|
قانون سے ناواقف وزیر قانون
14.10.2008, 01:34pm , منگل (GMT+1)
صفدر ھمٰدانی۔۔ لندن
وصی ظفر کے اس رویےسے ایک طرف تو حکومت کے سینئر اراکین کی بوکھلاہٹ کھل کر سامنے آتی ہے تو دوسری طرف خود قانون بنانے،اسے نافذ کرنے اور اسکی تشریح کرنے والوں کی قانون سے عدم واقفیت کا اظہار ہوتا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کا ایک رکن ہونے کے ناظے خود مجھے بھی اس امر کا ادراک ہے کہ وزیر قانون کو گفتگو کا سلیقہ تک نہیں ہے اور اس کے علاوہ بھی اسلام آباد اور کراچی کے ہوائی اڈوں پر بھی انکی لڑائی مار کٹائی اور گالم گلوچ کے واقعات کا اعلیٰ ترین سطح پر بخوبی علم ہے لیکن انکے خلاف کسی قسم کی کاروائی نہ کیئے جانے کی ایک بڑی وجہ تو وہی سیاسی مصیبت ہے جس کا تعلق حکومت بنانے کے لیئے دوسری جماعتوں کا اشتراک حاصل کرنا پڑتا ہے اور ایسے میں وصی ظفر جیسے بہت سے لوگ جہیز میں ساتھ آتے ہیں جو اکثر اوقات اتحادی حکومتوں کی مجبوری بن جاتے ہیں۔ ابھی دو روز پہلے پاکستان کے ایک ٹی وی پروگرام میں معروف وکیل اعتزاز احسن اور وزیر اطلاعات محمد علی درانی ایک ٹاک شو میں شامل تھے اور یہی وزیر قانون ٹیلی فون لائن پر تھے کہ انہوں نے اسی قسم کی بدتمیزی جب اعتزاز احسن سے کرنے کی کوشش کی اعتزاز احسن نے انہیں خوب آڑے ہاتھوں لیا اور وصی ظفر ٹیلی فون بند کر گئے۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ صدر مشرف نے وزیر اعظم کو اس بحران کے پیدا ہونے کے بعد ایوان صدر طلب کیا تھا تو ان کے ساتھ وزیر قانون وصی ظفر اور ان کی وزارت قانون کے وہ سب بزرج مہر بھی تھے جنہوں نے صدر کو ریفرنس کا مشورہ دیاتھا۔ ایوان صدر کے اندرونی ذرائع کے مطابق صدر نے وزیر قانون اور انکی ساری ٹیم کی سرزنش کی کہ انہوں نے صدر کو صحیح صورت حال سے آگاہ نہیں کیا اور بقول ذرائع کے انہیں غلط ایڈوائس دی گئی ہے۔ وزیر قانون وصی ظفر بلاشبہ اس صورت حال میں دباؤ کا شکار ہیں لیکن یہ دباؤ بھی تو ان کا اپنا ہی پیدا کردہ ہے۔ اور صورت حال چاہے کیسی بھی ہو کسی وزیر حتیٰ کہ وزیراعظم اور صدر کو بھی اخلاقی اور حقوق انسانی کی تکریم کے ناطے یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی صحافی یا کسی دوسرے فرد سے گالم گلوچ کرے۔ اس سارے شاخسانے میں محمسوس یوں ہوتا ہے کہ وزیر قانون خود بھی ملکی قانون سے پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ اگر کوئی واقعی مہذب ملک ہوتا تو وزیر اعظم اپنی ٹیم کے ایسے رکن سے استعفیٰ طلب کر لیتا یا پھر دوسری صورت میں انہیں جبری طور پر فارغ کر دیا جاتا۔ مگر کیا کیا جائے کہ میں نے خود اس ضمن میں مہذب کی شرط عائد کر دی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے کہ وصی ظفر کھلے بندوں اس منفی رویے کی معافی مانگیں ورنہ دوسری صورت میں متعلقہ صحافی یا کسی بھی شہری کو ہتک عزت کا دعویٰ عدالت میں کرنے کا اختیار ہے۔ اب یہ ایک الگ موضوع ہے کہ کیا عدالتیں اتنی آزاد ہیں کہ ایک عام شہری کو ان پر یہ اعتماد ہو کہ انہیں انصاف ملے گا؟
|