یہ اطلاعات بھی ہیں کہ باوردی جمہوریت پسند حکومت نے ٹی وی کے کچھ ایسے چینل کچھ دیر کو بند کر دیئے جو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو معطل کیئے جانے کے بارے میں بقول حکومت کے ضرورت سے زیادہ کوریج دے رہے ہیں لیکن متعدد عالمی ریڈیو اور ٹی وی نے بڑے واضع طور پر‘‘گو مشرف گو‘‘ اور‘‘قدم قدم پر پہرے ہیں حاکم گونگے بہرے ہیں ‘‘ کے نعرے سنوائے۔
گوئبلز نے کہا تھا کہ‘‘ اتنا جھوٹ بولو کہ جھوٹ سچ لگے‘‘۔ اگر گوئبلز زندہ ہوتا تو ہمارے سرکاری ترجمانوں کو اپنا استاد مان لیتا۔ موجودہ عدالتی اور قانونی بحران کی صورت میں گوئبلز کے اسی اصول کو پاکستان کے حکمرانوں اور وفاقی وزیر اطلاعات نے اپنا رکھا ہے ۔ پاکستان کاکوئی چینل لگائیں،کسی ریڈیو کو سنیں کوئی اخبار پڑھیں یہ سرکاری بینڈ باجے اس انتہائی شرمندگی کے باعث اقدام کابھی پوری شدو مد کے ساتھ دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔ مسلہ تو یہ ہے کہ یہ بیچارے کریں بھی کیا کہ انکی تو نوکری ہی یہی ہےکہ جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کریں اور میں نہ مانوں کے کلیے پر عمل پیرا رہیں۔
ہماری حذب مخلاف بھی کوئی ایسی پاک صاف نہیں ہے کہ اس کے گُن گائے جائیں لیکن پوری صحافتی برادری اور عوام کے ساتھ ساتھ بے لاگ تبصرہ نگار بھی اس معاملے پر جو کچھ لکھ رہے ہیں سرکاری حلقے انہیں بھی تسلیم کرنے کوتیار نہیں۔
متعدد ٹی وی چینلوں اور دیگر ذرائع ابلاغ پر حالات حاضرہ کے پروگراموں کے میزبانوں اور حزب مخالف کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں کے نمائیندوں اور وفاقی وزیر اطلاعات اور حکومت کے ترجمان کے درمیان ہونے والی گفتگو کا ایک نہایت ہی مختصر سا منظر پیش کرتا ہوں۔ یقین کیجئے یہ کوئی ڈرامہ نگاری یا مکالمہ نگاری نہیں ہے بلکہ حقیقی گفتگو کا لفظ با لفظ خلاصہ ہے اور اب اس کی روشنی میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اقتدار کے نشے میں حاکم کس طرح ڈوب جاتے ہیں۔
سوال۔۔۔معطل چیف جسٹس کو عملی طور پر گھر پر نظر بند کیا گیا ہے؟
جواب۔۔۔انہیں ہر چیز کی اجازت ہے جو وہ چاہتے ہیں۔
سوال۔۔۔انکو اخبار میسر نہیں،ٹی وی اور ریڈیو کی سہولت نہیں،انکے فون کٹے ہوئے ہیں۔
جواب۔۔۔ہر وہ چیز جو وہ چاہتے ہیں وہ انہیں میسر ہے۔
سوال۔۔۔انکے بچوں کو سکول جانے کی اجازت نہیں،ایک بچے کو طبی سہولت میسر نہیں۔
جواب۔۔۔دیکھیں بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں آپ اس مسلے کو سیاسی نہ بنائیں
سوال۔۔۔سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے سے قبل ہی انکا میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے اور مجرم بنا دیا گیا ہے۔
جواب۔۔۔یہی تو عدالتوں کی بالا دستی ہے جو ہم اس ملک میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔
سوال۔۔۔کئی سیاستدان اور دیگر شعبوں کے لوگ ان سے ملنے گئے لیکن انہیں ملنے نہیں دیاجاتا۔
جواب۔۔۔وہ جس سے ملنا چاہتے ہیں ان سے انکی ملاقات کروا دی جاتی ہے
سوال۔۔۔جوڈیشل کونسل کے دو جج ایسے ہیں جنکے خلاف پہلے سے ریفرنس موجود ہیں وہ کیسے اس کونسل میں بیٹھ سکتے ہیں۔
جواب۔۔۔یہ عدالت کی بالا دستی کی بات ہے اور اس پر کسی کو رائےکا حق نہیں۔
سوال۔۔۔ان کے گھر پر سے پاکستان کا پرچم اتار لیا گیا ہے
جواب۔۔۔یہ کوئی اتنا بڑا مسلہ نہیں ہے
سوال۔۔۔سپریم کوٹ بار ایسوسی ایشن کے موجودہ صدر منیر اور سابق صدر حامد خان ان سے ملنے گئے تھے لیکن انہیں پولیس اور انتظامیہ نے ملنے نہیں دیا؟
جواب۔۔۔کیا چیف جسٹس نے ان سے کہا تھا کہ وہ ان سے آ کر ملیں۔
سوال۔۔۔چیف جسٹس کی چھوٹی بیٹی اپنی ایک دوست کے ساتھ ایس ایم ایس کے ذریعے رابطہ رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے بتایا ہے کہ ان کے تمام اہلِ خانہ کو ایک کمرے میں بند کر دیا گیا ہے۔
جواب۔۔۔یہ انکی مرضی ہے کہ وہ چاہیں تو گھر کے ایک کمرے میں رہیں یا پورے گھر میں۔
سوال۔۔۔’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے خلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے ’تاکہ عوام کو حقائق کا پتہ چل سکے‘۔
جواب۔۔۔سپرم جوڈیشل کونسل میں پانچ سینئر ترین جج ہیں۔ عدالتوں کا احترام کرنا چاہیئے۔
سوال۔۔۔اصغر خان نے کہا کہ جسٹس چوہدری نے بتایا کہ ان کے اخبار اور ٹیلی ویژن بند ہیں، اخبارات فراہم نہیں کیے جارہے۔ اس کے علاوہ غیرفعال چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے احباب اور وکلاء سے ملنا چاہتے ہیں لیکن اس پر بھی پابندی ہے۔
جواب۔۔۔وہ جس سے ملنا چاہتے ہیں ان سے انکی ملاقات کروا دی جاتی ہے۔
یا پروردگار۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب کوئی بتائے کیا اس کہانی کا کوئی اختتام ہے۔ جھوٹ بولنے کی ایک حد ہو تی ہے اور انسان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جھوٹ بولنے کا فن کوئی ان حاکم مزاج لوگوں سے پوچھے۔ یہ تو ایک بہت مختصر سی گفتگو میں نے تحریر کی ہے آپ چاہیں تو کسی بھی پاکستانی ٹی وی کو دیکھ لیں آپ کو یہی ٹوپی ڈرامہ دیکھنے اور سننے کو ملے گا۔
آخر میں صرف ایک بات اور اس پر ذرا غور کیجئے گا۔
جس ملک میں اعلیٰ ترین عدالت کے سربراہ کے انفرادی انسانی حقوق کی کوئی پرواہ نہ ہو وہاں بھیڑ بکریوں جیسے عوام کس گنتی میں آتے ہیں؟