
بابا فرید کا یہ 766واں سالانہ عرس ہے اور محرم الحرام کے ان دنوں میں ‘‘ہشتی دروازہ “کھولا جاتا ہے
حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کے عُرس کی تقریبات پاکستان میں انکے مزار پر جاری ہیں ۔عرس کے موقع پر عقیدت مندوں کی ایک بڑی تعداد مزار پر حاضری دیتی ہے ، قرآن خوانی ، مزار پر پھول اور چادریں چڑھا کر عقیدت کا اظہار کیاجاتا ہے ۔
بابا فریدگنج شکر نے بر صغیر میں اسلام کی شمع روشن کرنے اور امن و محبت کا پیغام پھیلانے میںاہم کردار ادا کیا۔
بزرگان دین نے تلوار کی بجائے اپنے حسن سلوک سے وہ عملی نمونہ پیش کئے جس سے کفرو شرک میںمبتلا لوگوںنے اسلام کا پیغام سمجھا۔
ان بزرگان دین میں سلسلہ چشتیہ کے معروف صوفی و روحانی بزرگ اور پنجابی ادب کے باوا آدم حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر سرفہرست ہیں جنہیں بابا فرید کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ بابا فرید الدین 1188 سن عیسوی

(584 ہجری) کو ملتان کے علاقہ کھیت وال (نزدیک ٹاٹے پور) راواں میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اسم گرامی مسعود اور القابات فرید الدین اور گنج شکر ہیں۔ آپ کے والد جمال الدین سلمان پرشیا سے ہجرت کر کے کھیت وال (راواں) ٹاٹے پور ضلع ملتان جو کہ ملتان سے 25 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے تشریف لائے یہاں ان کو جاگیر الاٹ ہوئی۔ آپ کا سلسلہ خلیفہ دوئم حضرت عمر سے ملتا ہے آپ کی والدہ مولانا وجاہت دین خنجندی کی بیٹی بی بی قرسم خاتون تھیں۔
ابتدائی تعلیم آپ نے اپنے والد سے حاصل کی۔ بابا فرید الدین کی مادری زبان پنجابی اور سرائیکی تھی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے ملتان کے مولوی منہاج الدین ترمذی سے عربی، فارسی، قرآن، سنت، تفسیر، اصول، معانی، فلسفہ، منطق، ریاضی اور ہیت کی تعلیم حاصل کی۔ دینی و دنیوی تعلیم کے حصول کیلئے بلخ، بخارا، بیت المقدس، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، غزنی، بغداد، بدخشاں اور قندھار کا سفر طے کیا اور ظاہری و باطنی تعلیم مکمل کی اور وہاں کے علماء و مشائخ سے کسب فیض ہوئے ۔ جونہی درجہ کمال کو پہنچے تو حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کی بیعت کی اور کئی سال ان کی محبت میں دہلی اور حصار میں رہے۔ مرشد نے آپ کو سند خلافت عطا کی۔ برصغیر پاک و ہند میں سلسلہ چشتیہ کی سعادت و رہنمائی کا کار عظیم حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کے سپرد ہوا۔ آپ کی اسلام کی تبلیغ و دعوت پر قبائل کے قبائل نے اسلام قبول کیا۔ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کی شادی اس وقت کے سلطان غیاث الدین بلبن کی بیٹی ہزیرہ بانو سے ہوئی۔ اپنے مرشد حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے حکم پر پہلے ہانسی (بوریوالا) بعد ازاں اجودھن (پاکپتن) تشریف لائے اور رشد و ہدایت میں مصروف ہے۔ 5 محرم الحرام 679 ہجری 1280 سن عیسوی 92 سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کا مزار شہنشاہ محمد تغلق نے تعمیر کروایا جو آپ کے مرید تھے۔
حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کی وفات کے 150-200 سال بعد سکھوں کے گورو بابا گورو نانک اور شاہ حسین پیدا ہوئے۔ سکھوں کے گورو بابا گورو نانک نے ان کی شاعری کو اپنی کتاب گرنتھ میں محفوظ کیا۔ ان کی شاعری میں فارسی، عربی، سنسکرت کے الفاظ ملتے ہیں۔ وہ پنجابی شاعری کے پہلے شاعر ہیں۔
حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر 13 ویں صدی کے عظیم صوفی بزرگ تھے جنہوں نے جاگیر ہونے کے باوجود اجودھن (پاکپتن) جو کہ اس وقت کفرستان تھا، قبرستان میں اگنے والی جھاڑی (کری) سے ڈیلے حاصل کر کے پانی میں ابال کر کھاتے لیکن کبھی کسی سے مستعار شے لے کر نہ کھائی۔ انہوں نے دیگر علماء کرام، صوفیاء کرام، مشائخ اور درویشوں کی طرح محبت، بھائی چارے، امن و امان اور باہمی میل جول کا درس دیا جس سے متاثر ہو کر لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ ان کے خلفاء میں حضرت مولانا بدر الدین اسحاق ،خواجہ نظام الدین اولیائ، حضرت علی احمد کلیر صابری شامل ہیں