16.10.2026, 11:44am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
شخصیات، انٹرویوز
 

حسین میرا ،حسین تیرا ، حسین سب کا ......۔از........: ڈاکٹر نگہت نسیم
24.11.2012, 10:10pm , ہفتہ (GMT+1)

نگہت نسیم سڈنی
  جب ہم احساسات کي نگاہ سے ديکھتے ہيں تو پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں ميں امام حسين کے نام کي خاصيت اورحقيقت و معرفت يہ ہے کہ يہ نام دلربائے قلوب ہے اور مقناطيس کي مانند دلوں کو اپني طرف کھينچتا ہے۔ البتہ مسلمانوں ميں بہت سے ايسے افراد بھي ہيں جو ايسے نہيں ہيں اور امام حسين کي معرفت و شناخت سے بے بہرہ ہيں، دوسري طرف ايسے افراد بھي پائے جاتے ہيں کہ جن کا شمار اہل بيعت  ميں  بھی نہيں ہوتا ليکن اُن کے درميان بہت سے ايسے افراد ہيں کہ حسين ابن علي کا  نام سنتے ہي اُن کي آنکھوں سے اشکوں کا سيلاب جاري ہو جاتاہے۔ خداوند عالم نے امام حسين کے نام ميں ايسي تاثير رکھي ہے کہ جب اُن کا نام ليا جاتا ہے تو  دل و جان پر ايک روحاني کيفيت طاري ہوجاتي ہے ۔

اسم گرامی : حسین (ع)

لقب : سید الشھداء۔اس کے علاوہ سید وصبط اصغر، شہیداکبر، اورسیدالشہداء زیادہ مشہورہیں۔ علامہ محمد بن طلحہ شافعی کا بیان ہے کہ سبط اورسید خود رسول کریم کے معین کردہ القاب ہیں (مطالب السؤل ص 312) ۔

کنیت : ابو عبد اللہ

والد کا نام : علی (ع)

والدہ کا نام : فاطمہ زھرا (ع)

تاریخ ولادت : 3شعبان 4ھء

جائے ولادت : مدینہ منورہ

مدت امامت : 12 سال

 عمر : 57 سال

تاریخ شہادت :10 / محرم الحرام 61ھء

 شہادت کا سبب: یزید ابن معاویہ کے حکم سے شہید کیے گئے

روضہ اقدس : کربلائے معلّیٰ

اولاد کی تعداد :4 بیٹے اور 2 بیٹیاں

بیٹوں کے نام :  علی اکبر, علی اوسط , جعفر , عبد اللہ ( علی اصغر )

بیٹیوں کے نام : سکینہ , فاطمہ


خدا کے پیارے نبی کے پیارے علی کے پیارے حسین آئے
ھوا نے سورج کو دی مبارک براں کے پارے حسین آئے
زمیں خوشی سے تھرک رھی تھی تھے رقصاں تارے حسین آئے
شفق،صدف،روشنی، ھوایئں سبھی پکارے حسین آئے
(صفدر ھمدانی)


 ابھی آپ کی ولادت نہ ہونے پائی تھی کہ بروایتی ام الفضل بنت حارث نے خواب میں دیکھا کہ رسول کریم کے جسم کاایک ٹکڑا کاٹ کران کی آغوش میں رکھا گیا ہے اس خواب سے وہ بہت گھبرائیں اوردوڑی ہوئی رسول کریم کی خدمت میں حاضرہوکرعرض پرداز ہوئیں کہ حضورآج ایک بہت برا خواب دیکھا ہے۔ حضرت نے خواب سن کرمسکراتے ہوئے فرمایا کہ یہ خواب تونہایت ہی عمدہ ہے۔  اے ام الفضل کی تعبیر یہ ہے کہ میری بیٹی فاطمہ کے بطن سے عنقریب ایک بچہ پیدا ہو گا جو تمہاری آغوش میں پرورش پائے گا ۔

ھجرت کے چوتھے سال تیسری شعبان پنجشنبہ کے دن آپ کی ولادت ھوئی . اس خوشخبری کو سن کر جناب رسالت ماب تشریف لائے , بیٹے کو گود میں لیا , دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی اور اپنی زبان منہ میں دی . پیغمبر کا مقدس لعاب دھن حسین علیہ السّلام کی غذا بنا . ساتویں دن عقیقہ کیا گیا . آپ کی پیدائش سے تمام خاندان میں خوشی اور مسرت محسوس کی جارھی تھی مگر آنے والے حالات کاعلم پیغمبر کی آنکھوں سے آنسو بن کر بہتا تھا  .

نشو و نما

 پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں جو اسلام کی تربیت کاگہوارہ تھی اب دن بھردو بچّوں کی پرورش ھونے لگی ایک حسن دوسرے حسین اور اس طرح ان دونوں کا اور اسلام کا ایک ھی گہوارہ تھا جس میں دونوں پروان چڑھ رھے تھے . ایک طرف پیغمبر  اسلام جن کی زندگی کا مقصد ھی اخلاق انسانی کی تکمیل تھی اور دوسری طرف حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السّلام جو اپنے عمل سے خدا کے محبوب تھے تیسری طرف حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا جو خواتین کے طبقہ میں پیغمبر کی رسالت کو عملی طور پر پہنچانے کے لیے ھی قدرت کی طرف سے پیدا ھوئی تھیں، اس نورانی ماحول میں حسین کی پرورش ھوئی.

رسول کی محبت

 حضرت محمد مصطفےٰ (ص)اپنے دونوں نواسوں کے ساتھ انتہائی محبت فرماتے تھے ، سینہ پر بٹھاتے تھے ، کاندھوں پر چڑھاتے تھے اور مسلمانوں کو تاکید فرماتے تھے کہ ان سے محبت رکھو . مگر چھوٹے نواسے کے ساتھ آپ کی محبت کے انداز کچھ خاص امتیاز رکھتے تھے .

ایسا ھوا ھے کہ نماز میں سجدہ کی حالت میں حسین پشت  مبارک پرآگئے تو سجدہ میں طول دے دیا اور جب بچہ خود سے بخوشی پشت پر سے علیٰحدہ ھوگیا اس وقت سر سجدے سے اٹھایا اور کبھی خطبہ پڑھتے ھوئے حسین مسجد کے دروازے سے داخل ھونے لگے اور زمین پر گر گئے تو رسول نے اپنا خطبہ قطع کردیا منبر سے اتر کر بچے کوزمین سے اٹھایا اور پھر منبر پر تشریف لے گئے اور مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ دیکھو یہ حسین ھے اسے خوب پہچان لو اور اس کی فضیلت کو یاد رکھو  رسول(ص) نے حسین علیہ السّلام کے لیے یہ الفاظ بھی خاص طور سے فرمائے تھے کہ حسین مجھ سے اور میں حسین سے ھوں ۔ مستقبل نے بتادیا کہ رسول کا مطلب یہ تھا کہ میرا نام اور کام دنیا میں حسین کی بدولت قائم رھے گا .


 جنت کے کپڑے اور فرزندان رسول کی عید

امام حسن اورا مام حسین کا بچپنا ہے عید آنے والی ہےاوران اسخیائے عالم کے گھرمیں نئے کپڑے کا کیا ذکر پرانے کپڑے نہیں ہے ۔بچوں نے ماں کے گلے میں بانہیں ڈال دیں مادرگرامی اطفال مدینہ عید کے دن زرق برق کپڑے پہن کرنکلیں گے اورہمارے پاس بالکل لباس نونہیں ہے ہم کس طرح عید منائیں گے ماں نے کہا بچوگھبراؤ نہیں، تمہارے کپڑے درزی لائے گا عید کی رات آئی بچوں نے ماں سے پھرکپڑوں کا تقاضا کیا،ماں نے وہی جواب دے کرنونہالوں کوخاموش کردیا۔

ابھی صبح نہیں ہونے پائی تھی کہ ایک شخص نے دق الباب کیا، دروازہ کھٹکھٹایا فضہ دروازہ پرگئیں ایک شخص نے ایک بقچہ لباس دیا، فضہ نے سیدہ عالم کی خدمت میں اسے پیش کیا اب جوکھولاتواس میں دوچھوٹے چھوٹے عمامے دوقبائیں،دوعبائیں غرضیکہ تمام ضروری کپڑے موجود تھے ماں کا دل باغ باغ ہوگیا وہ توسمجھ گئیں کہ یہ کپڑے جنت سے آئے ہیں لیکن منہ سے کچھ نہیں کہا بچوں کوجگایا کپڑے دئیے صبح ہوئی بچوں نے جب کپڑوں کے رنگ کی طرف توجہ کی توکہا مادرگرامی یہ توسفید کپڑے ہیں اطفال مدینہ رنگین کپڑے پہننے ہوں گے، امام جان ہمیں رنگین کپڑے چاہئیں ۔

حضور انورکواطلاع ملی، تشریف لائے، فرمایا گھبراؤ نہیں تمہارے کپڑے ابھی ابھی رنگین ہوجائیں گے اتنے میں جبرائیل آفتابہ لیے ہوئے آ پہنچے انہوں نے پانی ڈالا محمدمصطفی کے ارادے سے کپڑے سبزاورسرخ ہوگئے سبزجوڑاحسن نے پہنا سرخ جوڑاحسین نے زیب تن کیا، ماں نے گلے لگا لیا باپ نے بوسے دئیے نانا نے اپنی پشت پرسوارکرکے مہارکے بدلے زلفیں ہاتھوں میں دیدیں اورکہا،میرے بچو، رسالت کی باگ ڈورتمہارے ہاتھوں میں ہے جدھرچاہو موڑدو اورجہاں چاہولے چلو(روضہ الشہداء ص 189 بحارالانوار) ۔

بعض علماء کاکہناہے کہ سرورکائنات بچوں کوپشت پربٹھا کردونوں ہاتھوں اورپیروں سے چلنے لگے اوربچوں کی فرمائش پراونٹ کی آوازمنہ سے نکالنے لگے (کشف المحجوب)۔

امام حسین کا سردار جنت ہونا

 پیغمبر اسلام کی یہ حدیث مسلمات اورمتواترات سے ہے کہ ”الحسن و الحسین سیدا شباب اہل الجنہ و ابوہما خیر منہما“ حسن اور حسین جوانان جنت کے سردارہیں اوران کے پدر بزرگواران دنوں سے بہتر ہیں (ابن ماجہ) صحابی رسول جناب حذیفہ یمانی کا بیان ہے کہ میں نے ایک دن سرور کائنات صلعم کو بے انتہا مسرور دیکھ کرپوچھا حضور،افراط مسرت کی کیا وجہ ہے فرمایا اے حذیفہ آج ایک ایسا ملک نازل ہوا ہے جومیرے پاس اس سے قبل کبھی نہیں آیا تھا اس نے مجھے میرے بچوں کی سرداری جنت پرمبارک دی ہے اورکہا ہے کہ”ان فاطمہ سیدہ نساء اہل الجنہ وان الحسن والحسین سیداشباب اہل الجنہ“ فاطمہ جنت کی عورتوں کی سردارہیں اورحسنین جنت کے مردوں کے سردارہیں (کنزالعمال جلد 7 ص 107، تاریخ الخلفاص 123، اسدالغابہ ص 12، اصابہ جلد 2ص 12، ترمذی شریف، مطالب السول ص 242 صواعق محرقہ ص 114) ۔
 
 رسول کی وفات کے بعد

 امام حسین علیہ السّلام کی عمر ابھی چھ سال ھی کی تھی جب انتہائی محبت کرنے والے نانا کاسایہ سر سے اٹھ گیا .اب پچیس برس تک حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السّلام کی خانہ نشینی کادور تھا .اس زمانہ کے طرح طرح کے ناگوار حالات امام حسین علیہ السّلام دیکھتے رھے اور اپنے والد بزرگوار کی سیرت کا بھی مطالعہ فرماتے رھے .

یہ وھی دور تھا جس میں آپ نے جوانی کے حدود میں قدم رکھا اور بھر پور شباب کی منزلوں کو طے کیا۔35ھ میں جب حسین کی عمر31 برس کی تھی عام مسلمانوں نے حضرت علی  ا بن ابی طالب علیھما السّلام کو بحیثیت خلیفہ اسلام تسلیم کیا . یہ امیر المومنین علیہ السّلام کی زندگی کے آخری پانچ سال تھے جن میں جمل، صفین اور نھروان کی جنگ ھوئی اور امام حسین علیہ السّلام ان میں اپنے بزرگ مرتبہ باپ کی نصرت اور حمایت میں شریک ھوئے اور شجاعت کے جوھر بھی دکھلائے 40ھ میں جناب امیر علیہ السّلام مسجد کوفہ میں شھید ھوئے۔

 اور اب امامت وخلافت کی ذمہ داریاں امام حسن علیہ السّلام کے سپرد ھوئیں جو حضرت امام حسین علیہ السّلام کے بڑے بھائی تھے .حسین علیہ السّلام نے ایک باوفااور اطاعت شعار بھائی کی طرح حسن علیہ السّلام کاساتھ دیااور جب امام حسن علیہ السّلام نے اپنے شرائط کے ماتحت جن سے اسلامی مفاد محفوظ رہ سکے معاویہ کے ساتہ صلح کرلی تو امام حسین علیہ السّلام بھی اس مصلحت پر راضی ھوگئے اور خاموشی اور گوشہ نشینی کے ساتھ عبادت اور شریعت کی تعلیم واشاعت میں مصروف رھے مگر معاویہ نے ان شرائط کو جو امام حسن علیہ السّلام کے ساتھ ھوئے تھے بالکل پورا نہ کیا بلکہ امام حسن علیہ السّلام کو زھر کے ذریعہ شھید بھی کرا دیا-

حضرت علی  بن ابی طالب علیہ السّلام کے شیعوں کو چن چن کے قید کیا گیا، سر قلم کئے گئے اور سولی پر چڑھایا گیا اور سب سے آخر میں اس شرط کے بالکل خلاف کہ معاویہ کو اپنے بعد کسی کو جانشین مقرر کرنے کا حق نہ ھو گا معاویہ نے یزید کو اپنے بعد کے لئے ولی عہد بنا دیا ۔ تمام مسلمانوں سے اس کی بیعت حاصل کرنے کی کوشش کی اور زور و زر دونوں طاقتوں کو کام میں لا کر دنیائے اسلام کے بڑے حصے کا سر جھکا دیا گیا-

امام حسين کا دورانِ جواني

 پيغمبر اکرم  کي وفات کے بعد سے امير المومنين کي شہادت تک کا پچيس سالہ دور ہے۔ اِس ميں يہ شخصيت، جوان، رشيد، عالم اورشجاع ہے ، جنگوں ميں آگے آگے ہے، عالم اسلام کے بڑے بڑے کاموں ميں حصہ ليتا ہے اور اسلامي معاشرے کے تمام مسلمان اِس کي عظمت وبزرگي سے واقف ہيں۔ جب بھي کسي جواد و سخي کا نام آتا ہے تو سب کي نگاہيں اِسي پر مرکوز ہوتي ہيں، مکہ ومدينے کے مسلمانوں ميں، ہر فضيلت
ميں اور جہاں جہاں اسلام کا نور پہنچا، يہ ہستي خورشيد کي مانند جگمگا رہي ہے، سب ہي اُس کا احترام کرتے ہيں، خلفائے راشدين بھي امام حسن اور امام حسين کا احترام کرتے ہيں ، اِن دونوں کي عظمت و بزرگي کے قولاً و عملاً قائل ہيں، ان دونوں کے نام نہايت احترام اور عظمت سے ليے جاتے ہيں ، اپنے زمانے کے بے مثل و نظير جوان اور سب کے نزديک قابل احترام۔ اگر اُنہي ايام ميں کوئي يہ کہتا کہ يہي جوان (کہ جس کي آج تم اتني تعظيم کررہے ہو) کل اِسي امت کے ہاتھوں قتل کيا جائے گا تو شايد کوئي يقين نہ کرتا۔

