یہودی آباد کاری کی بنیاد پر قائم اسرائیلی یہودی ریاست
آج کل دھڑا دھڑ یہودیوں کو مغربی کنارے کے کیٹگری ’’بی‘‘ کے علاقوں میں
بھی بھی اپنی بستیاں قائم کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔ ترس کے قابل اوسلو
معاہدے کی تحت کیٹگری ’’بی‘‘ کے علاقوں میں مکمل اور ہر طرح کا سکیورٹی
کنٹرول اسرائیل کے پاس ہے جبکہ انتہائی محدود انتظامی اختیارات فلسطینی
اتھارٹی کو حاصل ہیں۔
اسرائیلی انتہا پسند حکومت کی جانب سے اوسلو معاہدے کی
حالیہ خلاف ورزی سے ظاہر ہو گیا کہ نسل پرستانہ صہیونی ریاست بالقصد دو
ریاستی حل کو قتل کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ اس مجوزہ دو ریاستی حل کے مطابق
اسرائیل اور مجوزہ فلسطین کی دو ریاستیں پرامن طور پر ایک دوسرے کے ساتھ رہ
سکیں گی۔
تاہم اسرائیل کی جانب سے 1967ء میں قبضہ کیے گئے مغربی
کنارے میں یہودی بستیوں کی بے سروپا تعمیر و توسیع نے ایک قابل تسلیم
فلسطینی ریاست کے قیام کے تصور کو غیر حقیقی اور ناقابل عمل بنا دیا ہے
بالخصوص ان اقدامات سے ایسی فلسطینی ریاست جس کا دارالخلافہ مشرقی القدس ہو
کا تصور بھی محال ہوتا جا رہا ہے۔
اس سب کے باوجود فلسطینی اتھارٹی اپنے اس خواب سے باہر
آنے کو تیار نہیں کہ نازی ازم کی نئی اندوہناک مثالیں قائم کرنے والی
اسرائیلی ریاست مغربی کنارے میں اپنی سیکڑوں یہودی بستیاں گرانے کا معجزہ
کر دکھائے گی۔ اسرائیل کسی صورت بھی اپنے اندر تبدیلی لانے کو تیار نہیں
بلکہ وہ عالمی سطح پر معاشی، سیاسی و سماجی انصاف کے نظریے کی طرف جانے کے
بجائے بڑی تیزی سے صہیونی نازی ازم کی جانب گامزن ہے۔
یہ بات کہنے کی اب کوئی ضرورت نہیں رہی کہ فراڈ پر
مبنیامن عمل کے ساتھ چمٹے رہ کر فلسطینی اتھارٹی بالقصد یا بلاارادہ طور پر
فلسطینی عوام کو دھوکہ دے رہی ہے۔ اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات میں سب سے
آگے رہنے والے فلسطینی اتھارٹی کے ترجمان صائب عریقات نے اس بات کا اعتراف
کر لیا ہے کہ امن عمل ایک بہت بڑا فراڈ ہے۔ امن مذاکرات ایک یادگار ناکامی
تھی جس کے ذریعے قوم کے ہاتھ صرف ایک بڑا صفر آیا ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ گزشتہ لگ بھگ بیس برس سے فلسطینی قوم
کےساتھ دھوکہ کیا جا رہا ہے۔ تاہم اصل سوال اب ہر محب وطن اور مخلص فلسطینی
کے سامنے یہ ہے کہ آیا ہمیں اب مزید بیس سال اسی طرح کے دھوکے اور بے
وفائی میں گزارنا چاہیں۔
اسرائیل کو گزشتہ بیس برس کا عرصہ دیا گیا کہ وہ پہلے
سےسوچی سمجھی فلسطینی ریاست کو ناقابل حصول بناتا جائے۔ اگلے مزید بیس برس
اسرائیل فلسطینیوں کے نسلی صفائے کے لیے بڑے احسن انداز میں استعمال کرے
گا۔ وہ باقی رہنے والے فلسطینیوں کو یا تو ہجرت پر مجبور کردے گا یا ان کا
خاتمہ کر کے ہی دم لے گا۔
اسرائیل کسی صورت فلسطینی عوام کے خلاف اپنے صہیونی
