16.10.2026, 07:51pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » صفدر ھمٰدانی
 

سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج رانا بھگوان داس کہاں ہیں؟
14.10.2008, 01:33pm , منگل (GMT+1)

صفدر ھمٰدانی۔۔ لندن
یہ باہر کے ممالک میں رہنے والے وطن میں رونما ہونے والے کسی بھی واقعے پر کس قدر تڑپ اٹھتے ہیں اور سرکاری اعزازات پانے والے اور کتنے ہی ادبی،سماجی اور تحقیقی اداروں کی سربراہی کرنے والے وطن عزیز میں مقیم قلم کاروں کو انکے قلم کو کیا ہو چکا ہے کہ نہ تو یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر لکھتے ہیں اور نہ ہی انسانی حُرمت و عزت کی بقا کے لیئے چلنے والی تحاریک کے بارے میں کچھ کہتے ہیں۔
اخبارات میں ذاتی حوالوں سے کالموں کے کالم سیاہ کرنے والے ان قلم کاروں اور کالم نگاروں کی اکثریت کو اپنی ناک کے نیچے اور آنکھوں کے سامنے ہوتے واقعات اور مظالم کیوں نظر نہیں آتے۔ میں کسی ایک ایسے لکھاری کا نام نہیں لکھنا چاہتا کیونکہ یہ کوئی ذاتی یا انفرادی مسلہ نہیں ہے بلکہ اردو لکھنے والے قلم کاروں یہ ایک اجتماعی اور ذہنی رویوں کا مسلہ ہے کہ جو اپنے روزانہ اخباری کالموں میں تانگے کے سفر سے لیکر چائنیز ریسٹورینٹ میں کھانے تک کے واقعات تو لکھتے رہتے ہیں لیکن انکی ایک بڑی اکثریت کو نہ تو سندھ میں اجتماعی زنا کا شکار ہونے والی اٹھارہ سالہ لڑکی نظر آتی ہے، نہ ہی بلوچستان میں سرکاری احکامات پر ہونے والے قتل،نہ ہی سرحد میں سیاسی مقاصد کے لیئے عوام کو عوام سے لڑانے کی سرکاری درباری کوششیں،نہ ہی پنجاب میں عوام کی تذلیل کے واقعات، نہ ہی پاکستان کی عدلیہ کے سربراہ کے ساتھ ہونے والی زیادتی اور ذلت اور نہ ہی ان میں سے کوئی حکمرانوں سے یہ پوچھتا ہے کہ کوئی بتائے کہ آخر سپریم کورٹ کا سیئر ترین جج رانا بھگوان داس کہاں غائب ہو گئے کہ نہ تو انکا بھارت میں کوئی اتا پتہ مل رہا ہے اور نہ ہی اتنے بڑے عدالتی،قانونی اور آئینی سانحے پر انکا کوئی بیان ہے ۔ کیا یہ سمجھا جائے کہ جج رانا بھگوان داس کو اس سارے واقعے کا کوئی علم ہی نہیں ہے۔
میں نے پاکستان کے کتنے ہی اردو اخبارات کو گزشتہ ہفتے بھر سے خاص طور پر دیکھا ہے اور انٹر نیٹ پر بھی بڑے بڑے جگادری کالم نگاروں کے کالم پڑھے لیکن انہیں پڑھ کر پہلے تو خود سے شرمندگی ہوئی کہ میں خود بھی کیوں اس قلم قبیلے کا فرد ہوں لیکن پھر یہ اطمینان بھی ہوا کہ میں ،میرا شعور،میرا ضمیر اور میرا قلم ابھی زندہ ہے اور سانس لیتا ہے۔
میرا اپنا ایک شعر ہے کہ۔۔۔۔۔
چل پڑے ایک بار تو پھر یہ قلم رکتا نہیں
جو قلم  اک  بار  لکھے کربلا جھکتا نہیں
اہلِ قلم برادری خاص طور پر پاکستان میں رہنے والے لکھاریوں اور مزید خاص طور پر بہت بڑے بڑے ناموں کے اس خاموشی کے رویے کو کیا نام دیا جائے؟ بے حسی،مصلحت پسندی،لاتعلقی،خفتہ ضمیری یا پھر نظریہ ضرورت۔
