مجھے کسی اور کا تو علم نہیں لیکن اپنے بارے میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ مجھے صدر پاکستان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے تقریر کا شدت سے انتظار تھا اور اسکی بنیادی وجہ یہ تھی کہ مجھے یہ گمان تھا کہ شاید مملکت خداداد پاکستان کے صدر ملکی معیشت کی دگر گوں صورت حال،ملک میں امن و امان کی انتہائی حد درجہ خراب صورت حال،کراچی،گلگت،کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ اور کراچی میں بھتہ مافیا اور پرچی مافیا کی دگر گوں صورت حال پر حکومت وقت کی ناکامیوں کا ذکر کریں گے اور مملکت کے سربراہ کی حیثیت سے حکومت وقت کو انتباہ ہی ہیں بلکہ انکی کوتاہیوں کی نشاندہی کریں گے اور سربراہ ممملکت کے طور پر حکومت کو مشورے دیں گے
لیکن صدر زرداری کی اس تقریر نے حددرجہ مایوس کیا۔صرف ایک مجھے ہی نہیں بلکہ اس ملک کے نوے فیصد سے زیادہ عوام کو۔ مجھے بڑی سنجیدگی سے اس بات کا احساس ہوا کہ یہ شاید وزیراعظم کے لیئے لکھی ہوئی تقریر تھی جو غلطی سے صدر زرداری کو پڑھنے کے لیئے دے دی گئی اور انہوں نے بھی سوچے سمجھے بغیر اس تقریر کو پڑھ دیابے نظیر کی تصویر کے سہارے کی جانے والی یہ ساری تقریر حکومت کی ایسی کامیابیوں کا قصیدہ تھا جس سے شاید خود اہل حکومت بھی آگاہ نہیں ہیں۔ گوئبلز خودتو عشروں پہلے رخصت ہو گیا لیکن اسکا فلسفہ دروغ گوئی کو ہمارے حاکم آج بھی سینے لگائے اسے کامیابی کی کلید سمجھتے ہیں۔ گوئبلز نے کہا اور ہمارے حاکموں نے اس پر حدیث دروغ گویاں کی طرح عمل کیا کہ .. اتنا جھوٹ بولو اور اس دیدہ دلیری کے ساتھ جھوٹ بولو کہ سچ لگنے لگے..۔
حق سچ کی بات یہ ہے کہ کوئی بھی مائی کا لال حتیٰ کہ انکا بدترین دشمن بھی ان سے یہ اعزاز نہیں چھین سکتا کہ وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلے منتخب صدر مملکت ہیں جنہوں نے ایک ہی پارلیمنٹ سے مسلسل پانچویں بار خطاب کیا۔بلکہ میں یہ کہوں کہ پانچ سال سے ایک ہی جیسا خطاب کیا ہے
صدر زرداری جب ایوان میں تشریف لائے تو اگر ہشاش بشاش نہیں بھی تھے تو کم از کم سینے پر ہاتھ رکھ کر اور زبردستی کی مسکراہٹ سے ہشاش بشاش ہونے اور پر عزم ہونے کا تاثر ضرور دے رہے تھے اور پھر جب حذب مخالف نے نعرہ بازی شروع کی تو انہوں نے ایک بار پھر مسکرا کر وزیر اعظم کی طرف دیکھا۔ اس سے ابھی تک اندازہ یہی ہو رہا تھا کہ وہ حزب مخالف کی اس نعرہ بازی کو قطعی خاطر میں نہیں لا رہے
پھر جب سندھ کے سابق وزیر داخلہ اور پیپلز پارٹی کے منحرف ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی اہلیہ سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے صدر پاکستان کو خطاب کی دعوت دی تو صدر جونہی تقریر کے لیئے اٹھے تو انکی کرسی صدارت ایک دھچکے سے زمین پر آ رہی۔ ٹی وی کے کیمرے سیاست دانوں کی طرح جھوٹ نہیں بولتے لہذا ان کیمروں نے براہ راست نشریات میں یہ منظر بھی دکھایا کہ صدر کی کرسی زمین پر آ رہی تھی ۔ نجومیوں اور پنڈتوں نے اس کو بدشگونی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ کرسی گرنے کا نیک فال نہیں کہا جا سکتا۔پاکستان کے دو نامور نجومیوں اور بھارت کے ایک پنڈت کا کہنا ہے کہ صدر کی کرسی کا گرنا نیک فال نہیں اور اس ے ستاروں کی منفی چال کا اندازہ ہوتا ہے اور بہت ممکن ہے کہ بہت جلد اس کرسی گرنے کے اثرات نمایاں ہونے لگیں۔
