|
دنیا کی دیگر مارکیٹوں کی نسبت کراچی اسٹاک ایکسچینج پر زیادہ زوال آیا۔
29.03.2012, 07:03am , جعمرات (GMT+1)
عالمی اخبار مانٹرنگ یونٹ
سال دوہزار آٹھ اور نو میں عالمی مالیاتی بحران کے نتیجے میں تقریباً تمام بین الاقوامی اسٹاک مارکیٹوں کو مندی کا سامنا کرنا پڑا تاہم، دنیا کی دیگر مارکیٹوں کی نسبت کراچی اسٹاک ایکسچینج پر زیادہ زوال آیا۔
سرمایہ کاروں کے مطابق مالی سال دوہزار آٹھ اور نو میں سیاسی بے یقینی، دہشت گردی اور سرمایہ کاری کے فقدان کے باعث پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ کو 19 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔۔ سرمایہ کاروں کے مطابق دوہزار آٹھ اور نو میں کراچی اسٹاک ایکسچینج میں شیئرزکی مجموعی مارکیٹ مالیت کم ہو کر 36 ارب امریکی ڈالر رہ گئی جبکہ اس کے مقابلے میں مالی سال دوہزار آٹھ اور نو میں یہ 55 ارب ڈالر تھی۔
سرمایہ کاروں کے مطابق 30 جون کو ختم ہونے والے مالی سال دوہزار آٹھ اور نو میں اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی ایک عشرے سے زائد عرصے میں سب سے بدترین رہی۔ دو ہزار سات اور آٹھ میں 24کروڑ 20لاکھ حصص کی روزانہ اوسط تجارت کے مقابلے میں دوہزار آٹھ اور نو میں تجارتی حجم انتہائی کم ہو کر 10 کروڑ 50 لاکھ حصص کی سطح تک رہ گیا۔
سرمایہ کاروں کے مطابق دوہزار آٹھ اور نو میں پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ مندی کی گرفت میں رہی اور مارکیٹ میں 41 فیصد کمی دیکھی گئی جو مالی سال انیس سو ستانوے ، اٹھانوے کے بعد سب سے شدید ہے۔
مالی سال دوہزار ایک اور دو سے دو ہزار سات اور آٹھ تک پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ میں ہر برس بتدریج اضافہ ہوتا رہا لیکن دوہزار آٹھ اور نو میں سیاسی رسہ کشی، دہشت گردی اور کراچی اسٹاک ایکسچینج کی جانب سے دسمبر 2008 میں مارکیٹ کو ایک سطح تک محدود کرنے کے فیصلے نے مارکیٹ کو سخت دھچکا پہنچایااور دسمبر میں کے ایس ای 100 انڈیکس کو 9,144 پوائنٹس تک محدود کرنے کے فیصلے نے معمول کے لین دین میں تعطل پیدا کر دیا کیونکہ اس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی اور اس کے نتیجے میں انڈیکس 6,000 پوائنٹس سے بھی نیچے گر گیا اور اب یہ پھر اوپر آ رہا ہے۔
سرمایہ کاروں کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں نے بھی کراچی اسٹاک ایکسچینج سے 54 کروڑ امریکی ڈالر کی رقم نکال لی جس سے مارکیٹ کے مزاج کو مزید نقصان پہنچا اور گزشتہ مالی سال میں فروخت کے دباوٴ میں اضافہ ہو گیا۔
بشکریہ۔اے آر وائی
|