قاری محمد نواز نے 47 عازمین حج کے ساتھ 25 سو پونڈ فی کس کے حساب سے حج کے ویزے لگوانے انہیں سعودی عرب میں حج کے دوران فور سٹار رہائش کرنے اور براہ راست پرواز کے ذریعے سعودی عرب بھیجنے کا وعدہ کیا تھا۔ مگر 59 سالہ ٹور آپریٹر نے اپنے سارے وعدے توڑ دیئے اور ان عازمین حج کے لئے حج کے ویزے لگوانے میں ناکامی کے بعد انہیں الفورڈ ایسٹ لندن کے ایک اور حج ٹور آپریٹر کے ہاتھوں 21 سو پونڈ فی کس میں فروخت کردیا۔ ”سلاؤ اینڈ ساؤتھ بکس ابزرور“ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ان عازمین حج کو سعودی عرب جانے سے ایک رات قبل بتایا گیا کہ وہ اگلی صبح ہیتھرو ائرپورٹ پر آجائیں۔ ائرپورٹ پر ان عازمین کو معلوم ہوا کہ ان کی پرواز براہ راست نہیں ہے بلکہ استنبول کے راستے سعودی عرب جائے گی۔ استنبول ائرپورٹ پر ان عازمین کو کئی گھنٹے تک دوسری پرواز کے انتظار کے دوران پانی تک کا نہیں پوچھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق جب یہ عازمین سعودی عرب کے ایک ہوٹل میں پہنچے تو ان میں سے بعض عازمین کے بیڈز کے درمیان ایک انچ سے بھی کم فاصلہ تھا۔ ان کمروں میں کاکروچز کا راج تھا۔ اگرچہ قاری محمد نواز اور ان کا بیٹا بھی سعودی عرب گیا تھا مگر وہ دونوں ان 47 عازمین کے قریب تک نہیں پھٹکے۔ قاری محمد نواز نے ریڈنگ کراؤن کورٹ میں اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو تسلیم کر لیا۔ ان میں 8 الزامات کنزیومر پروٹیکشن ریگولیشن 2008 ء اور تین پیکیج ٹریول، پیکیج ہالیڈیز، اور پیکیج ٹورز ریگولیشن کے تحت لگائے گئے تھے۔ ریڈنگ کراؤن کورٹ کے جج نے قاری محمد نواز کے آئندہ پانچ سال تک کسی کمپنی کے ڈائریکٹر، سیکرٹری یا کنٹرولنگ اتھارٹی بننے پر پابندی لگا دی۔ عدالت نے قاری محمد نواز کو حکم دیا کہ وہ ہر حاجی کو 500 پوند بطور ہرجانہ ادا کرنے اس کے علاوہ سلاؤ بارو کونسل کو مقدمے کے اخراجات کے طور پر 8 ہزار پونڈ ادا کرے۔
سلاؤ بارو کونسل کی سینئر ٹیکنیکل انفورسمنٹ آفیسر انجیلا سٹرلی نے اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کے ساتھ بدترین سلوک کا یہ ایک سنگین نوعیت کا واقعہ تھا۔ اس شخص نے اپنی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی اور ان کے ساتھ دھوکہ دہی کی۔ انہوں نے کہا کہ اس حج کے لئے جو لوگ گئے تھے ان میں زیادہ تر معمر اور غریب لوگ تھے۔ان کے ساتھ انتہائی برا سلوک کیا گیا۔ واضح رہے کہ برطانیہ سے ہر سال حج کے لئے جانے والے عازمین میں سے بڑی تعداد میں پاکستانی باشندے حج اور عمرے کے لئے جاتے ہیں اور ہر سال پاکستانی باشندوں کی بڑی تعداد ٹور آپریٹرز کے بارے میں شکایات کرتی ہے۔ دریں اثناء ایسوسی ایشن آف برٹش حجاج نے عازمین حج کا استحصال کرنے والے کے خلاف ریڈنگ کراؤن کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے خالد پرویز نے کہا ہے کہ اب حکومتی سطح پر عازمین حج و معتمرین عمرہ کی شنوائی ہوتی رہی ہے جو خوش آئند امر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرا خیال ہے کہ اب اس پر مزید کسی تبصرے کی گنجائش نہیں۔ آپ لوگوں کو خود یہ طے کرنا ہو گا کہ اگلے حج کے لیئے جانے سے پہلے اس خبر سے سبق بھی حاصل کریں اور اس سے فائدہ بھی اٹھائیں۔ مارکیٹ کو اچھی طرح دیکھیں اور پہلے جانے والے لوگوں سے معلومات لیں تا کہ آپکو ایسی صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑے
اور اب لیجئے فکری حوالے سے اپنے موضوع کی طرف آتا ہوں اور آج۔۔۔۔عبادت گاہوں کے سربراہوں کے کردار سے عقيدہ توحيد و عدل کا انساني معاشرہ پر اثر۔۔۔کے عنوان سے چند معروضات تحریر کرنا چاہتا ہوں
عبادت گاہ کے نام سے عالم انسانيت ايک مشترک نقطہ کي طرف متوجہ ھوتي ھے جو عقیدہ تنوحدی و عدل سب سے بڑا مرکز قرار ہے ۔ عبادت گاہوں کے سربراہ کی زیر اثر موجودہ نسل ، وطن ، قوم اور رنگ کے تفرقوں کے باوجود دنيا خدائے واحدکے اقرار سے ايک ايسے نظام ميں منسلک ھو جاتي ھے جس پر حاکم خود اسکي ذات ھے جو سب کا خالق اور معبود ھے ۔
علاوہ ازيں اس سےعبادت گاہ کے سربراہ کو اس بات کا ذرا بھی احساس پيدا نہیں ھوتا ھے اور وہ اپنے غرور میں مست ہاتھی کی طرح اپنے آپ کو مطلق العنان جانتا ھے ۔ اپنی سب ذاتي خواھشوں کا غلام ھوتے ہوئے ھر ايک کي طبيعت اور خواھش سے اختلاف اور لا مقصد یت اور بے عملی ميں اختلاف پيدا کرتا ہوا نظر آتا ہے ، جب کہ ہم تو سب ايک حاکم کے فرماں بردار ھيں اس لئے ہمارا ہر آھنگ عمل اور مقصد نہیں ہے ۔ يہ سربراہ کيسے ھیں ؟ حاضر و ناظرپر ایماں تو رکھتے ہیں مگر برائی کی ہر جگہ پر موجود نظر آتے ہیں۔ ہر ایک پر ظلم کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اورعبادت گاہ کی ملکیت کو اپنی ذاتی ملیکت جانتے ہیں ۔ مگر پھر بھی ہم ان کی حرکتوں سے ھوشيار نہیں ہیں نہ جانے ہم کب آنکھیں کھولیں گے
اگلی قسط میں کچھ انکشافات ظاہر کروں گا کہ ایک عبادت گاہ میں کسی طرح جعلی ووٹوں کو حاصل کر کے اس پر قبضہ کیا گیا اور قانون کی دھجیاں کسی طرح ان نام نہاد ملاؤں کے ساتھ مل کر اڑائی گئیں۔ اور پھر بھی عبادت گاہ کے سربراہ کہلانے کے حق دار ہیں اور قانون کا ذرا بھی پاس نہیں۔ کسي کام کو چوري چھپے کس طرح انجام دیتے ہیں۔ جیسے کہ ان کی ھاتھ ميں جزا وسزا دینے کا اختیار ہے۔ دوسری عبادت گاہوں میں جو سرگرمیاں انجام دیتے ہیں اس کو بھی انشااللہ اگلی قسط میں شامل کروں گا کیونکہ اللہ کی طاقت ھر ايک پر غالب ھے اس لئے ناحق کسي طاقت سے مرعوب نھيں ھونا چاھئے ۔ وہ ھر بات پر قادر ھے اس لئے اپني ناتواني سے کبھي نا اُميدنھيں ھونا چاھئے ۔
