
بائیس اپریل دو ہزار بارہ بعد دوپہر پاک یورو جرنلسٹس فورم کی افتتاحی تقریب
فراینکفرٹ( ہارہائم)، جرمنی میں منعقد ہوئی جس میں جرمنی میں مقیم
پاکستانی خواتین و حضرات کی ایک بڑی تعداد نے بھر پور اور جوش وخروش سے
شرکت کی ۔ اس کے علاوہ چند جرمن انقلابی ساتھیوں نے بھی اس تقریب میں حصہ
لیا ۔
جرمنی میں یہ بڑا انقلابی پروگرام تھا اس سے پہلے لال خان کی کتاب ،
پاکستان کی اصل کہانی کی ایک تقریب بھی ہو چکی ہے۔ پی یو جے ایف کا یہ
پروگرام جس میں چھوٹی اور جعلی تعریفوں اور نمبر ٹنگ سیاست اور تقریروں کی
بجائے علمی اور فکری تقاریر ہوئیں اور سنجیدگی سے پاکستان اور بین الاقومی
موجودہ معاشی ، سیاسی اور سماجی مسائل پر نہ صرف بحث کی گئی بلکہ ایک
انقلابی اور عوامی لائحہ عمل بھی پیش کیا گیا ۔
اس تقریب کا آغاز سٹیج سیکرٹری طاہر ملک ، نائب صدر جرمنی پاک یورو
جرنلسٹس فورم نے کیا جو ایک پرانے بائیں بازو کے کامریڈ ہیں اور بھٹو دور
میں مساوات اخبار میں فوٹو گرافر کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے
سٹیج پر سب سے پہلے چنگاری ڈاٹ کام کے ایڈیٹر اور پاک یورو جرنلسٹس فورم کے
صدر دانیال رضا کو تمام مہمانوں کے تعارف کے لیے بلایا ۔
مہانوں میں سب سے پہلے جرمنی میں بائیں بازو کی ویب سائٹ ڈیر فنکے
کے ایڈیٹر اور جرمن صحافیوں کی ٹریڈ یونین ،، ڈی جے یو ،، کے مرکزی رہنما
ہنس گہرٹ اوفنگر آئے ۔ اس کے بعد ، ڈی لنکے،، دی لیفٹ ،، پارٹی کی طرف سے
منتخب پہلی پاکستانی کونسلر ثمینہ خان، عالمی اخبار کے مدیر اعلی اور پاک
یورو جرنلسٹس فورم کے چیر مین صدر ہمدانی اور فورم کے مالیاتی مشیر اور
دانشوار جمال الدین کو بلایا گیا ۔
پروگرام کا آغاز طاہر ملک نے اقبال کے اس شعر سے کیا ۔
تم حیا اور شریعت کے تقاضوں کی بات کرتے ہو
ہم نے ننگے جسموں کو مبلوس حیا دیکھا ہے
ہم نے دیکھے ہیں ہرام میں لپٹے کئی ابلیس
ہم نے کئی بار مے خانے میں خدا دیکھا ہے
کامریڈ سعید خان جو چنگاری فورم کے صدر اور پاک یورو جرنلسٹس فورم
کے سینئر نائب صدر ہیں کو پہلی تقریر کے لیے بلایا۔ انہوں نے اپنی تقریر
میں کہا کہ آل انڈیا نیشنل کانگریس انگریزوں نے برطانیہ سامراج کے مفادات
کے تحفظ کے لیے بنائی تھی جو ایک ایجنٹ تنظیم تھی جس وجہ سے مسلم نوابوں نے
اپنے تحفظ کے لیے مسلم لیگ کی بنیاد رکھی ۔ لیکن پاکستان کے موجودہ تباہی
کے حالات نے قومی نظریہ کی دھجیاں اڑا دی ہیں ۔ انہوں نے پاکستان کی
موجودہ معاشی ابتر حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ایک اشتراکی
انقلاب ہی اس کی ترقی کی واحد ضمانت ہے ۔
اس کے بعد ساتھی رفیق چوہدری آئے جنہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام
موجودہ تمام حکمرانوں سے مکمل مایوس اور تنگ آچکی ہے سب عوام کو دوھوکے
دیتے آئے ہیں لیکن اب پاکستان میں ایک تبدیلی کا عمل جاری ہے جس سے عوام
جلد انقلابی نتائج اخذ کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک عوامی
انقلاب کی اشد ضرورت ہے جس کے بغیر کچھ تبدیل نہیں ہوگا۔
کامریڈ قدوس نے کہا کہ میں سندھ کے پسماندہ ترین علاقے کونری سے