امام حسين کا دورانِ غربت
سيد الشہدا کي حيات کا تيسرا دور، امير المومنين کي شہادت کے بعد کا دور ہے، يعني اہل بيت کي غربت و تنہائي کا دور۔ امير المومنين کي شہادت کے بعد امام حسن اور امام حسين مدينے تشريف لے آئے۔حضرت علي کي شہادت کے بعد امام حسين بيس سال تک تمام مسلمانوں کے معنوي امام ١ رہے اور آپ تمام مسلمانوں ميں ايک بزرگ مفتي کي حيثيت سے سب کيلئے قابل احترام تھے۔ آپ عالم اسلام ميں داخل ہو نے والوںک ي توجہ کا مرکز، اُن کي تعليم وتر بيت کا محور اوراہل بيت سے اظہا رعقيدت و محبت رکھنے والے معنوي امام اس لحاظ سے کہ امير المومنين کي شہادت کے بعد امامت ، امام حسن کو منتقل ہوئي اور آپ کي شہادت کے بعد امامت ، امام حسين کو منتقل ہوئي۔ امام حسن کي امامت کا زمانہ يا امام حسين کي اپني امامت کا دور، دونوں زمانوں ميں امام حسين ٢٠ سال تک تمام مسلمانوں کے معنوي امام رہے ۔ (مترجم)

 اخلاق و اوصاف

امام حسین علیہ السّلام سلسلہ امامت کی تیسری فرد اور عصمت و طہارت کا باقاعدہ مجسمہ تھے- آپ کی عبادت, آپ کے زہد, آپ کی سخاوت اور آپ کے کمال اخلاق کے دوست و دشمن سب ھی قائل تھے- آپ نےپچیس حج پاپیادہ کئے- آپ میں سخاوت اور شجاعت کی صفت کو خود رسول اللہ نے بچپن میں ایسا نمایاں پایا کہ فرمایا “ حسین میں میری سخاوت اور میری جراَت ھے “۔ چنانچہ آپ کے دروازے پر مسافروں اور حاجتمندوں کا سلسلہ برابر قائم رھتا تھا اور کوئی سائل محروم واپس نھیں ھوتا تھا-

اسی وجہ سے آپ کا لقب ابوالمساکین ھو گیاتھا- راتوں کو روٹیوں اور کھجوروں کے پشتارے اپنی پیٹھ پر اٹھا کر لے جاتے تھے اور غریب محتاج بیواؤں اور یتیم بچوں کو پہنچاتے تھے جن کے نشان پشت مبارک پر پڑ گئے تھے- حضرت ھمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ “ جب کسی صاحبِ ضرورت نے تمھارے سامنے سوال کے لئے ہاتھ پھیلا دیا تو گویا اس نے اپنی عزت تمھارے ہاتھ بیچ ڈالی- اب تمھارا فرض یہ ھے کہ تم اسے خالی ہاتھ واپس نہ کرو, کم سے کم اپنی ھی عزتِ نفس کا خیال کرو“۔

غلاموں اور کنیزوں کے ساتھ آپ عزیزوں کا سا برتاؤ کرتے تھے- ذرا ذرا سی بات پر آپ انھیں آزاد کر دیتے تھے- آپ کے علمی کمالات کے سامنے دنیا کا سر جھکا ھوا تھا- مذھبی مسائل اور اھم مشکلات میں آپ کی طرف رجوع کیا جاتا تھا- ۔ آپ رحم دل ایسے تھے کہ دشمنوں پر بھی وقت آنے پر رحم کھاتے تھے اور ایثار ایسا تھا کہ اپنی ضرورت کو نظر انداز کر کے دوسروں کی ضرورت کو پورا کرتے تھے-

ان تمام بلند صفات کے ساتھ متواضع اور منکسر ایسے تھے کہ راستے میں چند مساکین بیٹھے ھوئے اپنے بھیک کے ٹکڑے کھا رھے تھے اور آپ کو پکار کر کھانے میں شرکت کی دعوت دی تو حضرت فوراً زمین پر بیٹھ گئے- اگرچہ کھانے میں شرکت نہیں فرمائی اس بناء پر کہ صدقہ آلِ محمد پر حرام ھے مگر ان کے پاس بیٹھنے میں کوئی عذر نھیں ھوا-

 اس خاکساری کے باوجود آپ کی بلندی مرتبہ کا یہ اثر تھا کہ جس مجمع میں آپ تشریف فرماھوتے تھے لوگ نگاہ اٹھا کر بات بھی نہیں کرتے تھے - جو لوگ آپ کے خاندان کے مخالف تھے وہ بھی آپ کی بلندی مرتبہ کے قائل تھے-

 ایک مرتبہ حضرت امام حسین علیہ السّلام نے حاکم شام معاویہ کو ایک سخت خط لکھا جس میں اس کے اعمال و افعال اور سیاسی حرکات پر نکتہ چینی کی تھی ۔ اس خط کو پڑھ کر معاویہ کو بڑی تکلیف محسوس ھوئی- پاس بیٹھنے والے خوشامدیوں نے کہا کہ آپ بھی اتنا ھی سخت خط کاجواب لکھئیے- معاویہ نے کہا, “میں جو کچھ لکھوں گا وہ اگر غلط ھو تو اس سے کوئی نتیجہ نہیں اور اگر صحیح لکھنا چاھوں تو بخدا حسین میں مجھے ڈھونڈنے سے بھی کوئی عیب نھیں ملتا“۔

 آپ کی اخلاقی جراَت , راست بازی اور راست کرداری , قوتِ اقدام, جوش عمل اور ثبات و استقلال , صبر و برداشت کی تصویریں کربلا کے مرقع میں محفوظ ھیں-

ان سب کے ساتھ آپ کی امن پسندی یہ تھی کہ آخر وقت تک دشمن سے صلح کرنے کی کوشش جاری رکھی مگر عزم وہ تھا کہ جان دے دی مگر جو صحیح راستہ پہلے دن اختیار کر لیا تھا اس سے ایک انچ نہ ھٹے- آپ نے بحیثیت ایک سردار کے کربلا میں ایک پوری جماعت کی قیادت کی اس طرح کہ اپنے وقت میں وہ اطاعت بھی بے مثل اور دوسرے وقت میں یہ قیادت بھی لاجواب تھی۔

دين ميں ہونے والي تحريفات سے مقابلہ

امام حسين کي عبادت اور حرم پيغمبر ميں آپ کا اعتکاف اور آپ کي معنوي رياضت اور سير و سلوک؛ سب امام حسين کي حيات مبارک کا ايک رُخ ہے۔ آپ کي زندگي کا دوسرا رُخ علم اور تعليمات اسلامي کے فروغ ميں آپ کي خدمات اور تحريفات سے مقابلہ کيے جانے سے عبارت ہے۔

 اُس زمانے ميں ہونے والي تحريف دين درحقيقت اسلام کيلئے ايک بہت بڑي آفت و بلا تھي کہ جس نے برائيوں کے سيلاب کي مانند پورے اسلامي معاشرے کو اپني لپيٹ ميں لے ليا تھا۔ يہ وہ زمانہ تھا کہ جب اسلامي سلطنت کے شہروں، ممالک اور مسلمان قوموں کے درميان اِس بات کي تاکيد کي جاتي تھي کہ اسلام کي سب سے عظيم ترين شخصيت پر لعن اور سبّ و شتم کريں۔

اگر کسي پر الزام ہوتا کہ يہ امير المومنين کي ولايت و امامت کا طرفدار اور حمايتي ہے تو اُس کے خلاف قانوني کاروائي کي جاتي، ’’اَلقَتلُ بِالظَنَّۃِ وَالآَخذُ بِالتُّھمَۃِ‘‘،(صرف اِس گمان و خيال کي بنا پر کہ يہ اميرالمو منين کا حمايتي ہے ، قتل کرديا جاتا اور صرف الزام کي وجہ سے اُس کا مال و دولت لوٹ ليا جاتا اور بيت المال سے اُس کاوظيفہ بند کرديا جاتا)۔

اِن دشوار حالات ميں امام حسين ايک مضبوط چٹان کي مانند جمے رہے اور آپ نے تيز اور برندہ تلوار کي مانند دين پر پڑے ہوئے تحريفات کے تمام پردوں کو چاک کرديا، (ميدان منيٰ ميں) آپ کا وہ مشہور و معروف خطبہ اور علما سے آپ کے ارشادات يہ سب تاريخ ميں محفوظ ہيں اور اِس بات کي عکاسي کرتے ہيں کہ امام حسين اِس سلسلے ميں کتني بڑي تحريک کے روح رواں تھے۔

امر بالمعروف و نہي عن المنکر

آپ ٴنے امر بالمعروف اور نہي عن المنکر بھي وسيع پيمانے پر انجام ديا اور يہ امر و نہي، معاويہ کے نام آپ کے خط کي صورت ميں تاريخ کے اوراق کي ايک ناقابل انکار حقيقت اور قابل ديد حصّہ ہيں۔  آپ کا وہ عظيم الشّان خط اور آپ کا مجاہدانہ اور دليرانہ انداز سے امر بالمعروف اور نہي عن المنکر انجام دينا دراصل يزيد کے سلطنت پر قابض ہونے سے لے کر مدينے سے کربلا کيلئے آپ ٴکي روانگي تک کے عرصے پر مشتمل ہے۔ اِس دوران آپٴ کے تمام اقدامات، امر بالمعروف اور نہي عن المنکر تھے۔ آپ ٴخود فرماتے ہيں کہ ’’اُرِيدُ اَن آمُرَ باِلمَعرُوفِ و اَنہٰي عَنِ المُنکَرِ‘‘، ’’ميں نيکي کا حکم دينا اور برائي سے منع کرنا چاہتا ہوں۔‘‘

زندگي کے تين ميدانوں ميں امام حسين کي جدوجہد

 امام حسين اپني انفرادي زندگي _ تہذيب نفس اور تقويٰ ميں بھي اتني بڑي تحريک کے روح رواں ہیں اورساتھ ساتھ ثقافتي ميدان ميں بھي تحريفات سے مقابلہ، احکام الہي کي ترويج و اشاعت ، شاگردوں اور عظيم الشان انسانوں کي تربيت کو بھي انجام ديتے ہیں نيز سياسي ميدان ميں بھي کہ جو اُن کے امر بالمعروف اور نہي عن المنکر سے عبارت ہے، عظيم جدوجہد اور تحريک کے پرچم کو بھي خود بلند کرتے ہیں۔ يہ عظيم انسان انفرادي ، ثقافتي اور سياسي زندگي ميں بھي اپني خود سازي ميں مصروف عمل ہے۔

اب ہم واقعہ کربلا کي طرف رُخ کرتے ہيں ۔ واقعہ کربلا ايک جہت سے بہت اہم واقعہ ہے اورخود يہ مسئلہ اُن افراد کيلئے درس ہے کہ جو امام حسين کو اپنا آئيڈيل قرار ديتے ہيں۔

 واقعہ کربلا آدھے دن يا اِس سے تھوڑي سي زيادہ مدت پر محيط ہے اور اُس ميں بہتر (٧٢) کے قريب افراد شہيد ہوئے ہيں ۔ دنيا ميں اور بھي سينکڑوں شہدا ہيں ليکن واقعہ کربلا نے اپني مختصر مدت اور شہدا کي ايک مختصر سي جماعت کے ساتھ اتني عظمت حاصل کي ہے اور حق بھي يہي ہے ؛ واقعہ کربلا روح اور معني کے لحاظ سے اہميت کا حامل ہے۔

آوازہ یا حسین کا پھر نینوا میں ھے
شبیر تیرے خون کی خوشبو ھوا میں ھے
چہلم کی شان سے ھے پریشان یزیدٍ وقت
 زینب تری دعا کا اثر کا اثر کربلا میں ھے
(صفدر ھمدانی)

روح کربلا

واقعہ کربلا کي روح و حقيقت يہ ہے کہ امام حسين اِ س واقعہ ميں ايک لشکر يا انسانوں کي ايک گروہ کے مد مقابل نہيں تھے، ہرچند کہ وہ تعداد ميں امام حسين کے چند سو برابر تھے،بلکہ آپ انحراف و ظلمات کي ايک دنيا کے مد مقابل کھڑے تھے اور اِ س واقعہ کي يہي بات قابل اہميت ہے ۔ سالار شہيدان اُس وقت کج روي، ظلمت اور ظلم کي ايک پوري دنيا کے مقابلے ميں کھڑے تھے اور يہ پوري دنيا تمام مادي اسباب و سائل کي مالک تھي يعني مال و دولت، طاقت ، شعر، کتاب، جھوٹے راوي اور درباري ملا، سب ہي اُس کے ساتھ تھے اور جہان ظلم و ظلمت اور انحراف کي يہي چيزيں دوسروں کي وحشت کا سبب بني ہوئي تھيں۔

ايک معمولي انسان يا اُس سے ذرا بڑھ کر ايک اور انسان کا بدن اُس دنيا ئے ظلمت و ظلم کي ظاہري حشمت ، شان وشوکت اور رعب و دبدبہ کو ديکھ کر لرز اٹھتا تھا ليکن يہ سرور شہيداں تھے کہ آپ کے قدم و قلب اُس جہان شر کے مقابلے ميں ہرگز نہيں لرزے ، آپ ميں کسي بھي قسم کا ضعف و کمزوري نہيں آئي اور نہ ہي آپ نے (اپني راہ کے حق اور مدمقابل گروہ کے باطل ہونے ميں) کسي قسم کا شک وترديد کيا، (جب آپ نے انحرافات اور ظلم و زيادتي کا مشاہدہ کيا تو) آپ فوراً ميدان ميں اتر آئے۔ اس واقعہ کي عظمت کاپہلو يہي ہے کہ اس ميں خالصتاً خدا ہي کيلئے قيام کيا گيا تھا۔

’’حُسَين? مِنِّي وَاَنَا مِنَ الحُسَينِ‘‘کا معني
کربلا ميں امام حسين کا کام بعثت ميں آپ کے جد مطہر حضرت ختمي مرتبت  کے کاموں سے قابل تشبيہ و قابل موازنہ ہے، يہ ہے حقيقت۔ جس طرح پيغمبر اکرم نے تن ِ تنہا پوري ايک دنيا سے مقابلہ کيا تھا امام حسين بھي واقعہ کربلا ميں جہانِ با طل کے مدمقابل تھے؛ حضرت رسول اکرم  بھي ہرگز نہيں گھبرائے ، راہ حق ميں ثابت قدم رہے اور منزل کي جانب پيش قدمي کرتے رہے، اسي طرح سيد الشہدا بھي نہيں گھبرائے، ثابت قدم رہے اور آپ ٴنے دشمن کے مقابل آکر آنکھوں ميں آنکھيں ڈال ديں۔ تحريک نبوي  اور تحريک حسيني کا محور و مرکز ايک ہي ہے اور دونوں ايک ہي جہت کي طرف گامزن تھے۔ يہ وہ مقام ہے کہ جہاں’’حُسَين? مِنِّي وَاَنَا مِنَ الحُسَينِ ‘‘ کا معني سمجھ ميں آتا ہے ۔ يہ ہے امام حسين کے کام کي عظمت۔
ْْْْٰ
قيام امام حسين کي عظمت!
امام حسين نے شب عاشور اپنے اصحاب و انصار سے فرمايا تھا کہ’’ آپ سب چلے جائيے اور يہاں کوئي نہ رہے ، ميں اپني بيعت تم سب پر سے اٹھاليتا ہوں اور ميرے اہل بيت کو بھي اپني ساتھ لے جاو، کيونکہ يہ ميرے خون کے پياسے ہيں‘‘۔ امام حسين کے يہ جملے  اگر اُن کے اصحاب قبول بھي کرليتے اور امام حسين يکتا و تنہا يا دس افراد کے ساتھ ميدان ميں رہ جاتے توسيد الشہدا کے کام کي عظمت کبھی کم نہیں ھوتی بلکہ  ھمیشہ کی طرح اسي عظمت و اہميت کے حامل ہوتے ۔