ایک عبادت گاہ میں عقيدہ سے ايسي انساني برادري کي تشکيل ھوتي ھے جس ميں ھر ايک دوسرے کے ساتھ اتحاد و مساوات کا احساس رکھتا ھو اور سب ايک نصب العين پر گامزن ھوں ۔ سب اپني خواھشوں کو مشترک مقصد اور اُصول ميں فنا کر ديں اورخلوت و جلوت ھر حالت ميں، سب اپنے واحد حاکم کي رضا مندي کے طلبگار ہوں اور کسي وقت قانون اور عبادت گاہ کے احترام کو ھاتہ سے نہ جانے ديں ۔ اور ایسی جماعت اور گروہ میں شامل ہوں جہاں پر کسی فرد ميں خودداري نہ ھو کہ وہ کسي مادّي طاقت کے سامنے سر نہ جھکائيں ، بلند حوصلگي ھو کہ کسي دشوار مقصد کو نا ممکن نہ سمجھيں اور اعتماد ھو جس سے کبھي اپنے دل ميں ياس کا گزر نہ ھونے دے ۔
وہ عناصر کبھی بھی ترقي نہیں کر سکتے ھيں جو بلند مرتبہ اقوام ہونے کے ناطے عدل کے شايان شان نہ ہوں ھيں ۔ عدل کے ماتحت يہ احساس پيدا ھوتا ھے کہ اُس کا قانون جو اس کے تمام کاموں ميں جاري ھے وہ عدالت ھے لھذا وہ بندوں سے بھي انصاف اور عدالت کا تقاضا کرتا ھے ۔ جس نے ھميں ايک امانت دي ھے جس کے نام سے تمہیں ” قوت اختيار “ ملی ہے وہ اس کا بے دریغ اور اپنے ذاتی مفاد کی خاطرصرف کرتا اورمنفی طور پر اس سے کھیلتا ہو نظر آتا ہے عبادت گاہ کے سربراہ کو اس اختيار کو قانون ِ عدالت کے مطابق صرف کرنا چاھئے ۔
عقيدہ سے برادري ميں جو انسانيت کے حدود ميں قائم کي گئي ھے ،تبادلہٴ حقوق اور انصاف و مساوات کي بنياديں مضبوط ھوتي ھيں ۔ برادري کے افراد ايکدوسرے کو حقارت کي نگاہ سے نھيں ديکھتے کيونکہ يہ ظلم ھے ۔ وہ سمجھتے ھيں کہ ايک کو دوسرے پر دولت و ثروت يا طاقت و اقتدار ميں جو فوقيت نظر آتي ھے بالکل وقتي ھے اور عارضي ۔خالق کي نگاہ ميں ان سب کے لئے ايک قانون ھے ۔ گناہ امير کرے يا غريب ھر ايک کو سزا ملے گي ، ھر ايک کو جزا ملے گي وھاں اُس کي دولت مندي کچھ کام نہ آسکے گي ۔ نہ وہ رشوت دے کر اپنے بچاؤ کا سامان نکال سکے گا ۔ اسي طرح اچھا کام امير کرے يا غريب کرے ھر ايک کو جزا ملے گي ۔ اُس کي غربت اُس کي کسمپرسي کا باعث نہ ھو گي ۔ اس طرح ھر شخص کو اپنے فرائض کا احساس پيدا ھوتا ھے اور اپنے اعمال کي جانچ کي ضرورت پڑتي ھے ۔ افراط اور تفريط، اسراف اور کنجوسي سب ظلم ھيں اور ھر چيز ميں وسط کا نقطہ، عدالت کا مرکز ھے ۔ انساني کمالات کي دنيا اسي اعتدال کے نقطہ پر مبني ھے ۔
خدا کو عادل سمجھنا ، اس اعتدال کي پابندي کا واحد محرک ھے اور اسي لئے جو اس اعتدال پر قائم رھيں انھيں عادل کھا جاتا ھے اور سچّے مسلمان وھي ھيں جو عدالت کي صفت سے ممتاز ھوں ۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