16.10.2026, 09:11am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان کا کردار۔13ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
11.04.2012, 05:05am , بدھ (GMT+1)

سید اکمل حسین
اس مرتبہ کی یہ قسط قدرے تاخیر سے آنے پر معذرت اسکی وجہ میری صحت اور کچھ گھریلو مسائل تھے۔ لیکن لوگوں نے یہ افواہیں پھیلادیں کہ میری تحقیق اور میرا مضمون کسی نادیدہ طاقت کے دباؤ کے باعث دم توڑ گیا ہے۔ اب ایسے افواہ سازوں کے لیئے سوائے دعائے خیر کے اور کوئی چارہ کار نہیں

گزشتہ قسط میں بات یہاں تک پہنچی تھی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔خدا کو عادل سمجھنا ، اس اعتدال کي پابندي کا واحد محرک ھے اور اسي لئے جو اس اعتدال پر قائم رھيں انھيں عادل کھا جاتا ھے اور سچّے مسلمان وھي ھيں جو عدالت کي صفت سے ممتاز ھوں ۔

دراصل یہی اعتدال ہے جو اسلام کا طرہ امتیاز ہے اور اللہ تعالیٰ نے تو اپنی عبادت کے لیئے بھی اعتدال کی تعلیم فرمائی ہے۔ ایران کے سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کے خطبات جمعہ کا مجموعہ‘‘عدالت اجتماعی‘‘ کے عنوان سے اردو سمیت متعدد زبانوں میں شائع ہو چکا ہے جس میں انہوں نے مولائے کائنات کے حوالے سے ایک عجیب و غریب واقعہ تحریر کیا ہے جو عبادت خاص طور پر نماز میں بھی اعتدال کا مظہر ہے

واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ۔۔‘‘ مولائے کائنات علی ابن ابی طالب مسجد میں نماز کے لیئے جب جاتے تو ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہ جب بھی مسجد میں داخل ہوتے ایک فرد کو نماز میں مشغول پاتے۔ ایک دو روز مولا علی نے یہ صورت حال دیکھی اور تیسرے روز اپنے صحابہ سے استفسار کیا کہ یہ کون شخص ہے جو ہر وقت نماز ہی پڑھتا رہتا ہے
صحابہ نے عرض کی کہ مولا یہ متقی شخص ہے اور عابد زاہد اسی علاقے میں مقیم ہے۔ مولا علی نے مزید پوچھا کہ کیا اسکے کوئی اہل خانہ وغیرہ ہیں؟ صحابہ نے کہا کہ جی بیوی بچے ہیں۔ مولا نے پوچھا کہ انکے کھانے پینے کا انتظام اور دیکھ بھال کون کرتا ہے؟ صحابہ نے کہا کہ اس عابد و زاہد کے اہل خانہ کی دیکھ بھال ہم لوگ کرتے ہیں۔ اس پر مولائے متقیان نے جو جواب دیا اسے سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ مولا نے فرمایا کہ صرف نمازیں پڑھنے والے اس شخص کی حالت کوفے کے کتے سے بدتر ہے کہ جسے اپنے بیوی بچوں،انکی دیکھ بھال اور پرورش و پرداخت کا کچھ علم نہیں۔۔۔۔

آپ اندازہ کیجئے کہ عبادت کے نام پر جو لوگ حقوق العباد سے بے خبر ہیں انکی حیثیت باب شہر علم نے کیا بتائی ہے۔ یہی وہ استحصال ہے جو دین کے نام پر کم علم ملاں مولوی یہ کہہ کر کرتا ہے کہ بس خالی مسجد کا چندہ دے دیجئے یا پھر مجلس و میلاد کا اہتمام کر لیجئے تو آپ کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔حالانکہ نماز ،روزہ،حج وغیرہ انسان کو نظم وضبط اور اعتدال ہی تو سکھاتا ہے جو عام مسلمان میں تو مفقود ہے ہی خود محراب و منبر پر قابض صاحبان عمامہ و دستار میں بھی غائب ہے۔

بھارت سے امریکہ ،لندن اور دنیا کے متعدد ممالک میں سفر کرنے والے اتحاد بین المسلمین کے داعی مولانا کلب صادق صاحب نے گزشتہ دنوں لندن کے ایک مسلکی ٹی وی میں ایک انٹرویو کے دوران متعدد باتوں کے علاوہ یہ بھی کہا کہ میں وثوق سے کہتا ہوں کہ مولوی حضرات منبروں پر بے شمار جھوٹی حدیثیں بیان کرتے ہیں ،اور عمامہ پوش اور عالم دین کے درمیان فرق محسوس کرنا چاہیئے اور ہر عمامہ پوش کو عالم دین کہنا اور سمجھنا نہیں چاہیئے۔