امام حسين کي عظمت و شجاعت
امام حسين کے کام کي عظمت يہ تھي کہ آپ نے ظالم و جابر، خلافت رسول ۰ کے مدعي اور انحراف کے پورے ايک جہان کے دباو کو قبول نہيں کيا۔  مدينے ميں صحابہ کرام کي اچھي خاصي تعداد موجود تھي جنہوں نے واقعہ کربلا کے بعد مدينہ ميں رونما ہونے والے واقعہ حرّہ ميں مسلم ابن عقبہ کے قتل عام کے مقابلے ميں ثابت قدمي کا مظاہرہ کيا اور جنگ کي ۔

ليکن امام حسین دوسري شجاعت کے مالک تھے، اِس واقعہ کربلا کي عظمت کا پہلو يہ ہے کہ امام حسين ايک ايسي طاقت و قدرت کے مد مقابل سيسہ پلائي ہوئي ديوار بن گئے کہ جو تمام مادي اسباب و وسائل کي مالک تھي۔
 امام حسين کے دشمن کے پاس مال و دولت تھي ، وہ قدرت و طاقت کا مالک تھا، اسلحہ سے ليس سپاہي اس کي فوج ميں شامل تھے اور ثقافتي و معاشرتي ميدانوں کو فتح کرنے والے مبلغ و مروج اورمخلص افراد کا لشکر بھي اُس کے ساتھ تھا۔ کربلا قيامت تک پوري دنيا پر محيط ہے ، کربلا صرف ميدان کربلا کے چند سو ميٹر رقبے پر پھيلي ہوئي جگہ کا نام نہيں ہے۔ آج کي دنيائے استکبار و ظلم اسلامي جمہوريہ کے سامنے کھڑي ہے۔

نفس نفس علی علی زباں زباں حسین ھے
کہاں کوئی بتا سکا کہاں کہاں حسین ھے
کربلا کے بعد اب یہ فیصلہ ھو گیا
جہاں جہاں یزید ھے وہاں وہاں حسین ھے
(صفدر ھمدانی)

کربلا میں ورود

2محرم الحرام 61 ھ بروزجمعرات کو امام حسین علیہ السلام وارد کربلا ہو گئے۔ واعظ کاشفی اور علامہ اربلی کا بیان ہے کہ جیسے ہی امام حسین (ع) نے زمین کربلا پر قدم رکھا زمین کر بلا زرد ہو گئی اور ایک ایسا غبار اٹھا جس سے آپ کے چہرہ مبارک پر پریشانی کے آثار نمایاں ہوگئے۔یہ دیکھ کر اصحاب ڈرگئے اور جنابِ اُم کلثوم رونے لگیں۔

صاحب مخزن البکا لکھتے ہیں کہ کربلا پر درود کے فوراََ بعد جنابِ ام کلثوم نے امام حسین (ع) سے عرض کی،بھائی جان یہ کیسی زمین ہے کہ اس جگہ ہمارادل دھل رہا ہے۔ امام حسین (ع) نے فرمایا بس یہ وہی مقام ہے جہاں بابا جان نے صفیں کے سفر میں خواب دیکھا تھا۔یعنی یہ وہ جگہ ہے جہاں ہمارا خون بہے گا۔کتاب مائتین میں ہے کہ اسی دن ایک صحابی نے ایک بیری کے درخت سے مسواک کے لیے شاخ کاٹی تواس سے خون تازہ جاری ہو گیا۔

امام حسین (ع) کا خط اہل کوفہ کے نام

کربلا پہنچنے کے بعد آپ نے سب سے پہلے اتمام حجت کیلئے اہل کوفہ کے نام قیس ابن مسہر کے ذریعہ سے ایک خط ارسال فرمایا۔جس میں آپ نے تحریر فرمایا کہ تمھاری دعوت پر میں کربلا تک آگیا ہوں الخ۔قیس خط لیے جارہے تھے کہ راستے میں گرفتار کر لیے گئے۔اور انھیں ابن زیاد کے سامنے کوفہ لے جاکر پیش کر دیا گیا۔ابن زیاد نے خط مانگا۔قیس نے بروایتے چاک کرکے پھینک دیا اوربروایتے اس خط کو کھا لیاابن زیاد نے انھیں بضرب تازیانہ شہید کر دیا۔

عبیداللہ ابن زیاد کا خط امام حسین (ع) کے نام

علامہ ابن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ امام حسین (ع) کے کربلا پہنچنے کے بعد حرنے ابن زیاد کو آپ کی رسیدگی کربلا کی خبردی۔ا س نے امام حسین (ع) کو فوراََ ایک خط ارسال کیا۔جس میں لکھا کہ مجھے یزید نے حکم دیا ہے کہ میں آپ سے اس کے لیے بیعت لے لوں ،یا آپ کو قتل کر دوں۔امام حسین (ع) نے اس خط کا جواب نہ دیا۔اَلقَاہُ مِن یَدِہ اور اسے زمین پر پھینک دیا۔  اس کے بعد آپ نے محمد بن حنفیہ کو اپنے کربلاپہنچنے کی ایک خط کے ذریعہ سے اطلاع دی اور تحریر فرمایا کہ میں نے زندگی سے ہاتھ دھولیا ہے اور عنقریب عروس موت سے ہم کنار ہو جاؤں گا۔

دوسری محرم سے نویں محرم تک کے مختصر واقعات

دوسری محرم 61 ء ہجری

دوسری محرم الحرام 61 ء ھجری کو آپ کا کربلا میں ورود ہوا۔آپ نے اہل کوفہ کے نام خط لکھا۔آپ کے نام ابن زیاد کاخط آیا،اسی تاریخ کو آپ کے حکم سے برلبِ فرات خیمے نصب کئے گئے۔  حرنے مزاحمت کی اور کہا کہ فرات سے دور خیمے نصب کیجئے۔  عباس ابن علی کو غصہ آگیا  ۔ امام حسین (ع) نے غصہ کوفروکیا۔اور بقول علامہ اسفر ائنی 3یا5  میل کے فاصلہ پر خیمے نصب کئے گئے  نصبِ خیام کے بعد ابھی آپ اس میں داخل نہ ہوئے تھے۔کہ چند اشعار آپ کی زبان پر جاری ہوئے۔جنابِ زینب نے جونہی اشعار کو سنا اس درجہ روئیں کہ بے ہوش ہوگئیں۔امام نے رخسار پر پانی چھڑک کر باہوش کیا  پھر آلِ محمد داخل خیمہ ہوئے۔اس کے بعد ساٹھ ہزار درہم پر 1مربع میل زمین خرید کر چند شرائط کے ساتھ انھیں کو ہبہ کر دی۔

تیسری محرم الحرام یوم جمعہ

تیسری محرم الحرام یوم جمعہ کو عمر ابن سعد  بقول علامہ اربلی 22 ہزار سوار و پیادے لے کر کربلا پہنچا اور اس نے امام حسین (ع) سے تبادلہ خیالات کی خواہش کی۔حضرت نے ارادہ کوفہ کا سبب بیان فرمایا۔اس نے ابن زیاد کوگفتگو کی تفصیل لکھ دی اور یہ بھی لکھا کہ امام حسین (ع) فرماتے ہیں کہ اگر اب اہل کوفہ مجھے نہیں چاہتے تو میں واپس جانے کوتیارہوں ۔

ابن زیاد نے عمر بن سعد کے جواب میں لکھا کہ اب جب کہ ہم نے حسین (ع) کو چنگل میں لے لیا ہے تو وہ چھٹکارا چاہتے ہیں۔لات حین مناص۔یہ ہرگز نہیں ہوگا۔ان سے کہہ دو کہ یہ اپنے تمام اعزاواقرباسمیت بیعت یزید کریں یاقتل ہونے کے لیے آمادہ ہوجائیں۔میں بیعت سے پہلے ان کی کسی بات پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں  اسی تیسری تاریخ کی شام کو حبیب ابن مظاہر قبیلہ ابنی اسد میں گئے ا ور ان میں سے جانبازامداد حسینی کے لیے تیار کئے وہ انھیں لارہے تھے کہ کسی نے ابن زیاد کو اطلاع کر دی۔اس نے 400 سوکالشکر بھیج کر اس کمک کو روکوا دیا۔

چوتھی محرم الحرام یوم شنبہ۔ہفتہ

چوتھی محرم الحرام یوم شنبہ کوابن زیاد نے مسجد جامع میں ایک خطبہ دیا جس میں اس نے امام حسین (ع) کے خلاف لوگوں کو بھڑکایااور کہا کہ حکم یزید سے تمھارے لیے خزانوں کے منہ کھول دیئے گئے ہیں تم اس کے دشمن حسین (ع) سے لڑنے کے لیے آمادہ ہوجاؤ۔اس کے کہنے سے بے شمار لوگ آمادہ کر بلا ہو گئے اور سب سے پہلے شمر نے روانگی کی درخواست کی ۔چنانچہ شمر کو چارہزار،ابن رکاب کو دوہزار،ابن نمیر کو چار ہزار ،ابن رھینہ کوتین ہزار،ابن خرشہ کو دو ہزار سواردے کر روانہ کر بلا کردیا گیا۔

پانچویں محرم الحرم یوم یک شنبہ۔ اتوار

پانچویں محرم الحرام یوم یک شنبہ اتوار کو شیث ابن ربعی کو چار ہزار،عروہ ابن قیس کو چار ہزار سنان ابن انس کو دس ہزار،محمد ابن اشعث کو ایک ہزار ۔عبداللہ ابن حصین کو ایک ہزار کا لشکر دے کر روانہ کر دیا گیا۔

چھٹی محرم الحرام بروز پیر

چھٹی محرم الحرام بروز پیر کو خولی ابن یزید اصبحی کو دس ہزار کعب ابن الحروکوتین ہزار،حجاج ابن حرکوایک ہزار کا لشکر دے کر روانہ کر دیا گیا۔ان کے علاوہ چھوٹے بڑے اور کئی لشکر ارسال کر نے کے بعد ابن زیاد نے عمر ابن سعد کو لکھا کہ اب تک تجھے اسی ہزار کا کوفی لشکر بھیج چکا ہوں،ان میں حجازی اور شامی شامل نہیں ہیں۔تجھے چاہئے کہ بلاحیلہ حوالہ حسین کو قتل کر دے۔

اسی تاریخ کو خوبی ابن یزید نے ابن زیاد کے نام ایک خط ارسال کیا جس میں عمر ابن سعد کے لیے لکھا کہ یہ امام حسین(ع) سے رات کو چھپ کر ملتا ہے۔اور ان سے بات چیت کیاکرتا ہے۔ابن زیاد نے اس خط کو پاتے ہی عمر سعدکے نام ایک خط لکھا کہ مجھے تیری تمام حرکتوں کی اطلاع ہے تو چھپ کر باتیں کرتا ہے۔دیکھ میرا خط پاتے ہی امام حسین (ع) پر پانی بند کر دے اور انھیں جلد سے جلد موت کے گھاٹ اتار نے کی کوشش کر۔

ساتویں محرم الحرام بروز منگل

ساتویں محرم الحرام بروزمنگل عمر ابن حجاج کو پانچ سوسواروں سمیت نہرفرات پر اس لیے مقرر کر دیا گیا کہ امام حسین (ع) کے خیمہ تک پانی نہ پہنچنے پائے  پھر مزید احتیاط کے لیے چار ہزار کا لشکر دے کر حجر کو ایک ہزار کا لشکر دے کر شیث ابن ربعی کو روانہ کیا گیا۔ اور پانی کی بندش کر دی گئی۔پانی بند ہو جانے کے بعد عبداللہ ابن حصین نے نہایت کر یہہ لفظوں میں طعنہ زنی کی  جس سے امام حسین (ع) کو سخت صدمہ پہنچا  پھر ابن حوشب نے طعنہ زنی کی جس کا جواب حضرت عباس نے دیا۔  آپ نے غالباََ طعنہ زنی کے جواب میں خیمہ سے 19قدم کے فاصلہ پر جانب قبلہ ایک ضرب تیشہ سے چشمہ جاری کر دیا۔  اور یہ بتادیا کہ ہمارے لیے پانی کی کمی نہیں ہے۔لیکن ہم اس مقام پرمعجزہ دکھانے نہیں آئے بلکہ امتحان دینے آئے ہیں۔

آٹھویں محرم الحرام بروز بدھ

آٹھویں محرم الحرام بروزبدھ کی شب کو خیمہ آلِ محمد سے پانی بالکل غائب ہو گیا۔اس پیاس کی شدت نے بچوں کو بے چین کر دیا ہے۔امام حسین (ع) نے حالات کو دیکھ کر حضرت عباس کو پانی لانے کا حکم دیا آپ چند سواروں کو لے کر تشریف لے گئے اور بڑی مشکلوں سے پانی لائے۔وَلِذَالِکَ سُمِیَ العَبَّاسُ السقَاء اسی سقائی کی وجہ سے عباس(ع) کو سقاء کہا جاتا ہے۔

  رات گزرنے کے بعد جب صبح ہوئی تو یزید ابن حصین صحرائی نے باجازت امام حسین (ع)،ابن سعد کو فہمائش کی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔اس نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں حسین (ع) کو پانی دے کر حکومت چھوڑدوں۔  امام شبلنجی لکھتے ہیں کہ ابن حصین اور ابن سعد کی گفتگو کے بعد امام حسین(ع) نے اپنے خیموں کے گرو خندق کھودنے کاحکم دیا۔ اس کے بعد حضرت عباس(ع) کو حکم دیا کہ کنواں کھود کر پانی برآمد کرو۔آپ نے کنواں تو کھودا۔لیکن پانی نہ نکلا۔

نویں محرم الحرام بروز جمعرات

نویں محرم الحرام بروز جمعرات کی شب کو امام حسین اور عمر بن سعد میں آخری گفتگو ہوئی۔آپ کے ہمراہ حضرت عباس اور علی اکبر بھی تھے۔آپ نے گفتگو میں ہر قسم کی حجت تمام کر لی۔

نویں کی صبح کو آپ نے حضرت عباس کو پھر کنواں کھودنے کا حکم دیا لیکن پانی بر آمد نہ ہوا۔

 تھوڑی دیر کے بعد امام حسین نے بچوں کی حالت کے پیشِ نظر پھر عباس سے کنواں کھودنے کی فرمائش کی آپ نے سعی بلیغ شروع کردی جب بچوں نے کنواں کھدتا ہوا دیکھا تو سب کوزے لے کر آپہنچے۔ابھی پانی نکلنے نہ پایا تھا کہ دشمنوں نے آکر اسے بند کر دیا۔ دشمنوں کو دیکھ کر بچے خیموں میں جا چھپے۔پھر تھوڑی دیر کے بعد حضرت عباس (ع) نے کنواں کھودا وہ بھی بند کر دیا گیا حتی حفراربعا۔یہاں تک کہ چار کنویں کھودے اور پانی حاصل نہ کر سکے۔ اس کے بعد امام حسین (ع) ایک ناقہ پر سوار ہوکر دشمن کے قریب گئے اور اپنا تعارف کرایا لیکن کچھ نہ بنا.

