
سمندری حادثے کا شکار ہو کر غرق ہونے والے بدقسمت لیکن شہرہ آفاق جہاز ٹائٹینک کے ڈوبنے کے سوسال مکمل ہونے پر مختلف سرگرمیاں اور تقریبات منقعد کی جا رہی ہیں۔
برطانیہ میں ٹائٹینک جیسا ہی بحری جہاز تیار کیا گیا ہے جس میں مسافروں کی تعداد سے لیکر دیگر چیزیں بھی ٹائٹئنک جیسی ہیں۔
ڈپلیکیٹ ٹائٹینک نے سفر کا آغاز کردیا ہے جو پندرہ اپریل کو اس مقام پر پہنچے گا جہاں انیس سو بارہ میں ٹائٹینک ڈوبا تھا۔
اس موقع پر دعائیہ تقریب منقعد کی جائے گی جس کا دورانیہ بیس منٹ ہوگا۔
جہاز میں دنیا کے بیس ممالک کے تیرہ ہزار افراد سفرکر رہے ہیں۔ ان میں ٹائٹینک کے حادثے میں ڈوب جانے اور زندہ بچ جانے والوں کے لواحقین بھی شامل ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو نے سو برس قبل ڈوبنے والے بحری جہاز ٹائٹینک کے ملبے کو تحفظ دینے کا اعلان کیا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ اب تک سات سو سے زیادہ غوطہ غور کینیڈا کے ساحل کے قریب سمندر میں چار ہزار میٹر گہرائی میں موجود جہاز کے ملبے کا دورہ کر چکے ہیں اور وہ اپنے ساتھ ملبے میں موجود نوادرات بھی لے گئے ہیں۔
اب جبکہ ٹائٹینک کو غرقاب ہوئے سو برس ہونے کو ہیں، یونیسکو نے اسے دو ہزار ایک کے اس کنونشن کی فہرست میں شامل کر لیا ہے جو زیرآب ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے۔
اس معاہدے کا مقصد غیر سائنسی اور غیر اخلاقی مہم جوئی کو روکنا ہے تاہم یہ صرف انہی بحری جہازوں کے ملبوں کو تحفظ دیتا ہے جنہیں غرقاب ہوئے سو سال ہو چکے ہوں۔
یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل ایرینا بوکووا کا کہنا ہے کہ ٹائٹینک کا ڈوبنا ’انسانیت کی یادداشت میں لنگرانداز ہے‘ اور یہ اہم ہے کہ اس جگہ کو محفوظ بنایا جائے جہاں ڈیڑھ ہزار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
آر ایم ایس ٹائٹینک برطانوی بندرگاہ ساؤتھمپٹن سے امریکی شہر نیویارک تک کے اپنے پہلے ہی سفر کے دوران چودہ اپریل سنہ انیس سو بارہ کو ایک برفانی تودے سے ٹکرا کر ڈوب گیا تھا۔