تعلق رکھتا ہوں جو پاکستان سے نہیں بلکہ تمام دنیا سے کٹا ایک محروم ترین
علاقہ ہے جہاں کی دنیا ہی اور ہے۔ یہاں جاگیردار خدا سے زیادہ حاکم ہیں۔ ہم
نے ساری زندگی جن نصابی کتابوں میں علامہ اقبال اور قائد اعظم کا ورد کیا
ہے لیکن جب بڑے ہوئے اور عملی زندگی میں داخل ہوئے تو ہمیں تمام تعلیمی
نصاب جھوٹا اور جعلی اور بے کار لگا کیونکہ دولت کی حکمرانی نے ہر قدر اور
اخلاقیات کو تباہ برباد کر دیا ہے ۔ نسلی، علاقائی ، مذہبی جھگڑے اور قتل و
غارت وہاں کے حکمرانوں کے استحصال کی قلعی کھول دیتے ہیں اسلیے اب صرف
عوامی اور مزدور انقلاب ہی پاکستان کا مقدر بدل سکتا ہے کیونکہ جمہوریت
اور آمریت کا تمام کھیل ہم دیکھ چکے ہیں ۔ ۔
خورشید علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کہ اقبال پر وہ لوگ ڈینگے
مارتے ہیں جنہوں نے اقبال کو پڑھا ہی نہیں اگر پڑھا ہے تو سمجھا نہیں ہمیں
آج کے حالات بدلنے کی ضرورت ماضی سے آج کہیں زیادہ ہے ۔
آفتاب حسن خان نے اپنی خوبصورت شاعری سے حاضرین کو ایک بہترین تبدیلی سے محضوظ کیا ۔
پھر پروگرام کے دوسرے سیشن میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض ارشاد ہاشمی نے ادا
کیے.سب سے پہلے انہوں نے اپنا مقالہ اور اقبال پر نظم سنائی ۔ انہوں نے
سب سے پہلے کامریڈ طاہر ملک کو تقریر کے لیے بلایا ۔ جنہوں نے اپنی انقلابی
سوچ کو بڑی بے باکی سے بیاں کرتے ہوئے پاکستان میں ایک عوامی تبدیلی کی
ضرورت پر زور دیا ۔ اور خوبصورت انقلابی قطعات پڑھ کر خوب داد حاصل کی ۔
پھر سوشلسٹ پنجابی شاعر ظفیل خلش جو پاک یورو جرنلسٹس فورم کے آفیشل
شاعر بھی ہیں نے کہا کہ آج صرف موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کی تباہ حالی پر
رونے کی ضرورت نہیں بلکہ ایک سوشلسٹ لائحہ عمل بنا کر طبقاتی جدوجہد کی
ضرورت ہے اور اس عوامی انقلاب کے لیے ہمارہ سرمایہ مزدور اور کسان ہیں
جنہیں منظم کرنے کی آج اشد ضرورت ہے ۔ تقریر کے آخیر میں انہوں نے اپنی
انقلابی پنجابی نظم پیش کر کے خوب داد حاصل کی ۔
سید جمال الدین نے انگریزی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ میں ثابت کر
سکتا ہوں کے اقبال نے کھبی الگ ملک کا تصور پیش ہی نہیں کیا اور اگر آپ
انٹر نیٹ پر تلاش کریں تو آپ کو بھی یہ معلوم ہو جائے گا کہ میں درست کہا
رہا ہوں ۔ اقبال نے برطانوی حکمرانوں کے تحت خود مختاری کا نظریہ پیش کیا
تھا ۔ انیس سو تیس کے بعد اقبال کے اخبارات میں انٹرویو اس کا ثبوت ہیں ۔
اگر ہم دانش مند اور سنجیدہ لوگ ہیں تو پھر ہمیں بغیر کسی خوف کے سچ بیان
کرنا ہے۔ پاکستانی حکمران اپنے مفادات کے لیے اقبال اور پاکستان کی تاریخ
کو موڑ توڑ کر غلط رنگ میں پیش کرتے ہیں ۔ اقبال اچھا مفکر یا شاعر ہو سکتا
ہے لیکن آج اکیسویں صدی ہے آج کے مسائل اور ان کا حل ماضی سے مختلف ہے
ہمیں ماضی سے زیادہ آج کے سنجیدہ مسائل کا تجریہ کرکے ان کا حل تلاش کرنا
ہے اور میرے خیال میں اس کا ایک ہی حل ہے وہ برصغیر کی رضا کارانہ فیڈریشن
ہے ۔
دانیال رضا نے اپنی تقریر کا آغاز اس سے کیا کہ آج اس ھال میں
