سڈنی آسٹریلیا سے آئی ہوئی مشہور شاعرہ،ادیبہ اور نائب مدیرہ عالمی اخبار ڈاکٹر نگہت نسیم نے کراچی میں مشہور کالم نویس پروفیسر ڈاکٹر شبیراحمد خورشید،محمد اعظم عظیم اعظم اور عالمی اخبار کراچی کے بیورو چیف محمداحمد ترازی کے ہمراہ ان کی بیٹی نونہال قلم کار جویرہ بتول سے ڈیفنس میں خصوصی ملاقات کی ۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ مجھے آپ حضرات سے مل کر بے حد خوشی ہوئی ہے کہ آپ لوگوں نے کراچی جیسے شہر میں رہتے ہوئے بھی قلم کی عزت و آبرو قائم رکھی اور جرات و بہادری سے قومی و معاشرتی مسائل کی نشاندہی کررہے ہیں،انہوں نے عالمی اخبار کے قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کی بے لوث خدمات کو سراہا اور کہا کہ آج کا قلمکار بہت سہل پسند ہوگیا ہےوہ آج ہی اپنی تخلیقات کا صلہ چاہتا ہے جبکہ کسی تخلیق کو ادبی مقام حاصل کرنے میں برسوں لگتے ہیں


،انہوں نے کہا کہ آج سہل پسندی نے یہ حال کردیا ہے ایک معیاری تحریرکا حصول بہت مشکل ہوگیا ہے ،انہوں نے کہا کہ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ غور و فکر سے محروم ایک سہل پسند قوم کبھی فروغ نہیں پاتی۔ہمارا معاشرہ کیونکہ تحقیق و اکتشاف سے جی چرانے والا اور سہل پسند ہوگیا ہے اس لئےہمارے لکھاری بھی اپنی تحریروں میں اس مرض کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ آپ تمام اخبارات اور ویب سائٹ کے کالمز اٹھا کر دیکھ لیں کہ کتنے کالم نگار ہیں جو سنجیدہ اور تعمیری موضوعات کو اپنے کالم کا موضوع بناتے ہیں لیکن ان کے مقابلے میں عالمی اخبار کا اپنا ایک الگ ہی معیار ہے جس کا کریڈیٹ ہمارے قلم کاروں کو جاتا ہے

انہوں نے کہا کہ ادب کی تخلیق ،فکر و شعور کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کی پختگی کی محتاج ہے لیکن ہمارے ولم کاروں نے "ادب برائے مقصد " کے فریضے کا انکار کر دیا ہے نتیجتاً سطحی جذبات و احساسات رکھنے والے عام تخلیق کاروں کو ادبی دنیا میں سستی دکانیں کھولنے کی آزادی مل گئی اور ایسی ایسی چیزیں تخلیق ہونے لگیں جن کو آدمی پنی بیٹی یا بہو کے سامنے پیش کرتے ہوئے تو شرمائے لیکن محفل میں خوب داد حاصل کرے ۔اسی وجہ سے سہل پسندی ، آوارگئ طبع یا نا پختگی شعور کے نتیجے میں جو ادب پیدا ہوا وہ " امداد ِتحسین باہمی" کے اصول کے تحت خوب بِکا۔لہذاہمیں چاہئے کہ ہم اردو زبان اور ادب کے معیار و خوبصورتی کو قائم رکھیں۔
انہوں نے بچوں کی ابھرتی ہوئی قلمکار جویریہ بتول کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات قابل توجہ ہے کہ یہاں ہماری نئی نسل کا اردو سے تعلق کمزور ہے اور ہمارے بچوں کی بڑی اکثریت اردو لکھنے اور پڑھنے سے بہت دور ہے ،ایسے میں نوجوان قلم کاروں کا سامنے آنا قابل تعریف ہے۔
اُنہوں نے کہاکہ اِس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی اردو ادب میں بالخصوص ہمارے مسلم معاشرے کی بھر پورعکاسی پائی جاتی ہے یقینا اِسے اِس مقام تک پہنچانے میں ہمارے نئے پرانے تمام ادباءنے اپنے زمانوں میں اپنی خدمات اپنا مذہبی فریضہ سمجھ کر انجام دیں ہیں
اس موقع پر عالمی اخبار کراچی کے بیورو چیف محمداحمد ترازی نے ڈاکٹر نگہت نسیم کو کتابوں کا تحفہ پیش کیا ،قبلِ ازیں ڈاکٹر نگہت نسیم نے بھی اپنی مختلف تصانیف کے مختلف تحائف وفد میں شامل افراد کو اپنے آٹوگراف کے ساتھ پیش کئے۔