صدر پاکستان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے تقریر قومی درجے کی تقاریر کے زمرے میں آتی ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ اس تاریخی قومی موقع پر انہوں نے قومی زبان اردو کی بجائے انگریزی میں تقریر کرنے کو ترجیح دی اور غیر کی زبان میں غیروں جیسی باتیں ہی کیں۔ بقول حزب مخالف کے قائد چوہدری نثار کے کہ صدر نے اپنی تقریر میں جس پاکستان کا ذکر کیا ہے وہ یہ پاکستان نہیں جس میں ہم لوگ رہتے ہیں۔
میں اب سوچتا ہوں کہ زرداری صاحب نے ایسی تقریر کے لیئے انگریزی زبان کا سہارا شاید اس لیئے لیا کہ ملک کے نوے فیصد سے زائد لوگ انکی باتوں کو سمجھ نہ سکیں اور انہیں یہ معلوم ہی نہ ہو کہ انکے صدر جس ملک کا ذکر کر رہے ہیں وہ وہی ملک ہے جہاں لاقانونیت کا دور دورہ ہے،ٹارگٹ کلنگ ہے،بجلی اور گیس نہیں ہے۔غیر ملکی سرمایہ کاری غائب ہے،اشیائے ضرورت کی قیمیتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ اگر صدر صاحب اردو میں تقریر کرتے تو عام آدمی کو اس جھوٹی تقریر کا علم ہو جاتا۔ اس لیئے کسی سیاسی مشیر کا مشورہ درست تھا۔
ہم جب قومی موقع پر سربراہان مملکت اور حکومت کی انگریزی زبان میں تقریریں کرنے پر تنقید کرتے ہیں تو اہل حکومت اکثر اسکی دلیل یہ دیتے ہیں کہ ایسے مواقع پر غیر ممالک کے سفیر اور سفارت کار بھی موجود ہوتے ہیں جنہیں اردو میں ظاہر ہے کہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ اب انکو کون بتائے کہ ایسے مواقع پر اور خاص طور پر پارلیمان میں ترجمے کی سہولت ہوتی ہے اور یہ سفارتکار کانوں پر لگے ہیڈ فونوں کے ذریعے ترجمہ بزبان انگریزی سن سکتے اور سمجھ سکتے ہیں۔ بلکہ جان کی امان پاؤں تو عرض کرؤں کہ ایسے سفارتکاروں کو ایسی انگریزی سمجھنے میں زیادہ دقت ہوتی ہے جو ہمارے حکمران بولتے ہیں۔ جبکہ پاکستان کے نوے فیصد عوام کے پاس ترجمہ کرنے کی کوئی سہولت میسر نہیں ہے ۔ ویسے بھی چائینا ، عرب ممالک اور ایران جیسے ملکوں سے لے کر چھوٹے چھوٹے ملک بھی اپنی قومی زبان میں ہی تقریر کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنی بات اپنی عوام تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ اب ہو سکتا ہے جس پاکستان کا زکرصدر کررہے تھے اس کی قومی زبان انگریزی ہی ہو۔
خیر یہ تو اردو زبان کے دکھ کے حوالے سے ایک جملہٗ معترضہ تھا ورنہ میرا موضوع تو صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وہ تقریر ہے جو شروع تو
شیر کی دھاڑ سے ہوئی تھی لیکن اسکا اختتام ایک صضعیف اور کمزور شخص کی آواز میں ہوا۔ ہو سکتا ہے کہ صدر محترم کو خود اس بات کا اندازہ ہو کہ وہ جو لکھا ہوا پڑھ رہے ہیں وہ سچ نہیں ہے اور اسی وجہ سے انکی زبان اور چہرہ لکھی ہوئی تقریر کے الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ صدر نے اپنی تقریر کے دوران چار بار پانی پیا اور نصف تقریر کے بعد انکے چہرے اور آواز کے تاثرات یہ بتا رہے تھے کہ وہ اندرونی تکلیف کے ساتھ اس لکھی ہوئی تقریر کو پڑھ رہے ہیں اور جیسے تیسے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ صدر کے عقب میں کھڑے ہوئے انکے اے ڈی سی کی حالت دیدنی تھی اور اسے صدر کی کانپتی ہوئی ضعیفانہ آواز سے شاید اس خوف کا اندازہ ہو رہا تھا کہ کہیں کسی ناگفتہ صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑے، شکر ہے پروردگار کا کہ صدر نے اپنی تقریر مکمل کی اور کوئی ایسی صورت حال پیدا نہیں ہوئی کہ جو ملک کے لیئے نقصان دہ ہوتیصدر آصف علی زرداری کی تقریر کے چند ایسے نکات جو ابھی تک سمجھ میں نہیں آ رہے کہ آخر یہ سب انہوں نے کس ملک کے حوالے سے کہے ہیں
انہوں نے کہا چار سالوں کے دوران پیپلز پارٹی کی
زیرقیادت مخلوط حکومت نے جمہوریت کے فروغ، معاشی استحکام اور امن و امان کے
قیام کے لیے جو کوششیں کی ہیں ان سے حالات میں بہتری آئی ہے۔ اچھا کیا کہ ان حالات کی وضاحت انہوں نے نہیں کی ورنہ سارا پول کھل جاتا
اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران حکومت نے 2200 ارب روپے خرچ کر کے 200 سے زائد ترقیاتی منصوبے مکمل کیئے ہیں۔کاش صدر ان میں سے کچھ منصوبوں کے نام بھی بتا دیتے
صدر نے
کہا کہ پانچویں پارلیمانی سال میں پاکستان آزادنہ اور شفاف انتخاب دیکھے
گا۔۔۔کاش ایسا ہو جائے۔اے کاش ایسا ہو جائے۔۔۔اے کاش ایسا ہو جائے۔ وحیدہ شاہ کیس کے بعد تو ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔
’’صدر نے دہشت گردی کے خلاف مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں
اور شہریوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی
کوششوں سے حالات میں بہتری آئی ہے۔۔۔۔۔خود کش حملے تو ختم نہیں ہوئے اور ٹارگٹ کلنگ بھی برابر جاری ہے تو ایسے میں حالات میں بہتری کی بات سمجھ میں نہیں آئی۔
توانائی کے بحران کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئےصدر نے کہا کہ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔۔۔۔کاش صدر محترم اس خصوصی توجہ کی تفصیل بھی عرض کر دیتے
اُنھوں نے کہا ہم امریکہ کے ساتھ باہمی مفاد اور عزت و احترام پر مبنی بامقصد
تعلقات قائم کرنے کے لیے کوشاں ہیں‘‘۔۔۔۔ہماری دعا ہے کہ اگر یہ واقعی سچ ہے تو اللہ پاک انکی مدد کرے۔ لیکن یہ علم نہیں کہ انکے نزدیک باہمی مفاد اور عزت و احترام کا کیا مطلب ہے؟
صدر پاکستان کی یہ تقریر واقعی وزیر اعظم کے لیئے لکھی گئی تقریر تھی جس میں صرف حکومت کی کارکردگی کا ذکر تھا اور کارکردگی بھی وہ جسے خواہش کا نام دیا جا سکتا ہے حقیقت کا نہیں۔ وزیراعظم کی تقریر انتہائی کامیابی سے پڑھنے پر صدر کو پوری قوم کی طرف سے بہت بہت مبارکباد
ان عقل کے اندھوں کو اُلٹا نظر آتا ہے
لیلیٰ نظر آتی ہے مجنوں نظر آتا ہے