 مورخین لکھتے ہیں کہ نویں تاریخ کو شمر کو فہ واپس گیااور اس نے عمر ابن سعد کی شکایت کرکے ابن زیاد سے ایک سخت حکم حاصل کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ اگرحسین (ع) بیعت نہیں کرتے تو انھیں قتل کرکے ان کی لاش پرگھوڑے دوڑادے اور اگر تجھ سے یہ نہ ہو سکے تو شمر کو چار ج دے دے ہم نے اسے حکم تعمیل حکم یزید دے دیا ہے۔

  ابن زیاد کا حکم پاتے ہی ابن سعد تعمیل پر تیار ہو گیا۔اسی نویں تاریخ کو شمر نے حضرت عباس(ع) اور ان کے بھائیوں کو امان کی پیش کش کی انھوں نے بڑی دلیری سے اسے ٹھکرادیا ( تفصیل کے لیے ملاخطہ ہوذکر العباس از180تا182)

اسی نویں کی شام آنے سے پہلے شمر کی تحریک سے ابن سعد نے حملہ کاحکم دے دیا۔امام حسین (ع) خیمہ میں تشریف فرما تھے۔آپ کو حضرت زینب(ع) پھر حضرت عباس (ع) نے دشمن کے آنے کی اطلاع دی۔حضرت نے فرمایا کہ مجھ پر ابھی غنودگی طاری ہو گئی تھی۔میں نے آنحضرت کو خواب میں دیکھا۔انھوں نے فرمایا کہ انک تروح غدا حسین (ع) تم کل میرے پا س پہنچ جاؤ گے .

 جناب زینب رونے لگیں اور امام حسین (ع) نے حضرت عباس (ع) سے فرمایا کہ بھیا تم جاکر ان دشمنوں سے ایک شب کی مہلت لے لو۔حضرت عباس(ع) تشریف لے گئے اور لڑائی ایک شب کے لیے ملتوی ہو گئی۔

دسوییں محرم الحرام بروز جمعہ (یومٍ عاشور )

10 محرم سنہ 61 ھ۔ کو میدان کربلا میں نواسۂ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے بہتّر جاں نثاروں کے ہمراہ دین مقدس اسلام آزادی اور حریت کی پاسداری کے لئے بے مثال شجاعت و دلیری اور ایثار وفداکاری کا عظیم الشان مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جان قربان کردی اور اسلام کو زندۂ جاوید بنادیا ۔حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا : میں ایسے ذلّت آمیز ماحول میں موت کو سعادت و خوش نصیبی سمجھتا ہوں اور ستمگروں کے ساتھ زندگی گزارنے کو ذلت وبدبختی ۔

مطلومیت کا کیسا یہ سکہ جما دیا
چشمٍ بشر کو اشک بہانا سکھا دیا
اعجاز ھے حسین علیہ السلام کا
کٹوا کے سر یزید کے سر کو جھکا دیا
(صفدر ھمدانی)

قیام کربلا اور اس کے اسرار رموز

کربلا کے واقعہ اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے اقوال پر نظر ڈالنے سے، عاشورا کے جو پیغام ہمارے سامنے آتے ہیں ان کوہم اس طرح بیان کر سکتے ہیں۔

(1) پیغمبر (ص) کی سنت کو زندہ کرنا:

بنی امیہ یہ کوشش کر رہے تھے کہ پیغمبر اسلام (ص) کی سنت کو مٹا کر زمانہٴ جاہلیت کے نظام کو جاری کیا جائے۔ یہ بات حضرت کے اس قول سے سمجھ میں آتی ہے کہ ”میں عیش و آرام کی زندگی بسر کرنے یا فساد پھیلانے کے لئے نہیں جا رہا ہوں۔ بلکہ میرا مقصد امت اسلامی کی اصلاح اور اپنے جد پیغمبر اسلام (ص) و اپنے بابا علی بن ابی طالب کی سنت پر چلنا ہے۔“

(2) باطل کے چہرے پر پڑی ہوئی نقاب کو الٹنا:

بنی امیہ اپنے ظاہری اسلام کے ذریعہ لوگوں کو دھوکہ دے رہے تھے۔ واقعہ کربلا نے ان کے چہرے پر پڑی اسلامی نقاب کوالٹ دیا،  تاکہ لوگ ان کے اصلی چہرے کو پہچان سکے۔ ساتھ ہی ساتھ اس واقعہ نے انسانوں و مسلمانوں کو یہ درس بھی دیا کہ انسان کو ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہئے اور دین کامکھوٹا پہنے فریبکار لوگوں سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے۔

(3) امر بالمعروف کو زندہ رکھنا:

حضرت امام حسین علیہ السلام کے ایک قول سے معلوم ہوتا ہے، کہ  آپ کے اس قیام کا مقصد امر بالمعروف و نہی عن المنکر تھا ۔ آپنے ایک مقام پر بیان فرمایا کہ میرا مقصد امر بالمعروف و نہی عن المنکرہے۔ایک دوسرے مقام پر بیان فرمایا کہ : اے اللہ! میں امربالمعروف ونہی عن المنکر کو بہت دوست رکھتا ہے۔

(4) حقیقی اور ظاہری مسلمانوں کے فرق کو نمایاں کرنا:

آزمائش کے بغیر سچے مسلمانون، معمولی دینداروں اور ایمان کے جھوٹے دعویداروں کو پہچاننا مشکل ہے۔ اور جب تک ان سب کو نہ پہچان لیا جائے، اس وقت تک اسلامی سماج اپنی حقیقت کا پتہ نہیں لگاسکتا۔ کربلا ایک ایسی آزمائش گاہ تھی جہاں پر مسلمانوں کے ایمان، دینی پابندی  و حق پرستی کے دعووں کوپرکھا جا رہا تھا۔ امام علیہ السلام نے خود فرمایا کہ لوگ دینا پرست ہیں جب آزمائش کی جاتی ہے تودیندار کم نکلتے ہیں۔

(5) عزت کی حفاظت کرنا:

حضرت امام حسین علیہ السلام کا تعلق اس خاندان سے ہے، جو عزت وآزادی کا مظہر ہے۔ امام علیہ السلام کے سامنے دو راستے تھے، ایک ذلت کے ساتھ زندہ رہنا اور  دوسرا  عزت کے ساتھ موت کی آغوش میں سوجانا۔ امام نے ذلت کو پسند نہیں کیا اور عزت کی موت کو قبول کرلیا۔ آپ نے فرمایا ہے کہ :  ابن زیاد نے مجھے تلوار اور ذلت کی زندگی کے بیچ لا کھڑا کیا ہے، لیکن میںذلت کوقبول کرنے والا نہیں ہوں۔

(6) طاغوتی طاقتوں سے  جنگ:

امام حسین علیہ السلام کی تحریک طاغوتی طاقتوں کے خلاف تھی۔ اس زمانے کا طاغوت یزید بن معاویہ تھا۔ کیونکہ امام علیہ السلام نے اس جنگ میں پیغمبراکرم (ص) کے قول کو سند کے طور پر پیش کیا ہے کہ ” اگر کوئی ایسے ظالم حاکم کو دیکھے جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال ا ور اس کی حلال کی ہوئی چیزوں کوحرام کررہا ہو،  تواس پر لازم ہے کہ اس کے خلاف آواز اٹھائے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو اسے اللہ کی طرف سے سزا دی جائے گی۔“

(7) دین پر ہر چیز کو قربان کردینا چاہئے:

دین کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اسے بچانے کے لئے ہر چیز کو قربان کیا جاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے ساتھیوں ،بھائیوں اور اولاد کو بھی قربان کیا جاسکتا ہے۔ اسی لئے امام علیہ السلام نے شہادت کو قبول کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کی اہمیت بہت زیادہ اور وقت پڑنے پر  اس کو بچانے کے لئے سب چیزوں کو قربان کردینا چاہئے۔

(8) شہادت کے جذبے کو زندہ رکھنا:

جس چیز پر دین کی بقا، طاقت، قدرت و عظمت کا دارومدار ہے  وہ جہاد اور شہادت کا جذبہ ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے دنیا کو یہ بتانے کے لئے کہ دین فقط نماز روزے کا ہی نام نہیں ہے یہ خونی قیام کیا ،تاکہ عوام میں جذبہٴ شہادت زندہ ہو اور عیش و آرام کی زندگی کا خاتمہ ہو۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے ایک خطبہ میں ارشاد  فرمایاکہ :  میں موت کو سعادت سمجھتا ہوں۔ آپ کا یہ جملہ دین کی راہ میں شہادت کے لئے تاکید ہے۔

(9)اپنے ہدف پرآخری دم تک  باقی رہنا:

جو چیز عقیدہ کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے، وہ ہے اپنے  ہدف پر آخری دم تک باقی رہنا۔ امام علیہ السلام نے عاشورا کی پوری تحریک میںیہ ہی کیا ،کہ اپنی آخری سانس تک اپنے ہدف پر باقی رہے اور دشمن کے سامنے  تسلیم نہیں ہوئے۔ امام علیہ السلام نے امت مسلمہ کو ایک بہترین درس  یہ دیا کہ حریم مسلمین سے تجاوز کرنے والوںکے سامنے ہرگز نہیں جھکنا  چاہئے۔

(10)جب حق کے لئے لڑو تو ہر طبقہ سے کمک حاصل کرو:

کربلا سے، ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اگر سماج میں اصلاح یا انقلاب منظور نظر ہو تو سماج میں موجود ہر س طبقہ سے مدد حاصل کرنی چاہئے۔ تاکہ ہدف میں کامیابی حاصل ہو سکے۔امام علیہ السلام کے ساتھیوں میں جوان، بوڑھے، سیاہ سفید، غلام آزاد سبھی طرح کے لوگ موجود تھے۔

(11) افراد کی قلت سے گھبرانا نہیںچاہئے :

کربلا ،امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے اس قول کی مکمل طور پر جلوہ گاہ ہے کہ ”حق و ہدایت کی راہ میں افراد کی تعدا د کی قلت  سے نہیںگھبرانا چاہئے۔“  جو لوگ اپنے ہدف پر ایمان رکھتے ہیں ان کے پیچھے بہت بڑی طاقت ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کو اپنے ساتھیوں کی تعداد کی قلت سے نہیں گھبرانا چاہئے اور نہ ہی ہدف سے پیچھے ہٹنا چاہئے۔ امام حسین علیہ السلام اگر تنہا بھی رہ جاتے تب بھی حق سے دفاع کرتے رہتے اور اس کی دلیل آپ کا وہ قول ہے جو آپ نے شب عاشور اپنے ساتھیوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایاکہ آپ سب جہاں چاہو چلے جاؤ یہ لوگ فقط میرے -----۔

(12)ایثار کے ساتھ سماجی تربیت کوملا دینا:

کربلا ،تنہا جہاد و شجاعت کا میدان نہیں ہے بلکہ سماجی تربیت و  وعظ ونصیحت کا مرکز بھی ہے۔ تاریخ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کا یہ پیغام  پوشیدہ ا ہے۔ امام علیہ السلام نے شجاعت، ایثار اور اخلاص کے سائے میں اسلام کو نجات دینے کے ساتھ لوگوں کو بیدار کیا اور ان کی فکری و دینی سطح کو بھی بلند کیا،تاکہ یہ سماجی و جہادی تحریک ،اپنے نتیجہ کو حاصل کرکے نجات بخش بن سکے۔

(13) تلوار پر خون کوفتح:

مظلومیت سب سے اہم اسلحہ ہے۔ یہ احساسات کو جگاتی ہے اور واقعہ کو جاودانی بنادیتی ہے۔ کربلا میں ایک طرف ظالموں کی ننگی تلواریں تھی اور دوسری طرف مظلومیت۔ ظاہراً امام علیہ السلام اور آپ کے ساتھی شہید ہو گئے۔ لیکن کامیابی انھیں کو حاصل ہوئی۔ ان کے خون نے جہاں باطل کو رسوا کیا وہیں حق کو مضبوطی بھی عطا کی۔ جب مدینہ میں حضرت امام سجاد علیہ السلام سے ابراہیم بن طلحہ نے سوال کیا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟  تو آپ نے جواب دیا کہ اس کا فیصلہ تو نماز کے وقت ہوگا۔

(14) پابندیوں سے نہیں گھبرانا چاہئے:

کربلا کا ایک درس یہ بھی ہے کہ انسان کو اپنے عقید و ایمان پر قائم رہنا چاہئے۔ چاہے تم پر فوجی و اقتصادی پابندیاں ہی کیوں نہ لگی ہوں۔ امام علیہ حسین السلام پر تمام پابندیاں لگی ہوئی تھی۔ کوئی آپ کی مدد نہ کرسکے اس لئے آپ کے پاس جانے والوں پر پابندی تھی۔ نہر سے پانی لینے پر پابندی تھی۔ مگر ان سب پابندیوں کے ہوتے ہوئے بھی کربلا والے نہ اپنے ہدف سے پیچھے ہٹے اور نہ ہی دشمن کے سامنے جھکے۔

(15) نظام :

حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنی پوری تحریک کو ایک نظام کے تحت چلایا۔ جیسے ،بیعت سے انکار کرنا، مدینہ کو چھوڑ کر کچھ مہینے مکہ میں رہنا، کوفہ و بصرے کی کچھ شخصیتوں کو خط لکھ کر انہیں اپنی تحریک میں شامل کرنے کے لئے دعوت دینا۔ مکہ، منیٰ اور کربلا کے راستے میں تقریریں کرنا وغیرہ۔ ان سب کاموں کے ذریعہ امام علیہ السلام اپنے مقصد کو حاصل کرنا چاہتے تھے۔ عاشورا کے قیام کا کوئی بھی جز بغیر تدبیر کے پیش نہیں آیا۔ یہاں تک کہ عاشور کی صبح کو امام علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں کے درمیان جو ذمہ داریاں تقسیم کی تھیں وہ بھی ایک نظام کے تحت تھیں۔

(16) خواتین کے کردار سے  استفادہ:

خواتین نے اس دنیا کی بہت سی تحریکوں میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر پیغمبروں کے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو حضرت عیسیٰ ، حضرت موسیٰ، حضرت ابراہیم علیہم السلام یہاں تک کہ پیغمبر اسلام (ص) کے زمانے کے واقعات میں بھی خواتین کا کردار بہت موثر رہا ہے۔ اسی طرح کربلا کے واقعات کو جاوید بنانے میں بھی حضرت زینب سلام اللہ علیہا، حضرت سکینہ علیہا السلام، اسیران اہل بیت اورکربلا کے دیگر شہداء کی بیویوں کا اہم کردار رہا ہے۔ کسی بھی تحریک کے پیغام کو عوام تک پہونچانا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ کربلا کی تحریک کے پیغام کو عوام تک اسیران کربلا نے  ہی پہنچایا ہے۔

(17)میدان جنگ میں بھی  یاد  خدا:

جنگ کی حالت میں بھی اللہ کی عبادت ا ور اس کے ذکرکو نہیں بھولنا چاہئے۔  میدان جنگ میں بھی عبادت و یادخدا ضروری ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے شب عاشور دشمن سے جو مہلت لی تھی، اس کا مقصدتلاوت قرآن کریم ، نماز اور اللہ سے مناجات تھا۔ اسی لئے اپنے فرمایاتھاکہ میں نماز کو بہت زیادہ دوست رکھتا ہوں۔ شب عاشور آپ کے خیموں سے پوری رات عبادت و مناجات کی آوازیں آتی رہیں۔ عاشور کے دن امام علیہ السلام نے نماز ظہر کو اول وقت پڑھا۔ یہی نہیں بلکہ اس پورے سفر میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی نماز شب بھی قضا نہ ہوسکی ، چاہے آپ کو بیٹھ کر ہی نماز کیوں نہ پڑھنی پڑی ہو۔

