میں اکیس اپریل کی دوپہر جرمنی کے شہر فرینکفرٹ جانے کے لیئے گھر سے ہیتھرو کے ہوائی اڈے پہنچا اور پھر سارے امیگریشن اور سیکیورٹی کی تقاضے پورے کرنے کے بعد لفتھانسا ایر لائینز کے طیارے میں جب پرواز شروع ہوئی تو زہن پر دو دن پہلے کا راولپنڈی کے قریب بھوجا ایرلائینز کے طیارے کا حادثہ تھا لیکن یہ خبر نہیں تھی کہ مجھے کس حادثے کا سامنا ہونے والا ہے۔
طیارے میں سوار ہونے سے پہلے میں نے روانگی کے گیٹ پر پڑے ہوئے انگریزی اخبارات میں سے ڈیلی میل اٹھالیا تھا اور پرواز کے ہموار ہونے کے بعد جب اخبار کے صفحات پلٹنے لگا تو صاف موسم اور ہموار پرواز کے باوجود جیسے اس طیارے میں فقط میں اکیلا مسافر تھا جو ہچکولے کھا رہا تھا، یوں لگ رہا تھا جیسے میں ہزاروں فٹ کی بلندی سے کہیں نیچے کسی قعر مذلت میں گر رہا ہوں۔ ڈر رہا تھا کہ کہیں میرے ارد گرد بیٹھے ہوئے مسافر بھی تو وہی خبر نہیں پڑھ رہے جو میں پڑھ رہا تھا اور یہ بھی ڈر تھا کہ وہ مجھے بھی پاکستانی جان کر میرے بارے میں کیا سوچ رہے ہونگے۔ ہوسکتا ہے کہ میری ساتھ کی نشست پر جو ایک گیارہ بارہ سال کی بچی بیٹھی ہے اسکی ماں اسے اٹھا کر کسی دوسری نشست پر نہ لے جائے یا پھر جہاز کے عملے سے یہ شکایت نہ کر دے کہ مجھے اس شخص سے خوف آ رہا ہے۔انہیں خیالات میں گم تھا کہ میرے بائیں بازو اور سینے میں جیسے ایک عجیب سا دباؤ محسوس ہوا اور لمحے بھر کو یوں لگا جیسے میرا دل سینے کی دیوار کو توڑ کر باہر آ جائے گا۔ میں نے اپنی شوگر کی گولیوں کے ساتھ شدید درد کے عالم میں ڈاکٹر مرتضیٰ کی دی ہوئی درد کُش گولی نکالی اور ہوائی میزبان سے پانی طلب کرکے دوائی کھا کر آنکھوں کو بند کے ہر ایک مسافر سے جیسے شرمندگی کے باعث خود کو جیسے سوتا ظاہر کرنے لگا
آپ بھی سوچ رہے ہونگے کہ آخر آج میں آپکو اپنے سفر کا حال کیوں سنا رہا ہوں؟ جی یقین کریں مجھے تو ایک لمحے کو یہ میرا آخری سفر محسوس ہوا جب میرے سینے اور بازو نے درد کا طوفان میرے اندر برپا کر دیا۔ ابھی تو میں نے یہ خبر پوری پڑھی بھی نہیں تھی کہ میری حالت غیر ہو گئی۔ اب جو چند منٹ گزرے تو پھر ایک بار کوشش کر کے پوری خبر پڑھنے کی کوشش کی۔
اوہ میرے اللہ۔میرے مر جانے کے لیئے بس یہ شہ سرخی کافی تھی۔ پانچ پاکستانی نژاد مسلم نوجوان۔ دو نابالغ گوری بچیاں اور چھتیس گھنٹے تک ان درندوں کے بقول انکے'' ان بچیوں کے ساتھ عید منائی''۔ اللہ کی لعنت ہو ایسی بدروحوں پر جو خود کو مسلمان بھی کہتے ہیں۔ان ملکوں میں آکر رہتے بھی ہیں اور انہی کی بچیوں کے ساتھ یہ قبیح حرکات کر کے مسلمانوں کو اور اپنے آبائی ملک کو بدنام کرواتے ہیں۔ سوچتا ہوں کہ ان درندوں کو بہت کم سزا دی گئی ہے انکو باقی ماندہ تمام عمر جیل میں رکھنا چاہیئے تھا اور کسی طرح انکے والدین کو بھی سزا ملنی چاہیئے تھی کہ ان بدقماشوں کی تربیت کی زمیداری کن کی تھی؟
یہ سطور پڑھ کر تو جیسے مجھے اپنے مسلمان اور پاکستانی ہونے سے نفرت ہونے لگیA group of Muslim men who abducted and raped two teenage girls as
part of their Eid celebrations laughed in court yesterday as they were
jailed for a total of 38 years.
The girls, aged 15 and 16, were lured miles from their home to a dingy hostel.
In a horrifying weekend-long ordeal, they were plied with alcohol and
repeatedly raped by two men, Shamrez Rashid and Amar Hussain, before
being offered to a number of others who also ‘used them for sex’.
میں سوچ رہا تھا کہ کیا ان پانچوں بد فطرت،بدطینت اور درندہ صفت افراد کے گھر میں انکی کوئی اپنی بہن نہیں تھی۔ کاش یہ ایک لمحے کو اپنی بہن کو اس جگہ پر رکھتے اور سوچتے کہ وہ کیا درندگی کر رہے ہیں۔ اس درندگی سے کہیں بڑھ کر انکی خفتہ ضمیری ہے کہ سزا سنائے جانے پر بھی انہوں نے جج اور قانون کا مذاق اڑایا۔
اس ساری خبر کا خلاصہ یہ ہے کہ برطانیہ کے ملٹی کلچرل شہر برمنگھم سے تعلق رکھنے والے 5 برطانوی پاکستانی نژاد مسلمان نوجوان 36 گھنٹے تک 15 اور 16
سال کی دو خوبرو لڑکیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے رہے۔ دونوں لڑکیاں
بالآخر ان کے چُنگل سے آزاد ہونے میں کامیاب ہوگئیں اور وہ اس انداز سے
فرار ہوئیں کہ ایک لڑکی نے جوتے بھی پہنے ہوئے نہیں تھے۔ اس نے بمشکل پے
فون کے قریب پہنچ کر پولیس کو اطلاع دی اور اپنے ساتھ ہونے والے واقعات سے
آگاہ کیا
برمنگھم کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران بتایا گیا کہ ان
دونوں بچیوں کو لڑکوں نے ورغلا پھسلا کر اغوا کرلیا اور انہیں 36 گھنٹے
سے زیادہ دیر تک برمنگھم کے ایک گھر اور ایک ہوٹل میں رکھا اس دوران وہ
پانچوں ان دونوں لڑکیوں کو اپنی جنسی تسکین کیلئے استعمال کرتے رہے۔ عدالت
کو بتایا گیا کہ ان لڑکیوں کو نومبر 2009 ء میں ٹلفورڈ سے اغوا کرکے
برمنھگم لایا گیا لڑکیوں نے ان کی قید سے آزادی حاصل کرنے کے بعد پولیس کو
اپنے اوپر گزرنے والے واقعات سے آگاہ کیا، برمنگھم کراؤن کورٹ میں ان افراد
کو 14 مارچ 2012ء کو مجرم قرار دے دیا تھا اور چند روز قبل انہیں مقدمے کی
سنگین نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی طور پر 38 برس قید کی سزا سنائی
گئی ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ یہ نوجوان ان دوشیزاؤں کو پہلے برمنگھم کی
ہائی گیٹ سٹریٹ کے ایک گھر میں لیکر گئے اور اپنی حوس کا نشانہ بناتے رہے
اور اسکے بعد ایک ہوٹل میں لے کر گئے جہاں ان لڑکیوں کے ساتھ مزید جنسی
زیادتیاں کی گئیں حتیٰ کہ لڑکیاں موقع پاکر ننگے پاؤں فرار ہو کر گلی میں
پہنچ گئیں اور پولیس کو حالات و واقعات سے آگاہ کیا
عدالت میں براڈزلے گرین
کے 20 سالہ شمریز رشید پر نا بالغ لڑکیوں کو اغوا کرنے، تین مرتبہ انہیں
ریپ کرنے اور جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے الزامات ثابت ہوگئے جس پر اسے 11
سال قید کی سزادی گئی، بلسال ہیتھ کے 22 سالہ عامر حسین پر بھی نا بالغ
لڑکیوں کے اغوا، ریپ اور جنسی زیادتی کے الزامات ثابت ہوئے اور اسے 10 سال
قید کی سزا سنائی گئی، آسٹن کے 28 سالہ جابر رفیق کو ریپ اور جنسی تشدد
کرنے پر 8 سال قید، یارڈلے کے 20 سالہ عادل سلیم کو ریپ کے الزام میں 8 سال
قید اور سیلی پارک کے 20 سالہ عامر چوہدری کو اغوا اور جنسی تشدد پر 15
ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ان نوجوانوں نے اپنی عید
کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کیلئے ان دوشیزاؤں کو ورغلایا اور اپنے ساتھ لے
گئے اس بات کا اندازہ شاید ان لڑکیوں کو نہیں تھا کہ آئندہ 36 گھنٹوں کے
دوران ان کے ساتھ کیا ہونیوالا ہے، ویسٹ مڈلینڈ پولیس کی ڈیٹیکٹو انسپکٹر
کیرولین مارش نے ان لڑکوں کو سزا ملنے کے بعد کہا کہ نوجوان لڑکیوں نے
مقدمے کی سماعت کے دوران انتہائی جرأت مندی کا مظاہرہ کیا اور ان کے خلاف
گواہی دی تاکہ ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ان
دونوں لڑکیوں کیلئے یہ انتہائی مشکل گھنٹے تھے اور وہ سخت مرحلے سے گزریں۔یہ بچیاں شاید تمام عمر ایسے ہی سخت مرحلے سے گزریں گی۔ یہ جانور اور خفتہ ضمیر تو اپنی سزا پوری کر کے ایک بار پھر باہر آ جائیں گے لیکن یہ بچیاں روزانہ اپنے اندر مرتی رہیں گی۔ انکی شاید سات نسلوں کو پاکستانیوں اور مسلمانوں سے نفرت ہو جائے۔
ذرا سوچیئے تو سہی اس صورت حال کا ذمیدار کون ہے؟