خیر یہ تو حئی الالفلاح والی بات تھی اور کہنا بھی اس لیئے ضروری تھا کہ ظالم فقط حکمران یا حکام ہی نہیں ہوا کرتے،قوموں کو راہ دکھانے والے،شعور دینے والے،آگاہ رکھنے والے اور فکر کو بیدار رکھنے والے قلم کار بھی ظالم ہوا کرتے ہیں۔ یاد رھیں قیامت کے روز یہی قلم آپ کے خلاف گواہی دے گا کہ اسی قلم کی قسم اللہ نے بھی کھائی ہے اور اسی قلم کی نسبت سے قرآن مجید فرقان حمید میں پورا سورہ نازل فرمایا ہے۔
مجھے اس وقت صرف ایک سوال کرنا ہے کہ اور یہ سوال حکمرانوں سے لیکر ایک عام شہری تک سے ہے کہ بھگوان خیر کرے  آخر رانا بھگوان داس کہاں ہیں؟
پاکستان کی سپریم کورٹ کے سینیئر جج رانا بھگوان داس جو سرکاری اطلاعات کے مطابق بھارت کے نجی دورے پر ہیں تاہم انکے دورے سے متعلق خود بھارت میں خبر نہیں۔
میں نے دلی میں خود اپنے صحافتی رابطوں کو استعمال کیا جنہوں نے یہاں تک بتایا ہے کہ انہوں نے  دلی میں پاکستانی ہائی کمیشن سے رابطہ قائم کیا تو وہاں کے ایک اہل کار نے  بتایا کہ انہیں جسٹس بھگوان داس کے بھارت کے دورے کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے بلکہ انہیں خود جسٹس بھگوان داس کے بھارت آنے کے بارے میں علم ایک برطانوی نشریاتی ادارے سے ہوا ہے۔
یہ کیا عجب طوطا کہانی ہے کہ پاکستانی عدلیہ کےجسٹس بھگوان داس ایک اعلیٰ عہدے دار ہیں اور ان کے بھارت کے دورے کے بارے میں پاکستانی ہائی کمیشن کو اطلاع تک نہیں جب کہ سرکار خود کہہ رہی ہے وہ بھارت گئے ہیں۔ غیر ممالک میں ہمارے سفارتخانوں کی اسی اعلیٰ کارکردگی نے ہی تو ان ممالک میں ہمارا شاندار تشخص بنا رکھا ہے۔ اس سارے شاخسانے کاٹیپ کا بند بھی سماعت فرما لیں کہ ۔۔۔۔لندن سے بی بی سی کی اردو سروس نے جسٹس بھگوان داس کے بھائی سری چند سے کراچی میں رابطہ کر کے پوچھا کہ ان کے بھائی بھارت میں کہاں ہیں اور ان کی پاکستان واپسی کب تک متعوقع ہے، توسری چند نے کہا کہ ’کراچی سے جہاز تو دلیً گیا تھا، وہ وہاں سے کہاں گئے ہیں مجھے علم نہیں۔‘
لیجئے کتنے روز گزر گئے کیا کسی نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ بھگوان اپنی کرپا کرے کہ آخر بھگوان داس کہاں ہیں کیونکہ وہ پاکستان کی سپریم کورٹ کے سینیئر جج ہیں اور عہدے کے اعتبار سے چیف جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کرنے والی سپریم جوڈیشل کونسل کی صدارت قانونی اور آئینی طور پر انہیں ہی کرنا تھی۔۔۔۔۔کیا کہتے ہیں دانشواران قوم و ملت اور حاکمینِ عوام بیچ اس مسلے کے؟

:دیگر مضامین
(14.10.2008) قدم قدم پر پہرے ہیں ....حاکم گونگے بہرے ہیں
(14.10.2008) کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں؟



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں