دیکھ کر فہرست اعزازات کی آیا خیال
کوئی تو چمچہ ہے اسمیں اور کوئی کفگیر ہے
قائد اعظم کی روح بھی بالیقیں بے چین ہے
ہائے کیا اقبال تیرے خواب کی تعبیر ہے
صفدر ھمدانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کے قومی اعزازات کی بھی وہی حالت ہو چکی ہے جو پاکستانی قوم اور اسکی غیرت و حمیت کی ہے۔یوں لگتا ہے کہ موجودہ حاکموں نے یہ تہیہ کر رکھا ہے کہ ملک کے کسی ادارے اور کسی شعبے کو مکرم و معظم نہیں رہنے دینا اور انکو ہر رخ سے تحقیر کی مثال بنانا ہے۔ہلال امتیاز ایسے ایسے فرد کو ملا ہے کہ غلط اور درست کا امتیاز ہی ختم ہو گیا ہے۔
ان حاکموں کو اقتدار کے نشے میں مدہوش ہوئے چار سال سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے اور اس تمام عرصے میں اداروں کے درمیان رسہ کشی اور اتحادیوں کو نوازے کے علاوہ شاید ہی کوئی ایسا کام کیا ہو جس سے براہ راست ملک کے پچانوے فیصد غریب عوام کو بھی کوئی فائدہ پہنچ سکتا
ملک میں قومی اعزازات کے شعبے کو اسی طرح بے توقیر کر کے رکھ دیا گیا ہے اور اب تو یہ عالم ہے کہ اکثر کو یہ قومی اعزازات جیسے ایک سزا کے طور پر ملتے ہیں۔ایسی سزا جو ذہنی اور احساسات کی ہے۔لیکن ان بے حس درباریوں کو یہاں بھی یہ فائدہ ہے کہ ذہن اور بیدار احساس نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس سزا کو بھی جزا سمجھتے ہیں اور ان اعزازات کو بھی استحقاق سمجھتے ہیں اس نظریے کے تحت انہیں انکا یہ حق تاخیر سے ملا ہے بہت مل جانا چاہیئے تھاملکی قومی اداروں میں جو اقربا پروری،دھوکہ دہی اور لوٹ مار کا جو بازار گرم ہے اسی کا عکس قومی اعزازات کی تقسیم میں بھی نظر آتا ہے جہاں ہلال،تمغے اور ستارے کے ساتھ ایک خطیر رقم بھی ملتی ہے جس سے زوال زدہ معیشت اور خزانے پر مزید بے جا بوجھ پڑتا ہے
قومی اعزازات کا جو اعلان یوم آزادی کے موقع پر چودہ اگست کو ہوتا ہے ان افراد کو یہ اعزاز اگلی تئیس مارچ کو ملتے ہیں۔ اسی مناسبت سے اس بار تئیس مارچ دوہزار بارہ کو جو قومی اعزازات پیپلز پارٹی کے ہیڈ کوارٹر یعنی ایوان صدر میں تقسیم ہوئے ہیں انکا اعلان اگست دوہزار گیارہ کو ہوا تھا اور اسوقت بھی باضمیر اور بیدار مغز افراد اور جمیعتوں نے اپنا سر پیٹ لیا تھا کہ بندر بانٹ کی ایسی مثال شاید ہی کسی حکومت نے قائم کی ہو۔ کہ اس فہرست میں بڑی تعداد میں ایسے لوگ شامل ہیں جو تنہائی میں کم ازکم یہ ضرور سوچتے ہونگے کہ انہوں نے آخر ایسا کونسا کام کیا ہے جس کے بدلے میں انہیں یہ ذہنی تکلیف دی گئی ہےجب ان ناموں کا علان ہوا تھا تو ہمارے کراچی میں مقیم دوست اور قلم کار احمد ترازی نے ایک فکری کالم تحریر کیا تھا جسمیں انہوں نے بے نظیر بھٹو کے حوالے سے تحریر کیا تھا کہ ؛؛ ریاستی سطح پر دیئے جانے والے اِن اعزازات کا تقاضہ یہ ہے کہ اِن کی حرمت و تقدیس اور عزت و تکریم کے ساتھ تعظیم کا بھی خیال رکھا جائے اور انہیں سیاسی وابستگیوں اور اقرباءپروری سے بچایا جائے،شاید اسی وجہ سے ماضی میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں جب اُس وقت کے وزیر بہبود آبادی جے سالک کو اقلیتوں کی خدمات کے حوالے سے ہلال امتیاز دینے کی سفارش کی گئی تو محترمہ نے اُس سمری کو یہ کہہ کر رد کردیا تھا کہ ”پالیسی کے تحت کسی بھی وزیر کو کسی تمغے سے نہیں نوازا جاسکتا۔