
گیارہ اپریل کو پاکستان پنجاب اسمبلی میں ذوالفقار گوندل کی پیش کی گئی
قراداد کہ شادمان چوک لاہور کو بھگت سنگھ شہید چوک قرار دیا جائے اور یہاں
ایک بھگت سنگھ کی یاد گار بھی تعمیر کرائی جائے
اس قراردار کی پاک یورو
جرنلسٹس فورم کے تمام عہداران ، چیرمین صفدر ہمدانی ، وائس چیرمین ارشاد
ہاشمی ، وائس چیرمین نصر ملک ، صدر دانیال رضا ، سنیئر نائب صدر سعید خان ،
نائب صدر جرمنی طاہر ملک ، نائب صدر فرانس میاں امجد اور جنرل سیکٹری صغیر
اصغیر ، نائب صدر یونان سکندر چوہان اسکی نہ صرف مکمل حمائت کرتے ہیں بلکہ
اسکے لیے پورے یورپ اور دنیا میں تمام صحافیوں اور انکی تنظیموں کے علاوہ
مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں کو اس کی حمائت کی اپیل کرتے ہیں ۔ کہ وہ
اپنے اپنے علاقوں میں اس قرارداد کی حمائت کے لیے ایک علمی تحریک چلائیں
اور عام عوام اور خاص طور پر بیرونی ممالک میں نوجوانوں کو برصغیر میں
آزادی کی جنگ لڑنے والے مجاہدوں اور انکی حقیقی طبقاتی جدوجہد سے آشکار
کریں
اور بتائیں کہ آج سامراج سے جو آزادی لی گئی ہے اس کی بنیادوں میں بھگت
سنگھ جیسے انقلابی رہمناوں کی بے شمار قربانیاں اور لہو بھی شامل ہے ۔ جس
کو حکمران اور انکی تاریخ اس لیے چھپاتے ہی کہ اس عوامی جدوجہد کو بیان
کرنے سے انکی لوٹ گھسوٹ اور استحصال بے نقاب ہو تا ہے۔
یہ آزادی کسی ایک خاص طبقے اور چند خاندانوں کی حکمرانی کے لیے نہیں تھی
بلکہ عام عوام اور محنت کشوں کی حقیقی آزادی تھی جس میں تمام عوام کو تمام
سماجی ، سیاسی اور معاشی حقوق بلا امتیاز برابری کی بنیادوں پر حاصل ہونے
تھے ۔
لیکن اس کے الٹ ہوا ۔ حقیقی آزادی کی تحریک سے ایک بڑا منظم دھوکہ اور فراڈ
کیا گیا انگریز تو چلے گئے لیکن اپنے پالتو ایجنٹ ہمارے سروں پر تھوپ گئے ۔
اس حقیقی آزادی کی جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ جاری ہے پہلے یہ
انگریزوں کے خلاف تھی اور آج یہ اپنے مقامی سرمایہ دار، جاگیردار اور فوجی
حکمرانوں کے خلاف ہے جو حقیقی عوامی آزادی تک جاری رہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔(1907ء تا 23 مارچ 1931ء) برصغیر کی جدوجہد آزادی کا ہیرو۔ بھگت سنگھ سوشلسٹ انقلاب کا حامی تھا۔ طبقات سے پاک برابری کی سطح پر قائم ہندوستانی معاشرہ چاہتا تھا۔ ضلع لائل پور کے موضع بنگہ میں پیدا ہوا۔ کاما گاٹا جہاز والے اجیت سنگھ اس کے چچا تھے۔ جلیانوالہ باغ امرتسر اور عدم تعاون کی تحریک کے خونیں واقعات سے اثر قبول کیا۔ 1921ء میں سکول چھوڑ دیا اور نیشنل کالج میں تعلیم شروع کی۔ 1927ء میں لاہور میں دسہرہ بم کیس کے سلسلے میں گرفتار ہوا اور لاہور کے شاہی قلعے میں رکھا گیا۔ ضمانت پر رہائی کے بعد نوجوان بھارت سبھا بنائی۔ اور پھر انقلاب پسندوں میں شامل ہوگیا۔ دہلی میں عین اس وقت، جب مرکزی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا تھا اس نے اور بے ۔کے دت نے اسمبلی ہال میں دھماکا پیدا کرنے والا بم پھینکا۔ دنوں گرفتار کرلیے گئے۔ عدالت نے عمر قید کی سزا دی۔