کلب صادق صاحب کی یہی بات ہے جسکا احیا مجھ جیسے کم علم بھی ایک عرصے سے کر رہے ہیں اور دین فروش ملاؤں کے ساتھ ساتھ مسجد و امام بارگاہ کو بزنس بنانے والے منتظمین کی گالیوں اور طعنوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ اب ان میں ہمت ہو تو ذرا مولانا کلب صادق صاحب سے انکے اس فرمان کی وضاحت طلب کر لیں ورنہ اپنے گریبانوں میں جھانکیں

گریبان میں جھانکنے سے یاد آیا کہ جرمنی میں ایک عبادت خانے کا قضیہ ابھی تک چل رہا ہے اور فرینکفرٹ کی جس عبادتگاہ میں ہائیڈل برگ کے سید جمال الدین کا داخلہ صرف اس لیئے بند کیا گیا تھا کہ انہوں نے زیر تعمیر مسجد کے نام پر جمع ہونے والے کئی ملین یورو کا حساب مانگا تھا اب اس عبادت خانے میں دو گروپ بن گئے ہیں اور دوسرے گروپ نے پاکستانیوں کے نام پر الگ دینی تنظیم بنا لی ہے

ادھر سید جمال الدین صاحب نے اس سارے قضیے کو درمیان میں نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور بقول انکے وہ اس مسلے کو پار لگا کر دم لیں گے چاہے انہیں اکیلے ہی یہ جنگ لڑنی پڑے۔ گزشتہ دنوں ہائیڈل برگ کے سید جمال الدین نے نئی بننے والی دینی تنظیم کے صدر کو ایک خط بھیجا تھا جسکی کاپی اشاعت کے لیئے مجھے عالمی اخبار میں اشاعت کی غرض سے بھی روانہ کی تھی جسمیں انہوں نے کہا تھا کہ ‘‘اب وقت آ گیا ہے کہ آپ اپنی ایمانداری ثابت کریں‘‘۔

یہ خط انہوں نے اس نئی تنظیم کے صدر سید اقبال حیدر کے نام لکھا تھا اور کہا تھا کہ اس سے قبل آپ پاک حیدری ایسوسی ایشن میں مالیاتی امور میں شامل تھے اور آپکو اب بتانا چاہیئے کہ کس کس نے مالی بدعنوانی کی ہے۔ سید جمال الدین نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ کوئی انکا ساتھ دے یا نہ دے وہ یہ جنگ تنہا بھی لڑ سکتے ہیں اور لڑیں گے۔ انہوں نے اس ضمن میں اب فرینکفرٹ پولیس کے ساتھ رابطہ بھی کیا ہے اور ایک وکیل کی خدمات بھی حاصل کی ہیں۔

انکا یہ مکمل خط انکی خواہش پر میں اپنے اس مضمون کا حصہ بنا رہا ہوں تا کہ مشتری ہشیار باش کا فرض پورا ہو سکے

Time has come for you to prove your honesty
JAMALUDDIN SYED.Heidelberg.Germany
Hello Mr. Iqbal Haider
 
Time has come for you to prove your honesty unless you would like to act as a hypocrite. I am now in a legal battle with PAK HAIDRY ASSOCIATION which proves that Shamshad Malik and Unal Kaymakci have something to hide, thats why, they want to silent me through legal attacks. Allah and Panjtan are watching. I have also hired a lawyer and perhaps this legal battle will enter into any German court soonest. The issue is the same i.e. non-provision of financial details about utilization of bank loan, payments to different parties from such funds, list of donations obtained from local and foreign sources and where these funds have been used. Similarly, the same question prevails about current bank loan repayment position and how the interest is being paid? Is the interest being paid from donations money? If yes, then this is totally UNISLAMIC and against the constitution of the Association as well.
 
You had been a member of the Finance Committed handling the affairs of the FATIMA ZEHRA MOSCHEE but you had resigned for the reason tht you were not satisfied with the way matters were handled exclusively by Shamshad Malik and Unal Kaymakci without involving you in any decision-making process. Now is the opportunity for you to speak the truth and NOTHING BUT THE TRUTH (if you have a clean conscience).
 
