|
عرب لیگ کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ نا اتفاقی پر اتفاق کر لیا ہے ۔
14.10.2008, 01:41pm , منگل (GMT+1)
صفدر ھمٰدانی۔۔ لندن
تو صدر صاحب کی قسمت اور فہم و فراثت کا بھی قائل ہونا پڑا کہ اب الحمد اللہ انہیں امریکہ کی حمایت کرنے والے عالم اسلام میں وہ مقام حاصل ہو گیا ہے کہ اہلَ عرب بھی اپنے مسائل کے حل کی خاطر جنرل مشرف کے تجربات سے فیض یاب ہونا چاہتے ہیں۔
عرب لیگ بھی محسوس ہوتا ہے کہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے بطن سے پیدا ہوئی ہے جو اسکی جینیات اور خون کا اثر اس میں بھی آیا ہے۔کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ لیگ اہم فیصلے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور میرے اپنے خیالات میں عرب لیگ میں بھی یہ صلاحیت او آئی سی سے ہی آئی ہے۔ میں ویسے اس او آئی سی کو ہمیشہ OH I SEE کہتا ہوں۔ عرب لیگ کے بارے میں تو یہی کہنا سب سے زیادہ مناسب ہے کہ یہ عالمِ عرب کی وہ تنظیم ہے جس میں وسیع تر مذاکرات اور تمام تر مساعی کے بعد عالمِ اسلام کو اور عرب ممالک کو متحد رکھنے کے لیئے ’عربوں نے نااتفاقی پر اتفاق کر لیا ہے۔‘ عرب لیگ کے اکثر اجلاسوں کی کامیابی کا پیمانہ مایوس کن اختتام ، کانفرنس میں جھگڑے اور کسی ایک بات پر متفق نہ ہونا ہوتا ہے۔گزشتہ سال کی بات ہے جب لیبیا کے رہنما معمر قدافی ابتدائیاجلاس ہی میں وہاں پر موجود تمام شرکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اجلاس سے نکل گئےتھے اور اس اجلاس میں بھی عرب رہنما بغداد کے لیے حمایتی بیانات کے علاوہ کچھ اور کرنے میں ناکام رہے۔ 1942میں برطانیہ نے عرب لیگ کا تصور پیش کیا۔اس کا مقصد یہ تھا کہ عربوں کو، جرمنی کے خلاف جنگ میں ایک متحدہ طاقت کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ 1944میں مصر، عراق، لبنان، شمالی یمن، سعودی عرب، اردن اور فلسطین کے نمائندے مصر کے شہر اسکندریہ میں جمع ہوۓ اور گفت و شنید کے بعد اتفاق کیا کہ عرب ملکوں کی ایک لیگ تشکیل دی جانی چاہیے۔ اور پھر----1945: عرب لیگ کی تشکیل کے معاہدے پر دستخط ہوۓ اور عرب لیگ باقاعدہ طور پر وجود میں آ گئی۔ یہ ہے اس عرب لیگ کے آغاز کی کہانی کہ عربوں کی تنظیم کا تصور بھی برطانیہ نے پیش کیا گویا فارسی کے مقولے کے مطابق‘‘اگر معمار کسی عمارت کی بنیاد میں پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھے گا تو پھر آسمان تک یہ عمارت ٹیڑھی ہی جائے گی‘‘۔ اگر عرب لیگ کے اس کمزور گھوڑے بلکہ ٹٹو کی زندگی پر نظر ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ عرب لیگ کے زیادہ تر اجلاس ایسی قراردادیں پاس کرنے کے بعد ختم ہوجاتے ہیں جنہیں عرب رہنما ہال سے باہر آکر بھول جاتے ہیں۔ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل تو خود اس ناامیدی کا بارہا اظہار کر چکے ہیں کہ عراق کی جنگ نے عرب دنیا کو جس بحران سے دوچار کر رکھا ہے اس کے بعد بعید نہیں کہ یہ تنظیم مکمل طور پر ختم ہی ہو جائے۔ سچ تو یہ ہے کہ عربوں کے اندورنی اختلافات اس درجہ شدید ہیں کہ خود عرب مبصرین کے نزدیک عرب لیگ کا ٹوٹ جانا بعید از قیاس نہیں لگتا۔ مشہور سعودی کالم نگار عبدالرحمان الرشید نے اسی عرب لیگ کے بارے میں کیا پتے کی بات لکھی ہے کہ ’عرب لیگ کی عادت ہے کہ وہ مریض کا علاج اس کی موت کے بعد کرتی ہے۔‘ اب ایسی کسی تنظیم کے اجلاس میں جنرل مشرف کو خصوصی طور پر مدعو کیئے جانے کا مقصد کیا ہو سکتا ہے یہ راز‘‘کن فیکوں‘‘ یا تو خود عرب لیگ جانتی ہو گی یا پھر صدر مشرف۔ ہمیں تو صرف یہ خوشی ہے کہ اب اگر کسی کو یہ موہوم سی امید بھی تھی کہ عرب لیگ کسی مسلے پر متفق ہو جائے گی تو صدر مشرف کے مشوروں کے بعد اس امید کو بھی دفنا دینا چاہیئے۔
|