“دراصل محترمہ بے نظیر بھٹو نے آئین و قانون اور اِن اعزازات کی حرمت و تقدیس کی روشنی میں یہ اصول طے کردیئے تھے کہ سرکاری ملازم اپنے فرائض منصبی کے حوالے سے کسی اعزاز کیلئے زیر تجویز نہیں آسکتے اور نہ ہی سیاسی عہدوں پر فائز شخصیات کو اِس بنیاد پر اِن اعزازات کا حقدار قرار دیا جاسکتا،ماضی کی حکومتوں نے سیاسی وابستگیوں اور تمام تر اقرباءپروری کے باوجود بڑی حد تک اِن اصول و قوائد کا خیال رکھا،مگر افسوس کہ موجودہ حکومت نے سیاسی وابستگیوں،اقرباءپروری اور قومی وسائل کی بندر بانٹ کے تحت اِس سال قومی اعزازات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا،یوم آزادی کے موقع پر صدر مملکت نے جن 185شخصیات کیلئے قومی اعزازات کا اعلان کیا،اُن میں سے بیشتر کا تعلق نہ صرف خود اُن کی اپنی جماعت سے ہے بلکہ اُن میں سے کئی ایک اہم حکومتی عہدوں پربھی فائز ہیں،اِس لحاظ سے دیکھا جائے تو حکومت نے قومی اعزازات کو ” اندھے کی ریوڑیوں“ کی طرح اپنوں میں بانٹ کر اِن اعزازات کیلئے طے شدہ اصول و قواعد اور میرٹ کی دھجیاں اڑا دی ہیں ۔
کیونکہ حکومت کی جانب سے نشان امتیاز سے نوازے جانے والوں میں فاروق نائیک چیئرمین سینٹ ہیں،سینٹر منتخب ہونے سے قبل وہ جناب آصف علی زرداری کے وکیل کے طور پر فرائض انجام دیتے رہے ہیں،فہمیدہ مرزا اسپیکر قومی اسمبلی ہیں اور پیپلزپارٹی سے اُن کی اوراُن کے شوہر کی وابستگی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے،رحمٰن ملک وزیرداخلہ ہیں،ملک وقوم کےلئے اُن کی کیا خدمات ہیں،سب اچھی طرح جانتے ہیں،اسی طرح سلمان فاروقی صدر مملکت کے پرنسپل سیکرٹری اور ایوان ِ صدر ہی میں براجمان ہیں،ہلال ِ امتیاز سے نوازے جانے والوں میں صدر زرداری کے معتمد خاص فرحت اللہ بابر،امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی انچارج فرزانہ راجہ جنہیں وفاقی وزیر کا درجہ بھی حاصل ہے اور صدر زرداری کے ایک اور رفیق ِکاربیت المال کے چیئرمین زمرد خان بھی شامل ہیں،مال ِ مفت،دل بے رحم کی اِس سے بڑھ کر اور کیا مثال ہوگی،ستارہ امتیاز اپنے ماتھے پر سجانے والوں میں پاکستان براڈ کاسٹنگ کا رپوریشن کے ڈائریکٹر جنرل مرتضیٰ سولنگی، صدر مملکت کی بہت قریبی شخصیت اور کابینہ ڈویڑن کی سیکرٹری نرگس سیٹھی(جو خود اِن اعزازات کو پروسیس کرنے کی ذمہ دار ہیں) صدرکے پرنسپل سیکرٹری سلمان فاروقی کی بھتیجی شرمیلا فاروقی،متحدہ کی رکن قومی اسمبلی خوش بخت شجاعت،مبشر لقمان (جو مشرف دور ِ حکومت میں پنجاب کے نگراں وزیر رہ چکے ہیں اور دیگر اینکر پرسنز کے مقابلے میں حکومت کی طرف زیادہ جھکاؤ رکھتے ہیں) اور قاسم ضیاء بھی شامل ہیں،جو پیپلزپارٹی پنجاپ کے صدر رہ چکے ہیں اور آجکل ہاکی فیڈریشن کے بھی صدر ہیں؛؛ ۔
یہ تو تھا بھائی احمد ترازی کے کالم سے اقتباس اور اب مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ اسوقت 185افراد کے ناموں کا اعلان ہوا تھا لیکن تئیس مارچ دوہزار بارہ کو ایوان صدر میں جب تقسیم اعزازات کی منڈی لگی تو 190افراد کو اعزازات ملے جن میں مادر جمہوریت بیگم نصرت بھٹو اور آسکر ایوارڈ پانے والی شرمین عبید چنائے بھی شامل تھیں
بس ایک خیال رہے کہ جب ایسی فہرست میں درباریوں اور حاشیہ برداروں کے نام شامل ہوتے ہیں تو وہ نام بھی مشکوک ہو جاتے ہیں جنہیں واقعی حقیقی طور پر انکی خدمات کے اعتراف میں یہ اعزاز ملتا ہے۔ یہی حال اس مرتبہ کی فہرست کا بھی ہے کہ دوستوں اور قرابت داروں کے ساتھ ساتھ درباریوں کے ناموں کی طویل فہرست کے ساتھ وہ معدودے چند نام بھی مشکوک ہو گئے ہیں جو بظاہر حق با حق داد رسید کے زمرے میں آتے ہیں
مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں اور میری کوئی حیثیت بھی نہیں کہ میں بیگم بھٹو کو قومی اعزاز ملنے پر اعتراض کرؤں لیکن میرا استدلال مبنی بر دلیل ہے کہ اول تو زرداری صاحب نے انہیں قومی اعزاز دینے کے لیئے آخر انکے مرنے کا ہی انتطار کیوں کیا اور انہیں انکی زندگی میں ہی کیوں نہ دے دیا۔دوسری بات یہ کہ ایک پولیس والے کے ڈنڈے سے بیگم بھٹو کے سر سے خون نکلا اور دوسرے پولیس والے ڈنڈے سے عوامی شاعر حبیب جالب کے سر سے خون نکلا۔ طے پایا کہ حاکموں اور عوام کے خون میں فرق ہوتا ہے ورنہ کسی بھی قومی اعزاز سے بالا تر محافظ جمہوریت حبیب جالب کو بھی تو کوئی یاد رکھتا۔ایک زمانہ تھا جب ان اعزازات کے اعلان سے مہینوں پہلے تفصیلات اکٹھی کی جاتی تھیں محکمانہ اور وزارتی سطح پر چھان بین ہوتی تھی،صداقت معلوم کی جاتی تھی،اجلاس ہوتے تھے،مباحث ہوتے تھے پھر کہیں جا کر اعزاز پانے والے کے نام کا اعلان ہوتا تھا۔ اب تو تمغہ حسن کارکردگی پانے والے ایک جوانمرد نے بتایا کہ چند ہفتے پہلے ہی اسے متعلقہ وزارت سے یہ فون آیا کہ آپکو یہ اعزاز دیا جارہا ہے آپ براہ مہربانی اپنی اور اپنے کام کی تفصیلات بھیج دیں
ایوان صدر میں جن افراد کے گلے میں یہ قومی اعزاز ڈالے گئے ان میں صدر زرداری کے دوست اور درباردار پاکستان کے قومی نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کے سربراہ بھی شامل ہیں جنکے کارناموں کی فہرست ایسی طویل ہے کہ اس کے لیئے ایک الگ باب کی ضرورت ہے۔ تین سال کی سربراہی کے عرصے میں انکی اس قومی ادارے کے لیئے کیاکیا خدمات ہیں یہ شاید صرف انہیں معلوم ہیں یا پھر اعزاز دینے والوں کو۔ ابھی ریڈیو پاکستان کو خون جگر دینے والے بزرگوں میں کچھ ایسے بھی حیات ہیں جو نشریات کے میدان میں لیجنڈ شمار ہوتے ہیں لیکن طرفہ تماشہ ہے کہ ایسے افراد کے نام تو خود سربراہ ادارہ کو معلوم نہیں اعزاز دینے والوں کو کہاں سے معلوم ہونگےمیں نے اعزاز پانے والے کچھ خوش بخت لوگوں کی تعلیمی اور پیشہ وارانہ قابلیت کی تفصیل کے ساتھ انکی کارکردگی کی تفصیل بھی پڑھی اور بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ان میں سے بیشتر کے بارے میں یہ تفصیل غلط بلکہ دروغ گوئی پر مبنی ہے۔ یہ سب کچھ کس مرحلے پر ہوا یا ہوتا ہے مجھ جیسا گوشہ نشین ایسے کار دربار سے واقف نہیں ہے
کیا ہی اچھا ہوتا کہ جن لوگوں کو قومی اعزازات دینے کیلئے منتخب کیا گیا ہے،میڈیا کو اُن کی خدمات کی وہ فہرست بھی جاری کردی جاتی جن کے باعث انہیں اعزازات کا مستحق سمجھا گیا،خاص طور پر فاروق نائیک،فہمیدہ مرزا،رحمن ملک،سلمان فاروقی،فرحت اللہ بابر،مرتضیٰ سولنگی،صوبہ سندھ کی مشیر شرمیلا فاروقی،موجودہ کیبنٹ سیکرٹری اور وزیر اعظم کی سابق پرنسپل سیکرٹری نرگس سیٹھی،امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی سربراہ فرزانہ راجہ،پاکستان بیت المال کے چیئرمین زمردخان اور متحدہ کی رکن اسمبلی خوش بخت شجاعت کی غیر معمولی خدمات جاننے کےلئے قوم تو ویسے بھی بیتاب ہے،پہلی بارقومی تاریخ میں اتنی بڑی تعداد میں ایک ہی سیاسی جماعت کے افراد کو اس طرح اعلیٰ ترین قومی اعزازات کیلئے منتخب کرنا یقینی طور پر اقربا پروری اور بندر بانٹ کے زمرے میں آتا ہے،اگر غیر جانبدار انہ جائزہ لیا جائے تو ان صاحبان کا ایسا کوئی خاص کارنامہ جس کی بنیاد پر انہیں اعلیٰ ترین اعزازات کیلئے منتخب کیا جاسکتا ہے،ثابت کرنا بہت مشکل ہے
،جبکہ یہ اعزازات اُن افراد کو دئیے جاتے ہیں جنہوں نے ایسی کوئی قومی خدمت سر انجام دی ہو جس کی نظیر ملنا مشکل ہویا ملک و قوم کی بہتری کیلئے ایسا کارنامہ انجام دیا ہو جس سے قوم کا سر فخر سے بلند ہو جائے،اَمر واقعہ یہ ہے کہ اِس سال حکومت نے سول اعزازات کی جو بے توقیری کی ہے،ماضی میں اِس کی کوئی مثال نہیں ملتی،جس طرح ریوڑیوں کی مانند یہ اعزازات اپنوں میں بانٹے گئے ہیں اور ایسے ایسے لوگوں کو نوازا گیا ہے جن کی قومی و ملی خدمات خودبین سے تلاش کرنے پر بھی نظرنہیں آتیں
‘
یوں لگتا ہے کہ جیسے وطن عزیز بھٹو خاندان یا زرداری صاحب کے بزرگوں کی جاگیر ہے اور بادشاہ وقت کے کسی غلط فیصلے کے سامنے بھی کسی کو بولنے کا اختیار نہیں۔اسی لیئے بادشاہ سلامت جو حکم فرماتے ہیں وہ حکم آخر ہوتا ہےتو اے اہل ایمان سچ تو یہ ہے کہ صدر زرداری جنگل کے شیر ہیں وہ انڈہ دیں یا بچہ یا پھر کچھ بھی نہ دیں مجھ سمیت آپکو بھی کسی قسم کے اعتراض کا حق نہیں ہےہاں کسی ایک محب وطن سے ایک سوال ہے کہ کیا کوئی ملکی عدالت میں ؛؛تضحیک اعزازات؛؛ کے ذمیداروں کے خلاف مقدمہ درج کروائے گا؟
تمغہ بہادری کا اُسی کو دیا گیا میدان جنگ میں جو کسی سے لڑا نہیں