I invite you to meet with me in Heidelberg for a meeting to discuss the above matter. Kindly keep in mind that I AM NOT BEGGING FOR YOUR HELP. I am just trying to know if if there are some HONEST SOULS within our SHIA COMMUNITY living in Germany who can speak the truth when they are asked for it. Meanwhile, I am ALL ALONE ready to fight the legal battle with Shamshad Malik and Unal Kaymakci who cannot buy my integrity or shut my mouth through legal attacks. At least I have now realized as to why HAUSVERBOT was issued against me by PAK HAIDRY ASSOCIATION i.e. to prevent me from creating awarness among SHIA MUSLIMS about the TWO-MEN domination in the financial affairs of FATIMA ZEHRA MOSCHEE project
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں گزشتہ کئی اقساط میں برابر یہ لکھا ہے اور اس بار بھی اپنی بات دوہرا رہا ہوں کہ فریق ثانی اگر سید جمال الدین لے الزمات کا جواب دینا چاہتا ہے تو مجھے لکھ بھیجے میں انکا نکتہ نظر بھی شائع کرونگا۔لیکن عجیب بات ہے کہ فریق ثانی نے اس ضمن میں کسی قسم کا کوئی جواب نہ دینے کا تہیہ کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے اس مرتبہ دال ساری کی ساری ہی کالی ہے

ٹورنٹو سے سعدیہ ناصر نے ‘‘ملا کا اسلام‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون ارسال کیا ہے جسے من و عن شائع کیا جا رہا ہے





جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

:دیگر مضامین
(06.04.2012) بزرگ نعت گو شاعر شفیق احمدشفیق بریلوی انتقال کرگئے سوئم اتوار کو ہوگا
(05.04.2012) مغربی بنگال میں لوگوں نے کھانہ کھانے کیلئے اپنے گردے بیچنے شروع کردئیے ہیں
(04.04.2012) جرمنی میں عالمی اخبار کے بیورو چیف طاہر ملک کے بہنوئی انتقال کر گئے ہیں
(01.04.2012) اسرائیلی انتہا پسند حکومت کی جانب سے اوسلو معاہدے کی حالیہ خلاف ورزی
(30.03.2012) ملتان میں صوفی بزرگ حضرت شاہ رکن عالم رحمت اللہ علیہ کے عرس کی تین روزہ تقریبات
(28.03.2012) کیسے کیسے لوگ ہمارے جی کو جلانے آ جاتے ہیں۔بے عملی کا فروغ
(26.03.2012) شاعر اور صحافی سید اطہر رضا ناسک سرطان سے لڑ رہے ہیں۔آپ بھی اس جنگ میں شامل ہوں
(25.03.2012) حضرت سلطان باہو کا کلام گانے والے اقبال باہو لاہور ميںسپرد خاک
(23.03.2012) جرمنی میں جماعت احمدیہ کا ،انسانی سمگلروں کا گروپ صدر سمیت گرفتار
(18.03.2012) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان کا کردار۔12ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(17.03.2012) ہفت روزہ پاکیزہ کے پبلشر اور ایڈیٹر صبیح الدین منصور انتقال کر گئے
(16.03.2012) بھارت میں کینسر کی سستی دوا کی تیاری۔۔غیرملکی کمپنیاں پریشان ہو گئی ہیں
(14.03.2012) سید سرتاج حیدر عابدی لندن میں طویل علالت کے بعد اتوار کو انتقال کر گئے
(14.03.2012) معروف اديب اور شاعر ضياء جالندھري اسلام آباد ميں سپرد خاک کر دیئے گئے
(12.03.2012) پاک یورو جرنلسٹس فورم' کے قیام پر دنیا بھر سے مختلف حلقوں کے پیغامات کا سلسلہ برابر جاری ہے
(10.03.2012) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان کا کردار۔11ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(10.03.2012) یورپ اور برطانیہ کے مقبول مداح اہلبیت صفدر رترمذی کا چہلم دس مارچ ہفتے کو
(05.03.2012) پاک یورو جرنلسٹس فورم' کے قیام پر دنیا بھر سے مختلف حلقوں کے پیغامات کا سلسلہ جاری
(04.03.2012) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان کا کردار۔10ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(03.03.2012) پاک یورو جرنلسٹس فورم' کے قیام پر ادبی،صحافتی ،دینی اور سماجی تنظیموں کے پیغامات



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں