15.10.2026, 01:27pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » صفدر ھمٰدانی
 

عرب لیگ کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ نا اتفاقی پر اتفاق کر لیا ہے ۔
14.10.2008, 01:41pm , منگل (GMT+1)

صفدر ھمٰدانی۔۔ لندن
تو صدر صاحب کی قسمت اور فہم و فراثت کا بھی قائل ہونا پڑا کہ اب الحمد اللہ انہیں امریکہ کی حمایت کرنے والے عالم اسلام میں وہ مقام حاصل ہو گیا ہے کہ اہلَ عرب بھی اپنے مسائل کے حل کی خاطر جنرل مشرف کے تجربات سے فیض یاب ہونا چاہتے ہیں۔

عرب لیگ بھی محسوس ہوتا ہے کہ اسلامی ممالک کی تنظیم  او آئی سی  کے بطن سے پیدا ہوئی ہے جو اسکی جینیات اور خون کا اثر اس میں بھی آیا ہے۔کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ لیگ اہم فیصلے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور میرے اپنے خیالات میں عرب لیگ میں بھی یہ صلاحیت  او آئی سی  سے ہی آئی ہے۔ میں ویسے اس  او آئی سی  کو ہمیشہ OH I SEE  کہتا ہوں۔
عرب لیگ کے بارے میں تو یہی کہنا سب سے زیادہ مناسب ہے کہ یہ عالمِ عرب کی وہ تنظیم ہے جس میں وسیع تر مذاکرات اور تمام تر مساعی کے بعد عالمِ اسلام کو اور عرب ممالک کو متحد رکھنے کے لیئے ’عربوں نے نااتفاقی پر اتفاق کر لیا ہے۔‘
عرب لیگ کے اکثر اجلاسوں کی کامیابی کا پیمانہ  مایوس کن اختتام ، کانفرنس میں جھگڑے اور کسی ایک بات پر متفق نہ ہونا ہوتا ہے۔گزشتہ سال کی بات ہے جب لیبیا کے رہنما معمر قدافی ابتدائیاجلاس ہی میں وہاں پر موجود تمام شرکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اجلاس سے نکل گئےتھے اور اس اجلاس میں بھی عرب رہنما بغداد کے لیے حمایتی بیانات کے علاوہ کچھ اور کرنے میں ناکام رہے۔
1942میں برطانیہ نے عرب لیگ کا تصور پیش کیا۔اس کا مقصد یہ تھا کہ عربوں کو، جرمنی کے خلاف جنگ میں ایک متحدہ طاقت کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔
1944میں مصر، عراق، لبنان، شمالی یمن، سعودی عرب، اردن اور فلسطین کے نمائندے مصر کے شہر اسکندریہ میں جمع ہوۓ اور گفت و شنید کے بعد اتفاق کیا کہ عرب ملکوں کی ایک لیگ تشکیل دی جانی چاہیے۔
اور پھر----1945: عرب لیگ کی تشکیل کے معاہدے پر دستخط ہوۓ اور عرب لیگ باقاعدہ طور پر وجود میں آ گئی۔
یہ ہے اس عرب لیگ کے آغاز کی کہانی کہ عربوں کی تنظیم کا تصور بھی برطانیہ نے پیش کیا گویا فارسی کے مقولے کے مطابق‘‘اگر معمار کسی عمارت کی بنیاد میں پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھے گا تو پھر آسمان تک یہ عمارت ٹیڑھی ہی جائے گی‘‘۔
اگر عرب  لیگ کے اس کمزور گھوڑے بلکہ ٹٹو کی زندگی پر نظر ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ عرب لیگ کے زیادہ تر اجلاس ایسی قراردادیں پاس کرنے کے بعد ختم ہوجاتے ہیں جنہیں عرب رہنما ہال سے باہر آکر بھول جاتے ہیں۔
عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل تو خود اس ناامیدی کا بارہا اظہار کر چکے ہیں  کہ عراق کی جنگ نے عرب دنیا کو جس بحران سے دوچار کر رکھا ہے اس کے بعد بعید نہیں کہ یہ تنظیم مکمل طور پر ختم ہی ہو جائے۔
سچ تو یہ ہے کہ عربوں کے اندورنی اختلافات اس درجہ شدید ہیں کہ خود عرب مبصرین کے نزدیک عرب لیگ کا ٹوٹ جانا بعید از قیاس نہیں لگتا۔
 مشہور سعودی کالم نگار عبدالرحمان الرشید نے اسی عرب لیگ کے بارے میں کیا پتے کی بات لکھی ہے  کہ ’عرب لیگ کی عادت ہے کہ وہ مریض کا علاج اس کی موت کے بعد کرتی ہے۔‘
اب ایسی کسی تنظیم کے اجلاس میں جنرل مشرف کو خصوصی طور پر مدعو کیئے جانے کا مقصد کیا ہو سکتا ہے یہ راز‘‘کن فیکوں‘‘ یا تو خود عرب لیگ جانتی ہو گی یا پھر صدر مشرف۔ ہمیں تو صرف یہ خوشی ہے کہ اب اگر کسی کو یہ موہوم سی امید بھی تھی کہ عرب لیگ کسی مسلے پر متفق ہو جائے گی تو صدر مشرف کے مشوروں کے بعد اس امید کو بھی دفنا دینا چاہیئے۔

:دیگر مضامین
(14.10.2008) ڈاکٹر قدیر کی معافی سے جنرل مشرف کی معافی تک
(14.10.2008) بھگوان کی کرپا ہے کہ ہمارے۔۔۔۔بھگوان داس خیریت سے ہیں
(14.10.2008) قانون سے ناواقف وزیر قانون
(14.10.2008) سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج رانا بھگوان داس کہاں ہیں؟
(14.10.2008) قدم قدم پر پہرے ہیں ....حاکم گونگے بہرے ہیں
(14.10.2008) کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں؟



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں