اس کا مقدمہ سوائے ضمیر انسانیت کی عدالت کے اور کہیں نہیں ہو سکتا اور فی الحال ضمیر انسانیت صرف پاکستان کی سطح پر ہی نہیں عالمی سطح پر سویا ہوا ہے۔
ساری زندگی صحافت اور نشریات میں گزاری لیکن یہ منظر تو آمر مطلق ضیا الحق اور ایوب خان کے زمانے میں بھی نہیں دیکھا۔ پاکستان کو تاریخی طور پر سب سے بڑی اور سب سے زیادہ آزادی اظہار دینے کا دعویٰ کرنے والی حکوت نے خود ہی اپنے دوستوں کے ہاتھوں خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار لی اور اسلام آباد میں جیو ٹی کے دفتر پر پنجاب پولیس کی جس طاقت کے ساتھ حملہ کیا گیااسے دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے کوئی دشمن فورس نے حملہ کر دیا ہو۔
ابھی ذہن و دل سے یہ تصویر نہیں مٹی تھی کہ اگلے ہی روز ہفتہ سترہ مارچ کو اسی ٹی وی سکرین پر ایک اور ایسا ہی منظر چل رہا تھا۔
لاہور ہائی کورٹ کی عمارت میں داخل ہوتی ہوئی پنجاب پولیس کے مسلح دستے اور انکے ہمراہ بکتر بند گاڑیاں۔ کہتے ہیں کہ ایک سو سال میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں پولیس داخل ہوئی ہے یعنی اس نے دھاوا بولا ہے۔ چلیں یہ تاریخی سعادت بھی پنجاب کے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الہی کے حصے آئی جو بر سر عام اور ببانگ دہل صدر مشرف کو وردی سمیت ایک بار نہیں پچاس بار صدر منتخب کروانے کی بات کر چکے ہیں۔
اقتدار کے نشے کی کرامات اس سے قبل بھی ہم نے دیکھی ہیں اور پھر اسی کا خمیازہ ہے کہ دنیا کا واحد ملک پاکستان ہے جہاں اس وقت ‘‘فوجی جمہوریت‘‘ قائم ہے
قصہ کوتاہ جیو ٹی وی پر اسلام آباد میں حملے کے بعد صدر مشرف نے جب معافی مانگی تو ذہن میں فروری دو ہزار چار کا وہ دن پھر گیا جب اسی حکومت نے جوہری اتوار بازار کے ضمن میں اپنے گناہوں کو چھپانے کے لیئے پاکستان کے بابائے جوہری پروگرام ڈاکٹر قدیر کو معافی مانگنے پر مجبور کیا اور پھر تاریخ نے بہت جلد خود کو دوہرایا اور سولہ مارچ دو ہزار سات کو صدر مشرف بھی قوم سے معافی مانگ رہے تھے۔
یاد رکھیں کہ تاریخ سب کچھ رقعم کر رہی ہوتی ہے اور تاریخ اپنا فیصلہ خود کرتی ہے۔ لیجئے تاریخ کے اسی ایک باب کی ایک تحریر آپ بھی پڑھیئے۔
تین فروری دو ہزار چار
پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر نے سرکاری ٹیلی ویژن پر قوم سے ایک خطاب میں ایٹمی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے الزامات کا اعتراف کیا ہے اور اپنے کیئے پر معافی مانگی ہے۔ ان الزامات کے بعد کہ پاکستان نے ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو ایٹمی ٹیکنالوجی منتقل کی ہے، ڈاکٹر عبدالقدیر متعدد سائنس دانوں کے ساتھ حراست میں ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٥ فروری دو ہزار چار
صدر جنرل پرویز مشرف نے اسلام آباد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر نے غلطی کی تھی جس پر انہوں نے ان کی معافی قبول کر لی ہے۔ وہ پہلے بھی ان کے ہیرو تھے اور اب بھی ان کے ہیرو ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سولہ مارچ دو ہزار سات
صدر جنرل مشرف نے جیو کے اسلام آباد کے دفتر پر حملے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس واقعے پر معافی مانگتے ہیں اور ان کا نقصان پورا کیا جائے گا