(18) اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا:

سب سے اہم بات انسان کا اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہے۔ چاہے اس ذمہداری کو نبہانے میں انسان کو ظاہری طور پر کامیابی نظر نہ آئے۔ اور یہ بھی ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ انسان کی سب سے بڑی کامیابی اپنی ذمہ داری کوپورا کرنا ہے ، چاہے اسکا نتیجہ کچھ بھی ہو۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے بھی، اپنے کربلا کے سفر کے بارے میں یہی فرمایا تھاکہ جو اللہ چاہے گا بہتر ہوگا، چاہے میں قتل ہو جاؤں یا مجھے (بغیر قتل ہوئے) کامیابی مل جائے۔

(19) مکتب کی بقاء کے لئے قربانی:

دین کے معیار کے مطابق، مکتب کی اہمیت، پیروان مکتب سے زیادہ ہے۔ مکتب کو باقی رکھنے کے لئے حضرت علی علیہ السلام و حضرت امام حسین علیہ السلام جیسی معصوم شخصیتوں نے بھی اپنے خون و جان کو فدا کیا ہے۔ امام حسین علیہ السلام جانتے تھے کہ یزید کی بیعت  دین کے اہداف کے خلاف ہے لہٰذا بیعت سے انکار کردیا اور دینی اہداف کی حفاظت کے لئے اپنی جان قربان کردی، اور امت مسلمہ کو سمجھا دیا کہ مکتب کی بقا کے لئے مکتب کے چاہنے والوں کی قربانیاں ضروری ہے۔ انسان کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ قانون فقط آپ کے زمانہ سے ہی مخصوص نہیں  تھا بلکہ ہر زمانہ کے لئے ہے۔
کبوتر

(20)  اپنے رہبر کی حمایت ضروری ہے:

کربلا ،اپنے رہبر کی حمایت کی سب سے عظیم جلوہ گاہ ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے شب عاشور اپنے ساتھیوں کے سروں سے اپنی بیعت کو اٹھالیا تھااور فرمایا تھا جہاں تمھارا دل چاہے چلے جاؤ۔ مگر آپ کے ساتھی آپ سے جدا نہیں ہوئے اور آپ کو دشمنون کے نرغہ میں تنہا نہ چھوڑا۔ شب عاشور آپ کی حمایت کے سلسلہ میں حبیب ابن مظاہر اور ظہیر ابن قین کی بات چیت قابل غور ہے۔ یہاں تک کہ آپ کے اصحاب نے میدان جنگ میں جو رجز پڑہے ان سے بھی اپنے رہبر کی حمایت ظاہر ہوتی ہے ،جیسے حضرت عباس علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر تم نے میران داہنا ہاتھ جدا کردیا تو کوئی بات نہیں، میں پھر بھی اپنے امام ودین کی حمایت کروں گا۔

مسلم ابن عوسجہ نے آخری وقت میں جو حبیب کو وصیت کی وہ بھی یہی تھی کہ امام کو تنہا نہ چھوڑنا اور ان پر اپنی جان قربان کردنیا۔

(21) دنیا ، خطرناک لغزش گاہ ہے:

دنیا کے عیش و آرام و مالو دولت کی محبت تمام سازشوں اور فتناو فساد کی جڑہے۔  میدان کربلا میں جو لوگ گمراہ  ہوئے یا جنہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیںکیا، ان کے دلوں میں دنیا کی محبت سمائی ہوئی تھی۔ یہ دنیا کی محبت ہی تو تھی جس نے ابن زیاد وعمر سعد کو امام حسین علیہ السلام کا خون بہانے پر آمادہ کیا۔

 لوگوں نے شہر ری کی حکومت کے لالچ اور امیر سے ملنے والے انعامات کی امید پر امام علیہ السلام کا خون بہا یا۔ یہاں تک کہ جن لوگوں نے آپ کی لاش پر گھوڑے دوڑآئے انھوںنے بھی ابن زیاد سے اپنی اس کرتوت کے بدلے انعام چاہا۔ شاید اسی لئے امام حسین علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ لوگ دنیا پرست ہوگئے ہیں، دین فقط ان کی زیانوں تک رہ گیا ہے۔

خطرے کے وقت وہ دنیا کی طرف دوڑنے لگتے ہیں۔ چونکہ امام حسین علیہ السلام کے ساتھیوں کے دلوں میں دنیا کی ذرا برابربھی محبت نہیں تھی ،اس لئے انھوں نے بڑے آرام کے ساتھ اپنی جانوں کو راہ خدا میں قربان کردیا۔ امام حسین علیہ السلام نے عاشور کے دن صبح کے وقت جو خطبہ دیا اس میں بھی دشمنوں سے یہی فرمایا کہ تم دنیا کے دھوکہ میں نہ آجانا۔

(22) توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے:

توبہ کا دروازہ کبھی بھی بند نہیں ہوتا، انسان جب بھی توبہ کرکے صحیح راستے پر آ جائے بہتر ہے۔ حر جو امام علیہ السلام کو گھیرکر کربلا کے میدان میں لایا تھا، عاشور کے دن صبح کے وقت باطل راستے سے ہٹ کر حق کی راہ پر آگیا۔ حر امام حسین علیہ السلام کے قدموں پر اپنی جان کو قربان کرکے، کربلا کے عظیم ترین شہیدوں میں داخل ہوگیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان کے لئے ہر حالت میں اور ہر وقت توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔

نا تو دولت نا حکومت نا ھی شہرت مانگتے
ہاں جو اپنے بس میں ھو تا حر کی قسمت مانگتے
کربلا میں سر نہ دیتے گر حسین ابن علی
ھر زمانے میں یزیدٍ وقت بیعت مانگتے (صفدرر ھمدانی)

(23) آزادی:

کربلا ،آزادی کا مکتب ہے اور امام حسین علیہ السلام اس مکتب کے معلم ہیں۔ آزادی وہ اہم چیز ہے جسے ہر انسان پسندکرتا ہے۔ امام علیہ السلام نے عمر سعد کی فوج سے کہا کہ اگر تمھارے پاس دین نہیں ہے اور تم قیامت کے دن سے نہیں ڈرتے ہو تو کم سے کم آزاد انسان بن کر تو جیو۔

(24) جنگ میں ابتداء نہیں کرنی چاہئے:

اسلام میں جنگ کو اولویت نہیں ہے۔ بلکہ جنگ، ہمیشہ انسانوںکی ہدایت کی راہ میں آنے والی رکاوٹ ک دور کرنے کے لئے کی جاتی ہے۔ اسی لئے پیغمبر اسلام (ص) حضرت علی علیہ السلام و امام حسین علیہ السلام نے ہمیشہ یہی کوشش کی، کہ بغیر جنگ کے معاملہ حل ہوجائے۔ اسی لئے  آپنے کبھی بھی جنگ میں ابتداء نہیں کی۔ امام حسین علیہ السلام نے بھی یہی فرمایا تھا کہ ہم ان سے جنگ میں  ابتداء نہیں کریں گے۔

(25)انسانی حقوق کی حمایت:

کربلا جنگ کا میدان تھا ،مگر امام علیہ السلام نے انسانوں کے مالی حقوق کی مکمل حمایت کی۔ کربلا کی زمین کو اس کے مالکوں سے خرید کر وقف کیا۔ امام علیہ السلام نے جو زمین خریدی اس کا حدود اربع  چارضر ب چار میل تھا۔ اسی طرح امام علیہ السلام نے عاشور کے دن فرمایا کہ اعلان کردو کہ جو انسان مقروض ہو وہ میرے ساتھ نہ رہے۔

(26)  اللہ سے راضی رہنا:

انسان کا سب سے بڑا کمال، ہر حال میں اللہ سے راضی رہنا ہے ۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ ہم اہل بیت کی رضا وہی ہے جو اللہ کی مرضی ہے۔ اسی طرح آپ نے زندگی کے آخری لمحہ میں بھی اللہ سے یہی مناجات کی کہ پالنے والے! تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں تیرے فیصلے پر راضی ہوں۔

 امام حسين کي تحريک بہت ہي عجيب و غريب تحريک ہے۔ ہم سب کي زندگي سيد الشہدا کي يادو ذکر سے لبريز و معطر ہے اور ہم اِس پر خدا کے شاکر ہيں ۔

حضرت سيد الشہدا اُس دن سے لے کے جب آپ نے مدينے سے اپنا سفر شروع کيا اور مکے کي جانب قدم بڑھائے، کربلا ميں جام شہادت نوش کرنے تک اِن چند ماہ (28 رجب تا 10 محرم) ميں رھتی دنیا کے لیئے   امام حسين کا ہر ہر اشارہ ايک درس ھے ۔

وہ پور حیدر وہ نورٍ حیدر خدا کی عظمت کی وہ صداقت
وہ قوتٍ قلب مصطفی ھے وہ کربلا میں خدائے ھمت
وہ موت جس سے حیات مانگے وہ جس کی ھر ادا عبادت
وہ جس کا سجدہ بقائے دیں ھے وہ جس کی خیرات ھے شہادت
(صفدر ھمدانی)

قیام کربلا اور تحریک حسینی کے  روحانی پہلو

سيد الشہدا کا بہايا گيا خونِ ناحق تاريخ ميں ہميشہ محفوظ ہے، چونکہ شہيد يعني وہ شخص جو اپني جان کو خلوص کے طبق ميں رکھ کر دين کے بلند ترين اہداف کيلئے پيش کرتا ہے اور ايک خاص قسم کي صداقت اور نورانيت کا حامل ہوتا ہے۔ کوئي کتنا ہي بڑا کاذب و مکار کيوں نہ ہو اور اپني زبان و بيان سے خود کو حق کا کتنا ہي بڑا طرفدار بناکر کيوں نہ پيش کرے ليکن جب اُس کے شخصي منافع خصوصاً جب اُس کي اور اُس کے عزيز ترين افراد کي جان خطرے ميں پڑتي ہے تو وہ پيچھے ہٹ جاتا ہے اور کسي بھي قيمت پر حاضر نہيں ہوتا کہ اُنہيں قربان کرے۔

 ليکن وہ شخص جو ايثار و وفا کے ميدان ميں قدم رکھتا ہے اور مخلصانہ طور پر اپني تمام ہستي کو راہ الٰہي ميں پيش کرتا ہے تو ’’حق? عَلَي اللّٰہِ‘‘ تو اُس کا خدا پر حق ہے يعني خدا اپنے ذمہ ليتا ہے کہ اُسے اور اُس کي ياد کوزندہ رکھے۔ ’’وَلاَ تَقُولُوا لِمَن يُّقتَلُ فِي سَبِيلِ اللّٰہِ اَموات?‘‘ ،’’ جو خدا کي راہ ميں مارا جائے اُسے مردہ نہ کہو‘‘: ’’وَلَا تَحسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللّٰہِ اَموَاتًا بَل اَحيَآئ?‘‘ ،’’جو لوگ خدا کي راہ ميں قتل کرديے جائيں اُنہيں ہرگز مردہ گمان نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہيں‘‘؛

 شہيد في سبيل اللہ زندہ رہتے ہيں۔ اُن کے زندہ رہنے کا ايک پہلو يہي ہے کہ اُن کي نشانياں اور قدموں کے نشان، راہِ حق سے کبھي نہيں مٹتے اور اُن کا بلند کيا ہوا پرچم کبھي نہيں جھکتا۔ ممکن ہے چند روز کيلئے ظلم و ستم اور بڑي طاقتوں کي مداخلت کي وجہ سے اُن کي قر با ني  کے رنگ کو پھيکا کر ديں۔

 ليکن خداوند عالم نے قانونِ طبيعت کو اِسي طرح قرار ديا ہے اور خدا کي سنت اور قانون يہ ہے کہ پاک و پاکيزہ اور صالح و مخلص افراد کا راستہ ہميشہ باقي رہے۔ خلوص بہت ہي عجيب چيز ہے لہٰذا يہي وجہ ہے کہ امام حسين کي ذات گرامي ،اُن کے اور اُن کے اصحابِ با وفا کے بہائے گئے خونِ ناحق کي برکت سے آج دنيا ميں دين باقي ہے اور تاقيامت باقي رہے گا۔

واقعہ کربلا سے پیشتر  آپ نے فرمايا ’’اَللَّھُمَّ اِنَّکَ تَعلَمُ اَنَّہُ لَم يکُن مِنَّا تَنَافُسًا سُلطَانِ وَلَا التِمَاسًا مِن فُضُولِ الحُطَامِ‘‘ ١ ’’پروردگارا! يہ تحريک جو ہم نے چلائي ہے، جس امر کیلئے قيام کيا اورجس ميں تجھ سے فيصلے کے طالب ہيں تو جانتا ہے کہ يہ سب ا قتدارکي خواہش کيلئے نہيں ہے؛ اقتدار کي خواہش ايک انسان کيلئے ہدف نہيں بن سکتي اور نہ ہي ہم چاہتے ہيں کہ زمام قدرت کو اپنے ہاتھ ميں ليں؛ نہ ہي ہمارا قيام دنيوي مال و منال کے حصول کيلئے ہے کہ اُس کے ذريعہ سے دنيوي لذتوں سے لُطف اندوز ہوں، شکم پُري کے تقاضے پورے کريں اور مال ودولت جمع کريں؛اِن ميںسے کوئي ايک بھي ہمارا ہدف و مقصد نہيں ہے‘‘۔

 سيد الشہدا اپنے  قيام کربلا کو خود ھی بیان فرماتے ھیں کہ یہ تاريخ  اسلام کي تبليغ کا مقصد تھا، ’’ وَلٰکِن لِنُرِيَ المَعَالِمَ مِن بحار الانوار ج١٠٠، ص ٧٩دِينِکَ‘‘ ١ ، ’’ہم تيرے دين کي نشانيوں کو واضح اور آشکار کرنا چاہتے ہيںاور دين کي خصوصيات کو لوگوں کيلئے بيان کرنے کے خواہاں ہيں‘‘۔
اِن خصوصيات کا بيان بہت اہم ہے؛ شيطان ہميشہ ديندار افراد کي گمراہي کيلئے غير مر ئي و غير محسوس انحراف کا راستہ اپناتا ہے اور صحيح راہ کو اِس انداز سے غلط بناکر پيش کرتا ہے( کہ ابتدائي مرحلے ميں اگر انسان بصيرت کا ما لک نہ ہو تووہ اُس کي تشخيص نہيں کو سکتا) ۔

 اگر اُس کا بس چلے تو يہ کہتا ہے کہ ’’دين کو چھوڑ دو‘‘؛ اگر اُس کے امکان ميں ہوتو يہ کام ضرور انجام ديتا ہے اور يوں شہوت پرستي اور اپنے غلط پروپيگنڈے کے ذريعہ لوگوں کے ايمان کو اُن سے چھين ليتا ہے اور اگر يہ کام ممکن نہ ہو تو دين کي نشانيوں کوہي بدل ديتا ہے۔

تاريخ ميں ہميشہ کيلئے باقي رہنے والي اِس حسيني ٴتحريک کو تين پہلووں سے ديکھا جاسکتا ہے اور اِن تين پہلووں ميں سے جو پہلو سب سے زيادہ جلوہ افروز ہے وہ عزت و سربلندي اور افتخار کا پہلو ہے۔

١۔ انقلابي تحريک ميں عزت و سربلندي کا عنصر

امام حسين کي تحريک وقيام کي پہلي جہت ميں کہ جہاں امام ٴ نے ايک انقلابي تحريک کي بنياد رکھي، عزت و سربلندي موجزن ہے ؛سيد الشہدا کے مدمقابل کون تھا؟ آپ کے مد مقابل ايسي ظالم و فاسق حکومت تھي کہ جو ’’يَعمَل فِي عِبَادِاللّٰہِ بِالاِثمِ وَالعُدوَان‘‘ ،جو معاشرے ميںگناہ و سرکشي سے حکو مت کر رہي تھي۔اُس معاشرے کي حالت يہ تھي کہ پورا معاشرہ اُس ظالم حکومت کے پنجوں ميں جکڑا ہوا تھا اور جہاں بندگانِ خدا پرظلم و ستم ، غرور و تکبر اور خود خواہي اور خود پرستي کي بنيادوں پر حکومت کي جاتي تھي، لوگوں کے ايمان و معنويت اور اُن کے انساني حقوق کا ذرا سا بھي خيال نہيں رکھا جاتا ہے، برسر اقتدار طبقہ نے اسلامي حکومت کو ظہوراسلام سے قبل دنيا ميں موجود طاغوتي حکومتوں ميں تبديل کرديا تھاجبکہ ايک اسلامي نظام کي اہم ترين خصوصيت،اُس کي ’’عادلانہ حکومت ‘‘ہے اور اُس تصوّراتي معاشرے (مدينہ فاضلہ)کے خدوخال کہ جسے اسلام شکل و صورت دينا چاہتا تھا،حکومت کے طرز عمل اور حاکم وقت کے رويے سے تعلق رکھتے ہيں۔

امام حسين سے بيعت کے مطالبے کي حقيقت!

حضرت امام حسين کے زمانے ميں امامت کو اِسي قسم کے نظام حکومت ميں تبديل کرديا گيا تھا کہ’’ يَعمَلُ فِي عِبَادِاللّٰہِ بِالاِثمِ وَالعُدوَانِ‘‘ ؛ ظلم و ستم اور گناہ کے ذريعہ لوگوں پر حکومت کي جارہي تھي اور حضرت امام حسين نے اِن بدترين حالات سے مقابلہ کيا۔آپ کي جنگ مسلمانوں کو آگاہ کرنے،حقائق کو روشن و واضح کرنے، لوگوں کي ہدايت اور يزيد يا اُس سے قبل کے زمانوںکے حق و باطل کي درمياني حد کو مشخص کرنے کي جنگ تھي۔

فرق يہ ہے کہ جو کچھ يزيد کے زمانے ميں وقوع پذير ہوا وہ يہ تھا کہ وہ ظلم ، فاسق اور گمراہ حاکم اِس موقع کے انتظار ميں تھا کہ امام حسين جيسا ہدايت کا ہادي اور راہنمااُس کي حکومت کو قبول کرلے اور اُس کے کاموں پر اپني رضايت و پسنديدگي کا اظہار کرے! جس بيعت کا امام حسين سے مطالبہ کيا گيا تھا وہ يہي تھي۔

يزيد امام حسين سے اِس بات کا خواہاں تھا کہ وہ آپ کو مجبور کرے کہ آپ لوگوں کو ہدايت و راہنمائي کرنے کے بجائے اِس ظالم حکومت کي گمراہي و ضلالت کو لوگوں کيلئے جائز صورت ميں بيان کريں کہ آو اور اِس ظالم حکومت کي تائيد کرو اور اِس کے ہاتھ مضبوط بناو! امام حسين کا قيام اِسي جگہ سے شروع ہوتا ہے۔

اگر يزيدي حکومت کي طرف سے اِس قسم کا بے جا اور بيہودہ و احمقانہ مطالبہ نہيں کيا جاتا تو اِس بات کا امکان تھا کہ سيد الشہدا نے جس طرح معاويہ کے دور حکومت ميں امّت کي ہدايت و راہنمائي کي اورجس انداز سے آپ کے بعد آنے والے آئمہ رہنمائي فرماتے رہے،آپ بھي پرچم ہديت کو اٹھاتے، لوگوں کي ہدايت کرتے اور حقائق کو اُن کيلئے بيان فرماتے۔

ليکن يزيد نے اپني جہالت و تکبر اور تمام فضائل اور معنويات سے دوري کي وجہ سے جلدي ميں ايک قدم آگے بڑھايا اور امام حسين سے اِس بات کي توقع کي کہ وہ اسلام کے بے مثال’’ نظريہ امامت‘‘ کے طاغوتي اور سلطنت و بادشاہت کي تبديلي کے سياہ قانون پر دستخط کرديں يعني اُس کے ہاتھوں پر بيعت کرليں۔ يہ وہ مقام ہے کہ جہاں سيد الشہدا فرماتے ہيں کہ ’’مِثلِي لَا يُبَايِعُ مِثلَہُ ‘‘ ١ ،’’ميرا جيسا يزيد جيسے کي ہرگز بيعت نہيں کرسکتا‘‘، يعني حسين کبھي ايسي بيعت نہيں کرے گا۔

امام حسين کو پرچم حق کے عنوان سے تاابد تک باقي رہنا ہے اور حق کا پرچم نہ توباطل طاقتوں کيلئے استعمال ہوسکتا اور نہ ہي اُس کے رنگ ميں رنگ سکتا ہے۔ يہي وجہ ہے کہ امام حسين نے فرمايا ’’ھَيھَات مِنَّا الذِّلَّۃ‘‘ ٢ ،’’ذلت ہم سے دور ہے ‘‘۔امام حسين کي تحريک ،عزت و سربلندي کي تحريک تھي يعني عزت ِ حق، عزتِ دين، عزتِ امامت اور رسول اللہ ۰ کے دکھائے ہوئے راستے کي عزت! سيد الشہدا چونکہ عزت کا مظہر کامل تھے لہٰذا آپ نے قيام فرمايا؛ يہ ہے حسيني ٴعزت و سربلندي!

2۔ معنويت و فضيلت کا مجسم ہونا

معنويت کا عنصر بھي حضرت امام حسين کے قيام اور تحريک ميں مجسم نظر آتا ہے ؛بہت سے افراد امام حسين کے پاس آتے ہيں اور اُنہيںا ُن کے قيام کي وجہ سے سرزنش کرتے ہيں۔ يہ افراد معمولي يا برے افراد نہيں تھے بلکہ بعض اسلام کي بزرگ ہستيوں ميں شمارکيے جاتے تھے ليکن يہ افراد غلط سمجھ بيٹھے تھے اور بشري کمزورياں اِن پر غالب آگئي تھيں۔

يہي وجہ تھي کہ اُنہوں نے چاہا کہ امام حسين کو بھي اُنہي بشري کمزوريوں کے سامنے مغلوب بنا ديں ۔سيدالشہدا نے صبر کيا اور مغلوب نہيں ہوئے اوريوں امام حسين کے ساتھ شامل ايک ايک شخص اِس معنوي اور اندروني جنگ ميں کامياب ہوگيا۔وہ ماں کہ جس نے اپني پوري خوشي اور سر بلندي کے ساتھ اپنے نوجوان بيٹے کو ميدان جنگ بھيجايا وہ نوجوان کہ جس نے دنياوي لذتوں کو خير آباد کہہ کر خود کو ميدان جنگ ميں لہرائي جانے والي خون کي تشنہ تلواروں کے سامنے پيش کرديا يا حبيب ابن مظاہر جيسے بزرگ افراد اور مسلم ابن عوسجہ جيسے لوگ جو اپني ايام پيري کے راحت و آرام، نرم و گرم بستروں اور گھربار کو چھوڑ آئے اور ميدان جنگ کي تمام سختيوں کو تحمل کيا۔اِسي طرح سپاہ دشمن ميں ايک خاص مقام کے حامل شجاع ترين سردار يعني حُر ابن يزيد رياحي نے اپنے مقام و منزلت سے صرف نظر کيا اور حسين ابن علي سے جاملا، يہ سب افراد معنوي اور باطني جنگ ميں کامياب ہوئے۔

اُس معنوي جنگ ميں جو لوگ بھي کامياب ہوئے اور عقل وجہالت کے لشکروں کي محاذ آرائي ميں عقل کے لشکروں کو جہالت کے لشکروں پر غلبہ دينے ميں کامياب و کامران ہوئے، اُن کي تعداد بہت کم تھي ليکن اُن کي استقامت اور ثبات قدم اِس بات کا سبب بنے کہ تاريخ کے ہزاروں افراد اُن سے درس حاصل کريں اور اُن کي راہ پر قدم اٹھائيں۔ اگر يہ لوگ اپنے وجود ميں فضيلتوں کو رذيلتوں پر غلبہ نہيں ديتے تو تاريخ ميں فضيلتوں کا درخت خشک ہوجاتا ہے مگر اِن افراد نے اپنے خون سے اِس درخت فضيلت کي آبياري کي ۔

3. مصائب کربلا ميں عنصر عزت

کربلا کے تيسرے پہلو يعني مصائب اور مشکلات ميں بھي جابجا مقامات پر عزت و افتخار اور سربلندي کا عنصر نظر آتا ہے۔ اگرچہ کہ يہ مصائب کا ميدان اور بابِ شہادت ہے، اگرچہ کہ جوانانِ بني ہاشم ميں سے ہر ايک کي شہادت،بچوں کي، اطفال صغير کي اور بزرگ اور عمررسيدہ اصحاب کي شہادت حضرت سيد الشہدا کيلئے ايک بہت بڑے غم اور مصائب کا باعث ہے ليکن اِس کے خوداُن کیلئے  کيلئے عزت و سربلندي کا باعث ہے.

حسيني تحريک کو دو مختلف نگاہوں سے ملاحظہ کيا جاسکتا ہے اور يہ دونوں نگاہيں درست ہيں ليکن يہ دونوں نگاہيں مجموعاً اِس تحريک کے مختلف اورعظيم ابعاو جہات کي نشاندہي کرنے والي ہيں۔

ايک نگاہ امام حسين کي تحريک کي ظاہري صورت سے متعلق ہے کہ آپ ٴ کي يہ تحريک و قيام؛ ايک فاسق، ظالم اور منحرف يزيدي حکومت کے خلاف تھاليکن ظاہري و معمولي اور آدھے دن ميں ختم ہو جانے والي يہي تحريک درحقيقت ايک بہت بڑي تحريک تھي کہ جسے يہ نگاہ دوم بيان کرتي ہے اور وہ انسان کي جہالت و پستي کے خلاف امام ٴ کي تحريک ہے ۔صحيح ہے کہ امام حسين گرچہ يزيد سے مقابلہ کرتے ہيں ليکن يہ امام عالي مقام ٴ کاصرف يزيد جيسے بے قيمت اور پست انسان سے تاريخي اور عظيم مقابلہ نہيں ہے بلکہ انسان کي جہالت وپستي ، ذلت و رُسوائي اور گمراہي سے مقابلہ ہے اور درحقيقت امام ٴ نے اِن سے جنگ کي ہے۔
 
روحانيت اور معنويت کي دنيا ميں محبت اور مہرباني کا اپنا ايک خاص اور الگ مقام ہے؛ نہ مہرباني، دليل و برہان کي جگہ لے سکتي ہے اور نہ ہي دليل و برہان، مہرباني ،احساسات کي جگہ پُر کرسکتے ہیں۔ واقعہ کربلا اپني ذات اور حقيقت ميں سچے قسم کے مہرباني اور محبت کے جذبات و احساسات لئے ہوا ہے۔

ايک ايسے اعليٰ صفت اورپاک و پاکيزہ نوراني انسان کي ملکوتي شخصيت ميں نقص و عيب اور دھوکہ و فريب کا دور دور تک کوئي شائبہ نہيں ہے جو ايک عظيم ہدف کيلئے کہ جس کے بارے ميں تمام مُنصِفين عالم متفق القول ہيں کہ اُس کا قيام معاشرے کو ظلم و ستم سے نجات دلانے کيلئے تھا ، ايک عجيب و غريب تحريک کا آغاز کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ’’اَيُّہَا النَّاسُ! اِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّي اللّٰہُ عَلَيہِ وآلِہِ وَسَلَّم قَالَ مَن رَآَيٰ سُلطَانًا جَائرًا۔۔۔‘‘۔ يہاں امام حسين ظلم و ستم سے مقابلے کو اپني تحريک کا فلسفہ قرار دے کر اُس کا اعلان فرمارہے ہيں کہ ’’يَعمَلُ فِي عِبَادِاللّٰہِ بِالجَورِ والطُّغيَانِ وَبالاِثمِ وَالعُدوَانِ‘‘؛يعني’’ جو بندگانِ خدا پر ظلم و جوراورگناہ و معصيت سے حکومت کر رہا ہے‘‘۔ يہاں بات مقدس ترين اہداف کي ہے کہ جسے تمام مُنصِفِين عالم قبول کرتے ہيں؛ايسا انسان اپنے ايسے بلند اور مقدس ہدف کي راہ ميں جنگ اورمبارزے کي سختيوں اور مصائب کو تحمل کرتا ہے۔

 اسلام کي کسي جنگ ميں جب حق و باطل کے لشکر مقابلے کيلئے صف آرا ہوئے تو محاذ جنگ ميں سرفہرست رہنے والي شخصيات ميں پيغمبر اکرم  اور امير المومنين پيش پيش تھے، پيغمبر اکرم نے اپنے سپاہيوں سے پوچھا کہ’’کون ہے جو ميدان جنگ ميں جائے تاکہ دشمن کے فلاں معروف جنگجو کو قتل کرسکے‘‘؟ سپاہ اسلام ميں سے ايک نوجوان نے حامي بھري اور سامنے آگيا؛ حضرت ختمي مرتبت  نے اُس کے سر پر ہاتھ پھيرا اور آگے تک اُس کے ساتھ گئے، مسلمانوں نے بھي اُس کيلئے دعا کي اور وہ يوں ميدانِ جنگ ميں قدم رکھتا ہے، جہاد کرتا ہے اور درجہ شہادت پر فائز ہوتا ہے.

يہ ايک قسم کا جہاد کرنا اور قتل ہونا ہے۔ ايک اور قسم کا جہاد وہ ہے کہ جب انسان ميدان نبرد ميں قدم رکھتا ہے تو معاشرے کي اکثريت يا اُس کي منکر و مخالف ہے يااُس کي شخصيت اور مقام و منزلت سے غافل؛يا اُس سے کنارہ کشي اختيار کيے ہوئے ہے يا اُس سے مقابلے کيلئے نيزوں کو ہوا ميں لہرا رہي ہے اور تلواروںکو باہر نکالے ہوئے ہے اور وہ افراد جو اپنے قلب سے اُس کو داد و تحسين دينے والے ہيں وہ تعداد ميں بھي کم ہيں اوروہ بھي اُس کو زباني داددينے کي جرآت نہيں رکھتے۔

تحريک کربلا ميں ’’عبد اللہ ابن عباس  اور ’’عبد اللہ ابن جعفر‘‘ جيسے افراد بھي جو خاندان بني ہاشم سے تعلق کھتے ہيں اور اِسي شجرہ طيبہ سے متصل ہيں، جرآت نہيں کرتے کہ مکہ يا مدينہ ميں کھڑے ہوکر فرياد بلند کريں اور امام حسين کيلئے اور اُن کي حمايت ميں نعرے لگائيں؛يہ ہے غريبانہ جنگ اور مبارزہ!اوريہ ايسي سخت ترين جنگ ہے کہ جہاں تمام افراد اِس لڑنے والے انسان سے روگرداں اور اُس کے دشمن ہوں۔ امام حسين کي جنگ ميں اُن کے بعض دوستوں نے بھي اُن سے منہ موڑ ليا تھا جيسا کہ اُن ميں سے ايک سے جب سيد الشہدا نے کہا کہ ’’آو ميري مدد کرو‘‘ تو اُس نے مدد کرنے کے بجائے حضرت کیلئے اپنا گھوڑا بھيج ديا اور کہا کہ ’’ميرے گھوڑے سے استفادہ کيجئے‘‘۔

اِس سے بھي بڑھ کر غربت و تنہائي اور کيا ہو گي اور اِس غريبانہ جنگ سے بھي بڑھ کر اور کون سي جنگ ہے؟! اور اِس کے ساتھ ساتھ اِس غربت و تنہائي کي جنگ ميں اُس کے عزيز ترين افراد کو اُس کي آنکھوں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے کرديا جاتا ہے، اُس کے بھتيجے، بيٹے، بھانجے، بھائي، چچا زاد بھائي ، بہترين اصحاب اور گل ہائے بني ہاشم اُس کے سامنے ايڑياں رگڑ رگڑ کر جان دے ديتے ہيں ! حتيٰ اُس کے شير خوار چھ ماہ کے بچے کو بھي موت کےگھاٹ اتار ديا جاتا ہے!

اِن تمام مصائب اور جان فرسا سختيوں کے علاہ وہ جانتا ہے کہ جيسے ہي اُس کي روح اُس کے جسم سے جدا ہوگي اُس کے اہل و عيال، بے پناہ و بے دفاع ہوجائيں گے اور دشمن کے حملوں کا نشانہ بنيں گے۔

 ايسي سخت ترين جنگ اور شديد ترين مصائب اور طاقت فرسا سختيوں کے ساتھ شہيد ہوجاتا ہے!

يہ وہ چشمہ ہے جو روزِعاشوراُس وقت جاري ہوا کہ جب حضرت زينب ’’تلّہ زينبيہ‘‘پر تشريف لے گئيں اور پيغمبر  کو مخاطب کرتے ہوئے فرمايا کہ ’’يَا رَسُولَ اللّٰہِ ! صَلّيٰ عَلَيکَ مَلَائِکۃُ السَّمَآئِ ، ھَذاحُسَين مُرَمَّل? بِالدِّمَآئِ ، مُقَطَّعُ الاَعضَآئِ ، مَسلُوبَ العَمَّامَۃِ والرِّدَآئِ‘‘؛ ’’ اے نانا رسول اللہ  آسمان کے ملائکہ آپ پر درودو سلام بھيجيں،يہ آپ کا حسين ہے، اپنے ہي خون ميں غلطاں، جس کا جسم پائمال ہے اور جس کے عمامے اورعبا کو لوٹ ليا گيا ہے‘‘۔ حضرت زينب نے يہاں امام حسين کے مصائب پڑھنے شروع کيے اور با آواز بلند اُس واقعہ کو بيان کرنا شروع کيا کہ جسے يہ لوگ چھپانا چاہتے تھے۔ سيدالشہدا کي عظيم المرتبت خواہر نے کربلاوکوفہ اور شام و مدينہ ميں با آواز بلند واقعہ عاشورا کو بيان کيا، يہ چشمہ اُس وقت اُبلا اور آج تک جاري و ساري ہے!


 ایک معاصر عربی ادیب نے کہا ہے کہ اسلام قیام کے لحاظ سے محمدی ہے اور بقا کے اعتبار سے حسینی مذہب ہے۔

اقوال حضرت امام حسین علیہ السلام

1. وہ چیزجو خود اپنے وجود کے لئے تیری محتاج ھے، تیرے وجود کے لئے کس طرح دلیل ھو سکتی ھے؟
کیا تیری ذات سے بڑہ کر بھی کوئی آشکار چیز ھو سکتی ھے کہ جو تجھے آشکار کرے؟تو کب پوشیدہ ھے کہ مجھے ڈھونڈھنے کے لئے اس دلیل کی ضرورت پڑے جو مجھ پر دلالت کرے ؟ اور اب تو کب دور ھے کہ تیرے آثار کے ذریعے مجھ تک پھونچائے ؟ نابینا ھو جائے وہ آنکہ جو تجھے اپنی طرف ناظر نہ سمجھے ۔

2.جس نے تجھے پا لیا اس نے کیا کھویا، اور جس نے تجھے کھودیا اس نے کیا پایا؟جو انسان تیرے علاوہ کسی اور چیز کو دوست رکھتا ھو اور اسی پر راضی وخوشنود ھو، وہ یقینا گھاٹے میں ھے۔

3.جو لوگ خدا کی خوشنودی کو بندوں کی رضایت کے بدلے خریدتے ھیں، وہ کبھی کامیاب نہ ھوں گے۔


4.روز قیامت کسی بھی شخص کے لئے امان نھیں ھے مگر وہ شخص کہ جو باتقویٰ ھو۔


5.خداوند عالم فرماتا ھے: ”مومن مردو وعورت ایک دوسرے کے ساتھی ھیں، جو امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کرتے ھیں۔“
خدا وند عالم نے سب سے پھلے امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کو ایک فریضے کے طور پربیان کیا ھے، اس لئے کہ وہ یہ جانتا ھے کہ اگر یہ فرائض انجام پا جائیں تو دوسرے تمام وظائف بھی خواہ وہ سخت ھوں یا آسان، انجام پا ھی جائیں گے۔ کیونکہ امر بالمعروف اور نھی عن المنکردین اسلام کی تبلیغ کا ایک بھترین ذریعہ ھے، جومظلوموں کو، ظالموں کے مقابلہ میں اپنا حق لینے کے لئے اکساتا رھتاھے۔

6.رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! جو شخص ظالم بادشاہ کو دیکھے کہ جو حرام خدا کو حلال کررھا ھے، خداوند عالم کے حکم کی خلاف ورزی کررھا ھے، اللہ کے رسول کے لائے ھوئے قوانین کی مخالفت کررھا ھے، بندگان کے درمیان ظلم وستم، معصیت ونافرمانی اور دشمنی کا بازار گرم کئے ھوئے ھے، اور وہ شخص اپنے فعل و عمل کے ذریعہ اس کی مخالفت نہ کرے، تو خداوند عالم پر لازم ھے کہ اس شخص کا ٹھکانہ بھی اسی ظالم کے ساتھ قرار دے۔

7.لوگ دنیاکے غلام ھیں، اور دین کو اپنی زندگی کے وسائل فراھم کرنے کے لئے ایک لعاب کے طور پر استعمال کرتے ھیں،جو ان کی زبانوں سے چمٹا ھوا ھے۔ لیکن جب آزمائش وامتحان کا وقت آجاتا ھے تو دیندار لوگ کم یاب ھو جاتے ھیں۔


8.جوشخص گناھوں کے ذریعہ اپنے مقصد تک پھونچنا چاھتا ھے، اس کی آرزوئیں بہت دیر سے پوری ھوتی ھیں، اور جس چیز سے ڈرتا ھے سب سے پھلے اسی میں گرفتار ھوجاتا ھے۔


9.کیا تم نہیں دیکھ رھے ھو کہ لوگوں کے حقوق کو پامال کیا جا رھا ھے، اور کوئی باطل کا مقابلہ کرنے والا نھیں؟ لہذا ایسے میں مومن اگر حق پر ھے تو اس کو چاھئے کہ خدا سے ملاقات کی تمنا کرے۔


10.موت سے بڑہ کر میرے لئے کوئی سعادت نہیں ھے، ستمگروں اورظالموں کے ساتھ زندگی بسر کرنے سے بڑہ کر میرے لئے کوئی عذاب نھیں ھے۔


11.تمھاری مصیبتیں وپریشانیاں تمام لوگوں سے زیادہ اس لئے ھیں کہ دانشمندوں کا عہدہ ( اگر تم سمجھتے ھو یا بالفرض اگر تمھارے اندر اس کی لیاقت ھے تو) تمھارے ھاتھوں سے لے لیا گیا ھے۔
یہ مصیبتیں وپریشانیاںاس وجہ سے ھیں چونکہ حل وعقد امور اور نفاذ احکام الٰھی ان خدا شناس دانشمندوں کے ھاتھ میں ھونا چاھئے جو حلال وحرام الٰھی کے امین ھیں۔
لیکن یہ مقام ومنزلت تم سے اس لئے لے لیا گیا ھے کہ تم نے حق سے کنارہ کشی اختیار کی،واضح اور آشکار دلیلوںکے باوجود تم نے سنت پیغمبر(ص) میںاختلاف پیدا کردیا۔ اگرتم ان آزار واذیت کے مقابلہ میں صبر سے کام لیتے اور ان مصیبتوں اور سختیوں کو خدا کی راہ میں قبول کر لیتے تو تمام امور الٰھی کی باگڈور تمھارے ھاتھوں میں تھما دی جاتی اور اس کا مرجع و مآخد تم ھی قرار پاتے۔ لیکن تم نے ظالموں اور ستمگروں کواپنے اوپر مسلط کرلیا اور تمام امور الٰھی کی باگڈور ان کے ھاتھ میں تھما دی جب کہ وہ شبھات پر عمل کرتے ھیں اور شھوت وھوس رانی کو اپنا پیشہ بنائے ھوئے ھیں، تمھاراموت سے فرار اور اس ناپائدار زندگی پر راضی ھونا،ھی ستمگاروں کی قدرت طلبی کا باعث بنا ھے۔


12.خداوندا ! تو گواہ رھنا کہ ھم نے جو کچہ انجام دیا ھے نہ مقام ومنزلت حاصل کرنے کے لئے انجام دیا ھے اور نہ ھی دنیا کی پست اور بیکار چیزوں کے حاصل کرنے کے لئے۔ ھم نے جو کچہ انجام دیاصرف اس لئے تاکہ لوگ تیرے دین کی نشانیوں کو سمجھیں، اور تیرے شہروں میں بسنے والے بندوں کو مفاسد سے روکیں ، تاکہ تیرے مظلوم بندے امن وامان میں رھیں اور تیرے احکام کی پابندی کرسکیں۔


13.حق یہ ھے کہ میں بے مقصد ایک باغی، ظالم اورستمگرکی حیثیت سے قیام نھیںکر رھاھوں، بلکہ میں نے اپنے جد محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی اصلاح کے لئے قیام کیا ھے ، میں چاھتا ھوں کہ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر انجام دوں ، اوراپنے جد محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اپنے بابا علی مرتضی علیہ السلام کی روش پر گامزن رھوں۔


14.اگر دنیا کو باارزش سمجھ لیا جائے تو جان لو کہ منزل آخرت اور خداوند عالم کی جانب سے ملنے والا ثواب اس سے کھیں زیادہ ارزشمند اور بہتر ھے۔
انسان اگر مرنے کے لئے ھی پیدا کیا گیا ھے تو خدا کی قسم شہادت سے بڑہ کر کوئی اور موت بہتر نھیں ھوسکتی۔
جب انسان کا رزق معین ھو چکا ھے تو انسان کے لئے بہتر یھی ھے کہ وہ رزق و روزی کی طلب میں حرص سے کام نہ لے ۔
اگر مال کو جمع کرنے کا مقصد اس کو ترک کرنا ھی ھے تو پھر کیوںایک آزاد انسان ان چیزوں کے سلسلہ میں بخل سے کام لیتا ھے کہ جو باقی رھنے نہیں والی ھیں۔


15.اگر معاد اور روز قیامت کا تمھیں کوئی خوف نھیںھے تو کم از کم دنیا میں ھی آزاد اور جوانمردانسان بن کر زندگی گزارو۔


16.کچہ لوگ حرص ولالچ کی بنا پر خدا کی عبادت کرتے ھیں، یہ سودا گروں کی عبادت ھے۔
کچہ لوگ ڈر اور خوف کی وجہ سے خدا کی عبادت کرتے ھیں، یہ غلاموں کی عبادت ھے۔
کچہ لوگ خدا وندعالم کا شکر بجا لانے کے لئے اس کی عبادت کرتے ھیں،یہ عبادت سب سے بہترین اور آزاد مردوں کی عبادت ھے۔


17.آگاہ ھو جاؤ! لوگوں کا تمھارے پاس اپنی حاجتوں کا لے کر آنا، یہ خداوند عالم کی بہترین نعمتوں میں سے ایک نعمت ھے۔ لہذا اس نعمت سے غافل نہ رھو، کھیں ایسا نہ ھو کہ یہ نعمت تمھارے پاس سے پلٹ کر کسی اور کے پاس چلی جائے۔


18۔اے لوگو!ان ملامت وسرزنش سے عبرت حاصل کرو جو خدا وند نے علماء یہود کو پند ونصیحت کے طور پر کی تھیں۔جب خداوند عالم فرمایا: ”علمائے یہود نے اھل یہود کو گناہ آلود باتوں سے کیوں نھیں روکا ؟“ اور ارشاد فرماتا ھے: ”گروہ بنی اسرائیل سے وہ لوگ جو کافر ھوگئے،(جناب داؤد اور جناب عیسیٰ کی زبان پر) ملعون قرار پائے۔“ یھاں تک کہ ارشاد ھوتا ھے: ”وہ کتنے ناپسندیدہ کاموں کو انجام دیتے تھے۔“ یہی وجہ تھی کہ خدا وندعالم کو ان کی یہ بات ناگوار گذری کہ وہ ستمگروں اور ظالموں کے ناروا افعال کو دیکھتے تھے اور اس سے منع نہ کرتے تھے، کیونکہ وہ ستمگروں کی طرف سے ملنے والے مال پر حریص ھو جاتے، اور اعتراض کی صورت میں وہ اس کے انجام سے ڈرتے تھے۔ اسی لئے خداوند عالم ارشاد فرماتا ھے: ”مجھ سے ڈرو لوگوں سے نہ ڈرو۔“ اور یہ بھی فرماتا ھے: ” مومن مردو عورت ایک دوسرے کے بھائی ھیں، جو نیکی کا حکم دیتے ھیں اور برائیوں سے روکتے ھیں۔“


19.اگر کوئی شخص لوگوں کی رضایت وخوشنودی حاصل کرنے کے لئے خداوند عالم کے غیض وغضب کا باعث بنے تو خداوند عالم بھی اس کو لوگوں کے حوالے کردیتا ھے۔


20.اس شخص پر ظلم وستم کرنے سے ڈرو جس کا خدا کے علاوہ کوئی اور مدد گار نہ ھو۔


21.جوتم پر زیادہ تنقید کرتا ھے وہ تمھارا واقعی اور حقیقی دوست ھے ، اور جو تمھاری تعریفیں کرتا ھے وہ گویا تمھارا دشمن ھے۔


22.حق کی پیروی سے ھی عقل کامل ھوتی ھے۔


23.فاسقوں کی صحبت اختیار کرنا، انسان کو معرض اتہام میں کھڑا کر دیتا ھے۔


24.خدا وند تعالی  کے خوف کی وجہ سے گریہ کرنا، آتش جہنم سے نجات کا باعث ھوتاھے۔


25.ایک شخص امام حسین علیہ السلام کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”میں ایک گناگار انسان ھوں اور خدا کی معصیت سے پرھیز نہیں کرتا، مجھے کچہ نصیحت کیجئے۔“ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: ”پانچ کام بجا لاؤ اس کے بعد جو چاھے کرو۔ پھلے یہ کہ خداوند عالم کا عطا کردہ رزق استعمال نہ کرو اور جو تمھارا دل چاھے گنا ہ کرو۔ دوسرے یہ کہ خداوند عالم کی حکومت سے خارج ھو جاؤ اس کے بعد جو تمھارا دل چاھے کرو ۔ تیسرے یہ کہ کسی ایسی جگہ چلے جاؤ کہ خدا تمھیں نہ دیکہ سکے اور جو تمھارا دل چاھے گناہ کرو۔ چوتھے یہ کہ جب عزرائیل تمھاری روح قبض کرنے کے لئے آئیں تو انھیں اپنے پاس سے بھگا دو پھر جو تمھارا دل چاھے گناہ انجام دو۔ پانچویں یہ کہ جس وقت جھنم کا مالک وحاکم تمھیں آگ میں ڈالے ، تم آگ میں نہ کودو اس کے بعد جو تمھارا دل چاھے گناہ کرو۔