منصوبے پر عمل درآمد سے باز رہتا دکھائی نہیں دے رہا بالخصوص جب سازگار
عالمی حالات میں وہ کسی طرح فلسطینیوں پر مظالم کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے
نہ دے گا۔
قتل عام، نسلی کشی، خاتمے کی جنگیں تلمودی یہودی ذہن
کےلیے کوئی اجنبی چیز نہیں ہے۔ تلمودی عبارات کو ایک جانب رکھیے، صرف
عبرانی بائبل پڑھنے والا کوئی بھی شخص اس بات کو بڑی اچھی طرح سمجھتا ہے جو
میں کہنا چاہ رہا ہوں۔
سنہ 2008ء اور 2009ء میں جرمن نازی ریاست کے مشابہ
صہیونی ریاست نے دنیا کو دکھایا کہ صہیونی ذٓہنیت کیا کچھ کر سکتی ہے۔ غزہ
کی پٹی کی تباہی، آگ و خون کا دریا، خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں شہید اور
زخمی افراد صہیونی ننگی جارحیت کا منہ بولتا ثبوت تھے۔
غزہ کے گھر اس وقت تباہ کیے گئے جب اہل خانہ گھروں میں
ہی تھے، مسجدوں پر اس وقت بمباری کی گئی جب وہاں نمازیں پڑھی جا رہی تھیں۔
گھروں کی تباہی کے بعد مصیب زدہ لوگوں نے اسکولوں کی چھتوں تلے ٹھکانا
بنایا ہی تھا کہ صہیونی بمباری نے ان اسکولوں کو بھی تباہ کر ڈالا۔ یہ بات
درست ہے کہ اسرائیل نے نازیوں کی جانب سے آشوٹز (Auschwitz) کیمپ کی طرح
لوگوں کو گیس کے چیمبرز میں بھر کر نہیں مارا تاہم اس بات میں بھی کوئی شبہ
نہیں کہ یہودی ذہنیت ذہنی اور مادی طور پر ایسا کرنے سے بھی نہیں چوکے گی۔
نازیوں نے بھی جنگ عظیم دوم سے قبل یہ عندیہ نہیں دیا
تھا کہ وہ کبھی ایسا بھی کر سکتے ہیں تاہم موقع ملنے پر انہوں نے وہ ہی کیا
جو سب نے دیکھا۔ یاد رہے کہ اس وقت جرمنی نہ صرف ٹیکنالوجی بلکہ ثقافت کے
اعتبار سے بھی دنیا کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک تھا۔
یہی معیار اسرائیل پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہےبالخصوص
اسوقت جب اسرائیل ایک ایسی قدیم مذہبی روایات کا حامل بھی ہے جن کے مطابق
غیر یہودی افراد انسانیت کے درجے سے بھی گرے ہوئے ہیں اور ان کی زندگیوں کی
کوئی عزت اور قدر ہے نہ ہی کوئی احترام، انکی زندگیوں کو کبھی اپنے مقاصد
کے لیے قربان کیا جا سکتا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف مکمل قتل عام کے
ارادوں کے ظہور نہ ہونے کو اسرائیلی تہذیب کے نمونے قرار دیا نہیں دیا جا
سکتا۔ یااسے اس کی ہمدردی اور آزادی پر محمول نہیں کیا جا سکتا۔ مجموعی
تجربے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل کے ہاں ہمدردی، آزادی اور انسانیت نام
کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔
اسرائیل کی جانب سے اب تک فلسطینیوں کے اجتماعی قتل عام
کےآغاز نہ ہونے کی وجہ بڑی آسانی سے معلوم کی جا سکتی ہے کہ ایسی
خونریزی کی بازگزشت اسرائیل تک ہی پہنچ سکتی ہے اور اس طرح کرنے سے عالمی
برادری اسرائیل کے خلاف ہونے کا خطرہ ہے۔ لیکن یاد رہے کہ عالمی برادری بھی
