|
مالیگاؤں کے بزرگ شاعر وادیب حضرت عتیق احمد عتیق رِحلت کر گئے
16.04.2012, 01:30pm , سوموار (GMT+1)
ندیم صدیقی
مالیگاؤں کے بزرگ شاعر وادیب حضرت عتیق احمد عتیق رِحلت کر گئے
ممبئی: 15اپریل2012۔(ندیم صدیقی) اُردو کے مشہور سینئر شاعر اور ادیب 89 سالہ عتیق احمد عتیق(انجمی) آج یہاں ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ عتیق احمد عتیق مالیگاو ¿ں کے بزرگ شعرا کے سلسلے کی آخری آخری کڑی تھے۔ ان کا ایک شعری مجموعہ” نور ِفردا“ 1964 میں شائع ہو چکا ہے۔
مرحوم عتیق احمد عتیق بدایوں اسکول کے ممتاز اُستاد حضرتِ انجم فوقی بدایونی سے سلسلہ ¿ تلمذ رکھتے تھے۔ بعدہ ¾ جب حضرت ِانجم فوقی پاکستان ہجرت کر گئے تو انہوں نے حضرت اعجاز صدیقی سے بھی مشورہ ¿ سخن کیا۔ عتیق احمد عتیق نے گزشتہ صدی کی ساتویں دہائی میں مالیگاو ¿ں سے ” توازن“ نامی ادبی جریدہ بھی جاری کیا جس کا تازہ شمارہ ابھی چند ماہ قبل ہی منظر عام پر آیا تھا۔
عتیق احمد عتیق اپنے جریدے ” توزان“ کے حوالے سے بھی برِصغیر کے ادبی حلقوں میں اپنی ایک شناخت رکھتے تھے۔ ’توازن‘ کے پڑھنے والوں کا ایک بڑا حلقہ پاکستان میں بھی اسی طرح ہے جس طرح ہندوستان میں اس کے شائقین ہیں۔ توازن کے اب تک کوئی سو شمارے شائع ہو چکے ہیں۔
عتیق احمد عتیق مالیگاو ¿ں کے ایک مدرسے ”بیت العلوم “سے فارغ تھے۔ جہاں اُنھیں مولانانقی جیسے استاد بھی ملے جن سے انھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ عتیق احمد عتیق اِدھر کچھ دنوں سے علیل تھے ،اُن کے بیٹے انھیںبغرضِ علاج ممبئی لے آئے تھے یہاں انھیں ایک ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں آج دوپہر اُنہوں نے آخری سانس لی۔ ان کا جسد خاکی مالیگاو ¿ں لے جایا گیا۔
عتیق احمد عتیق کے پسماندگان میں بیوہ کے ساتھ پانچ بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ آج رات اُن کے جسد ِخاکی کو مالیگاوں کے ’بڑے قبرستان‘ میں سپردِ لحد کر دیا گیا۔ اس موقع پر ان کے اعزہ، مداح و احباب اور تلامذہ کے ساتھ مالیگاو ¿ں کی ممتاز شخصیات موجود تھیں۔
|