تقریروں کا معیار اور حاضرین کا ہمہ تن گوش ہو کر سننا میرے اندر انقلابی
جذبات کو تازہ کر رہا ہے اور مجھے آج فرینکفرٹ کی ہواوں کا رخ بدلتا نظر
آرہا ہے ۔ فراینکفرٹ کی ہواوں کے رخ میں تبدیلی پورے جرمنی اور یورپ کی
ہواوں کی تبدیلی ہے کیونکہ تمام یورپ کا مرکزی مالیاتی شہر یہی فرانیکفرٹ
ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اقبال ایک ایسی شخصیت تھی جس نے اپنے دور کے مقامی
اور عالمی عبوری حالات کی غمازی کی ۔ وہ حالات جب عالمی سطح پر تاج برطانیہ
اور نو آبادیاتی نظام کے زوال، انقلابات، عوامی تحریکوں اورآزادیوں کا دور
تھا۔انیس سو سترہ کا بالشویک انقلاب پربا ہو چکا تھا ۔ انیس سو بائیس میں
آئرلینڈ آزادی حاصل کرچکا ۔ انیس سو اناتیس کے عالمی مالیاتی بحران نے دنیا
کو جھنجوڑ کو رکھ دیا تھا ۔ اور یہ تما م چیزیں اقبال کی شاعری میں ہمیں
ملتی ہیں ۔ اقبال نے جب شکوہ لکھا تو مولائیت کے ڈر سے جواب شکوہ بھی لکھا ۔
بالشویک انقلاب سے متاثر ہو کر لینن کو خدا کے حضور لے گیا ۔ جب داس کپیٹل
پڑھی تو کارل مارکس کو نبوت کے بغیر ایک نبی بنادیا ۔
اقبال ایک روائتی شاعر اور دانش ور تھا جس نے یورپ میں قومی ریاستوں
کی ترقی کو دیکھا اور انیس سو تیس میں دو قومی نظریہ پیش کر دیا ۔
ہماری بدقسمتی رہی ہے کہ ہم نے تاریخ کو قرآنی آیات اور احادیث کی طرح رٹا
لگایا اس سے کچھ سیکھنے کی بجائے اس پر کسی آسمانی صحیفہ کی طرح ایمان لے
آئے اور اپنے اوپر لگو کرکے شعوری پراگندگی کو عروج بخشا۔ اور جب تک ہم اس
بنیاد پرستانہ رویے کو نہیں بدلیں گئے تب تک پسماندگی کی کھائیوں میں گرئے
رہیں گئے ۔
کیونکہ انیس سو تیس کے بعد کا دور قومی جمہوری انقلابات برپا ہونے کے نہیں
بلکہ اس کے زوال کا دور تھا ۔
آلات پیداوار ترقی کرکے عالمی سرمایہ داری کے
لیے ایک چیلنج بن چکے تھے ۔ منڈی کی محدودیت اور وافر پیداوار نے زائد
پیدار کے بحران کو جنم دیا ۔ اب حکمرانوں کو صنعتی ترقی کی نہیں بلکہ منڈی
کی ضرورت تھی جو آج بھی کم یاب ہے ۔ آج کے عالمی مالیاتی نظام کا ہر بحران
پہلے سے زیادہ گہرا اور بھیانک ہو تا ہے جبکہ اس کا عروج پہلے سے زیادہ
کمزور اور کم وقتی ہوتا ہے ۔ ان موجودہ ٹھوس سماجی حالات میں اب کسی بھی
ملک میں بھی قومی جمہوری انقلاب کی گنجائش نہیں رہی بلکہ پہلے سے قائم صنعت
کو بھی آج تباہ کیا جا رہا ہے ۔ جس کی بنیادی وجہ تما م وسائل پر چند
لوگوں کا قبضہ اور انہیں کے استعمال میں آنا ہے۔
اس لیے جب تک ذاتی منافعوں
اور نجی ملکیت کا مکمل خاتمہ نہیں ہوجاتا اور تمام وسائل کا رخ اور مقصد
عوامی ضروریات کا حصول نہیں بنایا جاتا اور معیشت کو منصوبہ بندی کے زیر
تحت نہیں چلایا جاتا یہ موجودہ نظام مزید تباہی اور بربادی پھیلائے گا ۔
دانیال رضا نے مزید کہا کہ پاکستان میں چند پارٹیا ں پاکستان کے
موجودہ مسائل کا حل انقلاب فرانس کا نعرہ لگا کر دے رہی ہیں ۔ یہ پارٹیاں
یا تو انقلاب فرانس کا کوئی علم ہی نہیں رکھتیں یا پھر شعوری طور پر عوام
سے دھوکہ کر رہی ہیں ۔ کیونکہ انقلاب فرانس کا وقت گزر چکا ہے انقلاب فرانس
