|
انجمن امامیہ بلتستان کے نائب صدر شیخ جواد حافظی کا عالمی اخبار کو خصوصی انٹڑویو
27.04.2012, 07:45am , جمہ (GMT+1)
انٹرویو۔عباس جرأت۔عالمی اخبار سکردو
سکردو(انٹرویوعباس جرأت)معروف عالم دین اور انجمن امامیہ بلتستان کے نائب صدر شیخ جواد حافظی عالمی اخبار کو خصوصی انٹڑویو دیتے ہوئے کہاکہ سانحہ چلاس و کوہستان ملک کو کمزور کرنے کی عالمی سازشوں کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس وقت پوری دنیا اسلامی اور غیر اسلامی بلاگز میں تقسیم ہے اور غیر اسلامی بلاگ اسلامی بلاگ کو تباہ کرنے کیلئے فرقہ واریت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان اسلامی بلاگ کا اہم ملک ہے جو ایٹمی طاقت کا بھی حامل ہے جس کی وجہ سے غیر اسلامی بلاگ ہمیشہ پاکستان کے خلاف سازشوں میں لگا رہتا ہے۔
سانحہ چلاس و کوہستان اسی سلسلے کی کڑی ہیں، یہ واقعات براہ راست فرقہ واریت کا نتیجہ نہیں تاہم فرقہ واریت کو ایک وجہ بنا دی گئی ہے تاکہ پاکستان مزید انتشار کا شکار ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ چلاس میں انسانیت سوز مظالم کئے گئے، ان ظالموں کو کسی فرقہ سے منسلک کرنا فضول بات ہے کیونکہ یہ تو انسان کہلانے کے بھی لائق نہیں۔ دہشت گرد ٹولہ چاہتا ہے کہ یہاں سے بھی لاشیں جائیں اور مسالک کے درمیان فاصلے بڑھ جائیں مگر ہمیں ہمارا مسلک اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔
ہم کسی بے گناہ کو ذرا بھی نقصان پہنچانے کے حق میں نہیں قتل کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ کسی کے گناہ کی سزا کسی کو نہیں دی جا سکتی، چلاس اور کوہستان کے بہت سارے لوگ سکردو میں مقیم تھے جنہیں ذرا بھی تکلیف نہیں پہنچائی گئی۔ علماء اور عوام کے اس رویے کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے، دیگر مسالک کے علماء کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ چلاس جائیں اور حالات کو معمول پر لانے اور فاصلوں کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ سانحہ کوہستان کے بعد ان علماء نے وعدہ کیا تھا کہ کوہستان جائیں گے مگر ایسا نہیں کیا گیا ورنہ ہو سکتا ہے چلاس کا واقعہ پیش نہ آتا مگر اب بھی انہیں چاہیے کہ وہ امن کا پیغام پھیلانے میں اپنا حصہ ڈالیں۔
چلاس میں جن ملاوں نے اسلامی تعلیمات کے خلاف تقرریں کیں وہ ان کی سوچ کی عکاسی کرتی ہیں اور یہ بات واضح کرتا ہے کہ وہ اسلام سے کس درجہ واقف ہیں مگر وہاں اچھے لوگ بھی ہیں جنہوں نے خطرناک حالات میں بھی اپنی اچھائی ثابت کر دی اور بے شمار بے گناہوں کو دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچا لیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ مزید وقت ضائع کئے بغیر شاہراہ قراقرم کو فوج کے حوالے کرے اور واقعہ میں ملوث افراد کو فورا گرفتار کر کے مقدمہ چلایا جائے کیونکہ کوہستان میں دہشت گرد گنے چنے تھے جو موقعہ سے فرار ہو گئے لیکن چلاس میں تو ہزاروں افراد نے حملہ کر دیا ہے ان کو پہچاننا کوئی مشکل نہیں جس کے لئے زخمی ہونے والے ایس پی جمشید احمد کا بیان کافی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چلاس واقعہ انتظامیہ کی نا اہلی کااعلیٰ نمونہ ہے۔
ہزاروں افراد کی طرف سے مسافروں پر حملے کا منصوبہ منٹوں میں نہیں بن سکتا اس کی تیاری یقیناًایک دو روز قبل سے کی جاتی رہی ہو گی۔ اس دوران مقامی انتظامیہ اور خفیہ ایجنسیاں کیا کرتی رہیں یہ بہت بڑا سوال ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے تھا کہ وہ اس روز گاڑیوں کو پنڈی میں ہی روک لیتی۔حکومت چاہیے تو امن کا قیام کوئی مشکل کام نہیں، سوات اور دیگر شورش زادہ علاقوں میں جس طرح آپریشن کئے گئے اسی طرح کا آپریشن چلاس میں بھی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ متبادل راستوں پر فوری کام شروع کیا جانا چاہیے کیونکہ لوگ شاہراہ قراقرم پر سفر کرنے سے خوف کھا رہا ہے جبکہ جہاز کے کرایے عام لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہو گئے ہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سکردو کرگل روڈ کو باب تجارت نہ سہی تو باب ضرورت کے طور پر کھول دیا جائے کیونکہ شاہراہ قراقرم پر حالات خراب ہونے کی صورت میں سکردو میں اشیائے خوردنی لانے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں، زیادہ دن تک شاہراہ بن رہی تو علاقے میں قحط کا سماں پیدا ہو جائیگا تاہم کرگل چلو کے نعرے کو اس بات سے نہ جوڑا جائے، کرگل چلو کا نعرہ جذباتی نعرہ تھا، بھارت سے الحاق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ہم سچے پاکستانی ہیں اور نصف صدی سے پاکستان کے ساتھ الحاق کے انتظار میں ہیں۔ ہم سے زیادہ محب وطن ہونے کا دعویٰ کون کر سکتا ہے ، ہم 64 سال سے کچھ نہ ملنے کے باوجود پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے رہے ہیں اور لگاتے رہیں گے۔ اس وطن کے لئے ہماری قربانیاں کسی سے کم نہیں ، پاک بھارت جنگوں میں ہمارے جوانوں نے جس جوانمردی کا مظاہرہ کر کے وطن کی شان سلامت رکھی اس کی کوئی مثال ہے تو لائے۔ دوسری جانب انجمن اہل حدیث کے خطیب و مفتی مولانا عبد القادر رحمانی نے عالمی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ چلاس واقعہ گلگت سے غلط اطلاعات پھیلانے کی وجہ سے پیش آیا، لوگوں کو چاہیے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں بلکہ اس طرح کی اطلاع کی مکمل تحقیقات کریں پھر کوئی فیصلہ کریں۔ چلاس میں پیش آنے والا واقعہ ہر طرح سے قابل مذمت ہے
اس واقعہ نے ہمیں بہت دکھی کر دیا ہے اور ہم نے خطبہ جمعہ سمیت دیگر خطبوں میں اس واقعہ کی بھرپور مذمت کی ہے اور حکومت سے فوری کاروائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت کے واقعات کا بدلہ چلاس میں لینا کسی طور پر بھی جائز نہیں، اسلام کسی کے گناہ کی سزا کسی اور کو دینے کی قطعا اجازت نہیں دیتا اور اسے حرام قرار دیتا ہے۔
کسی کو مخص قوم، مذہب، مسلک، رنگ و نسل کی بنیاد پر قتل نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں چاہیے کہ اس جرم کے خلاف کھڑا ہو جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے بیک وقت 7لاشیں اٹھائیں ان کا جذباتی ہونا فطری عمل تھا مگر علامہ شیخ حسن جعفری نے امن قائم رکھنے میں بے مثال کردار ادا کیا، ہم ان کا تہہ دل سے شکریہ گزار ہیں۔
|