1928ء میں سائمن کمیشن کی آمد پر لاہور ریلوے سٹیشن پر زبردست احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ پولیس نے لاٹھی چارج کیا جس میں لالہ لاچپت رائے رائے زخمی ہوگئے۔ اس وقت لاہور کے سینئر سپرٹینڈنٹ پولیس مسٹر سکاٹ تھے۔ انقلاب پسندوں نے ان کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا۔ لیکن ایک دن پچھلے پہر جب مسٹر سانڈرس اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ پولیس لاہور اپنے دفتر سے موٹر سائیکل پر دفتر سے نکلے تو راج گرو اور بھگت سنگھ وغیرہ نے ان کو گولی مار ہلاک کر دیا۔ حوالدار جین نے سنگھ کا تعاقب کیا۔ انھوں نے اس کو بھی گولی مار دی ۔ اور ڈی اے وی کالج ہوسٹل میں کپڑے بدل کر منتشر ہوگئے۔ آخر خان بہادر شیخ عبدالعزیز نے کشمیر بلڈنگ لاہور سے ایک رات تمام انقلاب پسندوں کو گرفتار کر لیا۔ لاہور کے سینٹرل جیل کے کمرۂ عدالت میں ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ بھگت سنگھ اور دت اس سے قبل اسمبلی بم کیس میں سزا پا چکے تھے۔ مقدمہ تین سال تک چلتا رہا۔ حکومت کی طرف سے خان صاحب قلندر علی خان اور ملزمان کی طرف سے لالہ امرد اس سینئر وکیل تھے۔ بھگت سنگھ اور سکھ دیو کو سزائے موت کا حکم دیا گیا اور 23 مارچ 1931 کو ان کو پھانسی دے دی گئی۔ فیزوز پور کے قریب، دریائے ستلج کے کنارے، ان کی لاشوں کو جلا دیا گیا۔ بعد میں یہاں ان کی یادگار قائم کی گئی۔
بھگت سنگھ بر صغیر میں برطانوی سامراج کے خلاف جدوجہد اور قربانیوں کی علامت بن چکا ہے۔ جب 23مارچ 1931ء کو اسے پھانسی دی گئی اس وقت کی عمرصرف 23برس تھی۔اتنی کم عمری میں ہی اس نے نہ صرف بر صغیر کی حقیقی آزادی کی منزل کو جان لیا تھا بلکہ اس عظیم مقصد کے لیے اپنی جان بھی قربان کر دی۔ جب اسے پھانسی لگانے کے لیے لے جایا گیا اس وقت وہ لینن کی کتاب پڑھ رہا تھا۔اپنی شہادت سے قبل اس نے نوجوان سیاسی کارکنوں کو جو خط لکھا تھا اس میں اس نے واضح طور پر کہا تھا کہ برصغیر کی حقیقی آزادی صرف اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جب یہاں سوشلسٹ نظام نافذ ہو گا۔
پاکستان کا حکمران طبقہ ہمیشہ سے ہی تاریخ میں بھگت سنگھ کے کردار کو مٹانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔یہ عظیم نوجوان فیصل آباد کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوا اور لاہور میں تعلیم حاصل کی۔لاہور کی ہی سنٹرل جیل میں اسے برطانوی راج کے گماشتوں کی جانب سے پھانسی دی گئی۔اس وقت لاہور کی سنٹرل جیل کا پھانسی گھاٹ جس جگہ واقع تھا وہ جگہ آج شادمان کہلاتی ہے۔