26.جس کام کے سلسلہ میں تمھیں عذر خواھی کرنا پڑے اس کام سے پرھیز کرو، مومن نہ بدی کرتا ھے اور نہ عذر خواھی کرتا ھے۔ اور منافق ھر روز بدی کرتا ھے اور ھر روز عذر خواھی کرتا ھے۔


27.جلدی کرنا کم عقلی کی علامت ھے۔


28.کسی بھی شخص کواس وقت تک بات کرنے کی اجازت نہ دو جب تک کہ وہ سلام نہ کرلے۔


29.فکر نہ کرنے والے افراد کے ساتھ بحث وتکرار کرنا، جہل ونادانی کی ایک علامت ھے۔


30.تنقید، فکر اور مختلف نظریات کے سلسلہ میں جاننا، عالم کی نشانیوں میں سے ایک ھے۔


31.امام حسین علیہ السلام سے پوچھا گیا، یابن رسول اللہ (ص) آپ روز وشب کیسے گزارتے ھیں؟؟ آپ نے فرمایا: اس حالت میں کہ خداوند تعالی  ھمارے اعمال پر ناظر ھوتا ھے اور ھم آتش جہنم کو اپنی آنکھوں سے مشاھدہ کرتے ھیں، موت ھمارا پیچھا کررھی ھے،اپنے اعمال کے سلسلہ میں حساب وکتاب سے کوئی چھٹکارا نظر نہیں آتا، اپنی دلخواہ چیزوں پر دسترس نھیں رکھتا، اپنے اندر اپنے ارد گرد کی تکالیف کو دور کرنے کی قدرت نہیں پاتا، تمام امور کسی اور کے ھاتھ میں ھیں، اگر وہ چاھے تو مجھ پر عذاب نازل کرسکتا ھے اور اگر چاھے تو مجھے معاف کرسکتا ھے، اس بنا پر ایسا کون مسکین ھے جو مجھ سے بھی زیادہ ناتواں اور عاجز ھو۔


32.جو بخش دے وہ بزرگ سمجھا جاتا ھے اور جو شخص بخل سے کام لیتا ھے وہ ذلیل ورسوا ھو جاتا ھے۔


33.لوگوں میں سب سے زیادہ مہربان شخص وہ ھے جو ایسے شخص کو معاف کردے جو اس سے اس بات کی امید نہ رکھتا ھو۔


34.جو شخص ایک برادر مومن کی مشکل کو حل کرے اور اسے اضطراب سے نجات دلائے تو خداوند عالم دنیا وآخرت کے اضطراب وپریشانیوں کو اس سے دور کردیتا ھے۔


35.جب کسی شخص کو دیکھو کہ لوگوں کی عزت و آبرو پر حملہ کررھا ھے تو کوشش کرو کہ وہ تمھیں نہ پہچانے۔


36.اپنی حاجتوں کو متدین ، جواں مرد اور نجیب وشریف انسان سے بیان کرو۔


37.اس شخص کی طرح عمل کرو جو گناھوں پر عذاب اور نیکی پر اجرو ثواب کا عقیدہ رکھتا ھو۔


38.سلام کرنے کا اجروثواب ستر نیکیوں کے برابر ھے، جس میں سے 69%اس شخص کے لئے ھیں جو سلام کرتا ھے اور ایک نیکی سلام کا جواب دینے والے کے لئے ھوتی ھے۔


39.اگر یہ تین چیزیں ، فقر، مرض اور موت نہ ھوتی تو بنی آدم کسی کے سامنے سر نہ جھکاتا۔


40.تمھاری قیمت بہشت کے سوا اور کچہ نہیں ھے، پھر کیوں اپنے آپ کو اس کے غیر سے بیچتے ھو۔ اس لئے کہ جو شخص دنیا پر راضی ھو جائے ( گویا اس کا مقصد صرف اور صرف دنیا ھے) وہ ایک پست چیز پر راضی ھوا ھے۔


41.گذشتہ نعمتوں پر شکر ، خداوند تعالی کی طرف سے نئی اور تازہ نعمتوں کے عطیہ کا سبب ھوتا ھے۔


42.جو شخص خوف خدا رکھتا ھو وھی امین ھو سکتا ھے


43.پوچھا گیا فضیلت کیا ھے؟ تو آپ نے فرمایا: زبان کو قابو میں رکھنا اور نیکی کرنا


44.اے لوگو! نیک اور اچھے صفات میں ایک دوسرے کے رقیب ھو جاؤ، اچھے وقت کو ھاتھ سے نہ جانے دو، وہ عمل خیر جس کی انجام دھی میں تم نے سستی سے کام لیا، اسے اچھا نہ گردانو۔ کامیابی اور کامرانی حاصل کر کے دوسروں کا شکریہ اور ستائش حاصل کرو۔ نیک کاموں میں سستی اور کاھلی کی وجہ سے اپنے آپ کو مورد ملامت قرار نہ دو۔


45.وہ تمام بڑی نعمتیں جو خدا نے تمھیں عطا کی ھیں جان لو کہ یہ ان ضروریات میں سے ھیں جس کی لوگ تم سے توقع رکھتے ھیں۔بچو! کہیں ایسا نہ ھو کی ضرورتمندوں کی طرف سے بے توجہی تم سے یہ نعمتیں واپس لے لے اور یہ بلا اور مصیبت کی صورت اختیار نہ کر لیں۔ جان لو کہ نیک کام کی انجام دھی کے بعد لوگوں کے لئے حمدوستائش کا سبب بننے کے علاوہ خدا وند عالم کی طرف سے بھی اس کے اجروثواب کے حقدار ھو۔اگرکسی نیک کام کو انسانی شکل میں مشاھدہ کرتے تو اس کو بہت ھی نیک اور بہت ھی خوبصورت شکل میں دیکھتے اس طرح سے کہ ھر دیکھنے والا اس کو دیکھتا ھی رہ جائے۔اور اگر تم کسی برے کام کو کسی انسانی شکل میں دیکھتے تو تمھاری نظر میں اس کا تصور ایک بد صورت اور بھدی شکل والے انسان کا ھوتااس طرح سے کہ دلوں میں اس سے نفرت پیدا ھوجاتی اوراس نحس شکل کو دیکھتے ھی آنکھیں بند کرلیتے۔


46.لوگوں میں بہادر ترین شخص وہ ھے جو اپنے دشمن پر غلبہ پانے کے باوجود اسے معاف کردے۔

47.صلہ رحم میں وہ شخص سب سے اچھا ھے جو ان رشتہ داروں کی بہ نسبت دلجوئی اور ٴ رحم کرے جنہوں نے اس سے قطع رحم کیا ھے۔

48.جان لو کہ جو شخص برادر مومن کے غم کو ھلکا کرے تو خداوند عالم بھی دنیا وآخرت کے غموں کو اس سے دور کردے گا۔ اور جو شخص دوسروں کے ساتھ نیکی کرے تو خداوند عالم بھی اس کے ساتھ نیکی کرے گا اس لئے کہ خداوند عالم نیک افراد کو دوست رکھتا ھے۔


49.بردباری انسان کی زینت ھے، اور وعدہ کو وفاکرنا جوان مردی کی علامت ھے۔


50.تکبر،ایک طرح کی خود پسندی اور بے جا خود ستائی ھے۔ کاموں میں جلدی کرنا، کم عقلی کی علامت ھے۔ کم عقلی روح کی کمزوری کی علامت ھے۔ ھر چیز میں زیادہ روی سے کام لینا ھلاکت کا باعث ھوتا ھے۔

51.آگاہ ھو جاؤ، جنگ ایک ایسا فتنہ ھے جس کی سختیاں انسان کو خوف میں مبتلا کردیتی ھیں جس کا مزہ حد سے زیادہ تلخ اور کڑوا ھوتا ھے کہ جسے گھونٹ گھونٹ کرکے پیا جاتا ھے۔ مرد میدان اور جنگ کا فاتح وھی ھوتا ھے جو ھر وقت جنگ کے لئے آمادہ ھو، لشکر کی کثرت ،جنگ کے سازوسامان اور جنگ شروع ھونے سے پہلے ھی دشمن سے خوف زدہ نہ ھو جائے، اور جنگ میں جو بھی شخص وقت کے آنے سے پہلے ،کام میں دقت نظری اور سازوسامان پر نظر رکھنے سے پہلے میدان میں آجائے اس نے اپنی قوم وقبیلہ کو کوئی فائدہ نہ پہنچایا ھوچاھے خواہ وہ اپنی جان جوکھم میں ھی کیوں نہ ڈال دے۔

52.میں تمھیں خدا سے ملاقات کے دن (روز قیامت) سے ڈراتے ھوئے تمھیں تقویٰ و پرھیزگاری کی وصیت کرتا ھوں ،اس وقت کا تصور کرو کہ جب موت ایک وحشتناک شکل وصورت میں آئے گی، اس کا آنا اچانک اور ناگوار انداز میں ھوگا، تمھاری روح کو اپنے پنجوں میں جکڑ لے گااس وقت تمھارے اور عمل کے درمیان فاصلہ پیدا ھو جائے گا، لیکن پھر بھی تم طول عمر اور اپنے تن کی فکر میں ھو۔

میں تمھیں دیکھ رھا ھوں کہ اچانک موت نے تمھارا گریبان پکڑ لیا ھے اور تمھیں زمین سے اپنے اندر کھینچ رھی ھے، تمھیں زمین کی بلندی سے پستی پر لا پٹخا ھے ، دنیا کی الفت ومحبت سے تمھیں قبر کی تاریکی میں دھکیل دیا ھے، دنیا کی خوبصورتی اور چکاچوندھنی سے قبر کی ظلمت وتاریکی کی طرف لے جا رھی ھے ، کشادگی سے قبر کی تنگی کی طرف کھینچ رھی ھے ،ایک ایسے زندان میں جھاں کسی نزدیک ترین عزیز سے بھی ملاقات ناممکن ھے، اس جگہ جہاں بیماری کی عیادت بھی نھیں کی جاسکتی، جھاں کسی کی نالہ وفریاد نھیں سنی جاتی۔
ان مشکل ایام میں پروردگار ھمیں اور تمھیں کامیابی عطا فرمائے۔ ھمیں اور تمھیں اس دن کے عذا ب سے نجات عطا فرمائے، اور ھم سب کو ایک عظیم انعام سے نوازے۔


53.میں وصیت کرتا ھوں تقویٰ الٰھی اختیار کرو، اس لئے کہ خداوند عالم نے اس بات کی ضمانت لی ھے کہ وہ افراد جو با تقویٰ ھیں انہیں ناپسندیدہ چیزوں سے نیک اور اچھی چیزوں کی طرف رھنمائی کرے۔ ”اور وہ اس طرح سے تمھیں روزی عطا کرتا ھے کہ جس کا تم تصور بھی نھیں کرسکتے۔


54.کہیں ایسا نہ ھو جائے کہ تم گناھگار لوگوں سے پرھیز کرو اور خود اس کام کے انجام سے غافل رھو۔ اس لئے کہ خدا وندعالم بہشت دے کرکے دھوکہ نھیں کھائے گا، اس نے جن انعامات کا وعدہ کیا ھے سوائے اس کے فرمانبرداروں کے کوئی اور اس کا حقدار نھیں ھوسکتا۔


55.اے بنی آدم! تھوڑا سا سوچو ، غور کرو اور یہ بتاؤ کہ دنیا پر حکومت کرنے والے بادشاہ وحکمراں کہاں ھیں؟جنھوں نے دنیا کی سونی جگہوں کو آباد کیاھے۔

جو کربلا کی اندھیری راتوں میں روشنی ھے حسین وہ ھے
شہادتوں کے سفر کا حاصل جو زندگی ھے حسین وہ ھے
گلاب میں جو لہو کی خؤشبو سے تازگی ھے حسین وہ ھے
بزیرٍ خنجر جو ایک پیاسے کی بندگی ھے حسین وہ ھے

حسین میرا، حسین تیرا، حسین سب کا
حسین حیدر کا،مصطفی کا،حسین رب کا
(صفدر ھمدانی)

مضمون کی تیاری کے لیئے مختلف ویب سائٹس ، کتابٍ احادیث اور اشعار جناب صفدر ھمدانی کی کتاب “ معجزہ قلم سے لیئے گئے )

 

:دیگر مضامین
(29.10.2012) صدارتی انتخابات میں حصہ لینے پرغور کر سکتے ہیں۔ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق
(26.10.2012) ذبح اسماعیل علیہ السلام ۔ بارگاہ خداوندی سے سیدنا اسمٰعیل علیہ السلام کی قربانی کا حکم
(15.09.2012) سرطانِ پستان سے متعلق دس سوالات ۔از۔ڈاکٹر نذیر مشتاق
(28.08.2012) شاہ چراغ،سیدنا امامزادہ میراحمد بن امام موسیٰ کاظم ۔ از۔پیر سید علی عباس شاہ۔
(26.06.2012) "القدس اور مسجد اقصیٰ کی خاطر ہزار بار جیل جانے کو تیار ہوں"شیخ رائد صلاح
(21.05.2012) ادبی نام ، قلمی نام - یہ تو فیض و فراز جیسے بڑے لوگوں کی باتیں ہیں
(12.05.2012) القدس اور مسجد اقصیٰ کی خاطر ہزار بار جیل جانے کو تیار ہوں۔شیخ رائد
(27.04.2012) انجمن امامیہ بلتستان کے نائب صدر شیخ جواد حافظی کا عالمی اخبار کو خصوصی انٹڑویو
(25.04.2012) فاطمہ سلام اللہ علیہا جن پر خاندان نبوت کو ناز ہے۔سید اکمل حسین
(24.04.2012) فاطمتہ الزھرا س کی سیرت خواتین عالم کے لئے مشعل راہ و ھدایت کا مرکز
(04.03.2012) سچی سچی دل کی باتیں۔۔۔عالمی اخبار میں احتشام جمیل کے ساتھ۔۔
(03.03.2012) امام ابومحمد حسن عسکری علیہ السلام کی ولادت باسعادت۔از۔ سید اکمل حسین
(20.02.2012)  خالد مشعل سے خصوصی مُکالمہ " فردِ واحد کی حکمرانی کا دور گذر چکا
(14.02.2012) دورآمریت میں بے بہاقربانیاں دینے والے مسلم لیگی رہنماآفتاب احمد گلوایڈووکیٹ
(09.02.2012) سچی سچی دل کی باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عالمی اخبار میں احتشام جمیل شامی کے ساتھ
(04.02.2012) ہفتہ وحدت اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں ۔ آیت اللہ سید خامنہ ای
(29.01.2012) اللہ کے حبیب اور نبی آخر الزمان کی زندگی عالمین کے لیئے نمونہ ہدایت ہے
(28.01.2012) ماہ صفر المظفر حضورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں
(31.12.2011) خواجہ حافظ شیرازی اپنی ذات میں گویا ایک مکمل جہان تھے
(26.12.2011) قصیدہ بردہ شریف کے خالق امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
شمس جیلانی۔وینکور  »
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  شمس جیلانی۔وینکور   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں