بستیاں لوٹی گئیں ظلِ اِلہی کے لئے کتنے سر کٹ گئے ایک مسند شاہی کے لئے جو بات ذِلِ اِلہی سے تو نہ کہہ پائے ہمارے جیسا کوئی سَر پھرا کہے گا ضرور نذر حسین فرینکفرٹ جرمنی۔ 23 مارچ2012 کو جرمنی کے مشہور و معروف ،بینکوں،روشنیوں کے شہر فرینکفرٹ میں ہمیشہ کی طرح اِسی خوشی کو محسوس کرنے کو خواتین و حضرات نے یوم پاکستان کی پرچم کشائی میں حصہّ لیااور ہمارے ہردلعزیز قونصلر جنرل جی۔آر۔ملک ،زاہد حسین نے ہمیشہ کی طرح پاکستانیوں کو اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ خوش آمدید کہا ٹائم کی پابندی کا خیال رکھتے ہوئے ٹھیک ساڑھے دس بجےقونصلرجناب زاہد حسین نے تقریب کا آغاز کیا

تلاوت قرآن پاک محترم جناب حافظ عبدالطیف چشتی صاحب نے اپنی خوبصورت آواز میں سنائی، اُس کے بعد کمرشل قونصلر جناب یوسف زئی صاحب نے صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری کا پیعام آج کے دن کے حوالے سے پڑھ کر سنایا ،صدر صاحب نے فرمایا 72 سال قبل آج کے دن برصغیر کے مسلمانوں نے ایک قرارداد کے ذریعے اپنے لئے ایک علیحدہ مادر وطن کے حصول کا باقاعدہ عہد کیا۔
اللہ تعالی کی مدد اور قائد اعظم محمد علی جناح اور ہمارے آباوُ اجداد کی ولولہ انگیز اور دلیرانہ جدوجہد سے برصغیر کے مسلمان سات سال کے قلیل عرصہ میں ایک ایسی مملکت معرض وجود میں لائے جہاں جمہوریت ہو گی،آئین اور قانون کی حکمرانی کی بالادستی ہو گی ۔اس سے آگے کیا لکھوں
وزیر اعظم کا خطاب قونصلرجناب زاہد حسین صاحب نے پڑھ کر سنایا اب اُن کا پیغام بھی پڑھ لیجئے کہ قائد اعظم مسلمانوں کے لئے ایک ایسی مملکت قائم کرنا چاہتے تھے جہاں مسلمان آزادی کے ساتھ اپنی اجتماہی اور انفرادی زندگی اپنی روایات کے مطابق گزار سکیں،ان کا فرمانا تھا خُدا کا فضل ہے آج ہم اس آزاد اور خود مختار پاکستان میں جمہوریت کی فضا میں زندگی گزار رہے ہیں،اور ان کے یہ الفاظ غور کے قابل ہیں ہم آج اس عہد کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہم وطن عزیز میں آئین و قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کی بالا دستی کو ہر قیمت پر مقدم رکھیں گے
اس کی مثال شاید وہ خود بنیں گے۔

اس کے بعد غلام رسول ملک صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ،سب سے پہلے سیاسی حالات پر نظر ثانی کی آخر میں ان کا فرمانا تھا کہ شاید میں اگلے 23 مارچ کو یہاں نہ رہوں لیکن مجھے آپ لوگوں پر فخر ہے آپ اپنے ملک کی اچھائی اور شہرت کے لئے کام کرتے ہیں اور یہ بھی بتاتا چلوں قونصلیٹ کا عملہ آپ کی سروس ،خدمت کو اپنا فرض سمجھتا ہے میں اپنی سٹاف کی ٹیم کا بھی ممنون ہوں کہ انہوں نے مجھے شکایت کا موقع نہیں دیا اگر آپ کا جائز کام ہو تو انکار پر واپس مت جائیں مجھ تک آنے پر آپ کو کوئی منع نہیں کرے گا میرے دروازے آپ کے لئے پہلے بھی کھلے تھے آج بھی کھلے ہیں اور اگر میں یہاں نہیں تب بھی آپ مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔پاکستان زندہ باد ۔پاکستان پائندہ باد۔
تقریب کے بعد یوم پاکستان کی خوشی میں کیک بھی کاٹا گیا اور مہمانوں کی مٹھائی اور پاکستانی کھانوں سے تواضع بھی کی گئی ۔

یہاں یہ بھی کہتا چلوں، ہر داڑھی میں تنکا ہے ہر آنکھ میں شہتیر،یومِ پاکستان ہزاروں،لاکھوں،کروڑوں خوشیاں اپنی جھولی میں سمیٹے آتا ہے اور ہمیں خوشیاں منانی بھی چاہیے دوسری قومیں دوسرے ملک اور ملکوں کے باسی ایسی خوشیوں میں خون کی ہولی نہیں کھیلتے ،ماوُں کی جھولیاں نہیں اجھا ڑتے،بچوں کی عزتیں نہیں لوٹتے، اپنے سے چھوٹوں اور بڑوں کی عزت کا خیال رکھا جاتا ہے ۔ ہر صبح نئی خوشی لے کر آتی ہے ۔جی ہاں وہ صبح ضرور آئے گی جس دن ہمیں خوشیاں نصیب ہونگیں وہ دن ضرور آئے گا جب ہم،ہمارے بچے،ہماری مائیں،ہماری بہنیں،ہمارے بزرگ اور پاکستان میں رہنے والا ہرشخص بغیر کسی خطرے کے گھر سے نکل سکے گا وہ و قت کب آئے گا جب ہمیں ایسے لوگوں سے نجات ملے گی۔ کسی نے کیا خوب کہا ۔
وطن کی مٹی کا وہ قرض کیا چُکائیں گے
جو ماں کے دودھ کا حق بھی ادا نہیں کرتے

اس مبارک سرزمین جس کو پانے کے لئے لاکھوں شہیدوں کی قربانیاں دی گئیں،لاکھوں دودھ پیتے بچوں نے اپنی زندگی کے نذرانے پیش کئے،لاکھوں عورتوں کی عصمت دری ہوئی یہ سب قربانیاں اس لئے نہیں دی گئیں کے چند عیاش قسم کے لوگ ہماری زندگیوں کے مالک بن جائیں اور ساری زندگی کی بادشاہت کے خواب دیکھنا شروع کر دیں،اگر آج خُدا برتر پاکستان کی زمین کو آواز عطا کر دے تو وہ چیخ چیخ کر پُکار پُکار کر کہے گی کہ مسلمانو غور کرو،عقل کرو،اس قوم میں احساس ختم ہوا چاہتا ہے،یعنی کتنی بدبخت قومیں اپنے اور حکام کے جرائم کی پاداشت میں ہلاک کی جا چکی ہیں،جن کا نام صفحہ ہستی سے مٹ گیا آج ان کے پاوُں کی آہٹ یا انکی لن ترانیوں کی ذرا سی بھنک بھی سنائی نہیں دیتی،لیکن آج ہمارے رہنما ایسے ایسے بھاری گستاخانہ کلمات منہ سے نکال دیتے ہیں جسے سن کر اگر آسمان و زمین اور پہاڑ مارے ہول کے پھٹ پڑیں اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں تو کچھ بعید نہیں،اگر اس گستاخی پر غضب الہی بھڑک اُٹھے تو عالم تہ و بالا ہو جائے اور آسمان و زمین کے پرخچے اُڑ جائیں،محض اس کا حکم مانع ہے کہ اِن بیہودگیوں کو دیکھ کر دنیا کو ایک دم تباہ نہیں کرتا کیونکہ اُسکی شانِ تقدیس و تنزیہ اور کمال غنی کے منافی ہے

یہاں یہ بھی کہتا چلوں کہ ہمیں جو خوشیاں اللہ تعالی کی ذات نے عطا کی ہیں ہم وہ ضرور بہ ضرور منائیں گے جس کے لئے آج ہم پھر ایک جھنڈے کے نیچے اکھٹے ہوئے ہیں آوُ آج ہم عہد کریں ہم ایک قوم بن کر میدان میں نکلیں گے، دوست اور دشمن کو ہم پہچانیں گے، ہمارے چہرے پر ہماری آنکھیں ہی ہماری نہیں ہیں ان آنکھوں سے ہم وہی دیکھتے ہیں جو ہمیں دکھایا جاتا ہے یہاں جو پتلی تماشا ہو رہا ہے اس کو تمام کر دیں گے، اس کے باوجود کے تماشا دیکھنے والوں سے یہ حق بھی چھین لیا گیا ہے کہ وہ یہ پوچھ سکیں کہ ڈھول کس کے ہاتھ میں ہے ناچنے والوں کو کتنا ناچنا ہے ،کس کے اشارے پر قدم روکنا ہے ہمیں اپنی آنکھیں کھلی رکھنی ہونگیں کب کس کے ہاتھ میں ڈھول دیا جاتا ہے،اور اس پتلی تماشا کو ختم کرنا ہو گا، کسی دل جلے نے کیا خوب کہا۔
نیزہ نہیں بدلا کوئی خنجر نہیں بدلا
قاتل تو بدلتے رہے پر سر نہیں بدلا

جس ملک کاسربراہ اور ملک کا وزیر عدالت پر ہنسے گا اور ان الفاظ پر زور دے کر کہے گا بابا اُوہ مینوں وزیر ۔پی ایم نہیں مندے مینوں پِین سمجھدے نے تُسی دسو میں جیل جُلاں یا خط لکھاں اچھا تُسی آندے یو تے میں اے گَل پارلیمنٹ وِچ رکھا گامنظور اے ارے دوستو یہ کٹھ پُتلی تماشا نہیں تو کیا ہے جمہوریت یہ ہے جرمنی کے صدر پر بات اُٹھائی گئی اُس نے ملک کی سلاتی کے لئے ریزائن دے دیا لیکن ہم اس کے لئے اب صرف دُعا ہی کر سکتے ہیں اللہ ہمارے ملک کو اپنی امان میں رکھے (آمین)،
آج پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے پیپلز پارٹی زندہ باد کے نعرے نہیں لگائے ۔اور نے ہی جیؤ زرداری سننے کو ملا ۔
مقتل کو سادگی میں کلیسا سمجھ لیا گبھرا کے قاتلوں کو مسیحا سمجھ لیا جو پھر رہے تھے ڈھونگ رچائے گلی گلی اُن رہزنوں کو لوگوں نے بابا سمجھ لیا آخر میں یہ بھی لکھتا چلوں سب کچھ ہونے کے باوجود ہماری قوم زندہ دل ہے۔تھی۔اور رہے گی کسی خوشی کا موقع اتنے دُکھ اور غم ہونے کے باوجود ہاتھ سے نہیں جانے دیتی ابھی کرکٹ کی جیت کو ہی دیکھ لیجئے وہ لوگ جن کے گھر ٹی۔وی۔نہیں تھے وہ بھی خوشی منانے سڑکوں پر خوشی کا اظہار کرنے نکل پڑے۔
انہوں نے بھی مٹھائیاں بانٹیں یہ اس قوم کی نشانی ہے جس کو ہم مسلمان کے نام سے پکارتے ہیں ۔ہماری ٹیم کی طرف سے آپکو یوم پاکستان اور کرکٹ ٹیم کی کامیابی پر مبارکباد قبول ہو ۔یہ شعر بھی ملاخطہ ہو۔اس کی مثال آپکو صرف پاکستان میں ملے گی۔
تمغہ بہادری کا اُسی کو دیا گیا میدان جنگ میں جو کسی سے لڑا نہیں