کوئی مستقل عنصر نہیں ہے اور اس طرح کے کسی اجتماعی قتل عام کو روکنے
کےلیے اس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا ہے۔
ماضی میں عالمی برادری کی موجودگی میں حقیقی اور جزوی
اجتماعی قتل عام ظہور پذیر ہو چکے ہیں اور عالمی برادری بڑے پیمانے پر ہونے
والے قتل عام کو روکنے میں ناکام بھی رہی ہے۔
فلسطینیوں کے کسی قتل عام کو روکنا اس لیے بھی عالمی
برادری کے لیے ممکن نہیں رہے گا کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ یہودی پریشر
گروپ ہی امریکی حکومتوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ دنیا کی طاقت کا اصل مرکز
صہیونی ریاست میں ہی ہے۔
امریکی سیاسی منظر نامے پر یہودیوں کا اتنا وسیع غلبہ
ہو چکا ہے کہ اب امریکا کے سیاستدان اسرائیلی اشاروں اور ان کی کال پر بکنے
والےسیاسی خدمت گزار بن چکے ہیں۔
حالیہ عرصے میں امریکیوں کی فلسطینیوں کے لیے
زہرفشانیاں غیر معمولی حد تک شرانگیز ہو گئی ہیں۔ حال ہی میں ری پبلکن
پارٹی کے صدارتی امیدوار نیوٹ جنگرچ نے تو فلسطینیوں کو ایجاد کردہ لوگ تک
قرار دے ڈالا۔
تصور کریں کہ متوقع طور پر امریکا کا منتخب ہونے والا
یہ انتہائی جاہل صدر فلسطینیوں کے ساتھ کیا رویہ برتے گا؟ آخر کار یہ
ایجاد شدہ لوگ کبھی بھی غیر ایجاد کیے جا سکتے ہیں جیسا کہ امریکی گورے اس
سے قبل امریکا کے اصل باسیوں کے ساتھ ایسا کر بھی چکے ہیں۔ امریکی گوروں نے
امریکا میں بسنے والی اصل قوموں سیمینول، ناوا ہوس، شیروکیاور دیگر کو
صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دیا تھا۔ اس وقت اپنے اجتماعی قتل عام کو امریکیوں
نے ’’ناگزیر تقدیر‘‘ کا نام دیا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ فلسطینیوں کو اپنی بقا کی جنگ کبھی یہ سمجھ کر نہیں لڑنا چاہیے کہ انہیں دنیا میں رہنے کا حق کوئی خود دے دے گا۔
یہ سب کچھ اس وقت مزید درست دکھائی دیتا ہے جب ہم اکثر و
بیشتر یہودی رہنماؤں اور آباد کاروں کی جانب سے یہ نعرے بکثرت سنتے ہیں۔
’’عربوں کے لیے موت‘‘ اور ’’عرب گیس چیمبرز میں‘‘ اور اس سے بھی زیادہ
خوفناک قتل عام پر مشتمل نعروں سے یہودیوں کی ذہنیت کی بخوبی عکاسی ہو جاتی
ہے۔ سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ ان نعروں کے بعد اسرائیل میں کسی کے کان پر
جوں تک نہیں رینگتی۔ دوسری جانب اگر یورپ میں کہیں دور دراز علاقے میں بھی
کسی یہودی کی قبر کو اکھاڑ دیا جائے تو سارے اسرائیل کے یہودی فی الفور
اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔
مختصر یہ ہے کہ فلسطینیوں کو لازمی طور پر اپنے آپ کو
اس چاپلوسی اور دھوکے سے بچانا ہو گا کہ اسرائیل انہیں ان کا حق دے دے گا۔
اسرائیل اپنے نازی استادوں کی طرح صرف بربریت اور ظلم کی زبان سمجھتا ہے۔
مسلمانوں کو ہرجگہ بہت چوکنا ہونا پڑے گا۔
ماخز۔مرکز اطلاعات فلسطین