جاگیرداری کے خلاف سرمایہ دار ی کی جنگ تھی لیکن آج سرمایہ داری کے خلاف
سوشلزم کی جنگ ہے ۔ آج انقلاب فرانس نہیں بلکہ بالشویک انقلاب کی ضرورت ہے ۔
اور صرف اشتراکی انقلاب ہی پاکستان کا مقدر بدل سکتا ہے بقیہ تمام راستے
تباہی اور بربادی کے راستے ہیں ۔
ان کے بعد ہنس گے ہرٹ نے کہا کہ آج پاکستان جن برے حالات سے گزر رہا
ہے وہ جرمنی پر بھی گزر چکے ہیں ۔ ہم نے تاریخ میں بہت کچھ دیکھا اور
سیکھا ہے۔ پاکستان کی طرح آج جرمنی میں بھی سرمایہ داری عوام پر عذاب بن
چکی ہے ایک طرف امارت اور دوسری طرف غربت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔
پاکستانی مزدور عوام جو جرمنی میں آباد ہیں وہ یہاں جرمن عوام کا حصہ بن کر
رہیں اور پاکستانی عوامی تحریک کو جرمن مزدروں کا اٹوٹ حصہ بنا دیں ۔ صرف
اسی طرح سے عالمی مزدور اتحاد ہی عالمی مزدوروں کا دفاع اور تحفظ کر سکتا
ہے ۔
مقامی کونسلرثمینہ خان نے کہا کہ آج جرمن محنت کشوں کے علاوہ پاکستانیوں اور غیر
ملکیوں مزدوروں کے لیے ڈی لنکے ،، دی لیفٹ ،، ہی وہ واحد پارٹی ہے جو
جرمنی میں غیر ملکیوں کے حقوق کا بہتریں تحفظ کر سکتی ہے بلکہ پاکستان میں
عوامی تحریک کی حمائت اور استحصالی حکمرانوں کے خلاف مکمل جدوجہد کرکے
پاکستانی مزدوروں کا دفاع کر سکتی ہے ۔ ثمینہ خان نے کہا کہ میں بھی اسی
لیے اس پارٹی میں ہوں اور آپ بھی اس میں اپنا اہم سماجی کردار ادا کریں ۔
تقریب کےآخیر میں صفدر ہمدانی نے ہنس گے ہرٹ اور ثمینہ خان کا تہہ دل سے
شکریہ ادا کیا اور جہالت زدہ ملاں اور ملائیت کی لعنت کے خلاف تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آج
عوامی استحصال میں ملاوں کا ایک بھیانک کردار ہے ۔ جس سے نجات حاصل کیے
بغیر معاشرے کی کوئی تبدیلی ممکن نہیں ۔ انہوں نے کہا کچح لوگ یہ کہتے ہیں
کہ اقبل نے پاکستان کا تصور دیا اور ترانہ ہندوستان کا لکھ، سارے جہاں سے اچھا ہندوستان
ہمارا۔ انہوں نے اقبال پر ایک عوامی نظم پڑھی اور حاضرین سے دادا حاصل کی
ساڑھے چار گھنٹے سے زائد چلنے والا یہ پروگرام آخیر تک حاضرین میں
بوریت پیدا نہ کرسکا اور حاضرین آخیر میں بھی مزید سننے کے خواہش مند تھے ۔
اور جلد آگے پرگرام کی خواہش ظاہر کر رہے تھے ۔ یہ تقاریر اتنی انقلابی
متاثرکن تھی کہ بہت سے دوستوں نے خود سے پوچھا کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہیے
اور ہم آپ کے ساتھ ہر جدوجہد کریں گئے ۔ اگلے پروگراموں کو منظم کرنے کے
لیے بہت سے دوستوں نے آپنے آپ کو پیش کیا ۔ جس میں طاہر علی ، منصور ، افضل
، راشد ، بہت سارے دوسرے دوست تھے اور اس پروگرام میں بھی بہت سے دوستوں
نے تعاون کیا ۔
آخیر میں جمال الدین کی طرف سے دئیے گئے عشائیہ سے تمام ساتھی اور دوست پرلطف ہوئے ۔
یہ پروگرا م جو پاک یورو جرنلسٹ فورم کی افتتاحی تقریب اقبال اور آج
کا پاکستان کے عنوان سے منعقد ہوئی ایک نئی تاریخ کا آغاز تھا جس میں
فراینکفرٹ کے علاوہ گردو نواح سے بہت سے افراد نے شرکت کی جس میں زیادہ تر
نوجوان تھے ۔ اور ہر دانشوار اس پر متفق ہے کہ مستقبل ہمیشہ نوجوان ہی
تعمیر کرتے ہیں ۔